اسے پرواز کرنے دو


ایک والد کی رودادِ زندگی اور صنفی امتیاز کے خلاف اس کی جدوجہد

ضیاء الدین یوسف زئ لوئس کارپینٹر کے ساتھ

دیباچہ: ملالہ یوسف زئی

’’جب بھی مجھ سے کوئی پوچھتا ہے کہ ملالہ موجودہ قابل رشک مقام تک کیسے پہنچی، اس کے لئے آپ نے کیا کیا ہے؟ تو میں جواب میں عموماً یہ بات دہراتا ہوں کہ یہ مت پوچھیں کہ میں نے کیا کیا، بلکہ یہ پوچھئے کہ میں نے کیا نہیں کیا، میں نے اس کے پَر نہیں کاٹے، اسے پرواز کرنے دیا اور بس۔‘‘

ملالہ کے باپ ہونے کے ناطے ضیاء الدین یوسف زئی اس معلومات افزا اور غیرمعمولی یادداشت میں اپنی پدرانہ جذباتی روداد بیان کرتے ہیں اور مساوات کے لئے اپنی زندگی بھر کی جدوجہد کا تذکرہ کرتے ہیں جس میں انھوں نے حقوق نسواں کے مختلف پہلوؤں کو اُجاگر کیا ہے۔

ضیاء الدین یوسف زئی بیس سال سے زائد عرصہ سے صنفی امتیاز کے خلاف لڑ رہے ہیں۔ سب سے پہلے انھوں نے اپنی بیٹی ملالہ کے لئے آواز بلند کی، پھر پاکستان کی وادئ سوات سے تعلق رکھنے والی لڑکیوں کے لئے اور اس کے بعد انھوں نے دنیا بھر کی لڑکیوں کے حقوق کے لئے اپنی خدمات وقف کردیں۔

سخت پدرانہ معاشرے کی محدود چار دیواری میں اپنی بہنوں کی زندگی کو دیکھتے ہوئے ضیاء الدین یوسف زئی نے صنفی امتیاز کے خلاف نوجوانی میں ہی علم بغاوت بلند کیا تھا، اس لئے عملی زندگی کے آغاز میں انھوں نے لڑکیوں کے لئے اسکول کی بنیاد رکھی۔ وہ خود بھی ایک بیٹی کے باپ تھے اس لئے انھوں نے یہ پختہ عہد کیا تھا کہ ملالہ کو تعلیم تک ایسی ہی رسائی حاصل ہوگی جس طرح ان کے معاشرے میں لڑکوں کے لئے تعلیم کے مواقع میسر ہیں۔

ان کے خاندان کی چاردیواری کے اندر مساوات پر مبنی دنیا قائم تھی۔ 2012ء میں طالبان نے ملالہ کو گولی ماری کیوں کہ وہ طالبانی پابندیوں کے باوجود اپنے والد کے اسکول باقاعدگی سے جاتی رہی تھی اور لڑکیوں کی تعلیم کے حق کے لئے مہم چلاتی رہی تھی اور یوں ضیاء الدین یوسف زئی کی وہ چہیتی بیٹی موت اور زندگی کی کش مکش میں مبتلا ہوگئی تھی جس کی خاطر انھوں نے برابری کے حق کی لڑائی شروع کی تھی۔

Let Her Fly میں شگفتگی اور سچائی کے ساتھ ضیاء الدین کے چار قریبی رشتوں یعنی دو بیٹوں، ان کی اہلیہ اور ایک بیٹی کے ذریعے ان کی شخصیت کے ہمہ پہلو خدوخال سلسلہ وار بیان کئے گئے ہیں۔

انھوں نے اپنا بچپن شانگلہ کے پہاڑی علاقہ میں ایک روایتی اور دانش ور باپ کے بیٹے کی حیثیت سے بیان کیا ہے جس نے تعلیم کے لئے اپنے جذبے کو مہمیزدی۔ تمام تر مشکلات کے ساتھ ایک باپ کی حیثیت سے اس کی زندگی کا سفر دو بیٹوں اور ایک شوہر کے طور پر اپنی ہم سفر تور پیکئی کے ساتھ بسر کرنے والی زندگی کے حالات بھی ان یادداشت کا حصہ ہیں۔ ان کی مزاحمتی جدوجہد کی تفصیلات بھی کتاب میں موجود ہیں جن کا تذکرہ ملالہ نے اپنی کتاب میں قلم بند کیا ہے۔ اور جو کچھ انھوں نے اپنی بیٹی سے سیکھا ہے جو اَب دنیا کی سب سے زیادہ موثر رہنماؤں میں سے ایک ہے، اس کی تفصیلات بھی کتاب میں رقم ہیں۔

Let Her Fly ایک والد کی طرف سے جدید نسوانیت (Modern Feminism) اور والدین سے متعلق ایک متاثر کن اور رجائیت پسند تصویر پیش کرتی ہے جس میں انھوں نے شعوری طور پر اپنے بیٹوں اور بیٹی کو یکساں اہمیت دی ہے۔ ذاتی تفصیلات اور آفاقی صداقت کے حوالے سے یہ ایک اہم کتاب ہے، اس شخص کی طرف سےجومعجز بیاں ہے اور جس کی خود نوشت ابتدائی طور پر ایک نیا نقطۂ نظر فراہم کرتی ہے کہ ہمیں لازمی طور پر ہر جگہ لڑکیوں اور خواتین کے حقوق کے لئے آواز کیوں بلند کرنی چاہئے۔

میڈیا سے متعلق تمام استفسارات، انٹرویوز، تبصروں اور کتاب کے حصول کے لئے جوانا بینیٹ کے ساتھ درج ذیل ای میل پر رابطہ قائم کریں۔

jbennett@penguinrandomhouse.co.uk

 لنکس: ٹیڈ ٹاک ‘میری بیٹی ملاله’ | ٹویٹر | پینگوئن

’’مجھے یقین ہے کہ تمام بچے ہم سے وہ کچھ سیکھتے ہیں جو ہم کرتے ہیں، نہ کہ جو کچھ ہم انھیں سکھاتے ہیں۔ ہمارے اپنے بچوں کے لئے رول ماڈل مجھے اور تور پیکئی کو بننا پڑا ۔ اگر میرے بچے مجھے ان کی بہن اور ماں کو احترام اور مساوات کے ساتھ سلوک کرتے ہوئے دیکھیں گے تو اس سے ان میں یہ خصوصیت پنپنے میں مدد ملے گی جس کے تحت وہ اگلی نسل کے لئے اسی احترام کا مظاہرہ کریں گے۔ اسی طرح میں امید کرتا ہوں کہ سماجی تبدیلی کا آغاز ہوگا جو آپ سے ہی شروع ہوگا۔‘‘

ضیاء الدین یوسف زئی کے بارے میں:

ضیاء الدین یوسف زئی ایک ماہر تعلیم، انسانی حقوق کے علم بردار اور ایک استاد ہیں۔ وہ پاکستان کی وادئ سوات سے تعلق رکھتے ہیں جہاں خوف اور تشدد کے ماحول میں غیرمعمولی ذاتی خطرہ کے باوجود وہ طالبان کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے اور ان کی طرف سے اسکولوں کی بندش کی کوشش اور ذاتی آزادی کو محدود کرنے کے خلاف پرامن مزاحمت کی۔ برطانیہ منتقل ہونے کے بعد انھوں نے تعلیم کے لئے اپنی مہم جاری رکھی اور ملالہ فنڈ کے شریک بانی کی حیثیت سے اپنی بیٹی ملالہ یوسف زئی کے ساتھ لڑکیوں کی تعلیم کے لئے ایک عالمی تحریک کی بنیاد رکھی۔ Let Her Fly ان کی (انگریزی زبان میں) پہلی کتاب ہے۔

لوئس کارپینٹر کے بارے میں:

لوئس کارپینٹر ایک برطانوی مصنفہ ہیں جو بنیادی طور پر Saturday Times Magazine کے لئے کام کرتی ہیں۔ ان کی نگارشات کئی دیگر اخبارات میں بھی شائع ہوتی رہی ہیں جن میں دی گرانٹا، دی گارڈین، دی ڈیلی ٹیلی گراف اور ووگ شامل ہیں۔ ان کی تحریروں کو دنیا بھر کے دوسرے جرائد میں بھی شامل اشاعت کیا جاتا ہے۔ وہ دو غیر افسانوی کتابوںAn Unlikely Countess: Lily Budge and the 13th Earl of Galloway اور Ida and Louise کی مصنفہ ہیں۔ وہ اپنے خاندان کے ساتھ سمرسیٹ میں رہتی ہیں۔

Facebook Comments HS