ایرانی پولیس، سیلونی ڈاکٹر کی بیوی اور ہندو کی شوخ چشمی
میرے دادا جان (1892-1963 ) ایک سیلانی آدمی تھے۔ غلام محمد نام تھا لیکن بابو غلام محمد مظفر پوری کے نام سے جانے جاتے تھے۔ ہندوستان کا چپہ چپہ دیکھا رکھا تھا۔ اس کے علاوہ بسلسلہ ملازمت برما، ایران، عراق اور مشرقی افریقا کے ممالک (کینیا، یوگنڈا اور تنزانیہ) میں ان کا قیام رہا تھا۔ افریقا میں قیام کے دوران ہی (1938-46) انہوں نے اپنی سوانح لکھنا شروع کی تھی جس کا نام” سفری زندگی“ رکھا تھا۔ ”سفری زندگی“ کے کچھ اقتباسات “ہم سب” میں شائع ہو چکے ہیں۔ زیر نظر اقتباس میں ایران میں قیام کے دوران امن عامہ اور انتطامی محکموں کے کچھ مشاہدات بیان کئے ہیں۔ ایران میں دادا جان کے قیام کا عرصہ سنہ 1924ء کی آخری سہ ماہی سے جون 1927ء تک تھا۔
اب ذرا ایران کی پولیس اوردیگر ملکی انتظامات کی بھی ایک دو مثالیں سن لیجیے جو کہ میرے چشم دید واقعات ہیں۔ ان دنوں میں 1925 سے 1927 تک ایران کا سب انتظام فوج اور پولیس کے ہاتھ میں تھا۔ پولیس دو قسم کی ہوتی تھی ایک مقامی دوسری اسوار۔ مقامی پولیس شہر اور گاؤں کے انتطامات میں لگی رہتی تھی۔ اسوار پولیس رات اور دن گھوڑوں پر سوار ادھر سے ادھر پہاڑوں اور صحرا میں پھرتی رہتی تھی۔ ایک دفعہ ایک مشہور ڈاکو پکڑا گیا۔ اس کو سزائے موت دی گئی اور قصبہ و شہر کے تمام زن و مرد جمع کرکے سب کے سامنے پھانسی پر ایک چوراہے میں لٹکایا گیا۔ ایران میں پولیس خود کوئی فیصلہ کرنے کی مجاز نہیں تھی بلکہ ملزم کے گاؤں یا شہر کی پنچایت سے فیصلہ کروایا جاتا تھا۔ پولیس صرف بوقت اجلاس نگرانی کرتی رہتی تھی تاکہ کوئی پارٹی بازی نہ ہو اور پنچایت کا کوئی ممبر صلاح و مشورہ دینا چاہے تو روبرو دیگر پنچایتی ممبران ظاہر کرے نہ کہ ایک ایک دو دو باہر جا کر الگ مشورہ کریں۔ پس اس طرح جو حالات و واقعات گاؤں یا قصبہ والوں کو معلوم ہو سکتے ہیں وہ سرکاری افسروں کو بالکل معلوم نہیں ہو سکتے۔ اس لیے جو فیصلہ اس پنچایت کا ہوتا تھا وہ اٹل اور بغیر اپیل شدہ ہوتا تھا۔ اپیل در اپیل کا تو بالکل رواج بلکہ نام و نشان تک نہ تھا۔ دیگر پبلک کے روبرو سزا دینے کا مطلب یہ تھا کہ دیکھنے والی پبلک بھی عبرت پکڑے اور سزا کا ڈر اپنے دل میں رکھے۔
اب ایک قصہ ایران کی پولیس اور خفیہ پولیس کا بھی سن لیجیے جو اس طرح ہے۔ اینگلو ایرانی کمپنی میں ایک سیلونی ڈاکٹر تھا جو کہ مسلمان تھا اور اس کی عمر تقریباً 50 سال کے لگ بھگ ہو گی۔ ناصری اہواز کمپنی میں کام کرتا تھا۔ اس کی ایک ڈسپنسری تھی۔ اس نے ایک ایرانی عورت سے شادی کر لی جو کہ ابھی نوجوان تھی۔ جب اس ڈاکٹر کے ایگریمنٹ کی، جو کمپنی سے کیا ہوا تھا، میعاد ختم ہو گئی تو نوکری سے جواب ہو گیا۔ اس نے اپنے وطن سیلون لوٹنا تھا۔ اب اس کو اس ایرانی عورت کی فکر دامن گیر ہوئی کیونکہ وہ سیلون میں بال بچوں والا تھا۔ اس کے گاؤں کا ایک دوسرا شخص بھی وہاں پر بطور کلرک کے کمپنی میں کام کرتا تھا۔ اس ایرانی عورت سے شادی کے وقت وہ دوسرا شخص ڈاکٹر کو منع کرتا رہا کہ شادی مت کرو، اپنی عمر اور پچھلے بال بچوں کا خیال کرو۔ لیکن ڈاکٹر صاحب ایرانی خوبصورتی پر فریفتہ تھا۔
آخر کار جب نوکری سے جواب ملا تب آنکھیں کھلیں اور ہوش آیا۔ اس پر اس دوسرے شخص نے ڈاکٹر کو دھمکی دی بلکہ طعنہ دیا کہ میں یہ عورت اپنے عقد میں لے کر سیلون لاؤں گا اور تمھارے گھر والوں کو دکھلاؤں گا بلکہ ثابت کروں گا کہ یہی عورت ایران میں اس نے اپنے نکاح میں رکھی ہوئی تھی۔ بس اب کیا تھا اس بات نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔ ڈاکٹر صاحب کی نوکری تو ختم ہو چکی تھی ادھر تقدیر نے بھی الٹا سبق پڑھایا اور ڈاکٹر صاحب نے فیصلہ اور ارادہ کر لیا کہ اس عورت کا ہی کیوں نہ خاتمہ کر دیا جائے۔ بس اس نے جانے سے چند روز قبل رات کو سات بجے کے قریب کسی دوسرے کلرک کے گھر دعوت کا بہانہ بنا کر عورت کو ساتھ لیا۔ کچھ سپرٹ بوتل میں نیز ایک تیز دھار چاقو بھی ہمراہ جیب میں رکھ لیا۔ بجائے کلرک کوارٹروں میں جانے کے ڈاکٹر صاحب اپنی بیوی کو کہنے لگا کہ کھانے میں ابھی دیر ہے، چلو ابھی ادھر ذرا سیر کر آئیں۔
انڈین کلرک کے گھر کے مغرب کی طرف پرانے شہر ناصری اہوازکے کھنڈرات تھے جو کہ کھڈے کھالوں کی شکل میں موجود تھے۔ وہاں پر ان کھنڈروں میں پہنچ کر ڈاکٹر نے اپنی بیوی کو کہا کہ یہاں پر ذرا ہوا خوری کر لیں اور اس کو سر اپنی ٹانگوں پر رکھ کر لیٹ جانے کو کہا۔ اس عورت کو کیا معلوم تھا کہ میرے قتل کا بندوبست کر رہا ہے۔ ڈاکٹر اس سے پیار محبت کرتا رہا۔ بس جونہی عورت زمین پر دراز ہوئی ڈاکڑ نے چاقو نکال کر عورت کی شہ رگ کاٹ دی۔ آخر ڈاکٹر تھا۔ اس کو یہ بھی معلوم تھا کہ کون سی رگ کاٹنے سے انسان جلد ختم ہو جاتا ہے۔ پس عورت ابھی تڑپ ہی رہی تھی کہ ڈاکڑ نے سپرٹ کی بوتل اوپر ڈال کر آگ لگانا چاہی۔ اسی اثنا میں ڈاکٹر کو گھوڑوں کے ٹاپوں کی آواز آئی۔ گھوڑوں پر سوار ایرانی پولیس کے جوان تھے جو ماچس کی پہلی ہی روشنی ہونے پر اس جانب دوڑتے چلے آ رہے تھے۔
اب ڈاکڑ وہاں سے اپنی جان بچا کر بھاگا اور انڈین کوارٹر میں آ گیا جو کہ نزدیک ہی تھا۔ چونکہ اس وقت کافی اندھیرا ہو چکا تھا لہٰذا پولیس ڈاکٹر صاحب کو نہ پکڑ سکی لیکن مردہ لاش کو پانے میںکامیاب ہو گئی۔ پولیس کے ان سواروں نے لاش کو گھوڑے پر رکھ کر پولیس سٹیشن ناصری اہواز کے حوالے کر دی اور سب واردات بیان کر دی۔ اگلے روز بذریعہ منادی شہر میں اعلان کیا گیاکہ فلاں حلیہ کی عورت اگر کسی گھر سے گم ہو تو پولیس سٹیشن آ کر ملاحظہ کر سکتا ہے لیکن سارا دن اس لاش کا کوئی بھی وارث نہ آیا۔ تیسرے روز لاش لاوارث سمجھ کر دفن کر دی گئی لیکن معاملہ تفتیش و تحقیقات کے لیے خفیہ پولیس کو دے دیا۔ خفیہ پولیس نے ان لڑکوں کی معرفت، جو کہ گھروں میں نوکر رکھے ہوئے تھے اور اکثر کرکے انڈین کلرکوں کے گھروں میں رکھے ہوئے تھے، پتہ لگا لیا کہ ڈاکٹر کی بیوی نظر نہیں آئی۔
خفیہ پولیس کا ایک آدمی ڈاکٹر صاحب کے مکان پر گیا اور کہنے لگا کہ میری عورت کے پرائیویٹ جگہ پر زخم ہے۔ اگر آپ کی عورت دیکھ کر آپ کو بتلا سکے تو آپ کوئی دوا تجویز کر دیں یا اپنے دوائی خانہ سے مہربانی کرکے دے دیں۔ تب ڈاکٹر صاحب کہنے لگے کہ میری عورت اپنی والدہ کو ملنے گئی ہوئی ہے۔ خفیہ پولیس نے اس وقت اس ڈاکٹر سے نہیں پوچھا کہ آپ کی عورت کہاں سے اور کس گاؤں سے ہے۔ چپ چاپ چلا گیا۔ ان ایرانی اور عربی لڑکوں سے ڈاکٹر کی بیوی کی والدہ کا پتہ نشان معلوم کر لیا جو ناصری اہواز سے بارہ میل کے فاصلے پر قطب عبداللہ کی رہنے والی تھی۔ خفیہ پولیس کا آدمی سیدھا اس گاؤں میں گیا اور گھر والوں سے پوچھا کہ تمھاری لڑکی کہاں پر ہے۔ وہ کہنے لگے کہ اپنے خاوند کے ،سیلونی ڈاکٹر، گھر ناصری اہواز ہے۔
تب تو پولیس والے کو پورا یقین ہو گیا کہ قتل شدہ عورت ڈاکٹر کی بیوی اور اس عورت کی لڑکی ہے۔ پولیس والے نے اس عورت سے کہا تم میرے ساتھ ناصری اہواز چلو کہ ایک ضروری کام ہے۔ وہ عورت بے چاری اس پولیس والے کے ساتھ چلی آئی۔ پولیس سٹیشن پر آ کر حسب اجازت پولیس افسر کے، اس عورت کو قبرستان میں لے جایا گیا اور قبر کھود کر اس قتل شدہ لڑکی کی لاش کو اس کی والدہ سے شناخت کروایا۔ جب یقین ہو گیا کہ وہ ٹھیک اس عورت کی لڑکی اور ڈاکٹر کی بیوی ہے تب جا کر ڈاکٹر صاحب کو گرفتار کر لیا۔ اسی طرح ڈاکٹر صاحب کو بھی قبرستان میں لے جایا گیا اور لاش کی شناخت اور اقبال جرم کرایا گیا۔ اس کے بعد لاش کو دفنایا گیا۔
ڈاکٹر صاحب کو انگریزی قونصلر کے سپرد کرکے آئندہ کارروائی کے لیے سونپ دیا گیا۔ تاریخ مقررہ پر انگریزوں کا بوشہر والا قونصلر اورنا صری اہواز والا سب جمع ہوئے۔ ایرانی پولیس کا افسر بھی آ گیا۔ اب تحقیقات مقدمہ و جرم ہونے لگی۔ ڈاکٹر صاحب کا بیان دوبارہ لینے لگے تو ایرانی پولیس افسر بولا کہ تحقیقات و ثبوت جرم پہلے ہو چکا ہے۔ اب صرف سزائے جرم زیر تجویز ہے جس کا فیصلہ آپ صاحبان کے سامنے ہونا چاہیے۔ بیانات کو الٹ پلٹ کر لینا ہمارا قانون و رواج نہیں۔ پس انگریز قونصلر بے چارے لاجواب ہو گئے۔ آخر کار سیلونی ڈاکٹر کو ایرانی دستور کے مطابق دار پر کھینچا گیا جو کہ باقی ماندہ انڈین کے لیے بھی درس عبرت ہوا۔ ایرانی گورنمنٹ کے انصاف کا ثبوت مکمل طور پر مل گیا نا کہ انڈین پولیس کی طرح کہ جس کے بیانات و بنائے مقدمہ عدالت اعلیٰ میں کچھ وقعت ہی نہیں رکھتے اور نہ قابل یقین ہوتے ہیں۔
ناصری اہواز میں ایک دکان کپڑا وغیرہ کی تھی جس کے مالک ایک کٹر آریہ سماجی پنجابی ہندو مسٹر رام لال اور دوسرا ایک سکھ صاحب تھے۔ اس کمپنی کا نام عراق ٹریڈنگ کمپنی تھا۔ مسٹر رام لال محامرہ میں میرے ہی پاس آ کر آرام فرمایا کرتا تھا۔ لیکن وہ صاحب مذہب کے لحاظ سے اس قدر شوخ اور بے لحاظ دیکھے گئے کہ توبہ استغفار۔ ایک دیدہ دلیری اس میرے دوست آریہ صاحب کی ملاحظہ ہو۔ مسٹر غلام محمد، جو کہ میرے استاد کے صاحب زادے اور پڑوس کے گاؤں کے ہیں، وہ بھی اس تیل کی کمپنی میں اوورسیئر تھے۔ وہ اس آریہ کے بھی بہت دوست تھے۔
ایک روز میں اور میرے وہ بھائی، غلام محمد، اتفاقیہ ناصری اہواز میں اپنے اس ہم وطن آریا مسٹر رام لال کو ملنے چلے گئے۔ دوران گفتگو میرے بھائی غلام محمد نے اس سے دریافت کیا کہ کیا اخبار وکیل آپ کو مل گیا تھا۔ اس کے جواب میں ہمارے ہندو دوست نے فرمایا کہ یار تم فضول وہ اخبار ہم کو بھیج دیتے ہو۔ ہم نے کبھی پڑھی وڑھی تو نہیں پاخانہ کے بعد بچوں کی گانڈیں اس اخبار سے صاف کر لیتے ہیں۔ میرے دوستو! ہم وطنو! یہ بات سن کر اس وقت جو ہمارے دلوں نے محسوس کیا وہ ہم ہی جانتے ہیں۔ اس وقت تو ہم نے بات ہنسی مذاق میں ٹال دی، بعد ازاں میں نے اپنے بھائی غلام محمد سے کہا آئندہ اس کو اخبار مت بھیجنا۔
اس کے مقابلے میں ان ہندووں کا بھی ذکر کرتا ہوں جن کے ساتھ اپنے ملک میں چھ سال ملازمت کی گجرات کاٹھیاواڑ کے علاقہ، بی بی اینڈ سی آئی ریلوے میں لیکن میں نے ان کو مذہبی بات دل دکھانے والی کرتے کبھی نہیں سنا۔ وہ ہندو بھی ایسے پکے ہیں جو گوشت اور شراب سے نفرت کرتے ہیں۔ یہ وہی علاقہ ہے جسے مسٹر گاندھی جیسا قوم کا لیڈر پیدا کرنے کا فخر حاصل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مسٹر گاندھی جیسا ہردلعزیز لیڈر ہندوؤں میں ہوا ہے اور شاید آئندہ نہیں ہو گا۔








