بجلی کی پیداوار, زیر تعمیر پراجیکٹس اور مجوزہ پراجیکٹس کا مکمل کتھارسس
ملک میں پانی اور بجلی کی شدید کمی کا بڑا بحران چل رہا ہے۔ اب صرف مین اسٹریم میڈیا ہی نہیں بلکہ سوشل میڈیا بھی اس بحران کی سنگینی اور اس کے حل پر مضامین سے بھرا ہوا ہے۔ بجلی کی شدید کمی اور اس کے ممکنہ حل کے بڑے بڑے دعوی اس وقت تک تجزیہ کے مراحل سے نہیں گزر سکتے جب تک بجلی پیدا کرنے کے موجودہ اور زیر تعمیر پراجیکٹس کے بارے بنیادی معلومات نہ ہوں۔
ہم نے کوشش کی پے کہ اپنے قارئین کو پاکستان میں بجلی کی پیداوار کے آپریشنل زیر تعمیر اور مجوزہ منصوبوں بارے بنیادی معلومات پیش کریں:۔
بجلی کی پیداوار کے مکمل منصوبے
ا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1):۔ پانی سے بجلی کی پیداوار کے کل 93 یونٹس = 11616 میگا واٹ
2):۔ تیل اور ڈیزل سے بننے والی بجلی کے 20 یونٹس = 7925 میگا واٹ
3):۔ قدرتی گیس + ایل این جی گیس پاور کے 11 یونٹس = 9275 میگا واٹ
4):۔ نیو کلئیر پاور جنریشن کے 5 یونٹس = 1405 میگا واٹ
5):۔ کوئلہ سے بجلی پیدا کرنے کے 7 یونٹس = 3018 میگا واٹ
6):۔ ہوا کی طاقت سے بجلی پیدا کرنے کے 35 یونٹس = 796.59 میگا واٹ
7):۔ شمسی توانائی سے بجلی پیدا کرنے کے 18 یونٹس = 695.50 میگا واٹ
8):۔ گنے کی بوگاس۔ چھل سے بجلی پیدا کرنے کے 42 یونٹس = 1136.45 میگا واٹ
9):۔ بائیوڈیزل گیس سے بجلی پیدا کرنے کے 2 یونٹس = 20.10 میگا واٹ
10):۔ ضائع شدہ حرارت سے بجلی پیدا کرنے کے 5 یونٹس = 78 میگا واٹ
اس طرح اگر یہ سارے یونٹس چل رہے ہوں تو بجلی کی کل حاصل ہونے والی پیداوار = 28013.64 میگا واٹ۔ 28 ہزار اور 13 اعشاریہ 64 میگا واٹ
جبکہ ملک میں بجلی کی کل ضرورت زیادہ سے زیادہ 17 ہزار میگا واٹ تک ہی ہے۔
نتیجہ:۔
چونکہ تھرمل پاور تقریباً 32 روپے فی یونٹ۔ قدرتی گیس کے بحران کی وجہ سے درآمد شدہ ایل پی جی گیس سے تقریباً 9 روپے فی یونٹ کے حساب سے بننے والی بجلی بہت مہنگی ہوتی ہے لہذا وزارت بجلی و پانی ان ذرائع سے بجلی نہیں بنوا رہی۔ آزادانہ یعنی پرائیویٹ پاور پلانٹس سے پاکستان کے معاہدے 2017ء میں ختم ہو چکے ہیں لہذا ایسی کوئی پابندی اب نہیں ہے کہ حکومت مہنگی بجلی خرید کر لوگوں کو سستی بجلی فراہم کرے ۔ ۔ ۔ لہذا ان دونوں ذرائع سے حاصل ہونے والی 17200 میگا واٹ بجلی منہا کر دی جائے تو باقی بجلی 10813.64 میگا واٹ بنتی ہے جو کہ ملکی ضروریات 16 ہزار / 17 ہزار میگا واٹ سے کافی کم ہوتی ہے۔
اس کمی کو پورا کرنے کے لیے ہر حکومت/ بیوروکریسی اپنے منظور نظر تھرمل پرائیویٹ پلانٹس سے کچھ بجلی خرید کر نیشنل گرڈ میں شامل کرتی ہے۔ جبکہ گیس سے چلنے والے پلانٹس سے بجلی خریدنے سے بچنے کی کوشش کی جاتی ہے تاکہ ملک میں جاری گیس کے بحران میں اضافہ نہ ہو۔ جبکہ ایل پی جی گیس کی درآمد پر عدالت عالیہ / عظمی کی کڑی نظر کی وجہ سے بھی صرف ان ہی پلانٹس سے بجلی لی جاتی ہے جو قدرتی گیس پر چل رہے ہوں ۔ ۔ ۔ اس ضمن میں أسان ترین راستہ یہ ہے کہ ایران سے گیس پائپ لائن لے کر بجلی بنانی شروع کر دی جائے اور اس گیس پائپ لائن کو چین اور انڈیا تک بڑھا دیا جائے تاکہ ان سے حاصل ہونے والے ٹیرف سے ملک میں گیس سے بجلی بنانے کی قیمت کم کرکے اسے پانی سے بجلی بنانے کے لیول تک لایا جا سکے۔
بجلی کی پیداوار کے زیر تعمیر منصوبے جو 2019ء سے لے کر 2022ء تک مکمل ہو سکتے ہیں:۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1):۔ پانی سے بجلی بنانے والے 32 منصوبے = 7100 میگا واٹ
2):۔ نیوکلئیر پاور جنریشن کے 3 منصوبے = 3200 میگا واٹ
3):۔ ہوا کی طاقت سے بجلی بنانے کے 13 منصوبے = 2500 میگا واٹ
4):۔ شمسی توانائی سے بجلی بنانے کے 17 منصوبے = 2057 میگا واٹ
5):۔ بائیو ڈیزل گیس سے بجلی بنانے کے 3 منصوبے = 46 میگا واٹ
6):۔ ضائع شدہ حرارت سے بجلی بنانے کا 1 منصوبہ = 10 میگا واٹ
7):۔ کوئلہ سے بجلی بنانے کے 10 منصوبے = 5700 میگا واٹ
2019ء سے 2022ء تک حاصل ہونے والی کل بجلی = 14513 میگا واٹ
نوٹ:۔ یہ واضح رہے کہ اگر ہماری ریاست حکومت بیوروکریسی اگر واقعی ہی سنجیدگی سے ان پراجیکٹس کی تکمیل میں لگی رہی اور روڑے نہ اٹکاتی رہی تو پھر ہی پاکستانی عوام کو سستی بجلی 2022ء تک بغیر لوڈ شیڈنگ کے مہیا ہو سکے گی ورنہ یہی اندھیرے اور گرمی ہمارا مقدر بنے رہے گی۔ اگر ان منصوبوں کی تکمیل میں فنڈز کی فراہمی مسئلہ نہ بنی تو اگلے سال یعنی 2019ء سے بننے والی بجلی قومی گرڈ میں شامل ہوتی رہے گی اور یہ سلسلہ 2022ء تک بلکہ 2025ء تک بھی چلتا رہے گا
2022ء کے بعد اور 2030ء تک مکمل ہونے والے کچھ مجوزہ منصوبے
ا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پانی سے بجلی بنانے کے 80 منصوبے جن پر ابھی صرف غور و خوض کیا جا رہا ہے = 39 ہزار میگا واٹ
پانی سے بجلی بنانے کے علاوہ تھر کول سے بھی 10 ہزار میگا واٹ بجلی بن سکنے کی توقع ہے جس بارے ماہرین 2023ء تک کی نوید سنا رہے ہیں مگر ہماری حکومتوں کی دلچسپی اور وسائل کی لگاتار فراہمی کے بغیر کچھ بھی ممکن نہیں ہے
ان تمام پراجیکٹس میں صرف وہی پراجیکٹس ملکی ترقی میں اہم کردار ادا کریں گے جو پانی سے سستی بجلی بنانے والے ہیں کیونکہ ان کے بنانے میں بےشک زیادہ پیسہ اور محنت لگتی ہے مگر ان کے آپریشنل اخراجات بہت ہی کم اور ان کی زندگی بہت لمبی ہوتی ہے جس سے عوام کو سستی بجلی ملتی ہے


