سہیل انور صاحب، اب ایسا نہ کریں۔۔۔۔


محترم سہیل انور سیال صاحب، یہ کیا کردیا آپ نے؟ اتنا غصہ؟ اور وہ بھی محمد حسین کی تقریر پر؟ جانتے تو ہیں کہ محمد حسین جیسے لوگ ایسی حرکتیں کرتے رہتے ہیں، مگر وہ ہیں کتنے؟
یہ تقریر شاید آپ کی پارٹی پالیسی تو نہیں ہوگی کیونکہ ناصر شاہ کے معافی مانگنے سے تو یہی ظاہر ہوتا ہے، لیکن اسمبلی میں آپ کی نشست جس شخصیت کے عقب میں ہے، ان کے منہ سے نکلا ہوا ہر لفظ پارٹی پالیسی تو ہے، تو کیا انہوں نے تو۔ !؟ چلئے چھوڑئے اس بات کو۔

یہ بھی تو سوچیں کہ محمد حسین جیسے لوگوں کی اس سوچ کو خود اردو بولنے والوں نے مسترد کردیا ہے۔ کراچی میں جس جماعت نے اتنا عرصہ بلا شرکت غیرے حکمرانی کی ہو، 2008ع میں جن کو آپ کی جماعت نے ضرورت نہ ہوتے ہوئے بھی حکومت میں شامل کیا، کوئی تو ’خاص‘ بات تھی نا ان میں۔ کوئی تو وجہ ہوگی کہ آپ کی جماعت نے کراچی اور حیدرآباد پر ان کی حکمرانی کا حق تسلیم کیا اور یہاں کے سارے انتظامی اختیارات غیر علانیہ طور پر گورنر عشرت العباد کے ذریعے لندن منتقل کر دیے، اور تو اور دونوں بڑے شہروں کو الگ بلدیاتی نظام دینے پر مجبور ہوگئے؟ کیا ایسا نہیں تھا؟

اب اگر وہی جماعت کراچی میں قومی اسیملبی کی 4 نشستوں تک محدود ہوکر رہ گئی ہے تو غصہ تو ہوگا نا؟ وہ اس سے بھی آگے جا سکتے ہیں مگر آپ کو تو تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے کیونکہ اس وقت آپ کی ذمہ داری ہے۔

سہیل صاحب شاید آپ کو یاد نہ ہو، مشرف کے دور میں جب سندھ اسمبلی میں آپکے حلقے کی نمائندگی مرحوم الطاف انڑ کرتے تھے، یہی محمد حسین تھا جس نے اسی اسمبلی کی پرانی عمارت میں کھڑے ہوکر پی پی کے ارکان کوشہر سے نکالنے کی دھمکیاں دیتے ہوئے محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کا دوپٹہ اتارنے تک بات کی تھی، مگراس وقت آپ کی جماعت نے کیا کیا؟ حکومت میں آتے ہی اسی محمد حسین کو اپنی سندھ کابینہ میں شامل کیا تھا، آپ ایسا غصہ اس وقت دکھاتے نا۔

اور غصہ تو اس وقت دکھاتے جب اس شہر میں محض سندھی زبان بولنے پر لوگوں کو گولیوں سے بھون دیا جاتا تھا ایسی لاشیں سندھ کے ہر قصبے میں جاتی تھیں۔ غصہ تو اس وقت آتا جب کراچی کے اسکولوں نے قانون کے مطابق سندھی مضمون پڑھانے سے انکار کردیا تھا۔

یہ غصہ اس وقت کرتے جب اسی اسمبلی سے قانون بنا کہ سندھ کے باقی تمام اضلاع میں رہنے والوں کو کراچی کے ڈومیسائل کے بغیر اپنے دارالحکومت میں موجود کسی نجی یا بین الاقوامی ادارے میں ملازمت نہیں مل سکے گی، حتیٰ کہ کراچی کے بینکس نے اکاؤنٹ کھلوانے کے لئے اس شہر کا شناختی کارڈ لازمی قرار دے دیا تھا۔
سہیل صاحب یہ غصہ اب ٹھیک نہیں، اس لیے کہ اب حالات بدل رہے ہیں، سوچ بدل رہی ہے، شہر بدل رہا ہے۔

اس شہر کے نوجوانوں نے نفرت کی سیاست کو خیرباد کہنا شروع کیا ہے، ان کو مایوس نہ کریں۔ اردو بولنے والے علاقوں نے پہلی بار تحریک انصاف کو اتنا بھاری مینڈیٹ دیا ہے، آپ اس پربھی غصہ نہ کریں کہ ووٹ آپ کی مخالف جماعت کو کیوں ملا؟ یاد رکھیں جو ووٹر اپنے گرد خوف کے بت کو توڑ کرباہر نکلا ہے، کل آپ کی حمایت بھی کر سکتا ہے۔ اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس دفعہ بھی آپ کی جماعت کو ووٹ ملتا مگر آپ بھی تو خود کو بدلیں نا۔ پہلی دفعہ اس شہر نے یہ معجزہ بھی دیکھا ہے کہ ایک گھر کے افراد کی رائے بٹ گئی۔ ایسے بھی گھرانے تھے جن کے بزرگوں نے متحدہ کو ووٹ دیا تو نوجوانوں نے پی ٹی آئی کو ووٹ دیا ہے۔ آپ مانیں یا نہ مانیں پی پی کے سعید غنی اور مرتضیٰ بلوچ نے اگر ان حلقوں سے کامیابی حاصل کی جو کبھی متحدہ کے پاس تھے تو اردو بولنے والوں کی خاموش حمایت بھی تو ہوسکتی ہے نا؟

سہیل صاحب یہ تو آپکی جماعت بھی الزام لگا رہی ہے نا کہ انتخابات میں فرشتوں نے کام دکھایا ہے؟ ہو سکتا ہے کہ آگے چل کے ایسا نہ ہو تو پھر یہی حمایت آپکی جماعت کو مل جائے۔ بھئی فاروق ستار جیسے سینئر سیاستدان نے آخری وقت میں الگ صوبے کی بات کرکے نئے انداز میں منجن بیچنے کی کوشش کی تو اس شہر کے لوگوں نے اس کا کیا حشر کیا؟ وہ پہلی دفعہ ایوان تک نہیں پہنچ سکا۔

میں یہ سمجھتا ہوں کہ اس شہر کا اردو بولنے والا نوجوان یہ بات بھی سمجھ چکا ہے کہ نفرت کی آگ نے نہ صرف ان کی دو نسلوں کو بھسم کردیا بلکہ اس شہر کی ڈیموگرافی پر بھی ایسے اثرات چھوڑے ہیں کہ اب اردو بولنے والوں کی آبادی بتدریج کم ہو رہی ہے۔ ابھی یہ احساس حیدرآباد جانا ہے، میرپور خاص، نوابشاہ اور سکھر جانا ہے، آپ رکاوٹ تو نہ بنیں نا۔

اپ کے علم میں تو ہوگا کہ پی ٹی آئی کے ساتھ جتنے بھی لوگ جڑے ہوئے ہیں اس کی وجہ صرف عمران خان کی شخصیت ہے۔ ان کی باتوں نے ملک کے دیگر حصوں کی طرح کراچی کے نوجوان نے بھی اس کو ووٹ کیا ہے۔

پی ٹی آئی حکومت کی پالیسیوں اور اقدامات سے لگ رہا ہے کہ عوام ان پانچ سالوں میں عمران خان کے سحر سے نکل آئے گی، ایسے میں ان نوجوانوں کے پاس دو آپشنز ہوں گے ، یا تو وہ آپکی جماعت کو آزمائیں گے یا پھر پرانی سیاست کی طرف واپس جائیں گے۔ پلیز ان لوگوں کو مایوس ہوکر پرانی سیاست کی طرف جانے نہیں دیں، یہ کسی کے بھی حق میں نہیں۔

سہیل صاحب، یہ نہ سمجھیں کہ سندھ کے لوگ ماضی میں مہمان نواز اور روادار تھے، یقین مانیے اگر خدانخواستہ آج بھی کوئی قدرتی آفت یا ناگزیر حالات کراچی والوں کو نقل مکانی پر مجبور کردیں تو آج بھی آپ اور ہم لاڑکانہ اور جیکب آباد میں ان کی ایسے ہی مہمان نوازی کریں گے جیسے ہمارے آباؤ اجداد نے کی تھی، بلکہ اگر اس دور میں دیگچے پکے تھے تو اب دیگیں پکیں گیں، ساتھ ہی ساتھ یہ بھی یاد رکھیں اگر یہ لوگ وہاں آباد ہوئے تو کچھ عرصے میں آپکے فرید آباد اور ہمارے ٹھل کو کراچی جیسا بنا سکتے ہیں۔
اس لیے اب وقت آگیا ہے کہ نفرتوں کو دفن کرکے آگے بڑھنے کی منصوبہ بندی کریں، سہیل انور صاحب، اب ایسا نہ کریں۔ !

Facebook Comments HS