شیطان پر لعنت


\"assem\"

وجاہت بھائی آداب۔ آپ نے پرسوں آرتھر کوئسلر کا ذکر کیا تو نیند نہیں آئی۔ صبح سویرے دفتر پہنچا تو اس کی کچھ سطریں دماغ میں گونج رہی تھیں۔ پھر یہ واقعہ ۔۔۔ ہو گیا۔ بس ویسے ہی (عاصم بخشی )

ایوانوف نے اپنے لئے ایک اور جام بھرتے ہوئے دہرایا۔ ’’پرانے وقتوں میں حرص حیوانی نوعیت کی ہوتی تھی۔ اب اس کی نوعیت خالص استدلال کی ہے۔ اقدار بدلتی رہتی ہیں۔ میں ایک ایسا جذباتی ناٹک لکھنا چاہتا ہوں جس میں خدا اور شیطان دونوں سینٹ روباشوف کی روح کے حصول کی خاطر برسرِ پیکار ہوں۔ گناہ کی ایک طویل زندگی کے بعد وہ بالآخر اپنا منہ خدا کی جانب موڑ لے، ایک ہاتھ میں سرمایہ دارانہ لبرلزم اور دوسرے ہاتھ میں تبلیغی جتھوں کی خیرات لئے دہری ٹھوڑی والا فربہ خدا۔

دوسری طرف شیطان، ایک لاغر زاہدانہ وجود، منطق کا ایک متشدد پجاری۔ مکیاولی، لویولا کے اغناطیوس، مارکس اور ہیگل کا عالم۔ ایک خاص قسم کے ریاضیاتی رحم کے باعث انسانیت کے لئے سردمہر اور نامہربان۔ ایک ابدی لعین جسے ہمیشہ وہی کرنا پڑے جس سے اسے نفرت ہے: قتل ختم کرنے کے لئے قتل عام کرنا پڑے، بھیڑ بکریوں کی بھینٹ اس لئے چڑھانی پڑے کہ مزید بھیڑیں ذبح نہ ہوں، لوگوں کو تازیانوں سے بچنے کی تعلیم دینے کے لئے ان کی پیٹھوں پر آہنی درے لگانے پڑیں، ایک آفاقی صداقت پسندی کے نام پر ان سے تمام سچائیاں چھین لینی پڑیں اور \"KOESTLER\"انسانیت کی محبت کی خاطر اس کی نفرت کو آواز دینی پڑے۔ ایک مجرد اور ہندسی محبت کرنے والا شیطان۔
_________________________________
(آرتھر کوئسلر، نصف النہار کی سیاہی، ترجمہ: عاصم بخشی )


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

عاصم بخشی

عاصم بخشی انجینئرنگ کی تعلیم و تدریس کے پیشے سے وابستہ ہیں۔ ادبی تراجم اور کتب بینی ان کے سنجیدہ مشاغل ہیں۔

aasembakhshi has 79 posts and counting.See all posts by aasembakhshi

Subscribe
Notify of
guest
5 Comments (Email address is not required)
Oldest
Newest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments