سعودی عرب سے 10 ارب ڈالرکی سرمایہ کاری کی باتیں قبل از وقت ہیں: وزیر خزانہ اسد عمر


وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا ہے کہ سعودی عرب سے دس ارب ڈالر سرمایہ کاری کی باتیں قبل از وقت ہیں۔ اکتوبر کے وسط تک غیر یقینی صورتحال ختم ہو جائے گی۔ ایک ماہ میں شکوک شبہات ختم ہو جائیں گے۔ اس وقت بیچنا  چاہیں تو پی آئی اے اور سٹیل مل کو کوئی ایک روپے میں بھی نہیں خریدے گا۔ مشکل ترین حالات میں بھی آپشنز پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

دنیا نیوز کے پروگرام ”ٹو نائٹ ود معید پیرزادہ“ میں گفتگو کرتے ہوئے اسد عمر نے کہا کہ اچھے فیصلوں میں وقت لگتا ہے۔ میں ابھی وزیر خزانہ بھی نہیں بنا تھا کہ میں نے کہا تھا کہ کوئی بھی منصوبہ بندی میں چھ ہفتے کا وقت لگے گا۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ بھی بیٹھنا ہے تو اس کے لئے بھی پتہ ہونا چاہئے کہ ہمارے پاس کیا آپشنز ہیں اور کیا نہیں ہیں؟ ہمار ے پاس آپشنز کم ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ وقت پر فیصلے نہیں کئے گئے لیکن ہم ان مشکل ترین حالات میں بھی آپشنز پیداکرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت سرمایہ کاری کے لئے بہت زیادہ سرگرم ہے۔ سعودی عرب سے دس ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے حوالے سے کی جانے والی باتیں قبل از وقت ہیں۔ میں اور وزیر اعظم عمران خان ایک پیج پر ہیں۔ ان کا کہناہے کہ بھینسیں اور گاڑیاں بیچنے کا مقصد قوم کو یہ پیغام دینا ہے کہ حکمران مغلیہ خاندان کے افراد نہیں ہیں بلکہ آپ کے خادم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا سب سے پہلا کام تیس ارب ڈالر کا خلا پر کرنا ہے۔ سابق حکومت نے ایک الیکشن خریدنے کیلئے یہ سارے اقدامات کئے۔ پنجاب کی حکومت نے الیکشن جیتنے کیلئے پچھلے سال 43 ارب کا خسارہ کیا۔ سابق حکومت نے ملکی معیشت تباہ کر کے رکھ دی، برآمدات کم ہو گئیں۔ ہم قوم کا پیسہ بچانا چاہتے ہیں۔ سابق حکومت کی طرح شاہانہ اخراجات نہیں کریں گے ۔مسلم لیگ ن کی حکومت کی ترجیح معیشت کو بحال کرنا نہیں تھی۔ حکومت کی اولین ترجیح سرمایہ کاری اور صنعت کو بڑھانا ہے۔ گیس اور بجلی میں 600 ارب کا خسارہ ہے۔ حکومت او ڈی جی سی ایل کو بیچنے نہیں جا رہی ہے۔ بڑ ے اداروں کی نجکاری کرنا بھی چاہیں تو نہیں کر سکتے۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف کی حکومت نے ایک بھی ادارے کی نجکاری نہیں کی۔ سیاستدان اور بیورو کریٹس اداروں کو ٹھیک نہیں کر سکتے اس لئے اداروں میں تجربہ کار لوگوں کو لایا جا رہا ہے۔

Facebook Comments HS