جب موتیے کے پھول کھِل اُٹھتے ہیں
رُخصت ہوتے ہوئے گیٹ کے ساتھ باغیچے میں اُگی، موتیے کی جھاڑیوں کے پاس ہم پل بھر کو ٹھیرے، تو وجاہت نے موتیے کے تین پھول توڑ کے میرے ہاتھ پہ رکھ دیے۔ پس! یہ طے ہو گیا کہ وجاہت مجھ سے پیار کرتے ہیں، ورنہ بے خیالی میں اُن سے یہ حرکت نہ سرزد ہوتی۔ اس سے پہلے عدنان پوچھ رہا تھا، کہ ناسٹیلیجیا کو کیسے لکھا جائے، نمونے کے طور پہ کچھ پڑھنے کو بتایا جائے۔ حسنین نے انتظار حسین کو پڑھنے کا مشورہ دیا؛ میں نے اے حمید کی سفارش کی تھی؛ عدنان مطمئن نہ ہوا۔ موتیے کے پھول میرے ناسٹیلجیا کا حصہ ہیں۔ میں نے وجاہت سے کہا، کہ مجھے انھیں دیکھ کے اپنے نانا یاد آتے ہیں۔ اُس لمحے جب موتیے کے یہ تین پھول میری ہتھیلی پہ رکھے گئے، عین اس لمحے میں ریل وے وائرلس کالونی راول پنڈی کے مکان نمبر 389 اے، کے باورچی خانے کے ساتھ بنے کمرے میں جا پہنچا۔ میری یاد کے پردوں پہ یہاں کا منظر کچھ ایسا کر کے نقش ہے:
لکڑی سے بنی میز پر دھرا، ٹیوبوں والا ریڈیو؛ ریڈیو کے سامنے کروشیے سے کڑھے سفید میز پوش پر رکھے موتیے کے سفید پھول۔ سفید کرتے پاجامے میں ملبوس، تکیے سے ٹیک لگائے، چارپائی پہ نیم دراز ریڈیو سنتے میرے نانا۔
وجاہت کے گھر کے گیٹ سے داخل ہوں، تو بائیں ہاتھ پر انار کا درخت ہے؛ سال بھر پہلے یہ بہت چھوٹا دِکھتا تھا، اب کچھ بڑا ہو گیا ہے؛ اس بار درمیانے حجم کے درخت پر انار کے ننھے منے پھل بھی دکھائی دیے؛ گزرے سال یہ ثمر بار تھا یا نہیں، یہ میرے ذہن سے محو ہو گیا ہے۔ کئی بار یوں ہوتا ہے، کہ کل کی بات یاد نہیں رہتی اور اکثر برسوں پرانی یاد مہکتی رہتی ہے۔ جیسے انار وجاہت کے گھر لگے ہیں، ہندکو میں ایسے ننھے منے اناروں کو ”دُھرنّے“ کہتے ہیں۔ ہندکو میں انجیر کو ”پھاگاں“ کہتے ہیں۔ ہندکو میں خالہ کو ”ماسی“ کہتے ہیں۔ میری امی کی تین ماسیاں تھیں، ایک ماسی کے باغ میں دُھرنّوں کے درخت تھے۔ چوں کہ امی انھیں ماسی کہتی تھیں، تو ہم بچوں کو بھی انھیں ماسی کہنے کی عادت پڑ گئی۔ تین ماسیوں میں پہچان کے لیے ان کا نام ”دُھرنّے والی ماسی“ رکھا گیا۔ ہم بڑے ہوئے تو انھیں نانی اماں کہنے لگے؛ ایسے میں وہ اصرار کرتیں کہ ”دُھرنّے والی ماسی“ ہی پکارا جائے۔ سال بھر پہلے ان کا انتقال ہو گیا؛ مرتے دم تک وہ ہماری زبان سے ”دُھرنّے والی ماسی“ کہلوانا پسند کرتی تھیں۔ وجاہت کو شاید کوئی شرارت سوجھی تھی، انھوں نے انار کی طرف اشارہ کر کے پوچھا، اسے دیکھ کے کیا یاد آتا ہے؟
”دُھرنّے والی ماسی“۔
ناسٹیلجیا کو کیسے بیان کیا جاتا ہے، حسنین نے عدنان سے کہا، کہ انتظار حسین کو پڑھو؛ اور انتظار حسین کو پڑھنا ہے، تو ”بستی“ سے آغاز کرو۔
وجاہت کے عطا کردہ موتیے کے پھول واپسی میں میرے ساتھ ہولیے۔ بتاتا چلوں کِہ موتیے کی ایک بہت بڑی جھاڑی اس نازنین کے صحن میں بھی تھی؛ پردہ نشیں کا ذکر جانے دیجیے؛ کیوں کہ موتیے کے پھولوں سے وہ یاد نہیں آتی؛ اس کو یاد رکھنے کے سو بہانے ہیں، اسے بھول جانے کی ہزار وجوہ ہیں۔
اب کسے ہے دماغ تہمت عشق
کون سنتا ہے بات پھولوں کی
موتیے کے پھول دیکھ کے مجھے اپنے نانا یاد آتے ہیں۔ بھلے وقتوں میں ریلوے ڈیپارٹمنٹ میں آڈٹ آفیسر تھے؛ اُن کے والد لاہور کے ایک مدرسے میں مولوی تھے؛ نانا مڈل پاس کر کے انگریز کے ملازم ہوئے۔ غالباً میں پانچ سال کا تھا، کہ ابو جی کا انتقال ہو گیا؛ اپنے نانا کو ہم ابو جی کہتے تھے۔ ابو جی کا ہیولہ مجھے یاد ہے؛ گھر میں سفید کرتا پاجامہ پہنے رکھتے؛ دفتر جانے کے لیے پینٹ کوٹ ٹائی، سر پہ ہزارے وال کی طرز پہ کلاہ باندھتے، سائکل اس زمانے میں افسر ہی استعمال کیا کرتے تھے۔ نانا کو خان صاحب یا مولوی صاحب کے القابات سے پکارا جاتا۔ انھوں نے اپنی بیٹوں ہی کو نہیں بیٹیوں کو بھی پڑھایا؛ روایت کیا جاتا ہے کہ اس دور میں جب کہ ان کے گاوں میں ایک بھی لڑکی نے اسکول کا منہ نہیں دیکھا تھا۔ ان کی بڑی بیٹی یعنی میری امی اسکول میں داخل کرا دی گئیں، تو برادری کے بڑوں کی پیشانیوں پر بل پڑ گئے؛ جب امی کالج میں داخل ہوئیں، تو نانا کو حقہ پانی بند کرنے کی دھمکی دی گئی، کہ مولوی صاحب انگریزوں کی نقالی مت کرو۔ (آج کل ”انگریز“ کی جگہ لفظ ”لبرل“ نے لے لی ہے)۔ امی فخر سے بتاتی ہیں، کہ ابو جی نے کہا تھا، برادری سے کٹنا منظور ہے، میں اپنی بیٹی کو پڑھاوں گا۔ خیر سے آج اس گاوں کی ایک بھی عورت ان پڑھ نہیں۔
وجاہت کے گھر کے گیٹ پر انگور کی بیل بھی پھیلی ہے۔ وجاہت نے پوچھا ہی نہیں کہ اس بیل کو دیکھ کے کیا یاد آتا ہے؛ ورنہ میں کہتا، مجھے اس انگور کی بیل کو دیکھ کر مکان نمبر 389 اے، ریل وے وائرلس کالونی، راول پنڈی کے صحن کے دروازے پہ پرچھتی بنائے، دیوار سے چھت تک پھیلی انگور کی گھنی بیل یاد آتی ہے۔ کیسے ان گچھوں پہ کپڑے کی تھیلیاں چڑھا دی جاتی تھیں، کہ پرندوں سے محفوظ رکھا جا سکے۔ اور پھر اس انگور کی بیل کے ساتھ کسی فلمی اداکارہ کے پوز میں کھڑی میری خالہ کی نوجوانی کی بلیک اینڈ وائٹ تصویر بھی؛ یہ تصویر میری امی کے بکسے میں ڈھیروں پرانی تصویروں کے خزانے میں محفوظ رکھی ہے۔ یوں تو میری تین خالائیں تھیں، تینوں ہی نے ماں کی طرح پیار کیا۔ ایک کو بچھڑنے کی جلدی تھی، خدا کے پاس چلی گئیں۔ پر یہ ہے کِہ اب دو بھی کب پاس ہیں؛ ایک امریکا جا بسیں، ایک برطانیہ میں۔ یہ برطانیہ میں بسیرا کرنے والی اس خالہ کی تصویر ہے، جو دُنیا کے کسی کونے میں ہوں، میری سال گرہ والے دن مجھے فون کال کرنا نہیں بھولتیں؛ سچ ہے کہ مجھے اپنی سال گرہ کے دن، بس اسی خالہ کی فون کال کا انتظار رہتا ہے؛ احوال یہ ہے کہ میری امی کو بھی میرا جنم دن یاد رہتا ہے، نہیں رہتا۔
عدنان نے یہ سمجھنا چاہا کہ ناسٹیلیجا کو کیسے لکھا جاتا ہے؛ سچ ہے یہ مجھے بھی نہیں معلوم؛ میرا خیال تھا کہ شفیق الرحمان بھی ناسٹیلجیا کو اچھے سے بیان کرتے ہیں؛ حسنین نے میرے خیال کی تردید کی۔ مجھے صحیح سے یاد بھی نہیں ہے، کیوں کہ شفیق الرحمان کو پڑھے مدت ہوئی؛ اس لیے اپنے کہے پر اصرار نہیں کیا۔
لکڑی کی میز پر کروشیے سے کڑھے، سفید میز پوش پر دھرے، مہکتے موتیے کے پھول؛ موتیے کے پھولوں کے پس منظر میں لکڑی کا ڈِبا، جس کا بیک کور ہٹاو تو کھمبیوں کی طرح ایستادہ ٹیوبیں دکھائی دیتی ہوں۔ یہ وہ ریڈیو ہے، جسے اب انٹیک شاپس پر ڈھونڈتا پڑتا ہے۔ سفید کرتے پاجامے میں ملبوس، چارپائی پہ گاو تکیے سے ٹیک لگائے، ریڈیو سنتے میرے نانا، جنھیں ہم ابو جی کہتے تھے؛ وہ میری ماں کو نہ پڑھاتے، تو شاید آج میں انھیں ایسے یاد کرنے کے قابل نہ ہوتا۔ میری ہتھیلی پہ مہکتے موتیے کے تین پھولوں نے، جو وجاہت نے پیار کے اظہار میں دیے تھے، اس نے مجھے کہاں سے کہاں پہنچا دیا۔ سچ ہے، کہ پیار بڑا قیمتی ہوتا ہے۔


