مساجد میں عورتوں کا داخلہ، ان کی امامت اور امام ابو حنیفہ
زکریا ورک نے اپنے حالیہ مضمون میں مغربی ممالک کی مساجد میں عورتوں کے مسجدوں میں داخلے پر مساجد کی انتظامیہ کی طرف سے ردّعمل اور عورتوں کی امامت بارے جس طرز عمل اور فکر کے بارے لکھا ہے اس نے تحریک دی ہے کہ کچھ لکھوں۔ جہاں تک پہلے حصّے کا تعلق ہے یہ مسئلہ صرف مغربی ممالک میں ہی نہیں مشرقی اور جنوب مشرقی ایشائی ممالک میں بھی اسی شدت سے نظرآتا ہے۔ بلکہ اکثراوقات یہ رویہ نفرت ،نخوت اور مذہبی تکبّر کی فرعونیت سے بھی بھرا ہوا ہوتا ہے۔
ایک جنونی سیاح ہونے کے ناطے مذہبی تجربے کے اِس پہلو سے میں جن گوناگوں تجربات سے گزری ہوں ان کی چند جھلکیاں "ہم سب "کے قارئین کے لیے دلچسپی کا باعث ہوں گئی۔
اجنبی جگہوں پر سجدوں کے لیے ہمیشہ مری جاتی ہوں۔ شاید نہیں یقیناً نئی جگہ پر جسم کو خم دیتے ہی سریرکیا روح بھی مکمل سپردگی کی مہکتی لپیٹ میں آ کر عبودیت اور عجز کے ایک ایسے فیز میں داخل ہوتی ہے جہاں آنکھوں سے بہتے آنسو اندر کا گند دھو کر وجود کو ہلکا کر دیتے ہیں۔
سری لنکا کے خوبصورت ساحلی شہر نگمبو میں ظہر کی نماز پڑھنی تھی۔ مسجد کے بارے جان کاری ہوچکی تھی کہ کہاں ہے؟
وضو میں کچھ ایسا ہی اہتمام تھا جیسے دھوبی گندے کپڑوں کی پھینٹائی سے قبل اُنہیں سوڈے کے کھارے پانیوں میں ڈبوتا ہے۔ پر جب پٹڑے پر چڑھنے لگے تو روک دئیے گئے کہ دو لمبی داڑھیوں والے راستے میں حائل ہوگئے تھے۔’’آپ لوگ عورتیں ہیں ۔اندر نہیں جا سکتیں۔‘‘

’’عورتیں ہی ہیں نا بھئی۔ کوئی نجس چیز تو نہیں ۔آپ کے اور ہمارے نبی کی پسندیدہ مخلوق ۔‘‘
ُُ’’کہا نا آپ اندر نماز نہیں پڑھ سکتیں۔‘‘
’’دین کی یہ ٹھیکیداری کن لوگوں نے آپ کو دی ہے یا یہ خدمات آپ خود ہی انجام دینے لگے ہیں۔ خدا تو اپنے گھر میں کُھلے عام سب کو دعوت دیتا ہے۔ آپ پابندیاں لگاتے ہیں۔ ہاں نماز تو ہم نے یہیں پڑھنی ہے۔ ‘‘اشارہ مسجد کے اندر کی جانب تھا۔ ہمارے ہٹیلے پن نے بیچارے کو پسپا ہونے پر مجبور کردیا تھا۔ بڑے جزبز ہوئے تھے۔ تاہم پھر اشارہ کیا کہ اسطرف برآمدے میں پڑھ لو۔
کیگالا میں بھی یہی ہوا۔ پہلی پھٹکار مسجد کے حالیوں موالیوں کی جانب سے ہوئی کہ دن جمعے کا تھا اور خطبہ زور و شور سے جاری تھا۔ صحن میں حوض سے وضو کرتے ہوئے آس پاس پھرتے لوگوں کی آنکھوں سے غیر دوستانہ سے جذبات کا چھلکاؤ ماحول کے سرد رویے کی نشان دہی کرتا تھا۔ اف خشمگین نگاہوں نے جیسے قہر برسایا۔ چہرے پر بکھرے رعونت کے رنگوں نے دُور دفع ہو جاؤ۔ ہماری نماز خراب کرنے کی تمہیں جرات کیسے ہوئی؟ جیسے بھرپور تاثرات کا واضح سگنل دیا۔ دو چار ہاتھ دھکیلتے ملحقہ کمرے میں لے گئے ۔ بڑی سُبکی محسوس ہوئی۔ بنیاد پرستوں کے کٹڑ پن نے روشن خیال مسلمانی کی ایسی تیسی پھیر دی تھی۔ سجدے تو دئیے مگر مزے کے منہ میں روڑ آگئے تھے۔
ہاں البتہ مصر،شام،عراق،اُردن وغیرہ میں اِس مسئلے کی بڑی دلکش صورت دیکھنے میں آئی کہ ان ممالک میں مسجدوں کا ایک چوتھائی حصّہ عورتوں کے لیے مخصوص کردیا گیا ہے۔ مساجد کا استعمال جگہ اور محل وقوع کے مطابق ہوتا ہے۔ کہیں دبیز پردوں،کہیں قناتوں اور کہیں چوبی تختوں سے اِس حصّے کی تقسیم کی گئی ہے۔ کمرشل جگہوں کی مسجدیں ایک طرح عورتوں کے ریٹائرنگ روم ہیں۔ بازاروں میں پھرتی عورتیں شاپنگ کے پلندوں کے ساتھ مسجد میں داخل ہوتی ہیں۔اب یہ اُن کی مرضی کہ نماز پڑھیں یا ہیڈ فون لگا کر گانے سُنیں یا لم لیٹ ہو جائیں۔ خانہ خلیلی بازار میں جب ظہر کی نماز پڑھنے گئیں تو عورتوں کی اِس نوع کی سرگرمیوں نے ماشاء اﷲ سے بڑا دل شاد کیا ۔ہماری تو سچی بات ہے موجیں ہوگئیں کہ پھرتے پھرتے تھک کر کس کم بخت کا جی تھوڑا سا آرام کرنے کو نہیں چاہے گا۔سو ہم نے اِس کا پورا فائدہ اٹھایا۔
اب دوسرے پہلو کی تصویر بھی بڑی دلکش ہے جو پرانے قاہرہ کی مسجد عمروبن عاص میں جاکر دیکھنے کو ملی۔ پرانے قاہرہ کی مسجدوں کے زنانہ حصّے اردگرد کے غریب غربا گھروں کی کالجوں،یونیورسٹیوں میں پڑھنے والی لڑکیوں کی سٹڈی کی جگہیں ہیں۔ بلکہ کپڑے دھونے اور نہانے جیسے کام بھی وہ لڑکیاں یہیں کرتی ہیں۔
کشادہ صحن میں سے گزرتے ہوئے جب ہم خواتین کیلئے مخصوص حصے میں گئے تو تقریباً چھ نوجوان لڑکیاں ایک طرف بیٹھی لکھنے پڑھنے میں مصروف تھیں ۔دو Business Correspondance جیسی موٹی کتاب میں سے پوائنٹس نکال کر بحث کررہی تھیں۔ آخری کونے میں بیٹھی تین لڑکیاں جیسے گلاب کے تازہ کھلے پھول کتابیں کھولے ہماری بچیوں کی طرح رٹے مارنے میں جتی تھیں۔
سچی بات ہے مساجد کے اِس اتنے موثر اور مفید استعمال پر تو دل سے دعا نکلی تھی کہ کاش پاکستان میں بھی ایسا ہوسکے۔
خانہ خلیلی بازار میں گھومتے پھرتے قریبی مسجد سے عشاء کی اذان گونجی ۔نماز کیلئے اندر جانے لگی ۔مجھ سے آگے جینز میں ملبوس اونچی ایڑی کا جو تا ٹھک ٹھک بجاتی ایک نوجوان لڑکی جو چند لمحے قبل دوکان پر بیٹھی تھی۔ مسجد کے دروازے میں داخل ہو رہی تھی۔خواتین والے حصے میں پہنچ کر اُسنے طاق میں رکھا چوغہ اٹھایا۔ پہنا اور اﷲ اکبر کہتے ہوئے نیّت باندھ لی۔ نماز کے بعد لڑکی کچھ دیر سستائی پھر باہر نکلی اور کاروبار حیات میں گُم ہوگئی۔
استنبول کے ایشیائی حصّے اسکدار کی سنان مسجد میں داخل ہی ہوئے تھے کہ ہمارے پیچھے خواتین کا ایک بڑا سا ریوڑ ہاتھوں میں خریدوفروخت کے تھیلے اٹھائے ہنستے مسکراتے اندرآیا۔ان میں اگر حجاب اور عبایا والی خواتین تھیں تو وہیں ننگی ٹانگوں اور اونچے سکرٹوں میں ملبوس نوجوان لڑکیا ں بھی تھیں۔میں نے قدرے حیرت سے اِس منظر کو دیکھا اور ذرا ایک جانب ہوئی کہ دیکھوں تو سہی مسجد کے اندر ان کا داخلہ کیسے ہوتا ہے؟
لڑکیوں نے کمال اطمینان سے اپنے تھیلوں میں سے ایک کُھلا کپڑا نکالا۔ٹانگوں پر لپیٹا ۔سروں پر رومال ڈالے اور مزے سے اپنے مخصوص حصّے میں چلی گئیں۔تعاقب میں ہم بھی آگے بڑھے ۔روشن خیالی،رواداری اور برداشت کا یہ بڑا پراثر سا منظر تھا۔حجاب والیوں کو کوئی اعتراض نہیں تھا ان کے اس لباس پر اور نہ لڑکیوں کو کوئی شرمندگی محسوس ہوئی تھی۔اندر بھی ایسے ہی منظر تھے۔ ٹانگوں کو کور کرنے والیوں نے اگر فرض نماز پڑھی تو دو تین ویسے ہی بیٹھی بیج کھاتی رہیں۔کِسی کو کِسی پر اعتراض نہیں تھا۔بات چیت کی کوشش تو بہتری کی مگر سب انگریزی سے نابلد تھیں۔
تاہم استنبول اور انقرہ میں جو کچھ نظر آتا ہے یہ ترکی کا بڑا روشن چہرہ ہے۔ رواداری سے بھرا ہوا سیکولر معاشرے کا چہرہ۔جہاں معاشرتی رویوں اور قانون کے لحاظ سے عورت کو زندگی کے ہر شعبے میں برابری کا درجہ حاصل ہے ۔مگر جونہی آپ دیہاتی علاقوں خصوصاً جنوب مشرق کی طرف نکلتے ہیں ۔آپ کو بہت واضح فرق نظر آئیں گے۔یہاں سماجی اور معاشرتی حوالوں سے عورت کو وہ حقوق حاصل نہیں ۔عزت کی خاطر قتل بھی ہوتے ہیں۔ پسند کے اظہار پر لڑکی کو زودوکوب بھی کیا جاتا ہے۔ جلانے، گولی سے مارنے اور چھرا گھونپنے کے واقعات بھی ہوتے ہیں۔ مزے کی بات کہ ایسا کرنے والوں کو قانون اگر گرفت میں لے کر جیل بھیج دیتا ہے تو ہمارے ہاں کی طرح وہاں انہیں بہت عزت و احترام ملتا ہے۔
عراق کی تصویر سے بھی لُطف اندوز ہوں۔ عراقی جی دار اور روشن خیال قوم ہے۔ ماضی کے ہم جنس پرست عظیم کلاسیکل شاعر ابونواس ہو یا مُرتد المتنابی ہو۔ بغداد نے اُنہیں سرکا تاج بنا رکھا ہے۔مسجد امام ابو حنیفہ میں حنفیہ محلے سے آنے والی عورتوں سے مسجد میں بڑی گپ شب رہی۔ زبان کا مسئلہ تو بیچ میں کھڑا ہوگیا تھا۔ مگر ہم عورتیں بھی کمال کی چیزہیں۔ راستے ڈھونڈناجانتی ہیں۔ آنسوؤں اور مسکراہٹوں کا خوب چھڑکاؤ ہوا۔ اکثریت نے حالات کی سنگینی جیسے تاثر کو واضح کرنے کیلئے آنکھوں اور ہاتھوں سے ایسی تمثیل کاری کی کہ جس کیلئے کہا جائے کہ ٹھیک ٹھیک ٹھکانوں پر نشانے لگے۔ امریکہ کیلئے تبرّوں کی بارش اور ہاتھ اٹھا کر جیسے انہوں نے کِسی طوفانِ نوح میں اُس کی غرقابی چاہی میں سب سمجھی۔
میرے پاکستانی جاننے پر مجھے اپنے گھر لیجانے کی پیشکش کم و بیش سبھوں نے کی۔ قالینوں پر ہم سبھی پھسکڑے مارے بیٹھی تھیں۔ عبایا کے نیچے میری شلوار کے پائینچے کہیں تھوڑا سا اوپر اٹھ گئے۔ٹانگوں پر بالوں کا جنگل سا دیکھ کر اُن سبھوں کے ہونٹوں سے ہنسی کے فوارے پھوٹے۔ آنکھیں مٹکیں۔ چہرے بولے کہ ’’ہیں ہیں یہ کیا جنگلی پن ہے۔ ‘‘پھر بے تکلفی سے سیاہ عباؤں تلے سے اپنی لش لش کرتی گوری گوری گداز سڈول ٹانگوں کا نظارہ کروایا۔
’’دیکھو دیکھو‘‘ پھر چند ایک نے میری بھنوؤں کی طرف بھی اشارے بازی کی۔ میں نے بھنوؤں کے ساتھ زندگی بھر کبھی چھیڑخانی نہیں کی۔حتٰی کہ اپنی شادی والے دن بھی نہیں۔جاتے جاتے انہوں نے مجھے یہ دونوں نیک کام کرنے کی تاکید کی۔کچھ سمجھایا جو میں نے زبان نہ آنے کے باوجود سمجھا اورلُطف اٹھایا۔
اب رہی خواتین کی امامت ۔دین کے اِس اتنے اہم مسئلہ پر میرے جیسی کم علم عورت کیا کہے گی کہ ہمارے علماء نے اجتہاد کا دروازہ بند کررکھا ہے۔
بدلتا وقت،علم، سائنس اور ٹیکنالوجی کے نت نئے راستوں نے سوال اور دلیل کی اہمیت کو سرفہرست کردیا ہے۔کمزور اور نازک صنف خود آگاہ اور خود شناس ہوگئی اور ہورہی ہے۔فہم و ادراک کی منزلیں طے کررہی ہے۔سرکشی اور ہٹیلا پن بھی انداز میں آرہا ہے۔اب ایسے میں علماء پر دہری ذمہ داری عائد ہوتی ہیں کہ نئے تقاضوں اور رحجانات کو سمجھیں ۔اس ضمن میں امام ابو حنیفہ کا حوالہ بہت اہم ہے کہ مختلف شہروں اور ملکوں میں اُن کا کپڑے کا کاروبار تھا۔ عام لوگوں سے میل ملاقات کے مواقع بہت کثرت سے ملتے تھے۔ اسی لئیے لوگوں کی روش ،ان کے عمومی روےّے اور رحجانات، ان کی ضروریات،ان کے معاشی اور معاشرتی مسائل اور تقاضے وہ اُن سے ذاتی طورپر آگاہ رہتے تھے۔ اسی لئیے مجتہد مسائل میں عوامی رحجانات اور فطری مزاج کے مطابق فیصلے دیتے تھے۔ اِس غرض کیلئے اُن کے ہاں مجلس مشاورت تھی۔مجلس کے سامنے مسئلہ پیش ہوتا۔بعض اوقات اُس پر ہفتوں بحث و مباحثہ چلتا۔ طویل بحث کے بعد جس بات پر سب کی رائے متفق ہوتی اُسے امام ابویوسف کتاب اصول میں درج کرتے۔
امام اعظم اپنے اراکین بورڈ کی باقاعدہ فکری تربیت اور رہنمائی بھی کرتے۔یہ اُس تربیت کا نتیجہ تھاکہ فقہا کی ایک جماعت تیار ہوگئی کہ اِن ائمہ کے مختلف اذہان سے جب ایک مسلہ منتج ہوکر نکلتاتو اُس کی حیثیت فرد واحد کی سوچ اور فکر سے مختلف ہوتی۔قرآن حکیم میں ہے اﷲ تعالی نے انسان کی وسعت سے زیادہ احکام کا بار اُس پر نہیں ڈالا بلکہ وہ انسانوں کیلئے تنگی اور عسرت کو نہیں آسانی کو پسند کرتا ہے۔ میری ناقص رائے میں تیزی سے بدلتے وقت کے تقاضوں کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔








