گمشدہ محبت کی بے آواز صدائیں


اتنے میں وہی دبلا سا لڑکا شربت کے گلاسوں کی ٹرے اٹھائے کمرے میں داخل ہوا اور ٹرے میز پر رکھ کر خاموشی سے واپس لوٹ گیا۔ آنٹی نے ہمیں اشارہ کیا۔ پیاس لگی تھی سو ہم دونوں نے گلاس اٹھا لیے۔

‘ سجاد بیٹے کے کلاس فیلوز آتے رہتے ہیں ملنے کبھی کبھی۔ بڑی خوشی ہوتی ہے‘ آنٹی کہہ رہی تھیں۔ ‘ لگتا ہے میرا ایک بیٹا نہیں کتنے ہی بیٹے اور بیٹیاں ہیں۔ سب بڑے پیار سے نام لیتے ہیں اس کا۔ بڑی خوشی ہوتی ہے۔ میرا بیٹا ہے بھی بہت اچھا اور پیارا۔ اللہ اسے نیک نصیب بنائے‘۔

وہ خود ہی چپ ہو گئیں۔ پھر ایک وقفے کے بعد رشدہ سے مخاطب ہوئیں۔ ’ آپ بیٹی۔ ‘ انہوں نے جان بوجھ کر جملہ ادھورا چھوڑ دیا۔

‘ آنٹی میں رشدہ انصاری ہوں اور یہ زرمینہ حمید ہیں۔ ‘ رشدہ جلدی سے بولی۔ ‘ ہم اور سجاد دو سال یونیورسٹی میں ساتھ پڑھے ہیں۔ ‘
‘بہت اچھی بات ہے‘ وہ بولیں۔ اور پھر مجھ سے مخاطب ہو کر پوچھا۔ ‘آپ کا کیا نام بتایا بیٹا؟ ‘

‘ زرمینہ ’ میں نے کہا۔
‘ بہت پیارا نام ہے۔ ’ انہوں نے کہا ’ اورآپ خود بھی تو کتنی پیاری ہو ماشا اللہ۔ خدا نظر بد سے بچائے‘۔ میں شرما گئی۔

رشدہ نے سلسلہ کلام آگے بڑھایا۔ ’ آنٹی سجاد ہماری کلاس تو کیا پوری یونیورسٹی کے بیسٹ اسٹوڈنٹ تھے۔ پڑھائی میں بھی ٹاپ۔ ڈیبٹر بھی نمبر ون۔ اور ہاکی مییں بھی کلرہولڈر۔ ‘
میں نے دیکھا کہ بیٹے کی تعریف پر ماں کی آنکھیں جگمگا اٹھی ہیں۔

‘ اور سب لوگ سٹوڈنٹس ہوں یا ٹیچرز ان کو اتنا پسند کرتے تھے کہ جس کی کوئی حد نہیں۔ ‘ رشدہ بتا رہی تھی ’اور اتنے پاپولر ہو کر بھی وہ اتنے سویٹ اتنے ہمبل اور ڈاون ٹو ارتھ۔ ۔ اور ہم دونوں کے ساتھ تو وہ بہت ہی کائنڈ تھے۔ ہماری پڑھائی میں بھی ہماری ہیلپ کرتے تھے۔ خاص طور پر زرمینہ کی‘ آخری جملہ اس نے جان بوجھ کر میری طرف دیکھ کر کہا تھا۔ میں شرم سے سرخ ہو گئی۔ میں نے تیوری چڑھا کر رشدہ کی طرف دیکھا تو وہ دوپٹے کا کونا منہ میں دبا کر اپنی ہنسی روکنے کی ناکام کوشش کرنے لگی۔ میں نے آنکھوں ہی آنکھوں میں اس سے کہا۔ ‘ رشدہ کی بچی تو آج باہرتو نکل ذرا۔ مزہ چکھاتی ہوں تجھے‘۔

سجاد کی امی ایک زیر لب تبسم کے ساتھ ہماری یہ نوک جھونک دیکھ رہی تھیں۔

‘ لیکن آنٹی پتہ نہیں کیا ہوا۔ ‘ رشدہ بولی۔ ‘سجاد یونیورسٹی سے نکل کرہم لوگوں کو بالکل بھول ہی گئے۔ کوئی اتہ پتہ نہیں کوئی خیر خبر نہیں۔ ہیں کہاں پر موصوف۔ ذرا بلائیں تو ان کو۔ ‘

میرا دل ایک بار پھر دھڑکا اور گال گرم ہونے لگے۔
‘بڑی مشکل سے آپ کا ایڈریس ڈھونڈ کر پہنچے ہیں آج ہم یہاں۔ ‘ رشدہ کہہ رہی تھی۔

سجاد کی والدہ مسکرائیں۔ ’ بیٹا سجاد تو ابھی آفس سے نہیں آیا۔ ‘
‘ اچھا۔ تو کیا نوکری مل گئی صاحب بہادر کو۔ ‘ رشدہ نے استعجاب سے پوچھا۔
۔ ہاں بیٹا۔ سجاد نے بتایا نہیں کیا آپ لوگوں کو؟ شاید بھول گیا ہو گا۔ اصل میں بڑا ہی مصروف ہو گیا ہے نا نوکری ملنے کے بعد! ‘ آنٹی نے کہا۔

‘یہ تو بڑی خوشی کی خبر ہے آنٹی۔ ‘ میں نے ہمت کر کے کہا۔ ‘ لیکن کہاں ملی ہے سجاد کو نوکری؟
‘ وہ کوئی غیر ملکی کمپنی بتاتا ہے سجاد۔ لیکن مجھے نام یاد نہیں آرہا اس وقت۔ بوڑھی ہوگئی ہوں نا۔ ‘ وہ مسکرائیں۔ ‘ اب باتیں بھولنے لگی ہوں میں۔ ‘

‘ تو آفس سے۔ کب تک۔ آ جاتے ہیں سجاد ’ میں نے اٹک اٹک کر جملہ پورا کیا۔ باقی بات شاید میرے گالوں کے بدلتے ہوئے رنگوں نے کہہ دی۔ آنٹی کھل کر مسکرائیں۔
‘ بیٹا وہ عام طور پر اس وقت تک آ جاتا ہے آفس سے لیکن آج پتہ نہیں کیوں لیٹ ہو گیا ہے۔ بس آتا ہی ہو گا۔ ‘

ان کی نظر ایک بار باہری دروازے کی طرف گئی اور پھر پلٹ کر سامنے دیواری کلاک پر پڑی جہاں ساڑھے پانچ بجنے والے تھے۔ ان کے چہرے پر ایک سایہ سا لہرا کر گزر گیا۔
‘ اصل میں نئی نئی نوکری ہے نا تو بہت کام کرنا پڑتا ہے اسے‘ وہ بولیں ’ لیکن یہ بھی شکر ہے کہ وہ کام سے لگ گیا ہے۔ تنخواہ ابھی کم ہے لیکن تنخواہ کا کیا ہے۔ آج کم ہے تو کل زیادہ بھی ہو جائے گی۔ ‘

‘ جی جی بالکل آنٹی‘ ہم دونوں نے تقریبا یک زبان ہو کر کہا۔
‘ وہ آپ لوگوں کو بھولا تو بالکل نہیں ہو گا۔ بس مصروفیت ہی ایسی ہو گئی ہے کہ رابطہ نہیں ہو سکا ہو گا۔ ’

اب ان کی نظریں دیوار پر لگے ہوئے سجاد کے اس مسکراتے ہوئے زندگی سے بھر پور پورٹریٹ پر جمی ہوئیں تھیں۔ میں نے دیکھا کہ خوشی کے آنسووں نے ماں کے گوشہ ہائے چشم میں موتی سے رکھ دیے تھے۔

‘ بڑا ہی محبتی بچہ ہے میرا ’ وہ کچھ دیر کی خاموشی کے بعد پھر گویا ہوئیں۔ ان کی نظریں ہنوز سجاد کی تصویر پر تھیں۔ ’ایسا سعادت مند۔ ایسا سیدھا۔ ساری تنخواہ لا کر میری ہتھیلی پے رکھ دیتا ہے۔ رات کو میرے پیر دبائے بغیر کبھی نہیں سویا وہ۔ اللہ ایسی اولاد سب کو دے جو ماں کی آنکھوں کا نور ہو اور باپ کے دل کا قرار۔ ’

وہ لمحےبھر کر رکیں اور پھر کمرے کی کھڑکی سے باہر لہراتی ہوئی لمبی سبز گھاس کی طرف اشارہ کرکے بولیں۔ ’ یہ باہر لان بھی اسی نے بنایا ہے۔ کہتا ہے میں یہاں پھول اگاؤں گا۔ گلاب اور موتیا اور یاسمین۔ ‘

رشدہ نے مجھے دیکھا اور میں نے رشدہ کو۔

‘ میں تمہیں کیا بتاوں زرمینہ بیٹا ’ وہ مجھ سے مخاطب ہو کر بولیں۔ ’ میرا سجاد شروع سے ہی اتنا ذہین تھا کہ جو دیکھتا دانتوں میں انگلیاں دبا لیتا۔ دو سال کی عمر میں اس نے الف بے والا قاعدہ پڑھ لیا تھا۔ اور تین سال کی عمر میں یہ جوڑ جوڑ کر پورا جملہ پڑھ لیتا تھا۔ اور پیارا بھی تو کتنا تھا۔ گورا گھپلا موٹا سا۔ محلے کی لڑکیاں اٹھائے اٹھائے پھرتیں اور چوم چوم کر منہ لال کر دیتیں۔ اسکول کالج ہر جگہ ٹاپ کیا اس نے۔ ہاکی پلیئر بھی ہے اور مقرر بھی۔ اس کی ٹرافیوں سے گھر بھرا پڑا ہے۔ ‘

آنٹی بولتی جا رہی تھیں اور میری نظروں کے آگے سجاد کی زندگی کی فلم چل رہی تھی۔

۔ ’لوگوں کے بچے پتہ نہیں کیا کیا کرتے پھرتے ہیں۔ میرے سجاد نے دس سال کی عمر کے بعد نہ کوئی نماز قضا کی نہ کوئی روزہ۔ شام کو ورزش کے لیے جم جاتا ہے۔ کیسا خوبصورت جوان نکل آیا ہے مگر آنکھ میں حیا ایسی کہ مجال ہے جو کسی کو آنکھ اٹھا کے دیکھ بھی لے۔ اللہ سلامت رکھے میرے بیٹے کو۔ اب تو داڑھی بھی رکھ لی ہے اور بھی پیارا لگتا ہے۔ میں تو نظر اتارے بغیر اسے باہر نہیں جانے دیتی کبھی‘

آنٹی بول رہی تھیں اور ہم دونوں سراپا گوش تھیں۔ کلاک نے مختصر گھنٹی بجائی۔ شام کے پونے چھ بج چکے تھے۔
آنٹی جیسے ایک دم ہوش کی دنیا میں واپس آ گئیں۔
‘ تو زرمینہ بیٹا۔ آپ اپنی فیملی کے بارے میں کچھ بتاؤ نا۔ کتنے بہن بھائی ہو آپ لوگ اور فادر کیا کرتے ہیں؟ ‘

‘ جی میرے ابو سول انجنیئر ہیں۔ ایک سرکاری محکمے میں اچھی پوسٹ پر ہیں۔ اماں ہاوس وائف ہیں۔ مجھ سے بڑے بھائی ڈاکٹر ہیں اور سب سے بڑے اپنا بزنس کرتے ہیں۔ دونوں میریڈ ہیں۔ میں سب سے چھوٹی ہوں گھر میں۔ ‘

‘بہت اچھے۔ اور آپ آج کل کیا کرتی ہو بیٹے؟ کوئی جاب وغیرہ؟ ‘
‘ نہیں میں گھر پر ہی ہوتی ہوں آنٹی۔ بس اماں کا ہاتھ بٹاتی ہوں گھر کے کام کاج میں‘۔

‘ ویری نائس‘ وہ بولیں۔ ’ بیٹے آپ مجھے بہت اچھی لگی ہو۔ آپ نے مجھے اپنے گھر کا پتہ اور فون نمبر دے کر جانا ہے۔ میں سجاد کے ابو کے ساتھ آوں گی آپ سے ملنے۔ آ سکتی ہوں نا میں آپ کے گھر؟ ‘

۔ ‘ جی جی آنٹی کیوں نہیں۔ ضرور‘ میں نے کہا۔ ‘ آپ کا اپنا گھر ہے جب چاہے آئیں۔ ‘
اس وقت اگر میرے پر ہوتے تو شاید میں بادلوں سے بھی اوپر نکل گئی ہوتی۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3