کٹار

اور پھر یوں ہوا کہ گہرے کالے اندھکار کے بیچوں بیچ اجیارے کا ننھا سا بیج پھوٹا اور دھیرے دھیرے بڑا ہونے لگا۔ آگے کو بڑھنے لگا۔ اور پھر بڑھتے بڑھتے پورن ماشی کے چندرما جتنا بڑا اور گول ہو گیا۔ پھر جیسے اس چندرما کی جیوتی میں جان پڑ گئی۔ پہلے دو گول نین ابھرے۔ پھر ما تھا۔ پھر وہ تیکھی دھار جیسی ناک۔ اور پھر وہ دو رسیلے مدھ بھرے لب جو دھیرے دھیرے آگے بڑھے اور اس

Read more

ایک کلرک کی موت: (اینٹون چیخوف کا افسانہ)

ترجمہ: مسعود صابر وہ ایک بڑی شاندار رات تھی جب شاندار کلرک آئیوان دمتریچ چرویا کوف، انفرادی نشستوں کی دوسری قطار میں بیٹھا ’لا کلوچز دی کورن ول‘ کا اوپرا گلاسز کی مدد سے لطف اٹھا رہا تھا۔ وہ سٹیج کو دیکھ رہا تھا اور خود کو فانی انسانوں میں مسرور ترین تصور کر رہا تھا جب اچانک۔ ’اچانک‘ ایک گھسی پٹی ترکیب ہے مگر مصنفین اسے کیسے استعمال نہ کریں جبکہ زندگی حیران کن واقعات سے بھرپور ہے۔ اچانک

Read more

میکسم گورکی کا افسانہ: میرا ہم سفر

میری اس سے پہلی ملاقات اوڈیسا کی بندرگاہ پر ہوئی تھی۔ متواتر تین دن تک اس کا وہ کسا ہوا بدن، لمبوترا جسم اور نفاست سے ترشی ہوئی داڑھی والا خوبصورت مشرقی چہرہ میری توجہ اپنی طرف کھینچتا رہا۔ مجھے نہیں پتہ کب مگر وہ یونہی اچانک کہیں سے نمودار ہو کر میری نگاہوں کے سامنے آ گیا تھا۔ وہ گھنٹوں سمندر کے سنگی پشتے پر کھڑا بندر گاہ کے گدلے پانیوں کو گھورتا رہتا تھا۔ اس کی آنکھیں بادام

Read more

کچھ باتیں زاہد بھائی اور آزاد قوم کی

  مسٹر اے۔ آر۔ زاہد ہمارے ملک کی ایک انتہائی معروف شخصیت ہیں۔ اگر آپ اخبارات پڑھتے ہیں تو آپ ان کی ذات اور کارناموں سے بخوبی واقف ہوں گے۔ آپ ملک کے ایک نامور بیوروکریٹ رہے۔ آپ نے نہایت اہم عہدوں پر خدمات انجام دیں اور ملکی تاریخ کے کئی کلیدی فیصلے آپ کے قلم سے صادر ہوئے۔ سول سروس کے طویل کیریر میں ایک سرکاری افسر کی حیثیت سے آپ کی پیشہ ورانہ قابلیت، دیانت، سمجھ بوجھ اور

Read more

بے ‏خواب آنکھیں

”اس نے کہا تھا۔ میں دیکھ سکتا ہوں اس لیے میں ہوں“ بوڑھے داستان گو نے اپنی گھنے بالوں والی سموری ٹوپی کو اپنے چہرے پر کھین‍چا اور ایک گہرا سانس لیتے ہوئے کسی پرانے فلسفی کا قول دہرایا۔ ” مگر سوال یہ ہے کہ جو آپ نہیں دیکھ سکتے کیا وہ واقعی ناموجود ہے؟ کیا دیکھنے والے سب کچھ دیکھتے ہیں؟ کیا حاضر و موجود سے آگے بھی کچھ ہے؟ اگر نہیں ہے تو پھر یہ پیغمبر پہاڑ کے

Read more

بے ‏خواب آنکھیں

اس نے کہا تھا – میں دیکھ سکتا ہوں اس لیۓ میں ہوں”  بوڑھے داستان گو نے اپنی گھنے بالوں والی سموری ٹوپی کو اپنے چہرے پر کھین‍چا اورایک گہرا سانس لیتے ہوۓ کسی پرانے فلسفی کا قول دہرایا-   ” مگر سوال  یہ ہے کہ جو آپ نہیں دیکھ سکتے کیا وہ واقعی ناموجود ہے؟ کیا دیکھنے والے سب کچھ دیکھتے ہیں ؟ کیا حاضر و موجود سے آگے بھی کچھ ہے؟ اگر نہیں ہے تو پھر یہ پیغمبر پہاڑکے اس طرف کیسے دیکھ لیتے ہیں

Read more

جہاں خواب ڈھلتے ہیں

میں آج دفتر پہنچی تو ذہن پر دن کے بہت سے اہم کام سوار تھے۔ سب سے ضروری یہ کہ سنیئرز کے ٹرم پیپرز جو اگلے مہینے ہونے ہیں ان کی تیاریوں کے سلسلے میں آج میں نے ٹیچرز کونسل کی ایک میٹنگ بلائی ہوئی تھی۔ اپنا بیگ سائیڈ ٹیبل پر رکھ کر میں نے کرسی سنبھالی تو ایک فربہ ڈاک فولڈر میرا منتظر تھا۔ میٹنگ میں کچھ وقت باقی تھا اس لیے میں نے پہلے آج کی ڈاک دیکھنی شروع کر دی۔ ابھی میں نے چند ہی خط کھولے تھے کہ پیون نیاز آہستگی سے اندر داخل ہوا اور حسب عادت دروازے کے قریب خاموش کھڑا ہو گیا۔

’ کیا بات ہے نیاز؟ ‘ میں نے عینک کے شیشوں کے اوپر سے اسے گھورا۔
’ میڈم جی کوئی پٹھان آپ سے ملنے آیا ہے۔ ‘
’ پٹھان۔ مجھ سے ملنے۔ نام پوچھا؟ ‘
’ جی گل نصیب نام بتایا ہے۔ ‘

’گل نصیب؟ ‘ مجھے اس نام کو ذہن میں تازہ کرنے کے لئے کچھ وقت لگا۔ ’او ہو۔ یہ کہاں سے آ گیا اچانک دوبارہ؟ مجھے صبح صبح یہ غیر متوقع مداخلت اچھی تو نہ لگی تھی لیکن منع کرنے کو بھی دل نہیں مانا سو میں نے نیاز کو اشارہ کر دیا کہ اسے بلا لائے۔

Read more

ڈپٹی کمشنر ہاؤس کے گلاب اور دہشت کا مذبح خانہ

یہ ان دنوں کا ذکر ہے جب میری تعیناتی پہلی بار ایک ضلع کے ڈپٹی کمشنر کی حیثیت سے ہوئی تھی۔ یہ میرے لیے ایک خواب کے تعبیر ہونے جیسا دن تھا۔ اس سے پہلے میں کافی عرصے تک مختلف اضلاع میں بطور اسسٹنٹ کمشنر یا سب ڈویژنل مجسٹریٹ اپنے فرائض انجام دے چکا تھا۔ یہ پہلا موقع تھا کہ مجھے پورے ضلع کی سربراہی سونپی جا رہی تھی۔ میری خوشی کا کوئی ٹھکانا نہ تھا۔ اسی خوشی میں میں

Read more

مہمان، بچوں کی ماں اور ادھ جلا سگار

’عالیہ۔ عالیہ بیگم۔ بھئی کہاں ہیں آپ؟ ‘ عمران دور ہی سے آوازیں دیتا ہوا چلا آ رہا تھا۔ ’ جی یہاں ہوں کچن میں‘ عالیہ نے پکار کر بتایا۔ ’ ارے بھئی قیصر آ رہا ہے۔ مجھ سے ملنے۔ ‘ عمران کچن کے دروازے میں نمودار ہوا۔ سیل فون ہاتھ میں تھا۔ اس کی آنکھیں چمک رہی تھیں اور باچھیں پوری طرح کھلی ہوئی تھیں۔ ’ اب یہ قیصر کون ہے؟ ‘ عالیہ نے ہاتھ میں پکڑے فرائنگ پین

Read more

ٹیلی فون

جن دنوں میں صیدون کے مشرق میں ایک بلند مگر خشک پہاڑی علاقے میں واقع ’مغدلونہ‘ نامی ایک چھوٹے سے لبنانی گاؤں میں بڑا ہو رہا تھا تو ’وقت‘ کی کسی کے لیے کوئئی خاص اہمیت نہ تھی ما سوائے ان لوگوں کے جو قریب المرگ ہوتے تھے یا پھر وہ جو کسی عدالت کے باہر حاضری کے لیے انتظار کر رہے ہوتے تھے کیوں کہ انہوں نے کہیں زمین پر حد بندی کے نشانات کی خلاف ورزی کی ہوتی تھی۔

اس زمانے میں واقعتا گھنٹوں دنوں مہینوں اور سالوں کا حساب رکھنے کے لیے کسی گھڑی یا کیلنڈر کی ضرورت نہیں ہوتی تھی۔ ہمیں پتہ ہوتا تھا کہ ہم نے کون سا کام کرنا ہے اور کب کرنا ہے۔ بالکل ایسے ہی جیسے عراقی مرغابیوں کو پتہ ہوتا تھا کہ انہوں نے کب شمال کو پروازکرنی ہے کیونکہ صحرا سے اٹھنے والی گرم ہوا انہیں ایسا کرنے پر مجبور کر دیتی تھی یا پھر بھیڑوں کو یہ علم ہوتا تھا کہ انہوں نے کب اپنے گیلے گیلے میمنوں کو جنم دینا ہے جو مارچ کی سخت سرد ہوا میں اپنی کانپتی ہوئی کمزور ٹانگوں پر بمشکل کھڑے ہوتے تھے اور نہیں جانتے تھے کہ وہ کہاں آگئے ہیں اور اگر آ ہی گئے ہیں تو انہیں اب کیا کرنا ہے۔

Read more

ایک دیوانی لڑکی فروا اور بیوی

اتوار کی صبح میری آنکھ کال بیل کی آواز سے کھلی تھی۔ کمرے میں دن کی روشنی پھیلی ہوئی تھی۔ میں نے کمبل میں سے ہاتھ نکال کر سائیڈ ٹیبل پر رکھی گھڑی کو اپنی طرف کیا۔ ساڑھے نو بج چکے تھے۔ میں نے مڑ کر عاشی کی طرف دیکھا۔ وہ مدہوش سوئی پڑی تھی۔ حسب عادت اس نے ایک تکیہ سر کے نیچے اور دوسرا اوپر رکھا ہوا تھا جہاں سے اس کے مدھم خراٹے برآمد ہو رہے تھے۔

Read more

متر پیارے نوں۔۔۔ حال مریداں دا کہنا

اس نے جب کار کو بڑی سڑک سے اتار کر بائیں طرف جانے والی کچی سڑک پر ڈالا تو اس کی نظر یونہی کلائی کی گھڑی پر پڑ گئی۔ دن کے دس بجنے والے تھے۔ مئی کا آغاز تھا اور صبح کا وقت لیکن دھوپ ابھی سے چربی پگھلا رہی تھی۔ سورج کے جلال کا اندازہ اسے تھوڑی دیر پہلے اس وقت ہوا تھا جب وہ اپنے ٹھنڈے ٹھار بنگلے کے رہائشی حصے سے نکل کر پورچ میں کھڑی اپنی

Read more

کمانڈو سپاہی، محبت کا شاعر اور داود بانڈہ کا بھیڑیا

چاروں طرف پھیلے ہوئے سیاہ سنگلاخ پہاڑوں کی چوٹیوں پر صبح کی ابرق سفیدی اترنے لگی تھی۔ رات کی منجمد ہوا اب دھیرے دھیرے پگھل رہی تھی۔ ایک طویل خونیں جنگ کے بعد بالآخر ہم داود بانڈہ کی چوکی کو دشمن کے قبضے سے چھڑانے میں کام یاب ہو گئے تھے۔ دشمن اب پسپا ہو رہا تھا اور اس کے لڑاکے اپنے پیچھے اپنا اسلحہ بارود لاشیں اور زخمی چھوڑتے ہوئے تیزی سے قریبی پہاڑی دروں میں رُو پوش ہو

Read more

گمشدہ محبت کی بے آواز صدائیں

خلاف توقع نیو ٹاون کا مکان نمبر 159۔ بی ڈھونڈنے میں ہمیں کوئی زیادہ مشکل پیش نہیں آئی تھی۔ کوئی ایک گھنٹہ پہلے جب میں نے رشدہ کو اس کے ڈیفنس کے بنگلے سے پک کیا تھا تو میں نے شہر کے مضافات میں واقع نیوٹاون کا صرف نام سن رکھا تھا۔ سارا راستہ میں پوچھ پوچھ کر رشدہ کا دماغ چاٹ گئی تھی۔ مگر میں کیا کرتی۔ میری کیفیت ہی کچھ ایسی تھی۔ کبھی دل کی دھڑکن اتنی تیز

Read more

اسکول کی دہلیز پر ملاقات

جب میری نظر پہلی بار اس پر پڑی تو وہیں جم کررہ گئی تھی۔ بلا شبہ وہ بہت ہی خوبصورت تھا۔ اسے دیکھ کر جو پہلا خیال مجھے آیا وہ یہی تھا کہ میں آدمی ہو کر ٹھٹک گیا ہوں پتہ نہیں عورتیں اسے دیکھ کر اپنے دل کیسے سنبھالتی ہوں گی۔ وہ اس جگہ سے جہاں میں موجود تھا کوئی آٹھ یا دس گز کے فاصلے پر راہداری کے دوسرے کنارے پر ریلنگ سے لگ کر کھڑا ہوا تھا۔

Read more