میں آج دفتر پہنچی تو ذہن پر دن کے بہت سے اہم کام سوار تھے۔ سب سے ضروری یہ کہ سنیئرز کے ٹرم پیپرز جو اگلے مہینے ہونے ہیں ان کی تیاریوں کے سلسلے میں آج میں نے ٹیچرز کونسل کی ایک میٹنگ بلائی ہوئی تھی۔ اپنا بیگ سائیڈ ٹیبل پر رکھ کر میں نے کرسی سنبھالی تو ایک فربہ ڈاک فولڈر میرا منتظر تھا۔ میٹنگ میں کچھ وقت باقی تھا اس لیے میں نے پہلے آج کی ڈاک دیکھنی شروع کر دی۔ ابھی میں نے چند ہی خط کھولے تھے کہ پیون نیاز آہستگی سے اندر داخل ہوا اور حسب عادت دروازے کے قریب خاموش کھڑا ہو گیا۔
’ کیا بات ہے نیاز؟ ‘ میں نے عینک کے شیشوں کے اوپر سے اسے گھورا۔
’ میڈم جی کوئی پٹھان آپ سے ملنے آیا ہے۔ ‘
’ پٹھان۔ مجھ سے ملنے۔ نام پوچھا؟ ‘
’ جی گل نصیب نام بتایا ہے۔ ‘
’گل نصیب؟ ‘ مجھے اس نام کو ذہن میں تازہ کرنے کے لئے کچھ وقت لگا۔ ’او ہو۔ یہ کہاں سے آ گیا اچانک دوبارہ؟ مجھے صبح صبح یہ غیر متوقع مداخلت اچھی تو نہ لگی تھی لیکن منع کرنے کو بھی دل نہیں مانا سو میں نے نیاز کو اشارہ کر دیا کہ اسے بلا لائے۔
Read more