جہاں نامہ – جنرل اسمبلی کے اجلاس سے فیس بک کی ہیکنگ تک
جہاں نامہ ایک کوشش ہے اردو پڑھنے اور لکھنے والوں کے لئے ہفتہ وار سلسلہ لانے کی جس میں کوشش کروں گا کہ گزشتہ ہفتے کے اہم بین الاقوامی واقعات پر کچھ لکھا جائے۔ آج کے جہاں نامے میں اقوام متحدہ کے تہترویں اجلاس کی روداد، وینزوئیلا اور ایران پر نئی پابندیاں اور ان کے اثرات، ڈونلڈ ٹرمپ اور کم یانگ ان کی پریم کہانی، نافٹا کی نئی شکل، چین اور امریکہ کے درمیان ابھرتا ہوا نیا تجارتی تنازعہ، بھارت کی روس سے S 400 میزائل کی ڈیل اور امریکہ کے دوہرے معیار اور چند اہم بین الاقوامی خبروں پر روشنی ڈالنے کی جسارت کروں گا۔ ساتھ ہی وعدہ نہیں لیکن کوشش کروں گا کہ یہ سلسلہ ہر ہفتے جاری رہے۔
ایسا اس وجہ سے کہا ہے کہ ہم تارکین وطن لکھنے کا شوق تو رکھ سکتے ہیں لیکن اس حقیقت سے صرف ہم جیسے غیر ممالک میں رہنے والے متوسط درجے سے تعلق رکھنے والے پاکستانی بلکہ ہر ترقی پزیر ملک کا باشندہ واقف ہے کہ یہاں سفید پوشی کا برہم رکھنے کے لئے کیسے کیسے جتن کرنے پڑتے ہیں۔ اس وجہ سے اگر کبھی سلسلہ منقطع ہو تو پیشگی معذرت قبول کر یں۔ اور اس غلط فہمی سے بھی نکلیں کہ ہم تارکین وطن پاکستان میں ڈیم بنا دیں گے اور ریلوے کے انجن خرید کر دے دیں گے، اس پر تفصیل سے لکھنے کی کوشش کروں گا۔ آئیے گزشتہ ہفتے کہ واقعات پر تھوری نظر ڈالیں
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا تہترواں اجلاس
اس اجلاس میں گزشتہ اجلاس کے مقابلے میں کم گہما گہمی نظر آئی، دنیا کے کافی اہم رہنما جیسے جرمنی کی چانسلر انجلا مارکل، چین کے صدر ژی ین پنگ، روس کے صدر ولادی میر پیوٹن اس اجلاس میں شریک نہیں تھے۔ نہ ہی بھارت کے وزیر اعطم نریندر مودی اور پاکستا ن کے عمران خان نے اقوام متحدہ میں اپنے ممالک کی ترجمانی کی۔ اس اجلاس کہ دوران ہمیں امریکہ اور دے کر OECD ممالک کی تفریق واضح نظر آئی۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی تقریر اس بات کا ثبوت تھی کہ امریکہ اب بین الاقوامی سظح پر پاپولسٹ سوچ کی ترجمانی کرے گا۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے دنیا بھر کے ساتھ ہوئے تجارتی معاہدوں کو تنقید کا نشانہ بنایا اور خاص طور پر چین کو آڑے ہاتھو ں لیا۔ چین کے صدر کی تعریف کرنے کے ساتھ ساتھ چین کوامریکہ کا سب سے بڑا تجارتی دشمن قرار دیا۔
ایران کی حکومت کو غاصب قرار دیتے ہوئے اس پر مزید پابندیوں کا اعلان کیا جس کے جواب میں ایرانی صدرحسن وحانی نے امریکہ اور اسرائیل کو دنیا کہ امن کہ لئے خطرہ قرار دیا۔ اسرائیلی وزیر اعطم بنجامن نتن یاہو اس مرتبہ بھی چارٹ کی مدد سے ایرانی ایٹمی تنصیبات کا پتہ بتاتے رہے۔ اس اجلاس کی ایک اور خصوصی بات پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی اردو میں تقریر تھی۔ واقعی یہ ایک قابل تعریف قدم تھا، اور جس طرح شاہ محمود قریشی نے اپنا پیغام پہنچایا اس کی تعریف کرنا بھی بنتا ہے۔
اس کے علاوہ وینزوئیلا کے صدر نکولس مدورو کوبھی شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ مدروخود بھی اجلاس میں شریک تھے اور ان کی امید تھی کہ شاید شمالی کوریا کہ کم یونگ ان کی طرح انہیں بھی ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کا شرف ملے، جیسے ٹرمپ کم ملاقات سنگا پور مین ہوئی، لیکن ایسا نہ ہوسکا۔ ایرانی صدر سے بھی ملاقات کی بازگشت سنائی دی گئی لیکن اس کی تردید امریکہ نے فوری طور پر جاری کردی۔ فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے ایک لمبا خطاب کیا لیکن انہوں نے اپنے خطاب میں دنیا کی ترقی بین الاقوامیت کی ترویج سے مشروط کی، یہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر کھلی تنقید کے مترادف تھی۔
ایران اور وینزوئیلا پر پابندیاں
امریکہ، ایران اور وینزوئیلا پر نئی پابندیاں لاگو کر رہا ہے۔ امریکہ نہ صرف اپنے اداروں کو ایران اور وینزوئیلا سے تجارت سے روک رہا ہے بلکہ دیگر ممالک کو بھی دھمکا رہا ہے کہ اگر کسی ملک یا اس ملک سے وابسطہ کسی بھی کاروباری ادارے نے ان سے تجارتی معاہدہ یا تجارت کی تو، امریکہ اس ملک پر اپنے دروازے بند کر دے گا۔ ایسی صورت میں ایران اور وینزوئیلا کے معاشی مستقبل پر سوالیہ نشان آگیا ہے۔ اس وقت یہ ممالک کافی معاشی پریشانیوں کا شکارہیں۔
دوسری جانب چین، اور روس پر بھی امریکہ نے مختلف نوعیت کی پابندیاں عائد کی ہوئی ہیں، ایسی صورت میں شاید وہ بھی ان قدرتی اتحادیوں کی مدد نہ کر سکیں۔ ایران اور وینزوئیلا کے اندرونی حالات بھی حوصلہ افزاء نہیں ہیں۔ وینزوئیلا سے لوگ معاشی بد حالی کی وجہ سے بڑی تعداد میں نقل مکانی کر کہ پڑوس کے ممالک میں پناہ لے رہے ہیں۔ ایران میں بھی لوگ معاشی ابتری کی وجہ سے مظاہروں اور احتجاج کی سیاست اپنانے پر مجبور ہو رہے ہیں۔ ایران کے شہر اہواز میں دہشت گردانہ حملے کہ بعد احتجاج میں کمی آئی ہے لیکن شاید یہ بہتری زیادہ دوررس نہ ہو۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور شمالی کوریا کے کم یونگ ان کی پریم کہانی۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ کم یونگ ان کی محبت میں گرفتار ہو گئے ہیںِ۔ اور یہ کم کے خطوں کی وجہ سے ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلے میں نے سختی سے برتاؤ کیا پھر کچھ سختی دوسری جانب سے آئی لیکن آخرکار ہم دونوں ا ایک دوسرے کو سمجھ گئے۔ اقوام متحدہ میں شمالی کوریا کے وزیر خارجہ نے واضح طور پر کہا ہے کہ شمالی کوریا اس وقت تک اپنے ایٹمی پروگرام کو منجمند نہیں کرے گا جب تک امریکہ اعتماد سازی والے اقدامات نہیں اٹھاتا۔
نافٹا (شمالی امریکی تجارتی معاہدہ)
آخر کار اتوار والے دن کینیڈا اور امریکہ نئے نافٹا جو اب UNMCAکہلائے گا، پر متفق ہوگئے۔ کینیڈا نے اپنی ڈیری مارکیٹ کو امریکہ کے لئے مشروط طور پر کھول دیا ہے۔ سب سے اہم بات جو ابھی تک سامنے نہیں آئی وہ ہے کینیڈا کی اسٹیل کی امریکہ میں ڈیوٹی فری برآمدات۔ کینیڈا امریکہ کو سب سے زیادہ اسٹیل برآمد کرتا ہے اور اسی طرح امریکہ سب سے زیادہ اسٹیل کینیڈا سے درآمد کرتا ہے، ماہرین اس پر کسی پالیسی فیصلے کا شدد سے انتظار کر رہے ہیں۔ میکسیکو پہلے ہی امریکہ سے تجارتی معاہدہ کر چکا ہے، میکسیکو نے کینیڈا سے جدا ہوکر امریکہ سے براہ راست معاہدہ کر لیا اس بناء پر بھی کینیڈا پر کافی دباؤ تھا۔ اب جسٹن ٹروڈو کے لئے امتحان ہوگا کہ وہ کینیڈا کے عوام خاص طور پر ڈیری سے منسلک لوگوں کو کس طرح اعتماد میں لینگے
چین اور امریکی تجارتی تنازعہ
اقوام متحدہ کے اجلاس میں امریکی صدر نے جس طرح چین کے خلاف لب و لہجہ اختیار کیا تھا اس کے نتائج اب نظر آنا شروع ہو گئے ہیں۔ ڈونلد ٹرمپ نے سکیوریٹی کاؤنسل سے خطاب کرتے ہوئے یہ الزام بھی لگایا تھا کہ چین نومبر میں ہونے والے امریکی وسط مدتی انتخابات میں مداخلت کر رہا ہے تاکہ وہ اپنے من پسند نتائج حاصل کر سکے۔ اس صورتحال کی بناء پر رواں ماہ بیجنگ میں امریکی سیکرٹیری دفاع جم میٹس اور ان کے ہم منصب چینی جنرل وے فانگ کے مابین ہونے والی سکیورٹی کانفرنس ملتوی کردی گئی ہے۔ اس کی وجہ چینی جنرل کی اپنے ہم منصب سے ملاقات سے انکار تھا۔
روس کی جانب سے بھارت کو S 400میزائل سسٹم کی فراہمی کا معاہدہ
روس اور بھارت کے درمیان S 400 زمین سے فضاء تک مار کرنے والے میزائل سسٹم کی فروخت کا معاہدہ ہو گیا ہے۔ امریکہ نے روس پر پابندیاں عائد کی ہوئی ہیں اور جو ملک روس سے دفاعی سامان خریدے گا اسے بھی پابندیوں کا شکار ہونا پڑے گا۔ بھارت کے معاملے میں ایسا ہوتا نظر نہیں آرہا۔ اس کے بر عکس ترکی کو یہی میزائل سسٹم خریدنے کی بناء پر پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ترکی نیٹو کا ممبر بھی ہے اور اس وقت دہشت گردی کے خلاف امریکہ کا اتحادی بھی۔ بھارت پر پابندیاں نہ لگانے کی وجہ امریکی دفاعی اداروں سے اربوں ڈالر کی مالیت کے سمجھوتے سمجھے جا رہے ہیں
فیس بک سے ڈیٹا لیک
فیس بک سے تقریبا پانچ کروڑ صارفین کا ڈیٹا لیک ہو گیا ہے۔ اس خبر کے آتے ہی بین الاقوامی اسٹاک ایکسچینج میں فیس بک کے شئر گراوٹ کا شکار ہیں۔


