شاہ محمود قریشی کا جنرل اسمبلی میں فوٹو شاپ کے ذریعے شاندار استقبال
”وزیر خارجہ کی امریکہ میں عزت دیکھو کیوں کے پیچھے ببر شیر وزیر اعظم ہے۔ ۔ ۔ “ یہ کیپشن۔ تصویر شاہ محمود قریشی کی۔ وہ پر اعتماد انداز میں فاتحانہ انداز میں قدم بڑھا رہے ہیں جیسے تمام حاضرین اقوام متحدہ کے ممبر ممالک کے حکمران اور وزرا نہ ہوں بلکہ ان کی اپنی پارٹی کی یوتھ اسمبلی کے اراکین ہوں۔ بخدا ہم شاہ صاحب کی ایسی عزت دیکھ کر قربان جانے ہی لگے تھے کہ گوگل نے دل میں وسوسہ ڈال دیا۔
پتہ چلا کہ اس صدی کے دوسرے عظیم ترین لیڈر یعنی ترک صدر رجپ طیپ ایردوان ہمارے وزیر خارجہ کا اقوام متحدہ میں عظیم الشان تاریخ ساز استقبال دیکھ کر اتنے زیادہ متاثر ہوئے ہیں کہ بالکل ان کے ہی انداز میں ویسے ہی کپڑے پہن کر انہیں حاضرین سے ویسا ہی پوز بنوا کر اپنی تصویر کھنچوائے کھڑے ہیں۔ ایک تصویر ہٹاؤ دوسری دیکھو تو لگے گا کہ رجپ صاحب نے شاہ صاحب کے شانوں پر اپنا سر فٹ کروا لیا ہے۔
ہمیں گمان ہوا کہ کہیں رجپ صاحب ہماری طرح شاہ صاحب کے مرید تو نہیں ہو گئے ہیں؟ ان کی خوش لباسی اور خوش کلامی کی تو دنیا قائل ہے، رجپ صاحب بھی ہو گئے تو تعجب کیسا؟ لیکن پھر ہم نے پریشان ہو کر گوگل کو چھیڑا تو علم ہوا کہ رجپ صاحب نے یہ کام کئی ماہ پہلے ہی کر لیا تھا۔ ان کی تصویر کئی مہینے پرانی ہے۔ ہمیں جنرل اسمبلی میں گالے گورے انسان دیکھنے کی توقع تھی۔ ادھر سب کے سب ایک سانچے میں ڈھلے دیکھ کر مزید پریشانی ہوئی۔
پھر ایک جگہ سے پتہ چلا کہ جناب یہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی تصویر نہیں ہے بلکہ ترک گرینڈ نیشنل اسمبلی کے ایک ہال کی ہے جس میں حکمران آک پارٹی کے نمائندوں کا اجلاس جاری تھا جسے صدر رجپ طیپ ایردوان نے خطاب کی سعادت بخشی۔

بہرحال چاہے فوٹو شاپ پر ہی سہی، شاہ صاحب کی شان دیکھنے والی ہے۔ کوشش کرنی چاہیے کہ ہر ہفتے ان کو کسی بیرون ملک دورے پر بھیجا جائے تاکہ ہم وزیر خارجہ کے پیچھے ببر شیر وزیراعظم کی وجہ سے دنیا میں عزت بنتی دیکھتے رہیں۔
چلیں چھوڑیں یہ جنرل اسمبلیاں اور تصویریں۔ قیصر الجعفری کے چند اشعار کا لطف لیں۔
دیواروں سے مل کر رونا اچھا لگتا ہے
ہم بھی پاگل ہو جائیں گے ایسا لگتا ہے
کتنے دنوں کے پیاسے ہوں گے یارو سوچو تو
شبنم کا قطرہ بھی جن کو دریا لگتا ہے
آنکھوں کو بھی لے ڈوبا یہ دل کا پاگل پن
آتے جاتے جو ملتا ہے تم سا لگتا ہے
اس بستی میں کون ہمارے آنسو پونچھے گا
جو ملتا ہے اس کا دامن بھیگا لگتا ہے
دنیا بھر کی یادیں ہم سے ملنے آتی ہیں
شام ڈھلے اس سونے گھر میں میلہ لگتا ہے
کس کو پتھر ماروں قیصرؔ کون پرایا ہے
شیش محل میں اک اک چہرا اپنا لگتا ہے







