اگر رات نو بجے کے بعد مردوں پر کرفیو لگ جائے تو خواتین کیا کریں گی؟


اگر رات نو بجے کے بعد مردوں کے گھر سے باہر نکلنے پر کرفیو لگ جائے تو خواتین کیا کریں گی؟ یہ ایک سادہ سا سوال ہے جو خواجہ سراؤں کے حقوق کے علمبردار ڈینئیل مسکاتو نے ایک ٹویٹ میں خواتین سے پوچھا۔ اوہ مائی مسکارہ نامی ٹویٹر ہینڈل نے یہی سوال پاکستانی خواتین کے سامنے رکھ دیا۔ اس ٹویٹ کے جواب میں جو ٹویٹس آئیں ان میں سے کچھ پر نظر ڈالتے ہیں۔

سب سے پہلا جواب اوہ مائی مسکارہ نے ہی دیا۔ اپنے جواب میں وہ لکھتی ہیں کہ میں صرف رات کو چہل قدمی کے لیے جانا چاہوں گی یا اپنی سہیلیوں کے ساتھ چائے پینے جاؤں گی، نہ کوئی بری نظروں سے دیکھنے والا ہوگا اور نہ کوئی پیچھا کرے گا۔

اس کے بعد میں نے جواب دیا کہ میں رات کو ٹائٹس اور ٹی شرٹ پہن کر لمبی سیر پر نکل جاؤں گی۔ نہر کے کنارے بیٹھ کر اپنی سوچوں پر غور کروں گی۔

ایک خاتون نے جواب دیا کہ ’میں چاند کی روشنی میں کتاب پڑھوں گی اور دنیا میں کسی بھی چیز کی پرواہ کیے بغیر گلیوں سے گزروں گی۔
ایک خاتون نے کہا کہ جب وہ بچی تھیں تب وہ ایسے کیا کرتی تھیں لیکن اب ان میں ایسا کچھ بھی کرنے کا حوصلہ نہیں ہے۔ ’میں ایک پارک میں تھی کہ اچانک جھاڑیوں میں سے ایک داڑھی والا آدمی لڑکھڑاتا ہوا باہر نکلا۔ میں اپنے بوائے فرینڈ کے پیچھے چھپ گئی۔ ‘

ایک خاتون نے کہا کہ وہ رات گیارہ بجے گلیوں میں سائیکل چلائیں گی۔
ایک اور خاتون نے جواب دیا کہ وہ رات گئے دوڑ لگانے جایا کریں گی یا کسی ساحل کنارے جا کر چاند کی روشنی میں کتاب پڑھیں گی یا رقص کریں گی۔

ایک خاتون نے کہا کہ چونکہ آدمیوں کا رات نو بجے کے بعد باہر نکلنا ممنوع ہوگا تو ان کے والدین کو ان کے رات گئے تک باہر رکنے پر اعتراض نہیں ہوگا۔ ’وہ مجھے رات گئے چہل قدمی کے لیے جانے سے نہیں روکیں گے۔ میں سائیکل بھی چلا سکوں گی جو میں ابھی اس لیے نہیں چلا سکتی کہ حالات خراب ہیں۔ ‘

ایک اور خاتون نے اپنی جوابی ٹویٹ میں لکھا کہ ’مجھے اپنے بھائی کی منتیں نہیں کرنی پڑیں گی کہ وہ مجھے اور میری بہن کو باہر ڈھابے پر لے جائے۔ میں ساحل سمندر پر جاؤں گی اور وہیں رات گزاروں گی، چہل قدمی کروں گی یا بس ہوا میں سانس لوں گی اور ستاروں کو دیکھوں گی۔ ‘

ایک خاتون نے کہا کہ وہ رات میں ہونے والے میوزک کنسرٹس میں جائیں گی۔
ایک خاتون نے کہا کہ تین سال سے انہوں نے چہل قدمی کے لیے جانا چھوڑ دیا ہے۔ جب وہ جاتی تھیں تو کچھ لڑکے ان کے گھر تک ان کا پیچھا کرتے تھے۔ لیکن اگر ایسا کوئی کرفیو لگتا ہے تو وہ اور ان کی بہنیں ہاٹ چاکلیٹ کے کپ کے ساتھ لمبی سیر کو جائیں گی اور ہوا سے لطف اٹھائیں گی۔

ایک لڑکی نے کہا کہ وہ رات میں فٹ بال کھیلیں گی۔ انہوں نے مزید لکھا، ’مجھے فٹ بال کھیلے ہوئے عرصہ ہوگیا ہے کیونکہ یہاں کوئی جگہ محفوظ نہیں ہے‘۔

ان جوابات میں ظاہر کی گئی خواہشات بہت سادہ ہیں۔ یہ خواتین بس رات میں چہل قدمی کرنا چاہتی ہیں، چاند کی روشنی میں کتاب پڑھنا چاہتی ہیں اور سمندر کے کنارے کھڑے ہو کر ہوا کو اپنے چہرے پر محسوس کرنا چاہتی ہیں لیکن وہ ایسا نہیں کر سکتیں کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے حالات خراب ہیں۔ وہ اپنی یہ سادہ سی خواہشات کسی کافر ملک میں جا کر تو پوری کر سکتی ہیں لیکن یہاں رہ کر ایسا کرنا ان کے لیے ممکن نہیں ہے۔ دعا ہے کہ پاکستان کے یہ خراب حالات جلد ٹھیک ہو جائیں تاکہ یہ تمام خواتین اپنی یہ چھوٹی چھوٹی خواہشات اس ’آزاد ملک‘ کی گلیوں میں پوری کر سکیں۔

Facebook Comments HS