قوم کے معمار اساتذہ کرام اور پاکستانی نظام تعلیم
میں بہت ہی رجائیت پسند واقع ہوا ہوں، بچپن سے ہی مجھے لگتا تھا کہ سب بدلنے والا ہے۔ میں پریشان حال لوگوں کو دیکھ کر دل ہی دل میں ان کی نادانی پر ہنستا کہ یہ پریشانیاں تو ختم ہونے والی ہیں، روز مرہ کے لڑائی جھگڑے، مار پیٹ، شور شرابے، چوری چکاری، الغرض جو بھی برائیاں ہم تک رسائی حاصل کیے ہیں، بلآخر نا مراد ہونے والی ہیں۔ ایک دن آنے والا ہے جب لوگ برائیوں سے اکتا جائیں گے اور پھر راوی بس چین ہی چین لکھے گا۔
مگر کب اور کیسے؟ ان سوالوں کے جواب میرے پاس ہرگز نہیں تھے۔
لیکن یہ بہرحال ایک اہم سوال تھا کہ آخر کب؟ لوٹ مار کرنے والے جان جائیں گے کہ مال چونکہ فانی شئے ہے، اسے حرام طریقوں سے حاصل کرنے سے بہتر بھوکا مرنا ہے اور متکبر و مغرور لوگ عاجزی و انکساری میں فخر محسوس کریں گے۔
میں سوچتا تھا کہ لوگوں میں محظ شعور کی کمی ہے اور بہت جلد شعور کا ماہتاب گلیوں، محلوں، شہروں، بستیوں سے ہوتا صحرائوں، ریگستانوں اور پہاڑوں کو منور کر دے گا۔
ہر انسان جہاں کہیں بھی رہتا ہے فنا و بقا کے اس فلسفے کو جان لے گا جس کے جان لینے کے بعد تاریکی روشن ہو جاتی ہے اور فسادات خاموش ہو جاتے ہیں۔
میرا گمان تھا کہ اگلے 50 سے 100 سالوں میں ہم انسان ارتقا کی ان منازل کو طے کر رہے ہوں گے جو آج مہذب قوموں کا خواب ہے، جہاں ہر انسان پر سکون زندگی گزارے گا اور کسی کو نقصان پہنچانے کا ہرگز نہ سوچے گا۔
خاص پاکستان کے حالات پر بات کریں تو گزشتہ برسوں میں میری رجائیت پسندی متحرک ہوئی، میں نے دیکھا کہ جس شعور کو پنپنے میں برسوں کا فاصلہ درکار تھا، وہ عمران خان صاحب کی بدولت ہم پر جلد عیاں ہونے والا ہے۔
گزشتہ الیکشن سے پہلے تک عوام میں ایک حیران کن تبدیلی دیکھی گئی، میں دعا گو تھا کہ عمران خان صاحب برسراقتدار آئے کیونکہ دور حاضر کی یہ واحد شخصیت ہے جس سے پاکستان کے متعلق بہتر امید باندھی جا سکتی ہے۔
میرے جیسے لاکھوں کی دعائیں قبول ہوئیں، عمران خان صاحب نے بطور وزیر اعظم قوم سے خطاب کیا اور ہمیں اپنی دعائوں کے ثمرات نظر آنے لگے۔ ہر محب وطن پاکستانی کو اپنے خواب سچے ہوتے نظر آئے۔ میں نے سوچا کہ پاکستان کی کایا پلٹ گئی ہے، پیر پنجر سرکار کی پیشین گوئیاں درست ثابت ہونے والی ہیں اور اب پاکستان جلد یا بدیر ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں شامل ہو کر رہے گا۔
اس کے بعد کی کہانی مختلف ہے۔ میں یوں کہنا زیادہ مناسب سمجھتا ہوں کہ وہ سراب جس کے پیچھے میں برسوں سے بھاگ رہا تھا، وہ فریب جسے میں اپنے جسم میں جذب کر چکا تھا، میری آنکھوں سے خود ساختہ نور چھیننے لگے، فریب و سراب کے بادل چھٹنے لگے۔
اس تناظر میں بہت سے معاملات پس پردہ ہیں، اگر ان پر بات کی جائے تو تحریر سیاسی رنگ اختیار کر لے گی اور میں کوئی سیاسی شخصیت ہوں نہ ہی تجزیہ نگاری کا شوق رکھتا ہوں۔
میں تو فقط عمران خان صاحب سے درخواست گزار ہوں کہ جو خواب آپ نے دکھائے، وہ اب ہمیں سراب محسوس ہونے لگے ہیں۔ ان خوابوں کی تکمیل کے لیے اقدام اٹھائیے۔
آپ کی پہلی تقریر میں اساتذہ کو عزت و احترام کا جو مقام دلانے کا وعدہ کیا، اس نے اساتذہ کو گزشتہ مظالم بھول کر ایک نئے دور میں داخل ہونے کا خواب دکھایا۔ وہ سوچنے لگے کہ ممکن ہے اللہ پاک نے اساتذہ کی خیر خواہی کے لیے آپ کو اقتدار کی ذمہ داری دی ہے اور اب ان کی مایوسیوں کے بادل چھٹ جائیں گے، اب رحمتیں برسیں گی، انہیں عزت و احترام کا وہ مقام ملے گا جو ہر مہذب قوم اپنی قوم کے معماروں کو دیتی ہے۔ اب کورٹ میں استاد کو کرسی ملے گی، دفتروں میں سلیوٹ کیے جائیں گے، اساتذہ کو سپیشل الائونسز ملیں گی، ان کی تنخواہیں ایک مزدور کے برابر ہونے کی بجائے باقی تمام افسروں سے بھی بہتر ہوں گی، اساتذہ کو غریب طبقہ نہیں سمجھا جائے گا۔ اب اساتذہ اپنے بچوں کے علاج کے لیے پریشان نہیں ہوں گے، ان کی اپنی کالونیز ہوں گی۔ میرے تخیل کی اختراع دیکھئیے میں نے سوچا کہ اب ہر استاد کے پاس خاص پلیٹ والی گاڑی ہو گی، جسے اوور ٹیک کرتے ہوئے لوگ شرم و حیا کے ملے جلے جذبات محسوس کریں گے، استاد ہاتھ سے اشارہ کر کے جانے کی اجازت دے گا اور اپنے استاد ہونے پر فخر محسوس کرے گا۔
اب ہر پرائمری سکول میں 6 کمرے ہوں گے، کم از کم 6 استاد پڑھائیں گے، سٹوڈنٹ اینرولمنٹ کے لیے اساتذہ کو ذلیل نہیں کیا جائے گا، ایم۔ ای۔ ایز۔ کی عفریت سے پرائمری اساتذہ کی بلآخر جان چھوٹے جائے گی۔
میں پر اعتماد تھا کہ اب کسی استاد کو طالب علم کو سزا دینے کی نوبت ہی پیش نہیں آئے گی کیونکہ نئی حکومت گورنمنٹ سکولوں کے اساتذہ کے مسائل کو سمجھے گی، وہ جان لے گی جس استاد سے ہم رزلٹ مانگ رہے ہیں یا ڈراپ آوٹ کی مصیبت جس کے گلے ڈال رہے ہیں اسے اس بات پر کیونکر اختیار ہے کہ بچہ روزانہ سکول آئے، اور گھر جا کر اپنا ہوم ورک مکمل کرے۔ نئی حکومت اس راز کو جان ہی لے گی کہ بچوں کی اینرولمنٹ اور پڑھائی میں والدین اہم کردار ہیں، جنہں گزشتہ حکومت میں بچوں کی تعلیم سے متعلق مکلمل آزادی حاصل تھی۔
میں پر امید تھا کہ اب ایسا قانون بنایا جائے گا کہ والدین اپنے بچوں کو ضرور سکول داخل کریں گے، ان کی حاضری کو یقینی بنائیں گے انہیں گھر کا کام اپنی نگرانی میں کروائیں گے اور کوتاہی کی صورت میں استاد والدین کو اول سمجھائے بجھائے گا اور ہٹ دھرمی کی صورت میں سخت ایکشن لے گا۔ تب امریکہ کی طرح یہاں بھی لوگ رات گئے تک جاگنے، یا اپنی تھکن دور کرنے یا فقط اپنے ساتھی سے لطف اندوز ہونے کے لیے بچے پیدا نہیں کریں گے بلکہ انہیں اندازہ ہو گا کہ جس معصوم نے دنیا فانی میں آنکھ کھولنی ہے وہ ہماری ذمہ داری ہونا ہے اور اس کی تربیت کے ہم جواب دہ ہوں گے۔
لیکن پنجاب میں صورت حال مختلف ہے، وزیر تعلیم مراد راس صاحب کا اساتذہ سے متعلق رویہ حوصلہ شکن رہا اور اساتذہ کے خواب چکنا چور ہو گئے۔
جناب وزیر اعظم صاحب ہمارے معزز وزیر تعلیم کو چاہیے تھا کہ پہلے والدین ایکٹ لاتے، اساتذہ کو ایڈیشنل مجسٹریٹ کا درجہ دیتے کہ وہ والدین سے ان ہی کے بچوں سے متعلقہ ذمہ داریاں پوری کروا سکیں، اور پھر اگر وہ ایک بھی بچے کی تقدیر بدلنے میں ناکام رہتے تو آپ حق بجانب تھے، تب واقعی اس استاد کو اس شعبے سے برطرف کر دیا جانا چاہیے تھا۔ اور سزا دینے والے کو جیل بھیجا جاتا۔
لیکن ہم ابھی اس دور میں نہیں پہنچے، ابھی ٹیچر وہی غریب طبقے سے تعلق رکھنے والا ماشٹر ہے، جس سے کلرک چوکیدار سویپر کا کام بھی لیا جا رہا ہے، اور جسے اس محمکے نے ماسوائے ڈپریشن کے کچھ نہیں دیا۔
میری اس تحریر کے نشر ہونے کے بعد ممکن ہے میں پھر سے رجائیت پسندی کا شوق پال لوں اور میں سوچنے لگوں کہ عمران خان صاحب بھی ہم سب ڈاک کام کے سبسکرائبر ہوں گے، وہ میری تحریر سے متاثر ہوں گے اور اساتذہ کے حق میں آواز اٹھائیں گے اور انہیں وہ مقام دلائیں گے جس کے اساتذہ حقدار ہیں۔ لیکن ابھی میں بس ٹوٹے خوابوں کی کرچیاں چن رہا ہوں اور میرے ہاتھ زخمی ہو رہے ہیں۔


