19سالہ لڑکی نے 25 برس کی ملازمہ کو ریپ کا نشانہ کیوں بنایا؟


’’بھارت میں جنسی زیادتی کا شرمناک واقعہ ،اس بار کسی درندہ صفت مرد نے کسی خاتون کو اپنی ہوس کا نشانہ نہیں بنایا بلکہ ۔۔۔‘‘انڈیا کا ایسا بھیانک چہرہ سامنے آ گیا کہ جان کر ہر کسی کی روح کانپ جائے گی

ہندوستان میں ہم جنس پرستی کو قانونی قرار دینے کے چند دن بعد ہی ایک 19سالہ لڑکی نے 25سالہ لڑکی کو ریپ کا نشانہ بنا دیا ،متاثرہ لڑکی کی درخواست کے باوجود پولیس مقدمہ درج کرنے سے انکاری۔

بھارتی نجی ٹی وی کے مطابق سپریم کورٹ کی جانب سے انڈیا میں ہم جنس پرستی کو جائز قرار دینے کے فیصلہ کے کچھ ہی دن بعد ایک انوکھا کیس سامنے آیا ہے جس کے مطابق مشرقی ہندوستان سے دہلی کام کاج کے سلسلہ میں آنے والی 25 سالہ لڑکی کو 19سال کی لڑکی نے جنسی زیادتی کا نشانہ بنا دیا ،حیران کن بات یہ ہے کہ متاثرہ لڑکی کا کہنا ہے کہ ملزمہ نے ایک بار نہیں بلکہ کئی بار اس کے ساتھ جنسی زیادتی کی بلکہ انکار پر اسے تشدد کا نشانہ بھی بنایا جبکہ پولیس کے پاس جب متاثرہ لڑکی مقدمے کے اندراج کے لئے گئی تو پولیس نے ایک خاتون کا کسی دوسری خاتون کے ساتھ ریپ کو جرم ماننے سے انکار کرتے ہوئے درخواست وصول کرنے سے انکار کر دیا ۔متاثرہ لڑکی کا کہنا تھا کہ میں نے سیما پوری پولیس سٹیشن میں ملزمہ کے خلاف کیس درج کرنے کیلئے درخواست دی تھی تاہم پولیس نے شکایت درج کرنے سے انکار کردیا،پولیس نے مجھے مجسٹریٹ کے سامنے بھی جنسی زیادتی کے حوالے سے گفتگو کرنے سے منع کیا تھا تاہم اس کے باوجود میں نے مجسٹریٹ کے سامنے اپنے اوپر ہونے والے ظلم کے بارے میں عدالت کو اگاہ کیا لیکن اس کے باوجود پولیس مقدمہ درج کرنے کی بجائے ٹال مٹول سے کام لیتی رہی ۔واضح رہے کہ گذشتہ ماہ کے آخر میں بھارتی سپریم کورٹ نے ہم جنس پرستی کو قانونی قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ہندوستانی آئین کے مطابق ملک میں ہم جنس پرستوں کو برابری کا حق حاصل ہے اس لئے ہم جنس پرستی کو جرم کے زمرے کے نکال کر قانوناً جائز قرار دیا جاتا ہے۔

Facebook Comments HS