غفار ذکری کون تھا ؟


 

 کراچی کے علاقے لیاری میں پولیس مقابلے کے دوران ہلاک ہونے والا گینگ وار کا مطلوب ترین کردار غفار ذکری پچھلی دہائی کے آغاز میں جرم کی دنیا میں نمودار ہوا، ابتدا میں وہ گینگ وار کے مقتول اور اہم کردار ارشد عرف پپو کے ساتھ جرائم کی وارداتیں کرتا رہا اور ارشد پپو کے گرفتار ہونے کے بعد اس نے گینگ کی قیادت سنبھالی۔

2006 اور 2007 میں غفار ذکری جرائم کی دنیا کا ایک خطرناک نام بن چکا تھا، وہ فٹ بالرعیسیٰ جے کا بیٹاتھا۔2006-07 میں رحمان ڈکیت اور غفار ذکری کے گروہوں کے درمیان لیاری میں خطرناک جنگ چل رہی تھی جو کراچی آپریشن کے آغاز تک جاری رہی۔ کراچی آپریشن اور اس سے قبل لیاری عیدو لین، ذکری پاڑے کے علاوہ غفار ذکری نے اپنا بیس کیمپ حب کو بنایا، یہ وہیں سے اپنا گینگ آپریٹ کرتا رہا۔

2006-07 میں سیاسی پشت پناہی کی بنیاد پر غفار ذکری ایک بہت مضبوط جرائم پیشہ کے طور پر سامنے آیا۔ یہ وہ وقت تھا جب لیاری سے جہاں آباد تک وہ جرم کی دنیا کا بے تاج بادشاہ تھا اور اغواء برائے تاوان، بھتہ خوری اور قتل کی لاتعداد وارداتیں اس نے اور اس کے کہنے پر اس کے کارندوں نے سرانجام دیں۔

غفارذکری کا آبائی تعلق تربت سے تھا اور وہ وہاں بھی بہت عرصے تک روپوش رہا۔ لیاری میں 2011 میں فٹ بال اسٹیڈیم میں عزیر بلوچ اور بابا لاڈلہ پر کیے جانے والے دھماکے کے بعد سے گینگ وار مزید شدت اختیار کرگئی تھی۔غفارذکری کا ایک بھائی فتح گزشتہ سال رینجرز کے ہاتھوں مارا گیا تھا۔

گزشتہ دنوں لیاری میں رینجرز نے اس کی موجودگی کی اطلاع پر چھاپہ مارا جہاں مقابلے میں ایک رینجرز اہلکار شہید ہوگیا تھا، حساس ادارے اور قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی اس کی تاک میں تھے اور آج یہ چھوٹا زاہد کے ہمراہ مقابلے میں مارا گیا۔ غفارذکری پر قتل، بھتہ خوری، اغوا برائے تاوان،پولیس مقابلے اور گینگ وار سمیت سنگین نوعیت کے 100 سے زائد مقدمات درج ہیں۔حکومت نے غفارذکری کے سر کی قیمت 25 لاکھ روپے مقرر کر رکھی تھی۔

Facebook Comments HS