جب برنا اور احفاظ الرحمان صحافیوں کے لیڈر ہوا کرتے تھے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

صحافت، جو ریاست کا چوتھا ستون کہلاتا ہے آج لڑکھڑا رہا ہے۔
یہ کھوکھلا ہوچکا۔ شکست و ریخت کا شکار ہے۔ خود سہاروں کا متلاشی ہے کہ اب نہ تو وہ صحافی رہے، جن کا عزم آہنی تھا، جو جبر کے خلاف آواز اٹھاتے ، سر بلند کیے زنداں جاتے، پیٹھ پر کوڑے کھاتے، بھوک ہڑتالیں کرتے، اور نہ ہی وہ صحافتی تنظمیں، جن میں اتحاد تھا، جو اصولوں کی پاس داری کو مقدم جانتی تھیں۔
صحافت کوآج اندر اور باہر، دونوں جانب سے المیوں، اندیشوں کا سامنا ہے۔ ایک طرف وہ ریاستی، غیرریاستی، مرئی غیرمرئی قوتیں ہیں، جنھوں نے صحافت کو لگام ڈال دی ، دوسری طرف میڈیا ہاﺅسز کا طبقاتی نظام، ناانصافی، بدنظمی۔
پندرہ سال صحافت میں گزارنے کے بعد اگر کوئی نوجوان مجھ سے اس شعبے کی سمت آنے کا مشورہ مانگے، تو میں تذبذب کا شکار ہوجاﺅں گا۔
مگر ہمیشہ ایسا نہیں تھا۔ ایسا تب نہیں تھا، جب صحافت کو وہ بے بدل کردار میسر تھے، جس کے پیچھے جذبے سے لبریزکارکن سر جھکا کر چلا کرتے تھے۔
جب تن خواہیں توکم تھیں، مگر یہ شعبہ باوقار تھا۔
پاکستانی صحافت کی تاریخ میں، جس میں نشیب زیادہ، فراز کم ہیں، منہاج برنا، نثار عثمانی اور احفاظ الرحمان جیسی شخصیات کا دم غنیمت ہے، جنھوں نے اصولوں کی پاس داری کو لازم جانا، پابند سلاسل رہے، شہر بدر، جلا وطن ہوئے، مالی مسائل برداشت کیے، مگر جبر کے سامنے جھکنے سے انکار کردیا۔ بدترین حالات میں بھی جسے صحیح جانا، اس پر ڈٹے رہے۔
جب منہاج برنا اور احفاظ الرحمن جیسی شخصیات پاکستان کی صحافتی تنظیموں کی سربراہ ہوا کرتی تھیں، تب یہ تنظیمیں معتبر تھیں۔ جی، تب صحافت ریاست کا چوتھا ستون تھی، تب صحافی ایک قوت تھے۔ ہاں،بعد میں بھی چند روشن مثالیں سامنے آئیں، مگر آج تویہ عالم ہے کہ دوسروں کے لیے آواز اٹھانے والا یہ طبقہ خود بدحالی کا شکار ہے، بونس اور انکریمنٹ تو بھول جائیں، ادھر تو تن خواہوں کی عدم ادائیگی کا مسئلہ گمبھیر شکل اختیار کر گیا ہے، بنا کسی نوٹس ملازمین کو باہر کا راستہ دکھا دیا جاتا ہے۔ اور کوئی آواز نہیں اٹھاتا۔ اٹھاتا ہے، تو اگلے ہی لمحے دبک کے دائیں بائیں دیکھنے لگتا ہے۔
آواز کیسے اٹھائی جاتی ہے؟
یہ جاننا ہے، تو وہ منظر دیکھیں، جب مشرف دور میں پرائیویٹ چینلز پر عائد بندش کے خلاف سن 2007 میں، اس وقت کے 65 سالہ احفاظ الرحمان نے بلاخوف و خطر، مسلح سپاہیوں کی پروا کیے بنا، احتجاجی جلوس لیڈ کیے۔ گرے، تو اٹھے، پھر ایک نعرہ بلند کیا، پھر جیل گئے اب بتائیں، آپ نے یہ منظر احفاظ الرحمان کے بعد دوبارہ کب اور کہاں دیکھا؟
احفاظ صاحب کی بے بدل کتاب “سب سے بڑی جنگ” 77-78 کی تاریخ ساز صحافتی تحریک کا جامع انداز میں احاطہ کرتی ہے۔ اس زمانے میں برنا صاحب پی ایف یو جے کے صدر، جب کہ احفاظ صاحب کے یو جے کے جنرل سیکریٹری اور پی ایف یو جے اور اپینک کی مشترکہ ایکشن کمیٹی کے سیکریٹری جنرل تھے۔ یہی وہ تحریک تھی، جس سے متاثر ہو کر ٹائمز آف انڈیا نے لکھا: “اگر بھارت میں پی ایف یو جے جیسی کوئی تنظیم ہوتی، تو اندرا گاندھی کبھی ایمرجنسی لگانے کی ہمت نہ کرتیں۔”
تین مراحل میں چلنے والے اس تحریک میں صحافیوں کے ساتھ ساتھ طلبا، کسان اور مزدوروں نے بے خوف ہو کر گرفتاریاں دیں۔ ادھر راہ نما کبھی ملازمت سے نکالے جاتے، کبھی صوبہ بدر ہوتے، اور کبھی پابند سلاسل۔ برنا صاحب کی خیرپور جیل میں طویل بھوک ہڑتال اُس شخص کو اساطیری کی شکل دے دیتی ہے۔(صحافت کی اوج منہاج برنا، سیاست کی عروج معراج محمد خاں)
یہ صحافی ہی تھے، جنھوں نے ضیا الحق کے جبر کے خلاف سب سے پہلے آواز بلند کی، اور کیوں نہ کرتے کہ انھیں منہاج برنا، نثار عثمانی اور احفاظ الرحمان جیسے قائدین میسر تھے، جن کے سروں نے جھکنا سیکھا ہی نہیں تھا۔ روزنامہ “مساوات” کی بندش سے شروع ہونے والی یہ تحریک ایک لازوال داستان بن گئی، جس میں گرفتاریاں ہیں، کوڑوں کی سزائیں ہیں، قید و بند کی صعوبتیں ہیں، بھوک ہڑتالیں ہیں، مگر عزم ہے کہ ڈگمگاتا نہیں، یقین ہے کہ لڑکھڑاتا نہیں۔
بے تیغ کیسے لڑا جاتا ہے، جاننا ہو، تو یہ کتاب پڑھیں۔
میری خوش نصیبی کہ مجھے اس بے بدل کتاب کا معاون مصنف بننے کا موقعہ ملا۔ وہ بھی ان حالات میں جب احفاظ صاحب کینسر جیسے موذی مرض سے نبرد آزما تھے۔ ایک کے بعد دوسرا، دوسرے کے بعد تیسرا آپریشن۔قوت گویائی چھن گئی، ریڈیو تھراپی کے دوران کتاب کے پروف پڑھتے رہے، مگر جیسے میں نے کہا، عزم ڈگمگایا نہیں، یقین لڑکھڑایا نہیں۔
اس کتاب کے مواد کے حصول کی کہانی ایک الگ مضمون کی متقاضی ہے۔ اس میں “الفتح “کے لیجنڈی مدیر وہاب ریاض کا ذکرآتا ہے، جن کے وسیلے نادر و نایاب تصاویر اور اہم دستاویزات تک رسائی ہوئی۔وہی وہاب صدیقی، جن کی رہائی کا مطالبہ الذوالفقار نے پی آئی کی فلائٹ ہائی جیک کرنے کے بعد کیا تھا۔
وہ ایک الگ کردار ہیں، وہ ایک الگ کہانی ہیں!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •