فحش حرکات اور پولیس اہلکاروں کو اغوا کرنے کے ملزم محمود الرشید کے بیٹے کی عبوری ضمانت
پنجاب کے صوبائی وزیر اور پاکستان تحریک انصاف کے رہنما میاں محمود الرشید کے بیٹے سمیت 5 افراد نے سیشن کورٹ سے عبوری ضمانتیں کروا لیں۔ سینئر صوبائی وزیرپنجاب کے بیٹے اور ان کے ساتھیوں پر الزام ہے کہ لاہور کی غالب مارکیٹ میں گاڑی کے اندر خاتون سے فحش حرکات کرتے ہوئے پکڑے جانے کے بعد انہوں نے پولیس اہلکاروں کو اغوا کر کے تشدد کا نشانہ بنایا۔
لاہور کی سیشن کورٹ نے میاں محمود الرشید کے بیٹے سمیت 5 ملزمان کی 50 ،50 ہزار روپے مچلکوں کے عوض عبوری ضمانت منظور کر لی۔ ملزمان کے خلاف تھانہ غالب مارکیٹ میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
لاہور میں پولیس اہلکاروں کے اغوا کے معاملے پر صوبائی وزیر ہاؤسنگ میاں محمود الرشید کا کہنا تھا کہ نے کہا کہ مریے بیٹے کے بارے میں جو الزام لگایا جارہا ہے، وہ من گھڑت ہے،میں نے اپنے بیٹے کو فوری طور پر کہا ہے کہ وہ گلبرگ تھانے جا کر تفتیش میں شامل ہو جائے۔
محمود الرشید نے یہ بھی کہا کہ اگر میرے بیٹے یا کسی نے بھی کوئی جرم کیا ہے تو قانون کے مطابق اسے سزا ملنی چاہیے۔ اگر بیٹے پر الزام ثابت ہوگیا تو وزارت سے استعفیٰ دے دوں گا۔


