بچے کے خواجہ سرا بننے کی طبی وجوہات
مندرجہ بالا معلومات اس بات کو دوبارہ واضح کرنے کے لئے کافی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مرد اور عورت دو ہی جنس میں انسان کو پیدا فرمایا ہے لیکن دیگر پیدائشی بیماریوں اندھا گونگا اور بہرا پن کے ساتھ ساتھ یہ بھی ایک بیماری ہے جو کہ قابل علاج ہے نا کہ قابل نفرت۔ قرآن و حدیث میں کس طرح اس بیماری کا ذکر ہے اور کیا احکامات لاگوکیے گئے ہیں یہ ایک لمبی اور تفصیل طلب بحث ہے جوکسی دوسرے مضمون میں کروں گا۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ اب اس بات کو اچھی طرح ذہن نشین کر لیا جائے کہ جس طرح دیگر پیدائشی کمزوریوں کے شکار بچوں کو خصوصی بچے Special Child سمجھا جاتا ہے اسی طرح یہ بھی خصوصی بچے ہوتے اور یکساں حقوق رکھتے ہیں۔ لیکن ہماری بدقسمتی ہے کہ ہم نے اپنی بہت سی معاشرتی خامیوں کو مذہب کی آڑ دے کر اپنایا ہوا ہے۔ ہمارا معاشرہ اس بیماری میں مبتلا افراد کو اچھوت سے بھی بد تر زندگی گزارنے پر مجبور کردیتا ہے اور عامل فاضل افراد کی ایک کثیر تعداد ہونے کے باوجود بہت ہی کم افراد ان کو تحفظ دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ اپنے ہی گھر سے بے دخل اور ہر معاشرتی حق سے محروم یہ افراد زندگی کی سانسوں کو پورا کرنے کی خاطر ہر جائز و نا جائز کام کرنے پر مجبور کر دیے جاتے ہیں اور ایک حقارت بھری چھاپ ان کی منتظر ہوتی ہے۔
جاہل اور کم پڑھے لکھے افراد کے نزدیک ایسے افراد قابل تحقیر کیوں قرار پائے جاتے ہیں کوئی وجہ آج تک سمجھ نہیں لگی۔ سمجھنے کی اشد ضرورت ہے کہ خدا کی یہ بے بس اور بے گناہ مخلوق صرف اپنی ہی آزمائش نہیں جی رہی بلکہ من حیث القوم و ملت ہم بھی اس آزمائش میں برابرکے حصہ دار ہیں۔ ان کی تعلیم و تربیت جائیداد میں حصہ اور ایک پر سہل آسان زندگی مہیا کرنا ان کے بنیادی حقوق ہیں جو کہ میں نے یا آپ نے نہیں بلکہ ان کے خالق اللہ نے ان کو عطاکیے ہیں۔ ان کے ماں باپ سے ان کے ہر ہر اس فعل کا حساب لیاجائے گا جو ان ماں باپ سے دیگر بچوں کے بارے میں ہوگا۔ یاد رکھیں اللہ کے نزدیک یہ کوئی تیسری جنس نہیں بلکہ مرد اور عورت کی جنس میں سے ایک جنس ہے جس کے علاج اور دیگر بنیادی حقوق معاشرے اور حکومت پر اسی طرح عائد ہیں جس طرح اسلامی فلاحی مملکت پر باقی بچوں کی کفالت اور تعلیم و تربیت کے مواقع میسر کرنا ہے۔
کیا ہی اچھا اور احسن فعل ہو کہ ان کے حقوق کو سمجھا جائے اوراس بیماری میں مبتلا افراد کو آدم اور حوا کی اولاد تسلیم کرکے باعزت انداز میں لکھا اور پڑھا جانے کے لئے ان کے لئے ”حوادم ‘‘ کی اصطلاح متعارف کروائی جائے تاکہ سب سے پہلے تو حوا اور آدم کی اس اولاد کو اس کا باعزت اور قابل احترام تعارف دیا جا سکے۔ بعد ازاں ان کی تعلیم و تربیت کے لئے بھی خصوصی تعلیم Special Education کے مراکز قائمکیے جائیں اور ملازمت میں ان کے لئے یکساں مواقع Special Persons Quota فراہم کیے جائیں۔ اور جن کا نفسیاتی یا طبعی علاج ممکن ہو ان کو علاج کی سہولت فراہم کی جائے تاکہ نا صرف معاشرہ میں بہت سی اخلاقی برائیاں ختم کرنے میں مدد ملے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ آخرت میں بھی اللہ کے حضور ہمارا معاشرہ شرمندہ اور سزاوار نہ ہو۔

