کم سنی کی شادی اور اس سے متعلق قانون سازی

گزشتہ دنوں سے جو مسئلہ زیر بحث ہے وہ ہے کم سنی کی شادی اور اس سے متعلق قانون سازی؟ مسئلہ حقیقت پسند اور مسلمہ ہے مگر اس کے حل کی کسی بھی تجویز سے قبل اگر اس معاملے کے سیاق و سباق کو سمجھ لیا جائے تو معاشرتی بحث کافی حد تک سمٹ سکتی…

Read more

فیمینزم! عورت کے حقوق کی جنگ یا آزادی کی؟

8مارچ آیا اور آ کر چلا گیا مگر اس کی باز گشت ابھی تک سنائی دے رہی ہے۔ عورتوں نے اپنا عالمی دن کچھ اس ادا سے منایا کہ مجھ جیسے نو آموز قلم کار جو پی ایس ایل کی ہوشربائیوں سے نکل کر بھارتی میڈیا کی جنگی گیدڑبھبھکیوں میں گم تھے وہ بھی اپنے اپنے قلم دوات لے کر اس موضوع پر طبع آزمائی کرنے کے منصوبے بنانے لگ گئے۔اس موضوع پر کچھ لکھنے سے پہلے میں چند ایک سوالات سامنے رکھنا چاہتا ہوں تاکہ ہماری یہ بحث کسی منطقی نتیجہ تک راہنمائی کر سکے۔ پہلا سوال یہ کہ پاکستان میں عورتوں کا عالمی دن کیا فیمینزم کی کوئی کڑی ہے؟ آیا فیمینزم عورت کے حقوق کی جنگ ہے یا آزادی کی؟ آزادی کی صورت میں کس سے آزادی چاہیے مرد سے یا فرسودہ رسومات سے؟ اور آخری مگر اہم ترین سوال کیا منعقدہ عورت مارچ ہماری کثیرالجماعتی عورتوں کی جائز نمائندگی کرنے میں کامیاب بھی رہا یا نہیں؟

Read more

معاشرتی تبدیلیاں اور مذہبی ہم آہنگی

دور حاضر کی تیزی سے بدلتی روایات اور ثقافتی تغیر نے بلاشبہ معاشرے میں ایک ہیجان بپا کر رکھا ہے۔ معاشرے کا کوئی طبقہ ایسا نہیں جو اپنے آپ کو اس بدلتی صورت حال سے محفوظ تصور کرتا ہو۔ معاشرہ مغرب کا ہو یا مشرق کا سب ہی اس معاشرتی تغیر کا شکار ہیں۔ فرق ہے تو صرف اتنا کہ مغرب نے اس معاشرتی رفتار کے سامنے ہتھیار ڈال دیے ہیں جس کا فائدہ یہ ملا کہ انھوں نے مذہب اور معاشرت کو ایک کر کے اپنے لئے آسانیاں پیدا کر لی ہیں جس کے نتیجے میں وہ اپنے اپنے مذاہب کو ایک مسلسل ارتقائی عمل کے سپرد کیے ہوئے ہیں۔

انسانیت کو سب سے مقدم مذہب کا درجہ دے کر مغرب آج ہر اس قدم کو اٹھا نے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتا جوانھیں بہتر دکھائی دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مغرب میں آج مذہب سے زیادہ معاشرت کے قوانین کو ترجیح دی جاتی ہے۔ اور انسان کی بہتری اور فائدے کے لئے تجویز کردہ انسانی قوانین کی سختی سے عمل داری کی جاتی ہے جس کی وجہ سے مغربی معاشرے زیادہ مہذب اور ترقی یافتہ محسوس ہوتے ہیں۔ معاشرتی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے کے لئے ان کے معاشرے میں کوئی رعایت نہیں کی جاتی جس کے نتیجے میں وہ معاشرہ اور اس کے افراد قول و فعل کے پکے اور دیانت دار کہلاتے ہیں۔

Read more

جس کو کوئی نوکری نہیں ملتی وہ استاد بن جاتا ہے

”جس کو کوئی نوکری نہیں ملتی اور کسی جگہ وہ جا نہیں سکتا تووہ استاد بن جاتا ہے۔ “ گزشتہ چند دنوں سے تعلیمی حلقوں میں بہت زیادہ چرچا جس بات کا ہو رہا ہے وہ ہمارے پنجاب کے صوبائی وزیر تعلیم جناب ڈاکٹر مراد راس کا یہی جملہ ہے جو کہ موجودہ اساتذہ کے…

Read more

بچے کے خواجہ سرا بننے کی طبی وجوہات

قرآن مجید کے مطالعہ سے کسی بھی ذی عقل کو اندازہ ہو سکتا ہے کہ کتاب الٰہی کا اصل موضوع انسان اور مخاطب بھی بنی نوع انسان اور جنات ہی ہیں۔ جگہ جگہ انسانوں، گروہ جن و انس کی اصطلاحات کو ایک ساتھ کر کے یا الگ الگ مرد اور خواتین کو مخاطب کر کے…

Read more
––>