دور حاضر کی تیزی سے بدلتی روایات اور ثقافتی تغیر نے بلاشبہ معاشرے میں ایک ہیجان بپا کر رکھا ہے۔ معاشرے کا کوئی طبقہ ایسا نہیں جو اپنے آپ کو اس بدلتی صورت حال سے محفوظ تصور کرتا ہو۔ معاشرہ مغرب کا ہو یا مشرق کا سب ہی اس معاشرتی تغیر کا شکار ہیں۔ فرق ہے تو صرف اتنا کہ مغرب نے اس معاشرتی رفتار کے سامنے ہتھیار ڈال دیے ہیں جس کا فائدہ یہ ملا کہ انھوں نے مذہب اور معاشرت کو ایک کر کے اپنے لئے آسانیاں پیدا کر لی ہیں جس کے نتیجے میں وہ اپنے اپنے مذاہب کو ایک مسلسل ارتقائی عمل کے سپرد کیے ہوئے ہیں۔
انسانیت کو سب سے مقدم مذہب کا درجہ دے کر مغرب آج ہر اس قدم کو اٹھا نے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتا جوانھیں بہتر دکھائی دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مغرب میں آج مذہب سے زیادہ معاشرت کے قوانین کو ترجیح دی جاتی ہے۔ اور انسان کی بہتری اور فائدے کے لئے تجویز کردہ انسانی قوانین کی سختی سے عمل داری کی جاتی ہے جس کی وجہ سے مغربی معاشرے زیادہ مہذب اور ترقی یافتہ محسوس ہوتے ہیں۔ معاشرتی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے کے لئے ان کے معاشرے میں کوئی رعایت نہیں کی جاتی جس کے نتیجے میں وہ معاشرہ اور اس کے افراد قول و فعل کے پکے اور دیانت دار کہلاتے ہیں۔
Read more