اشتہار برائے غلام الناس

پی ڈی ایم کے کامیاب اور حیران کر دینے والے ملتان جلسے کی تفصیلات اور تصویری حقائق دیکھنے کے لیے جب بندہ نا چیز نے ایک تخیلاتی اخبار اٹھایا تو اس کے پہلے صفحے پر جلسہ کی تفصیلات کے بر خلاف ایک مکمل صفحے کا اشتہار نظر آیا جس پر بہت بڑا بڑا کر کے خبردار لکھا ہوا تھا اور اس کے عین نیچے ایک شہ سرخی کے انداز میں عبارت بھی درج تھی۔ پورا اشتہاربھرپور دلچسپی سے پڑھنے کے

Read more

مندر کلیساؤں اور اقلیتوں کا تحفظ بھی عبادت ہے

شدید دکھ اور کرب کی کیفیت ہے جب سے سوشل میڈیا پر کسی مندر کی دی گئی تصاویر دیکھی ہیں جہاں پر کسی نے ہندوؤں کے تہوار کے موقع پر رات کے وقت چھپ کر مندر میں موجود بت توڑ دیے اور ان ٹوٹے بتوں کو زمین پر پھینک کر اپنے بت شکن ہونے کو ثابت کیا۔ یقیناً ہندوؤں کو بھی اتنا ہی رنج اور دکھ ہوا ہوگا جتنا ہم مسلمانوں کو فرانس کے صدر کی حرکت پر ہوا ہے۔ کیا اپنے پکے مذہبی ہونے کے ثبوت کے لیے یہ ضروری ہے کہ دیگر اقلیتوں کو دکھ دیا جائے یا ان کے نابالغ بچوں اور بچیوں سے اپنے مذہب کو اختیار کروایا جائے؟

Read more

انسان تو زندہ ہیں لیکن انسانیت مر گئی ہے

راولپنڈی کی زہرا شاہ یا لاہور کی مون مارکیٹ میں غبارے بیچنے والا کم سن غریب محنت کش کوئی ہمارے بچے تھوڑا ہیں جن کو اگر کوئی گھور کر بھی دیکھ لے تو ہم اس کی آنکھیں نوچ لیں گے۔ یہ تو زہرا شاہ تھی نا ایک غریب بے سہارا اور لاچار بچی۔ یقیناً اس کا ہی قصور ہوگا کہ اس نے اتنے قیمتی طوطے اڑا دیے۔ ظاہر ہے زہرا جیسی تو کئی ملازمائیں مل جائیں گی وہ بھی بلامعاوضہ

Read more

حقیقت میں ارطغرل غازی مسلمان تھے یا بت پرست؟

وزیر اعظم عمران خان کی خصوصی ہدایت پر پی ٹی وی پر چلنے والے شہرہ آفاق ڈرامے ارطغرل غازی سے اس وقت پاکستان کا بچہ بچہ نا صرف واقف ہو چکا ہے بلکہ وہ نسل جو تصوراتی اور افسانوی ہیروز کے سحر سے باہر نہیں نکلتی تھی وہ بھی اب ارطغرل، بامسی اور ترگت کو اپنا ہیرو ماننے لگ گئی ہے۔ جہاں نوجوان لڑکے حلیمہ جیسی صابر، وفا شعار اور بہادر لڑکی کے خواب دیکھنے لگ گئے ہیں تو وہیں دوسری طرف لڑکیاں بھی ارطغرل جیسا دلیر، ذہین اور دھن کا پکا مرد اپنے خوابوں میں سجائے بیٹھی ہیں۔ ایسے میں اچانک اس سوال کا جنم لینا بے حد معنی خیز ہے کہ کیا حقیقت میں ارطغرل غازی ایسے ہی تھے یا ان سب باتوں کے بالکل برعکس وہ ایک بت پرست تھے؟

Read more

عورت مارچ معاشرے کی اہم ترین ضرورت ہے

گزشتہ سال اور اس سال برس میں ایک واضح فرق تو محسوس ہو رہا کہ گزشتہ برس عورت کا دن منایا گیا اور اس کے بعد لمبے عرصے تک اس کی باز گزشت سنی گئی۔ شاید ہی کوئی صاحب قلم ہو جس نے اس موضوع پر قلمکاری نہ کی ہو یا ٹاک شوز، اور سوشل میڈیا پر بحث نہ چھڑی ہو۔ مگر اس سال کھیل اور بھی دلچسپ مرحلے میں داخل ہو چکا ہے کہ ابھی عورت کا عالمی دن

Read more

جس کو ہو دین و دل عزیز اس کی گلی میں جائے کیوں؟

کون کہتا ہے کہ ملک خداداد میں نفسا نفسی اور نا اتفاقی کا عالم ہے۔ یقین مانئیے! جتنا اتفاق اور یک جان ہونے کی روایت اس ملک میں پائی جاتی ہے اس کی نظیر تو شاید ہی آپ کو دنیا کے کسی اور ملک میں ملے۔ ہر فرد ہی قائم ربط ملت کے سنہرے اصول پر اس قدر سختی سے کاربند ہے کہ کوئی مجھ جیسا نا عاقبت اندیش اس فرد کو بیرون دریا کرنے کی کوشش کا سوچ بھی

Read more

کم سنی کی شادی اور اس سے متعلق قانون سازی

گزشتہ دنوں سے جو مسئلہ زیر بحث ہے وہ ہے کم سنی کی شادی اور اس سے متعلق قانون سازی؟ مسئلہ حقیقت پسند اور مسلمہ ہے مگر اس کے حل کی کسی بھی تجویز سے قبل اگر اس معاملے کے سیاق و سباق کو سمجھ لیا جائے تو معاشرتی بحث کافی حد تک سمٹ سکتی ہے۔ حکومتی موقف ہے کہ کم سنی کی شادیاں مسائل اور الجھنوں کا باعث بنتی ہیں سو شادی کی کم سے کم عمر اٹھارہ سال

Read more

فیمینزم! عورت کے حقوق کی جنگ یا آزادی کی؟

8مارچ آیا اور آ کر چلا گیا مگر اس کی باز گشت ابھی تک سنائی دے رہی ہے۔ عورتوں نے اپنا عالمی دن کچھ اس ادا سے منایا کہ مجھ جیسے نو آموز قلم کار جو پی ایس ایل کی ہوشربائیوں سے نکل کر بھارتی میڈیا کی جنگی گیدڑبھبھکیوں میں گم تھے وہ بھی اپنے اپنے قلم دوات لے کر اس موضوع پر طبع آزمائی کرنے کے منصوبے بنانے لگ گئے۔اس موضوع پر کچھ لکھنے سے پہلے میں چند ایک سوالات سامنے رکھنا چاہتا ہوں تاکہ ہماری یہ بحث کسی منطقی نتیجہ تک راہنمائی کر سکے۔ پہلا سوال یہ کہ پاکستان میں عورتوں کا عالمی دن کیا فیمینزم کی کوئی کڑی ہے؟ آیا فیمینزم عورت کے حقوق کی جنگ ہے یا آزادی کی؟ آزادی کی صورت میں کس سے آزادی چاہیے مرد سے یا فرسودہ رسومات سے؟ اور آخری مگر اہم ترین سوال کیا منعقدہ عورت مارچ ہماری کثیرالجماعتی عورتوں کی جائز نمائندگی کرنے میں کامیاب بھی رہا یا نہیں؟

Read more

معاشرتی تبدیلیاں اور مذہبی ہم آہنگی

دور حاضر کی تیزی سے بدلتی روایات اور ثقافتی تغیر نے بلاشبہ معاشرے میں ایک ہیجان بپا کر رکھا ہے۔ معاشرے کا کوئی طبقہ ایسا نہیں جو اپنے آپ کو اس بدلتی صورت حال سے محفوظ تصور کرتا ہو۔ معاشرہ مغرب کا ہو یا مشرق کا سب ہی اس معاشرتی تغیر کا شکار ہیں۔ فرق ہے تو صرف اتنا کہ مغرب نے اس معاشرتی رفتار کے سامنے ہتھیار ڈال دیے ہیں جس کا فائدہ یہ ملا کہ انھوں نے مذہب اور معاشرت کو ایک کر کے اپنے لئے آسانیاں پیدا کر لی ہیں جس کے نتیجے میں وہ اپنے اپنے مذاہب کو ایک مسلسل ارتقائی عمل کے سپرد کیے ہوئے ہیں۔

انسانیت کو سب سے مقدم مذہب کا درجہ دے کر مغرب آج ہر اس قدم کو اٹھا نے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتا جوانھیں بہتر دکھائی دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مغرب میں آج مذہب سے زیادہ معاشرت کے قوانین کو ترجیح دی جاتی ہے۔ اور انسان کی بہتری اور فائدے کے لئے تجویز کردہ انسانی قوانین کی سختی سے عمل داری کی جاتی ہے جس کی وجہ سے مغربی معاشرے زیادہ مہذب اور ترقی یافتہ محسوس ہوتے ہیں۔ معاشرتی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے کے لئے ان کے معاشرے میں کوئی رعایت نہیں کی جاتی جس کے نتیجے میں وہ معاشرہ اور اس کے افراد قول و فعل کے پکے اور دیانت دار کہلاتے ہیں۔

Read more

جس کو کوئی نوکری نہیں ملتی وہ استاد بن جاتا ہے

”جس کو کوئی نوکری نہیں ملتی اور کسی جگہ وہ جا نہیں سکتا تووہ استاد بن جاتا ہے۔ “ گزشتہ چند دنوں سے تعلیمی حلقوں میں بہت زیادہ چرچا جس بات کا ہو رہا ہے وہ ہمارے پنجاب کے صوبائی وزیر تعلیم جناب ڈاکٹر مراد راس کا یہی جملہ ہے جو کہ موجودہ اساتذہ کے بارے میں انہوں نے ایک پریس ریلیز میں اس وقت ادا کیا تھا جب وہ نئی تعلیمی اصلاحات کا تعارف کروا رہے تھے۔ اس بیانیے

Read more

بچے کے خواجہ سرا بننے کی طبی وجوہات

قرآن مجید کے مطالعہ سے کسی بھی ذی عقل کو اندازہ ہو سکتا ہے کہ کتاب الٰہی کا اصل موضوع انسان اور مخاطب بھی بنی نوع انسان اور جنات ہی ہیں۔ جگہ جگہ انسانوں، گروہ جن و انس کی اصطلاحات کو ایک ساتھ کر کے یا الگ الگ مرد اور خواتین کو مخاطب کر کے احکامات اور ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ یعنی مخاطب افراد کو عمومی اورخصوصی دونوں انداز میں مخاطب کیا گیا ہے۔ لیکن کیا ہماری اس دنیا

Read more