پرویز ہود بھائی کا انٹرویو


س4: معیار میں پستی کا آخر کیا سبب ہے؟
ج: بنیادی خرابی یہ ہے کہ ہم سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کو شروع ہی سے کچل دیتے ہیں۔ جبکہ امریکہ میں اس کو اجاگر کیا جاتا ہے۔ مسئلہ ہمارے اقدار اور روایات کا ہے۔ مثلاً استاد کو باپ کی طرح سمجھا جانے پر زور دیا جاتا ہے۔ اب ہمارے معاشرے میں روایت یہ رہی ہے کہ باپ سے سوال نہیں کیا جاتا لہذا طلباء سوال نہیں کرتے۔ میں اپنی کلاس میں سوال کرنے پہ زور دیتا ہوں اور کہتا ہوں کہ جب تک وہ مجھ سے سوال نہیں کیے جائیں گے میں پڑھاؤں گا نہیں۔ اس طرح آہستہ آہستہ ان کی عادت پڑتی ہے سوال کرنے کی۔ لیکن یہ بات ابتداء تعلیم سے ہونی چاہیے۔ اگر سوچنے سمجھنے والا ذہن ہو تو وہ اپنی راہیں خود تلاش کرتا ہے۔

س5:پاکستان بننے کے کئی دھائیوں بعد بھی عوام بنیادی ضروریات کے لئے ترس رہے ہیں جس میں تعلیم بھی شامل ہے۔ اس کی کیا وجوہات ہیں؟
ج: تعلیم کو کبھی ہم نے اہمیت ہی نہیں دی۔ 1947 میں ہم نے 1.7 فی صد بجٹ تعلیم کے لئے مختص کیا۔ آج یہ رقم دو اعشاریہ چار یا پانچ فی صد ہے۔ ہم نے اپنا زیادہ تر پیسہ فوج پہ خرچ کیا۔ اس سے بظاہر ہماری ترقی ہوئی۔ خوبصورت عمارتیں بنیں۔ لیکن ہماری بنیادیں کھوکھلی ہو گئیں۔ پھر تعلیم سے مطلب ہم نے وہ نہیں لیا جو باقی دنیا لیتی ہے۔ ہم نے تعلیم کا مقصد محض آئیڈیولوجی (نظریہ) کو مضبوط بنانا ہی لے لیا۔ مثلا نظریہ پاکستان، اسلامی تعلیمات وغیرہ وغیرہ۔

س6: ابھی آپ نے تعلیم میں بجٹ کی بات کی ہے۔ حالیہ حکومتوں میں تعلیمی بجٹ میں خاطر خواہ اضافہ کیا گیا ہے۔ مثلا 3.9 بلین 2۔2001 سے 33.7 بلین 2006۔7 میں کر دیا گیا۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ اس اضافہ سے تعلیمی معیار میں بہتری کی صورت پیدا ہو رہی ہے؟

ج: جس بالٹی میں چھید ہو اس میں پانی نہیں بھرتا۔ میرے خیال میں اس میں اس سے کوئی فرق نہیں آئے گا۔ مثلا اعلی سطح پہ گذشتہ 6 سالوں میں تعلیم کا بجٹ بارہ گنا بڑھا لیکن معیار میں کوئی خاطر خواہ تبدیلی نہیں آئی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کے لیے صرف رقم نہیں درکار بلکہ اس کو صحیح طور پر استعمال کرنے کی بھی ضرورت ہے۔ مثلاً بغیر کسی مشورہ کے سائنسی تحقیق کے جو آلات منگوائے گئے اور جو کروڑوں روپے کے ہیں ان کا کوئی مصرف نہیں۔ خود میرے شعبہ میں امریکہ (وسکونسن) سے ایک مشین درآمد کی گئی جس کی 400 کروڑ روپے لاگت آئی لیکن یہ مشین بغیر کسی سے پوچھے منگوائی گئی۔ جب یہ یونیورسٹی پہنچی تو امریکیوں نے آ کر اسے چالو بھی کر دیا لیکن اس کا مصرف کوئی نہیں ہوا۔ میں نے اس مسئلہ کو اخبار میں بھی اٹھایا تھا مگر فائدہ کچھ نہیں مشین تو آ گئی۔

میں یہ سمجھتا ہوں کہ بجائے جامعات کے کالج اور اسکول کے معیار کو بہتر بنایا جائے۔ تبدیلی انتظامی ڈھانچے میں نظم و نسق، نصاب اور تدریسی عملہ میں بہتری کی ہونی چاہیے اور یہ کام نچلی سطح سے ہونے کی ضرورت ہے۔

س7: آپ کی تحریروں سے اندازہ ہوتا ہے کہ آپ شروع سے ہی پاکستان کے تجرباتی ایٹمی دھماکوں کے خلاف تھے۔ جبکہ ایک عام رویہ اس کے برخلاف ہے؟
ج: میں ہر ملک کے ایٹم بم کے خلاف ہوں۔ نہ امریکہ نہ اسرائیل نہ پاکستان کیونکہ اس سے بڑے پیمانے پہ لوگ مارے جاتے ہیں۔ یہ انسانیت کے خلاف ایک بہت بڑا جرم ہے۔ میں اس مسئلہ کو خاص کر اہم اس لئے سمجھتا ہوں کہ میں خود نیوکلئیر فزکس کا سائنسدان ہوں۔ اور میں نے دیکھا کہ وہ نیوکلئیر فزیسٹ جنہوں نے ایٹم بم 1945 میں بنایا تھا وہ بعد میں اس کے خلاف ہو گئے۔ کیونکہ انہوں نے دیکھا کہ اس سے کس پیمانہ پہ تباھی آ سکتی ہے۔ انسان انسان کو صفحہِ ہستی سے مٹا سکتا ہے۔ تو انہوں نے بھی اس کی مخالفت شروع کی اور میں ان کے نظریات سے بہت متاثر ہوا۔

س8:جب امریکہ جیسی طاقتیں ایٹم بم بنا سکتی ہیں تو ایران کے ایٹم بم کی مخالفت کیوں؟
ج: میں یہ سمجھتا ہوں کہ جب امریکہ یہ مطالبہ کرتا ہے کہ ایران کو ایٹم بم نہیں بنانا چاہیے اور وہ اسرائیل اور اپنے بموں کے بارے میں خاموش رہتا ہے تو یہ ایک بہت بڑی منافقت ہے۔ اور دنیا اس بات کو اچھی طرح سے سمجھتی ہے۔ تو ضرورت عالمی طور پہ ایٹم بم کو ختم کرنے کی ہے۔ اور اس میں امریکہ بھی شامل ہے۔ جتنے ممالک کے پاس ایٹم بم ہوں گے اتنا ہی خطرہ ہے کہ یہ کسی دن استعمال ہوں گے۔ اس وقت دنیا میں صرف نو ممالک کے پاس ایٹم بم ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ 172 ممالک ایسے ہیں کہ جن کے پاس بم نہیں۔ مگر یہ ممالک اپنے آپ کو غیر محفوظ تو نہیں سمجھتے اور ان میں سے بہت سے ممالک مثلا جرمنی، سنگاپور اور جاپان وغیرہ تو دنیا کی مانی ہوئی طاقتیں ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے پاس سائنس ہے، ٹیکنالوجی اور تعلیم ہے۔ اور وہاں کے لوگ خوشحال ہیں تو میرے خیال میں پاکستان اور ہندوستان کو بھی اس طرح کے ممالک بن جانا چاہیے۔

س9: جوہری توانائی کا بہتر استعمال، پاکستانی عوام کی ترقی کے لیے کیا اور کس طرح ہو؟
ج: جوھری توانائی کا مسئلہ صرف پاکستان کا ہی نہیں پوری دنیا کا ہے۔ حالانکہ ایک زمانے میں یہ سوچا جاتا تھا کہ جوہری توانائی سے اتنی بجلی پیدا ہو گی کہ بجلی کے میٹروں کی ضرورت نہ ہو گی۔ لیکن ایسا ہوا نہیں۔ اس لئے کہ بجلی گھروں پر بہت بڑی لاگت آتی ہے اور اس سے جو فضلہ خارج ہوتا ہے وہ انتہائی زہریلا اور خطرناک ہوتا ہے۔

امریکہ میں بھی نیوکلئیر پاور سے صرف سات فیصد، انڈیا میں 4 فیصد اور پاکستان میں ڈیڑھ فیصد کے برابر بجلی بنتی ہے۔ لہذا ہم اس سے بہت زیادہ امیدیں وابستہ نہیں رکھ سکتے۔ ہاں اگر آج سے پچاس سال بعد نیکلئیر فیوژن ری ایکٹر بن سکا تو اس کے خاطر خواہ نتائج نکل سکتے ہیں۔ موجودہ نیوکلئیر فیوژن سے دنیا کی توانائی کا مسئلہ حل نہیں ہو سکتا۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3