دہشت گرد اساتذہ سے نیب کو ڈر لگتا ہے
کل نیب عدالت میں اساتذہ کو ہتھکڑی لگانے پر نہایت ہی عزت مآب چیف جسٹس آف پاکستان جناب ثاقب نثار نے ڈی جی نیب سلیم شہزاد سے پوچھا کہ ”آپ نے کس قانون کے تحت اساتذہ کی تضحیک کی؟ “ ڈی جی نیب نے آبدیدہ ہو کر کہا کہ مجاہد کامران کوسکیورٹی خدشات کے پیش نظر ہتھکڑیاں لگائیں۔ ڈاکٹر مجاہد کامران کی عمر تقریباً 67 برس ہے۔ آپ حیران ہوں گے کہ سیکیورٹی کے کن خدشات کی وجہ سے انہیں اور دیگر اساتذہ کو ہتھکڑی لگائی گئی ہے۔ اس واقعے کی ویڈیو سے دیکھا جا سکتا ہے کہ یہ بابے تو خود سے چل پھر بھی نہیں سکتے۔ ان کو لاٹھی بھی چاہیے اور دائیں بائیں دو جوانوں کا سہارا بھی۔ پھر نیب کو سیکیورٹی کے کیا خدشات تھے؟

ہم نے اس معاملے پر غور کیا ہے اور ایک وجہ تلاش کر لی ہے۔ اگر آپ نے مشہور نفسیات دان سگمنڈ فرائیڈ کو پڑھا ہو یا کم از کم ہماری طرح اس کا نام ہی سن رکھا ہو تو آپ یہ جانتے ہوں گے کہ اس نے دریافت کیا تھا کہ ہمارے بہت سے رویے اور خوف لاشعور میں دفن بچپن کے کسی واقعے کا نتیجہ ہوتے ہیں۔
آپ نے اپنے بزرگوں سے یہ بھی سن رکھا ہو گا کہ ان کے بزرگ جب کسی بچے کو سکول داخل کرانے جاتے تو کہتے تھے کہ استاد جی، ہڈیاں ہماری چمڑی تمہاری۔ یعنی مار مار کر بچے کی چمڑی ادھیڑ دیں ہم شکایت نہ کریں گے، بس ہڈی نہ توڑیں۔ جس زمانے میں نیب کے اعلی افسران سکول جاتے تھے اس زمانے میں استاد بچے کی چمڑی کو اپنا ہی مال سمجھا کرتے تھے۔ ذرا بچے نے کوئی شرارت کی نہیں اور اس کی شامت آئی نہیں۔ رحم دل استاد صرف ہاتھوں پر مارا کرتے تھے۔ سخت استاد تشریف لال کر دیتے تھے۔ کوئی امتیاز نہ برتنے والے استاد مارتے ہوئے کوئی امتیاز نہیں برتتے تھے کہ چھڑی کہاں لگ رہی ہے۔

سیکیورٹی کی یہی ایک وجہ سمجھ میں آتی ہے جس کے باعث ان بابوں کو ہتھکڑی پہنانی ضروری تھی جو بغیر کسی سہارے کے چل پھر بھی نہیں سکتے۔ واقعی فرائیڈ ٹھیک کہتا ہے، بالغوں کے بہت سے رویے اور خوف بچپن سے لاشعور میں بیٹھ جاتے ہیں۔ نیب والوں کو استاد کی دہشت مار گئی۔ لیکن یہ بات بھی ماننے کی ہے کہ یہ افسران اپنے استادوں سے مار کھا کر شاید کبھی نہ روئے ہوں، مگر ان بزرگ استادوں کو دکھ پہنچا کر وہ ساری قوم کے سامنے آنسو بہانے پر مجبور ہوئے ہیں۔


