2004 کے بعد پہلی دفعہ واسا نے بھی پانی کی قیمت بڑھا دی؛ اب لاہور میں پانی کی سپلائی پہلے سے آدھی ہو گی


زندگی کے لئے سب سے اہم ترین چیز لاہور سے غائب ہوگئی، پہلی مرتبہ وہ خوفناک کام ہوگیا جو آج تک نہ ہوا تھا

 

کراچی میں پانی کی کمیابی اور لوگوں کی اس حوالے سے کسمپرسی کی خبریں سنتے تھے لیکن اب پہلی مرتبہ لاہور میں بھی شہریوں کو اس خوفناک صورتحال کا سامنا کرنا پڑ گیا ہے۔ جیونیوز کے مطابق لاہور کی پانی کی ضروریات کا زیادہ تر انحصار زیرزمین پانی پر ہے جس کا لیول خطرناک حد تک کم ہو چکا ہے اور بعض علاقوں میں شہریوں کو پانی کی شدید قلت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ لاہور کے زیرزمین پانی کی سطح اڑھائی سے 3فٹ سالانہ کی شرح سے نیچے جا رہی ہے۔

ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے مطابق شہر کے وسط میں پانی 130فٹ گہرائی میں چلا گیا ہے اور خدشہ ہے کہ 2025ءتک یہ 230فٹ نیچے چلا جائے گا جس سے لاہور میں پانی کا تباہ کن بحران پیدا ہو جائے گا۔ اگر پانی کی سطح اسی رفتار سے کم ہوتی رہی تو 2040ءتک لاہور میں زیرزمین پانی کی ایک بوند بھی نہیں ہو گی۔ رپورٹ کے مطابق واسا نے اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے اقدامات شروع کر دیئے ہیں۔

گزشتہ منگل کے روز سے واسا نے شہر کے 7لاکھ واٹر کنکشنز کو 12گھنٹے چلانا شروع کر دیا ہے جو پہلے 24گھنٹے چلتے تھے۔ اب لاہور کے شہریوں کو علی الصبح 4بجے سے 9بجے، پھر دوپہر سے سہ پہر 2بجے اور پھر شام 5بجے سے رات 10بجے تک پانی ملا کرے گا۔ واٹر ایجنسی نے اس اقدام کے علاوہ پانی کی قیمت میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ گھریلو صارفین کے لیے قیمت میں 20فیصد اور کمرشل صارفین کے لیے 400فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔ 2004ءکے بعد لاہور میں یہ پہلی بار پانی کی قیمتیں بڑھائی گئی ہیں۔
Facebook Comments HS