سمیع ابراہیم بول چینل کے دفاع میں بول پڑے: کیا کامران خان، اظہر عباس، کامران شاہد اور عاصمہ شیرازی بھی ایجنسیوں کے لوگ ہیں؟
نجی ٹی وی ’بول نیوز‘پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے معروف صحافی سمیع ابراہیم نے انکشاف کرتے ہوئے بتایا ہے کہ معروف صحافی کامران خان جو کہ ’دنیا نیوز‘پر پروگرام کرتے تھے وہ اب دوبارہ ’جیو نیوز‘سے وابستہ ہو گئے ہیں اور بتایا یہ جا رہا ہے کہ شاہزیب خانزادہ 8 بجے شو کیا کریں گے اور کامران خان 10 بجے شو کیا کریں گے۔
سمیع ابراہیم کا کہنا تھا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے برطرف کئے گئے جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے اپنے متنازع خطاب میں کہا تھا کہ مجھ پر فیصلوں کیلئے دبائو ڈالا جا رہا ہے۔ اگر ہمارا چینل ایجنسیوں کا چینل تھا تو ان سب بڑے صحافتی نام جو کہ شروع میں ہمارے چینل سے وابستہ ہو چکے تھے کو ہمارے چینل سے دیگر چینلز میں کون لے کر گیا تھا۔ اگر ’بول‘ ایجنسی کا چینل تھا، اس کو کوئی ایجنسی فنڈ کر رہی تھی، آئی ایس آئی فنڈ کر رہی تھی تو یہ جو اتنے بڑے بڑے نام ہمیں چھوڑ کر چلے گئے جن میں کامران خان ، اظہر عباس، کامران شاہد، عاصمہ شیرازی اور بھی بہت بڑے بڑے نام تھے جو ’بول‘چھوڑ کر چلے گئے تھے۔ آپ کسی بھی بڑے صحافی کا نام لیں وہ ’بول ‘سے وابستہ ہو چکا تھا اور پھر چھوڑ کر چلے گئے، اور اگر شوکت عزیز صدیقی کی بات کو مان لیا جائے تو کیا ان سب کو ایجنسی لیکر گئی تھی۔
دعویٰ تو یہ کیا گیا تھا کہ یہ چینل ایجنسی کا چینل ہے۔ اس موقع پر سمیع ابراہیم نے مزید انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ منیب فاروق اور شاہزیب خانزادہ نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ ملک کے معروف صحافی حامد میر بھی جی این این چھوڑ کر دوبارہ جیو نیوز میں چلے گئے ہیں اور یہ بات پروگرام کے دوران کنفرم بھی کی گئی۔ آپ کسی بھی بڑے صحافی کا نام لیں وہ ’بول ‘سے وابستہ ہو چکا تھا اور پھر چھوڑ کر چلے گئے، اور اگر شوکت عزیز صدیقی کی بات کو مان لیا جائے تو کیا ان سب کو ایجنسی لے کر گئی تھی۔


