معصوم بچوں کے 9 جنازے، خورشید شاہ جواب دیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نظر آنے والے نو جنازے ان معصوم بچوں کے ہیں جو اس کچی دیوار کے سائے میں بیٹھے تھے۔ کچی جھونپڑی کی کچی دیوار ان پر آ گری اور نتیجے میں اس تصویر نے جنم لیا جو آپ دیکھ رہے ہیں نو جنازے۔ اسکول کا ٹائیم تھا، اگربچے اسکول میں پڑھتے ہوتے تو بھی بچ جاتے، مگر غریبوں کے بچے اسکول جاتے ہیں یا نہیں کوئی نہیں پوچھتا، کسی کو پرواہ بھی نہیں۔

چار روز پہلے تحصیل صالح پٹ ضلع سکھر سندھ کے علاقے RD 159 کے گاؤں غلام سرور شنبانی میں ایک گھر کچی دیوار کیا گری، معصوم بچوں پر قیامت ڈہا گئی۔ 10 سے زائد بچے ملبے تلے دب گئے۔ بچوں کو نکالنے کے لیے مقامی افراد نے اپنے طور پر کوششیں کیں، تاہم ملبے تلے دبنے سے 9 بچے جاں بحق جبکہ 3 زخمی ہوگئے۔

اس حادثے کو خدا کی رضا کہیں یا غربت کی مار، والدین کو قصوروار ٹہرائیں جن کے پاس دو وقت کھانا نہیں ہوتا یا حکومت وقت کو، مگر بحرحال بچے بے گناہ مر گئے۔ المیہ یہ نہیں کہ غریبوں کی حالت ایسی کیوں ہے۔ غریب، اس ملک میں ایسے ہی رہیں گے، جہاں کرپشن اب لاکھوں میں نہیں اربوں اور کروڑوں میں عام ہے مگر کسی کو کچھ نہیں ہوتا سوائے سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے۔ المیہ یہ حادثہ نہیں، حادثے ہوتے رہتے ہیں، المیہ تو یہ ہے کہ تحصیل صالح پٹ کے ہاسپیٹل میں فرسٹ ایڈ تک کی سہولت نہ ہونے کی وجہ سے زخمیوں کو 60 کلومیٹر دورروہڑی سکھر کے ہسپتالوں تک لے جانا پڑا جس کی باعث بہت دیر ہوگئی۔

صالح پٹ سید خورشید شاہ کا حلقہ ہے، یہاں ان کی زمینیں ہیں۔ ان کا سیاسی ہیڈکواٹر بھی یہ ہی مقام ہے، مگراس علاقے کی تحصیل اسپتال کا یہ حال ہے جو اوپر بیان کیا گیا ہے، یہ ہی ہمارا اصل المیہ ہے۔ نہ اس حادثے کی ذمے داری سالوں سے اس حلقے کے سیاہ و سفید کے مالک بنے ہوئے سید خورشید شاہ پر آتی ہے اور نہ ان بچوں کے والدین کو خورشید شاہ نے کہا کہ اپنی کچی دیوار کی مرمت نہ کریں اور شاید علاقے کے اسپتال کی حالت زار کی ذمے داری بھی سندھ کے محکمہ صحت کےآفیسرز پر آتی اگر یہاں پر کسی بھی محکمے میں ایک خاکروب سے لے کر آفیسر کی نوکری شاہ صاحب کی مرضی کے بغیر کسی کو ملی ہوتی یا کسی کا تبادلہ، پوسٹنگ، ٹھیکہ سید خورشید شاہ صاحب کی مرضی کے بغیر کبھی کیا گیا ہوتا۔

یہ میرا اپنا علاقا ہے اس لئے میں اس سارے ماجرے سے واقف ہوں، یہاں تو سندھ پبلک سروس کمیشن سے آفیسر بھی وہ ہی بنتے ہیں جن کو یہ لوگ چاہتے ہیں۔ میں نے ذہین حقدار نوجوانوں کو انجنیئرنگ کی ڈگریاں لئے رلتے دیکھا ہے اور نا اہل، پڑھے لکھے جاہل یہاں آفیسر بنتے دیکھے ہیں کیونکہ یہی خورشید شاہ صاحب کا حکم تھا۔ یہ لوگ دعویٰ کرتے ہیں کہ انہوں نے ہزاروں لوگوں کو نوکریاں دی ہیں، روزگار سے لگایا ہے یہ درست ہے مگراس میں میرٹ کا قتل عام کرکے حقداروں کو ان کے حق سے محروم کرنا بھی شامل ہے۔ جس کا حساب ان سے یہاں اس ملک کا نظام لیتا ہوا نظر نہیں آرہا مگر قدرت کے قانون کے انصاف کے منتظر شاہ صاحب کےحلقے میں سینکڑوں نوجوان ہیں۔
عمران خان صاحب نئے پاکستان میں ایسے غریبوں کے لئے گھر بنانے کی آپ کو مبارک ہے مگر کاش ان کو نادرا کا فارم بھرنا آ جائے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •