جمہوریت آ چکی ہے، انتخاب کی کیا ضرورت ہے؟


شاید یہی وجہ ہے کہ وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے انتخابات میں تحریک انصاف کی کامیابی کی نوید دیتے ہوئے یہ انکشاف بھی کیا ہے کہ اب مسلم لیگ (ن) میں فارورڈ بلاک بننے والا ہے ۔ اس لئے سیاست میں شریف خاندان کا کوئی کردار باقی نہیں رہے گا۔ یادش بخیر اسمبلیوں میں فارورڈ بلاک صرف اسی وقت بنتے ہیں جب قومی مفادات کو اندیشہ لاحق ہو اور دھاندلی کے شور میں انتخابات کو شفاف قرار دینا مقصود ہو۔ اس طرح دھاندلی کی شکایات کا کوئی نتیجہ نکلے یا نہ نکلے لیکن اس قسم کی ’شرارت‘ کرنے والے سیاست دانوں کو سزا دے کر یہ بتانا ضروری ہوجاتا ہے کہ شفافیت کو چیلنج کرنے سے ملک کا نظام نہیں چل سکتا۔ اقتدار کا حصہ مانگنے سے نہیں بلکہ حسب ضرورت فراہم ہو تا ہے۔ شہباز شریف اگر نواز شریف کی مقبولیت کا فائدہ اٹھا کر ضمنی انتخاب کے نتیجہ میں نظام کے خلاف کسی ’بغاوت‘ کی بنیاد رکھنے کا شوق رکھتے ہیں تو ان کے لئے بہتر ہے کہ وہ نیب کے ریسٹ ہاؤس میں آرام کر لیں تاکہ سمجھ سکیں کہ ایسا انقلاب ان کے بس کی بات نہیں ہے۔ وہ صرف وہی کردار ادا کریں جو انہیں تفویض کیا گیا ہے ۔ اب پنجاب کو ان کی خدمات کی ضرورت نہیں ہے۔ جیسا کہ وزیر اطلاعات نے بتا دیا ہے آج کے ضمنی انتخاب میں اس امر کی تصدیق بھی ہو جائے گی۔

وزیر خزانہ عوام کو متنبہ کر رہے ہیں کہ مشکل وقت آنے والا ہے ، وہ اس کی تیاری کرلیں۔ یہ انتباہ طوفان میں گھرے ایسے لوگوں کو اپنی حفاظت خود کرنے کے مشورے جیسا ہے جن کے پاس نہ کوئی ناؤ ہے اور نہ ہی حد نگاہ تک کوئی پہاڑی یا اونچائی دکھائی دیتی ہے جہاں پہنچنے کی امید میں وہ طوفان کا مقابلہ کرتے ہوئے آگے بڑھ سکیں۔ دنیا کی سپر پاور پاکستان کے جگری چین کے فراہم کردہ قرضوں کو اس کے مسائل کی جڑ قرار دے رہی ہے لیکن وزیر خزانہ کو اس سے اتفاق نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سب کچھ شفافیت پر مبنی ہے ۔ چین نے تو رعائیتی قرضے دے کر دوستی کا حق ادا کیا ہے۔ اب وزیر اعظم عمران خان اور ان کے مالی مشیر ان معاملات کو خالصتاً سابقہ حکومت کی نااہلی اور بدعنوانی سمجھ کر اس سے باہر نکلنے کا اعلان کرتے ہیں تو عام آدمی کو تو یہ بات مان ہی لینی چاہئے۔ لیکن دنیا کے سیاسی تجزیہ نگار اس سادہ توضیح کو ماننے سے انکار کرتے ہوئے اس کے سیاسی اور سفارتی پہلو تلاش کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ امریکہ سے پاکستان کے اختلافات کو دہشت گردی کے خلاف کامیاب جنگ کی ’خامیوں‘ سے جوڑا جاتا ہے اور بھارت کے ساتھ تعلقات کے بگاڑ میں مقبوضہ کشمیر میں چہیتوں کی سرپرستی کا سراغ لگانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ دیکھتے ہیں وزیر خزانہ کب تک عوام پر ٹیکس لگا کر اور عبوری قرضے لے کر بھیانک حقائق کو عوام کی نگاہوں سے اوجھل رکھ سکتے ہیں۔

عمران خان نے اقتدار سنبھالتے ہی اوور سیز پاکستانیوں سے اپیل کی تھی کی ’ ڈیم فنڈ ‘ میں کم از کم ایک ہزار ڈالر فی کس جمع کروائیں۔ اس کی تفصیل تو سامنے نہیں آئی لیکن اوورسیز پاکستانیوں کو بہت رد و کد کے بعد ووٹ دینے کا جو حق دیا گیا ہے اب اس پر عمل شروع ہو چکا ہے۔ سب تارک وطن پاکستانیوں کو خبر ہو کہ الیکشن کمیشن نے بیرون ملک 7 لاکھ 90 ہزار ووٹ کے مستحق لوگوں کی رجسٹریشن کا نیک کام اس تیز رفتاری سے پورا کیا ہے کہ آج کے ضمنی انتخاب میں7419 تارکین وطن ووٹ کا حق استعمال کرسکیں گے۔ یہ انقلابی تبدیلی چیف جسٹس کی بنیادی حقوق کی پاسبانی اور وزیر اعظم عمران خان کی اوور سیز پاکستانیوں سے محبت کے نتیجہ میں ہی ممکن ہو سکی ہے۔ اب اسد عمر آئی ایم ایف سے قرض لے کر ملک کا خزانہ بھرنا چاہتے ہیں اور ساتھ ہی یہ بھی بتا رہے ہیں کہ پاکستان تو اس کھیل کا پرانا کھلاڑی ہے ۔ اب تک ڈیڑھ درجن بار آئی ایم ایف کے پیکیج لے چکا ہے اس لئے پریشانی کوئی بات نہیں ہے۔

حیرانی کی البتہ یہ بات ہے کہ جب ملک کی درآمدات کا بل برآمدات سے تین گنا ہو گا اور تارکین وطن کی ترسیلات ملا کر بھی خسارہ بیس سے تیس ارب ڈالر تک پہنچے گا تو اس کی قیمت مہنگائی اور سہولتوں سے محرومی کی صورت میں عام آدمی کو ادا نہیں کرنا پڑے گی تو کون دے گا۔ سرمایہ دار ٹیکس نہیں دیتا۔ وہ اگر روزگار پیدا کرنے کا کام کرتا ہے تو حکومت ڈرا ڈرا کر اس کا خون خشک کرنے میں پرجوش ہے۔ ایک دوست ملک نے سرمایہ کاری کی تھی لیکن اپنے پرائے سب اس پر شبہ کا اظہار کرتے ہیں کیوں کہ معاملات کے بیچ بیٹھے لوگ سچ بولنے پر آمادہ نہیں ہیں۔

اب رہی جمہوریت تو اس کا فیصلہ تو 25 جولائی کے انتخابات اور اس کے لئے کی جانے والی تیاریوں سے ہی ہو گیا تھا۔ ان تیاریوں کا پانسہ پلٹنے کے لئے ’ووٹ کو عزت دو‘ اور حکمرانی کا حق عوام کو واپس کیا جائے کے نعروں کو لوگوں نے سینے سے ضرور لگایا تھا لیکن کون ہے جو اس تحریک کو آگے لے کر چلے۔ ڈیل اور مفاہمت کی باتیں سرگوشیوں اور کانوں سے ہوتی اب خبروں اور شبہات میں تبدیل ہونے لگی ہیں۔ خاموشی کا سناٹا خوف کی صورت اختیار کرنے لگا ہے۔ ایسے میں انتخاب کی زحمت لاحاصل مشق دکھائی دیتی ہے۔ ملک میں جمہوریت تو آ ہی چکی ہے۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 3148 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali