خراشیں
’’مجھے نیلی آ نکھیں بہت پسند ہیں۔میرا دل کرتا ہے کہ اگر اﷲ میاں نے مجھے چوائس دی ہوتی تو میں انہیں کہتا کہ مجھے نیلی آنکھیں عطا کر دیں۔ ان میں جادو ہے، سر تا پا سرور ہے۔‘‘ ہاں اس نے اک بار ایسے ہی کہا تھا۔
وہ سراپا خراش تھا؛ جسم پہ جیسے کسی نے نوکیلا آہنی کنگا پھیر دیا ہو۔ وہ نحیف بوڑھا نہیں تھا کہ جھریوں نے بسیرا کیا ہوتا بلکہ وہ تو بمشکل چودہ پندرہ سال کا درمیانی صفت کا ٹین ایجر تھا۔ میرے علم میں کوئی بھی ایسی بات نہیں تھی کہ جس سے گماں گزرے کہ کسی جِلدی بیماری کے سبب خراشیں اس کے جسم و جاں سے آرپار تھیں۔ خدا شاہد تھا کہ اس وقت وہ موت سے سامنا کرنے سے رتی بھر بھی کترا نہیں رہا تھا۔ وہ خوف ناک حد تک بدنما لگ رہا تھا۔
یہ سبھی کچھ مجھے اچانک کئی برس بیت جانے کے بعد یاد آیا۔ اس یاد کی تازگی کی اصل وجہ الاؤ تھی۔ دراصل اک دوست کے ساتھ بسلسلہ ویلاگنگ ہم’ بیٹس مین بے ‘تک چلے گئے تھے۔ دیکھا جائے تو آدھی رات اس طرف تھی تو آدھی رات اس طرف۔ اس سمے وہ رات کے وژ ن سے ستاروں کو فلم بند کر رہا تھا۔ جب کے میں اپنے خیالوں میں گم الاؤ پہ ہاتھ تاپ رہا تھا۔ یہی الاؤ مجھے ماضی کے الاؤ میں لے گیا۔
مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ اسے الاؤ کے سامنے لٹا دیا گیا تھا۔ جیسے جیسے شام اپنے پر پھیلا رہی تھی تو وادی میں حرکت کرنا مشکل تر ہوتا جا رہا تھا۔ آگ کی روشنی سے اس کا سارا چہرہ لال پیلا ہوا جاتا اور کسی حد تک دہلا دینے والا بھی۔میر ا دل چاہا کہ اسے اپنے سینے سے بھینچ دوں اور اجل کے سفیر کو کچھ وقت روک دوں۔ وہ میرا بہت اچھا دوست تھا اور ابھی ہم نے مل کر بہت سے منصوبہ جات مرتب کرنے تھے۔ بہت سی بہاروں کو مل کر یادوں میں رنگ رنگنا ہے۔ اسے جلدی سے نیم کوسا اور نمک میں حلول شدہ پانی پلایا گیا تھا۔
اس کا نام شامیر پر پیار سے شامو کہتے تھے۔ ہمارے مزاج اور شوق میں کہیں بھی کچھ مشترک نہ تھا۔ اسے سائیکل چلانے کا ہر دم بھوت سوار رہتا۔ دُپہر کا خم ٹوٹتے ہی وہ اپنی سائیکل نکال لاتا اور جا بجا چکر لگاتا رہتا۔ کھیلنے کے میدان اس کا مرکزی ٹریک ہوتے۔ اسے آپ کسی حد تک چھچھورا بھی کہہ سکتے ہیں۔ وہ جیسے ہی میدان میں پہنچتا تو ون ویلنگ سے سبھی حضرات کی توجہ حاصل کر لیتا۔میں نے بھی پہلی بار اسے اک پہیا پہ دیکھا تھا۔ میں اسٹرائیک پہ بلے بازی کر رہاتھا۔ چاہیے تو یہ تھا کہ سبھی تماشائی میری بلے بازی کی طرف توجہ کرتے مگر کسی نے اچانک آواز لگائی:
’’وہ دیکھو! شامو ویلنگ کر رہا ہے۔‘‘
اک دوسرے نے کہا:
’’چھوٹی سی عمر اور کیا شاندار۔۔۔ اسٹائل دیکھو اس کا۔۔۔‘‘
مجھے شامو پہ بڑا غصہ آیا کہ گیند بازی کرنے والا بھی دم بخود شامو کو دیکھ رہا تھا۔ کچھ ہی ثانیوں میں اس کی سائیکل نظر سے اوجھل ہو گئی مگر وہ چند لمحے اس کا اولین تعارف تھے۔
یہ انہی دنوں کی بات ہو گی۔ ہم کرکٹ کھیل چکے تھے۔ میدان تقریبا خالی ہو چکا تھا۔ میں وکٹوں کے سامنے اک نیم خستہ اور درمیانے سائز کی دیوار پہ بیٹھا گیند پہ ٹیپ چڑھا رہا تھا۔ وہ میرے سامنے سے سائیکل گھماتا نکل پڑا۔ کچھ لمحے کو نظر ملی مگر دونوں نے کچھ کہنا ضروری نہ سمجھا۔ اس کی نظر اسٹیرنگ ہینڈل پہ جب کہ میرا ہاتھ گول گول چکر کاٹتا زمین کے جیسی گیند کو سفید کرتا جا رہا تھا۔ اسی دوران کہیں سے مشین کے چلنے کی آواز سنائی دی۔ یہ آواز بہت دور تک مسلسل پھیلتی گئی۔ ہم دونوں نے اپنی اپنی نظریں آواز کی سمت کر دیں۔ کھڑ کھڑ اتی مشین قریبی کالونی سے آ رہی تھی۔
پرتجسس ہم دونوں ہی اس آواز کو قریب سے دیکھنے چل دیئے۔ جیسے جیسے میں قریب پہنچتا گیا یوں لگا کہ جیسے کسی دلدل پہ چل رہا ہوں۔ نہیں، یہ میرا خیال ہو گا، ایسا کیسا ہو سکتا ہے۔ میری اردو کی کتاب میں تو اتنا اچھا سبق لکھا ہوا ہے۔ ہم لوگ بالکل برے نہیں ہو سکتے۔ مجھے قریب سے دیکھنا چاہیے۔ آکسفورڈ کے کورس میں لکھا تھا کہ جو چیزیں جتنے فاصلہ پہ ہوں، مدہم اور معمولی معلوم ہوتی ہیں۔ آپ جتنا قریب جاؤ، سچائی واضح تر ہوتی جاتی ہے۔ یہی اردو انگریزی کی کھینچا تانی کے دوران میں مشین کے قریب پہنچ گیا۔
ہم قریب پہنچے تو یہ عقدہ کھلا کہ کالونی کا مرکزی درخت کاٹا جا رہا تھا۔ بجلی سے چلتے آرا سے گھنٹوں کا کام منٹوں میں نمٹانے کی کوشش کی جا رہی تھی۔ مذکورہ درخت پہ کوئی تین درجن گھونسلے بنے ہوئے تھے۔ اتنا پرندوں سے آباد درخت میں نے نہیں دیکھا تھا۔ ہر سو پرندے ہی پرندے ہوتے؛ خاص طور پہ جب مغرب کی اذانیں ہوتیں تو اسی میں ان کی چہچاہٹ کا اورکیسٹرا شامل ہو جاتا ہے۔ اذان کے پسِ منظر ہی میں کہیں وہ ڈوبان ڈوب جاتا تھا۔ اک رومانس بھری شام رفتہ رفتہ پہاڑوں سے اس پار چلے چلتی۔
ہم دونوں گردنیں اونچی کیے اس پار دیکھنا چاہ رہے تھے مگر واضح نظر نہیں آ رہا تھا۔ پھر کچھ ہی منٹوں بعد قریبی قبرستان کی پکی دیوار پہ چڑھ کر اس پار دیکھنے کے قابل ہو چکے تھے۔ درخت لرز اٹھا تھا۔ پرندوں کے غول کے غول درخت کے آس پاس دائرے کی شکل میں چکر کاٹ رہے تھے۔ اک عجیب سا کہرام مچ چکا تھا۔
’’یہ اچھا نہیں کر رہے۔ ابھی تو وہ پرندے دن بھر کی محنت کے بعد گھر لوٹے ہیں۔ ابھی تو بچوں کی چونچوں میں کھانا جانا ہے۔‘‘ میں نے دفعتہ کہا تو شامیر کی آواز جوابا سنائی دی:
ؔ’’ اتنے سارے پرندے اور ان کے گھر، یہ رات کہاں گزاریں گے؟‘‘
’’شاید قریب کے درختوں سے کچھ پرندے رات کو جگہ دے لیں اور پھر۔۔۔‘‘
ابھی میں جملہ مکمل نہیں کر پایا تھا کہ شامیر نے حیرانی سے کہا:
’’ارے وہ دیکھو! چار گھونسلے اک ہی شاخ سے نیچے آ رہے ہیں۔‘‘
درخت اب نیم ٹیڑھا ہوا جاتا تھا۔
ہم دونوں نے چھلانگیں لگائیں کے ان گھونسلوں کو زمین پہ ریزہ ریزہ ہونے سے پہلے اچک لیں مگر کسی کی بھاری کم آواز نے ہمیں روک دیا۔
’’آگے مت جانا۔ درخت میدان کی طرف ہی گر رہا ہے۔ پیچھے ہٹ جاؤ۔‘‘
ہمیں چار نا چار پیچھے ہٹنا پڑا۔
اس رات کالونی کے آس پاس شورش بھری کیفیت رہی۔ اندھیرے کی دبیز چادر میں بھی پرندوں نے اپنے اکلوتے گھر کو بکھرتے دیکھا۔ شہر آشوب کے مانند، وہ سبھی مرثیہ خوانی میں گم معلوم ہوتے۔
یہ وہی شام تھی کہ قبرستان کی گیلی مٹی پہ میں نے اپنے قدم اس کے نقشِ پا پہ ثبت کیے تھے۔ اک اداسی کی گہری کوکھ سے جیسے دھواں اس ساری وادی میں بھر چکا ہو۔ بہت سے انڈے، نومولود پرندے، کٹی شاخیں اور بہت سی بربادی۔ اس رات ہم دونوں میں اک مشترک خوبی نے بیک وقت جنم لیا تھا۔ ہم دونوں کو پرندوں سے انتہا کی انس ہو چلی تھی۔
رفتہ رفتہ ہماری دوستی کے چرچے ہمارے جاننے والوں کے دائروں میں تیرنے لگے۔ اسے کرکٹ کھیلنا بالکل نہیں آتا تھی مگر میری دیکھا دیکھی وہ اک اچھا وکٹ کیپر بنتا جا رہا تھا۔ مجھے سائیکل پہ چڑھنے سے خوف محسوس ہوتا مگر اس نے یہ سارا خوف اک ہی دن میں ختم کر ڈالا۔ ہوا یوں کہ اس نے مجھے جیسے تیسے کر کے سائیکل پہ بٹھایا۔ہم عمر ہونے کے باوجود پیڈل تک پاؤں بمشکل پہنچ پاتے، چونکہ اس کا قد و کاٹھ مجھ سے بڑا تھا۔ مجھے بٹھا کر اتنا کہا:
’’ہینڈل نہ چھوڑنا اور پیڈل دبائے جانا‘‘ اور بس دھکا دیا۔
میں اس کی باتوں پہ من و عن ایمان لائے پیڈل پہ پیڈل دباتا گیا اور سائیکل کی رفتار بڑھتی چلی گئی۔ مجھے خوف نے آ لیا کہ اب کیسے اس رفتار کو روکا جائے۔ کیسے اس ہوائی گھوڑے سے بچا جائے۔ رفتار ناقابلِ یقین حد تک تیز ہوتی گئی۔ سامنے دین محمد چچا کے جانوروں کا چارا پڑا ہوا تھا اور اچھا خاصا گھاس پھوس کا ڈھیر بنا ہوا تھا۔ میں سیدھا جا کر اس میں گھس گیا۔ میری حالت کسی سرکس کے مداری جیسی تھی۔ سائیکل ابھی بھی ہوا میں چکرا رہی تھی جب کہ میرا سر گھاس کے اندر فٹ بھرگھس چکا تھا۔ مشاہدہ کرنے پہ یوں معلوم ہوتا کہ جیسے کسی نے غلطی سے گھاس کو تیراکی کا پول سمجھ لیا ہو اور غوطہ لگانے کی با قاعدہ پوزیشن میں کسی نے پاز لگا رکھا ہو۔
اتنے میں مجھے کہیں دور سے زور زور سے ہنسنے کی آواز سنائی دی۔ بالآخر مل کر کچھ اپنے آپ کو کچھ سائیکل کو نکالا۔ سائیکل کا ہینڈل ٹیڑھا ہو چکا تھا، مجھے لگا کہ میں نے شامو کا نقصان کر دیا ہے۔ اس نے دیکھنے کے باوجود ہنسنی کا دورہ جاری رکھا اور ہنستے ہوئے کہتا جاتا:
’’ارے ڈفر! یہ بریک ہے، اس کوبھی دبایا جاتا ہے۔‘‘
‘‘مگر تم نے تو پیڈل کا کہا تھا۔‘‘
میرے کہتے ہی وہ پھر سے ہنسنے لگا۔ وہ اپنی ہی طرز کا اک خوب صورت اور معصوم سوار تھا۔
یہ گرمیوں کی تپتی دُپہر کا قصہ ہے۔ ہم جمعے کی نماز ادا کرنے دریا کنارے آباد وادی کی مرکزی جامع مسجد چل دیے۔ دریا نے وادی کو دو حصوں میں تقسیم کر رکھا تھا۔ اس پار کے لوگ لکڑی کے پل سے مسجد کو پہنچ پاتے۔ ہم دونوں جنوب کی جانب رخ کیے دریا کے بہاؤ کے ساتھ ساتھ خطیب صاحب کا بیان سن رہے تھے۔لکڑی کے پل کے کناروں پہ لوہے کے رسے مسافروں کے بوجھ کو سہار رہے تھے۔ انہیں ہاتھوں میں تھامے دریا دیکھے جاتے۔ کچھ ہی دیر ٹکٹکی سی یوں گماں ہوتا کہ جیسے کسی جہاز رانی پہ بندہ سمندروں سفر کرتا جارہا ہو۔ جیسے پانی پہ یہ پل شمال کواوپر پہاڑی سلسلوں کی اور تیرتا جا رہا ہو۔ بہاؤ کے عین مخالف کی روانگی کے جیسا خوب صورت احساس۔
اچانک شامیر کی آواز نے چونکا دیا: ’’تو پھر تم نے کیا سوچا؟‘‘
میں نے اسے گھورتے ہوئے کہا۔ ’’کیا مطلب؟کیا سوچا؟ میں سمجھا نہیں تم کیا کہہ رہے ہو۔‘‘
’’یار! تم میرے اسکول میں آجاؤ، پلیز۔ ہم دونوں مل کر ساتھ اک ہی بنچ پہ بیٹھیں گے، مل کر سبق یاد کریں گے۔ میں تمھارے گھر آ کر ہوم ورک کروں ۔۔۔‘‘
’’اور ہم دونوں مل کر چھٹیوں کا کام مکمل کیا کریں گے۔۔‘‘ میں نے اس کا جملہ مکمل کرتے ہوئے کہا۔
’’دیکھو! میں بھی تو یہی چاہتا ہوں۔تم میرے اسکول آ جاؤ۔‘‘
سنتیں شروع ہو چکی تھیں اور ہم دونوں بھی مسجد کی جانب چل دیے تھے، وہ مزید کہنے لگا:
’’آخر ہم میں سے کسی اک نے تو آگے بڑھنا ہے۔ ورنہ ایسے ہی شام کی شام یا جمعے کی نماز کو ملتے رہیں گے اور بس۔‘‘
پھر ا ک دن وہ کہنے لگا:
’’تمھارے لئے اک خوش خبری ہے۔ اک اچھی خبر تمھارے لئے ہے۔ بس تمھیں بتاؤں گا نہیں۔‘‘
’’یہ کیا کہ تم بتا بھی رہے ہو اور نہیں بھی بتا رہے۔ دیکھو! یہ اچھی بات نہیں۔ پلیز! کچھ بتاؤ کہ کون سی اچھی خبر لے کر آئے ہو۔‘‘
پھر منظر بدل چکا تھا۔ ٹوٹی پھوٹی وادی، جا بجا کھلے پانی کے ٹینک، مسمار مساجد، قصبہ بھر میں دھول کے بادل، گھروں کی منہدم عمارتیں، زخمی جانوروں کا بے سمت بھاگے جانا، انسانوں کے ملبے سے کراہنے کی آوازیں، اسکول کے بچے کا رِستا مغز، ہاتھوں کے ختم ہوتے پوٹے، دھول میں چٹے چہرے، پکی چھتوں پہ معمولی بیلچوں سے چھید کرنے کی کوششِ ناتمام کیے جانا۔ جیسے کسی مرثیے کا فیسٹول قصبے میں اپنے اوج پہ ہو۔ لاشوں کی لاشیں ملبے سے نکالی جا رہی تھیں، اجتماعی قبریں تشکیل دی جا رہی تھیں۔ جن میں کئی وارث لاوارث مقامات میں دفن کیے جا رہے تھے۔ پرندوں کی شامِ غریباں کے بعد دکھ و الم کی دوسری بھاری رات میرے سامنے آ چکی تھی۔
ہاں! یہ اسی یوم کی رات کا الاؤ تھا۔ جو مجھے اتنے پیچھے لے جا کر پہنچ چکا تھا۔ میں اٹھ کر شامیر کے پاس گیا۔ اسے اسکول کے ملبے سے نکالتے ہوئے شدید کوفت کا سامنا ہوا تھا۔ اس کا سارا جسم چھت و فرش کے درمیان سے رگیدتا ہوا نکالا گیا تھا۔ لکیریں جا بجا، خراشیں تھیں کہ جسم پہ پھیلی ہوئیں۔ اس کا بھائی اس کا بیگ بھی ساتھ نکال لایا تھا۔
وہ سسک رہا تھا، وہ مرنے کو تھا اور پھر موت نے اسے جالیا۔ اس کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں اور ان میں آگ کی نیلی لکیریں عجیب کیمیائی تاثر دے رہی تھی۔ مجھے یاد آیا اس نے مجھے اک بار کہا تھا کہ اسے نیلی آنکھیں بہت پسند ہیں۔ ہاں، آج اس کی آنکھیں نیلی ہوئی جا رہی تھیں مگر یہ آنکھوں بہت بھیانک معلوم ہو رہا تھیں۔ میں اٹھ کر پیچھے ہٹنے لگا کہ اس کے بیگ میں سے ادھ کھلا اور پھٹا پھٹا سا کاغذ میرا منہ چڑا رہا تھا۔ اس کاغذ پہ اسکول سے رخصتی کا سرٹیفیکیٹ مجھے تار تار دیکھے جا رہا تھا۔
الاؤ بجھ چکا تھا، کچھ نوجوان اسے اٹھا کر زمین کے سپرد کرنے چلے گئے تھے اور میں اٹھ کر اپنے کیمپ کی جانب چل دیا۔


