اب ہم گُم ہوئے اپنے ہی شہر

بچے سکول چھوڑنے کے بعد میں سیدھا گھر لوٹ آئی تھی اور د وپہر چڑھے طلباء کو آن لائن کورسسز کروانے کا سلسلہ شروع ہو چکا تھا۔ یہ ایسی ہی اک عام سے بہاؤ میں بہتی دوپہر کا ذکر تھا۔ گھر میں مکمل تاریکی چھائی ہوئی تھی اور میں اپنے مطالعہ کے کمرے میں بیٹھی نئے سمسٹر کا کورس ُبن رہی تھی۔ آج عام دوپہروں سے ہٹ کرگاڑیوں کا شور بھی کم سننے کو مل رہا تھا۔ کمرہ کیا تھا بس اک پلندہ سا تھا، چاروں اطراف کتابوں کا انبار تھا اور بہت سے ادھورے صفحات منہ چڑا رہے تھے۔

دیواریں تک میرے ہفتہ وار اوقات اور مصروفیات سے بھرے ہوئے تھے۔ اکثر میں ہنس بھی دیتی کہ کوئی جاننے والا میرے اس خاص کمرہ تک پہنچ آیا تو وہ کیا سوچے گا۔ اتنا بکھرا بکھرا سا سامان، چپکنے والا نوٹس دروازے سے ایسے لپٹے تھے کہ جیسے بھاگنے کی حتی الامکان کوشش میں ہوں مگر ناکام رہے۔ دراز ادھ کھلے کچھ کہتے ہوئے جیسے توجہ کے طالب ہوں۔ کمپیوٹر چوبیس گھنٹے آن اور آن لائن بھی رہتا۔

Read more

خراشیں

’’مجھے نیلی آ نکھیں بہت پسند ہیں۔میرا دل کرتا ہے کہ اگر اﷲ میاں نے مجھے چوائس دی ہوتی تو میں انہیں کہتا کہ مجھے نیلی آنکھیں عطا کر دیں۔ ان میں جادو ہے، سر تا پا سرور ہے۔‘‘ ہاں اس نے اک بار ایسے ہی کہا تھا۔ وہ سراپا خراش تھا؛ جسم پہ جیسے…

Read more

اور دریا اپنا کورس بدلتا ہے

کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ وقت کو کسی بند گلی میں جا لوں اور اس پہ وہ سبھی سوالات داغ دوں، جن کا ہمارے عہد کا انسان تاحال تسلی بخش جواب دینے سے رہا۔ شاید اس بند گلی میں اس کو فرار کا موقع میسر نہ ہو، شاید وہ بھی کہیں تھک ہار کے رک…

Read more

رات اور انسان: مبالغہ آرائیاں

رات کی کوکھ سے کتنی ہی صبحوں نے جنم لیا ہو گا، انگنت موسموں نے آبیاری کی ہوگی تو احساسات کی تہہ میں بہتی ندیوں سے لمحے بھی آموجزن ہوئے ہوں گے۔ زندگی کے صدیوں سے طویل سفر میں رات کا اپنا اک کردار ہے اور وہ اپنے موقع و محل کے عین مطابق اپنے…

Read more