بچے سکول چھوڑنے کے بعد میں سیدھا گھر لوٹ آئی تھی اور د وپہر چڑھے طلباء کو آن لائن کورسسز کروانے کا سلسلہ شروع ہو چکا تھا۔ یہ ایسی ہی اک عام سے بہاؤ میں بہتی دوپہر کا ذکر تھا۔ گھر میں مکمل تاریکی چھائی ہوئی تھی اور میں اپنے مطالعہ کے کمرے میں بیٹھی نئے سمسٹر کا کورس ُبن رہی تھی۔ آج عام دوپہروں سے ہٹ کرگاڑیوں کا شور بھی کم سننے کو مل رہا تھا۔ کمرہ کیا تھا بس اک پلندہ سا تھا، چاروں اطراف کتابوں کا انبار تھا اور بہت سے ادھورے صفحات منہ چڑا رہے تھے۔
دیواریں تک میرے ہفتہ وار اوقات اور مصروفیات سے بھرے ہوئے تھے۔ اکثر میں ہنس بھی دیتی کہ کوئی جاننے والا میرے اس خاص کمرہ تک پہنچ آیا تو وہ کیا سوچے گا۔ اتنا بکھرا بکھرا سا سامان، چپکنے والا نوٹس دروازے سے ایسے لپٹے تھے کہ جیسے بھاگنے کی حتی الامکان کوشش میں ہوں مگر ناکام رہے۔ دراز ادھ کھلے کچھ کہتے ہوئے جیسے توجہ کے طالب ہوں۔ کمپیوٹر چوبیس گھنٹے آن اور آن لائن بھی رہتا۔
Read more