واقعی خدا کوئی نہیں ہے؟

کتاب کا سرِ ورق اپنے ساتھ ایک بڑا سوال لے کر حاضرِ خدمت ہوا ہے۔ نبیل حیدر کی صنف نظم پہ مبنی کتاب ’خدا کوئی نہیں ہے‘ ہمیں بہت سارے اٹھتے مسائل پہ خاموشی سے غور و فکر کرنے پہ مجبور کرتی ہے۔ مجھے اس کتاب کو دیکھتے ہی ہالی ووڈ کی ایک شاندار فلم Blood Diamond یاد آنے لگی ہے۔ یہ فلم افریقہ کے اک غیر معروف ملک سیرالیون میں پیش آنے والے حقیقی واقعات پہ مبنی ہے۔ فلم

Read more

کیا فرائیڈ کو ازسرِ نو پڑھنے کا وقت آ گیا ہے؟

سگمنڈ فرائیڈ گزشتہ صدی کے چند ایسے انسانوں میں سے ہیں۔ جنہوں نے علمِ نفسیات، سینما اور ادب پہ گہری چھاپ چھوڑی ہے۔ بالخصوص نفسیات کے شعبہ میں ان کے ذکر کے بغیر مضمون کا تعارف ادھورا معلوم ہوتا ہے۔ انہوں نے ایک مشہور تھیوری یعنی نفسیاتی تجزیہ Psychoanalysis کی بنیاد رکھی۔ میں نے اپنے ادبی سفر اور سکول و کالجز میں درس و تدریس کی زندگی میں محسوس کیا ہے کہ مذکورہ تھیوری کو اک باقاعدہ علم کے طور

Read more

کیا آپ اقبال حسن آزاد کو جانتے ہیں؟

میرے قارئین کو بخوبی اندازہ ہو گا کہ میں آج کے اہم ادیبوں کو سامنے لانے میں مگن رہتا ہوں۔ ہاں کبھی کبھار نوخیز لکھاریوں کے کام کو بھی ہائی لائیٹ کرنا اپنی ذمہ داری سمجھتا ہوں۔ مگر اس مضمون میں اردو کے ایک اہم افسانہ نگار کا شخصی و ادبی و پروفیشنل تعارف کروانے کی سعی کر رہا ہوں۔ جس سے ادب کے طلباء کو اس ادبی آواز کو سمجھنے میں مدد ملے گی۔ اقبال حسن آزاد 26 جنوری

Read more

اک گوشہ نشیں لکھاری پہ تحقیق

مجھے ہمیشہ سے نت نئے لکھاریوں کا کھوج لگانے کا شوق رہتا ہے۔ بالخصوص اردو ادب کے ایسے رائٹرز جو نمایاں لکھ رہے ہیں مگر ان پہ لکھا کم جا رہا ہے۔ یا ایسے تخلیق کار جن کے کام کو پڑھتے ہوئے جینوئن اردو ادیبوں کا سا احساس ملتا ہے۔ کچھ ایسا ہی معاملہ صوفیہ کاشف کا ہے۔ جو خاموشی سے اپنے کام میں مگن معلوم ہوتی ہیں۔ وہ مختلف اخبارات و آن لائن پلیٹ فارمز پہ فکشن و نان

Read more

میٹھے اور ترش خیالات کی ابھرتی ہوئی شاعرہ کتاب: بہتی نظموں کے کنارے

تبصرہ نگار: بلال مختار مجھے اک عرصہ سے اشتیاق تھا کہ جو نوجوان شاعرہ صدف شاہد ہیں یہ باقاعدہ کیسا لکھتی ہوں گی۔ پنجاب کی تحصیل و ضلع نارووال سے تعلق رکھنے والی نوجوان شاعرہ کی کئی نظمیں جابجا ورچوئل دنیا میں پڑھنے کو ملتی رہی ہیں۔ مگر چوں کہ یہ اک کتابی صورت میسر نہ تھیں تو چند نظموں کو پڑھ کر رائے دینا ادبی دیانت داری کے دائرے سے باہر معلوم ہوتا تھا۔ حال ہی میں ان کی

Read more

آخر مرزا صاحب نے کون سا چاند دیکھا؟

  طارق محمود مرزا کی کتاب میرے ہاتھوں میں ہے۔ جسے انہوں نے ’ملکوں ملکوں دیکھا چاند‘ کا نام دیا ہے۔ یہ بنیادی طور پہ اک سفرنامہ ہے جو انہوں نے چند ممالک یعنی ڈنمارک، سویڈن، ناروے اور قطر کے لینڈ اسکیپ پہ لکھا ہے۔ مرزا صاحب کا ادب بالخصوص سفرنامے کی دنیا میں یہ پہلا قدم نہیں ہے بلکہ اس سے پہلے وہ سفرِ عشق، تلاشِ راہ، خوشبو کا سفر اور دنیا رنگ رنگیلی لکھ چکے ہیں۔ ہم سفر

Read more

شہزاد نئیر کی دفعہ نمبر 144

سڈنی سے شاہد صاحب کے توسط سے شہزاد نئیر صاحب کی تازہ کتاب ’کہانی چل رہی ہے‘ موصول ہوئی تو دل ہشاش بشاش ہو گیا۔ میں نے اپنے کمرے کے اس طرف کتاب کو رکھا ہے جہاں فجر ٹائم مجھے کوئل عموماً جگاتی ہے۔ آج ہلکی ہلکی بارش کے امکانات ہیں اور شہر میں بادلوں نے بسیرا کر رکھا ہے تو کتاب کو کھولا اور پڑھنے لگا۔ کتاب میں 144 مائکروف ہیں اور انہیں پڑھ کر لگتا ہے کہ جیسے

Read more

اس کتاب کو شاملِ نصاب کریں

کتاب تبصرہ: یہ جو چین کو علم سے نسبت ہے (تسنیم جعفری) تسنیم جعفری سے میرا اولین تعارف اک ایسی سینئر لکھاری کے طور پہ ہوا تھا۔ جو اپنے جونئیرز کی دل کھول کے حوصلہ افزائی بھی کرتی ہیں۔ وہیں اسپیس بھی دیتی ہوئی محسوس ہوتی ہیں جو کہ سینئرز کے اندر اک خوش آیند امر ہے۔ گزشتہ ہفتے مجھے ان کی کتاب خریدنے اور باریکی سے پڑھنے کا موقع ملا۔ یہ چین پہ لکھا گیا اک سفر نامہ ہے۔

Read more

کیا ہم علی اکبر ناطق کو پڑھنا چھوڑ دیں؟

درج بالا عنوان پہ شروع ہونے والی بحث دلچسپ ہے۔ اس پہ گزشتہ کچھ ہفتوں سے ہر کوئی اپنے خیالات کا ببانگ دہل اظہار کر رہا ہے۔ معاملہ کچھ یوں ہے کہ اردو ناول نگار علی اکبر ناطق نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پہ اپنی نئی آنے وال کتاب سے متعلق لکھا کہ اگر میرے دوست اسے نہیں خریدیں گے تو میں انہیں ان فرینڈ کر دوں گا۔ دوسری طرف خلیل الرحمان قمر کو ہنی ٹریپ کر کے جس طرح

Read more

وہ ہے مہنگائی میں مشکل سے کمایا ہوا شخص

کالم نگار: بلال مختار (آسٹریلیا) کیٹگری: کتاب تبصرہ تجسس بھی انسان کو کہاں سے کہاں پہنچا دیتا ہے۔ یہ میرے ادبی تجسس کی کارستانی ہے۔ جس سبب میں اک اہم ادیب سے جا ملا۔ احباب! ماجرا اک وائرل ویڈیو سے شروع ہوتا ہے۔ کلپ میں ہلکے سانولے، جنٹل مین تراش خراش کے ساتھ نظر کی عینک پہنے اک شاعر تھے۔ وہ لہک لہک کر اپنی شاعری سامعین کو سنا رہے تھے۔ پھر انہوں نے اک شعر کہا تو سکرین کے

Read more

میں محبت سے مارا جاؤں گا

مجھے کتب بینی کرتے ہوئے بیس سال سے اوپر ہو چکے ہیں۔ فلسفہ، نفسیات، ادب، تاریخ اور دیگر اہم فکری موضوعات پہ جب بھی کوئی کتاب پڑھنے کے واسطے منتخب کرتا ہوں تو کتاب کے کور سے بھی پہلے کتاب کے عنوان کو زیادہ اہمیت دیتا ہوں۔ بطور مصنف و قاری میری نظر میں کسی بھی کتاب کو چند الفاظ یا کسی جملہ میں سمیٹنا اک کٹھن کام ہے۔ بہرطور سڈنی سے تعلق رکھنے والے شاعر ارشد سعید کی کتاب

Read more

کالم: کالرج کے قبلائی خان سے بسمل کے رہتل تک

جن دِنوں میں ادب و تاریخ میں ماسٹرز کر رہا تھا تب ہمارے استادِ محترم نے اک خاص نکتہ بتایا وہ فرمانے لگے : ”بلال بیٹا! تاریخ میں اہم واقعات ہوتے رہے ہیں۔ ہم ’ارمیسو پوٹیمیا‘ سے ادبی تاریخ کا آغاز اسی سبب کرتے ہیں کہ وہاں پہ ہمیں اولین تاریخی شواہد ملے۔ ثبوت کی اہمیت جتنی قانون میں ہے وہی اہمیت ادب و تاریخ میں بھی موجود ہے۔ ہم کئی صدیوں پہلے اسکندریہ کی جلائی اور دریا بُرد کی

Read more

نام سے امکان تک

مجھ سے اکثر سوال پوچھا جاتا ہے کہ اردو ادب کی موجودہ دور میں کیا صورتحال ہے۔ماضی میں جھانک کر دیکھتے ہیں تو اک طویل بہترین نظم و نثر لکھنے والے کی قطار ملتی ہے۔بہترین افسانہ نگاروں سے لے کر آزاد نظموں اور غزل لکھنے والوں کا تانتا بندھا ہوا ہے۔ سوشل میڈیا اور ٹیکنالوجی کے آنے سے کیا لکھنے والے کم ہو گئے ہیں؟ اور اس سے بھی اہم سوال کہ اچھے لکھنے والوں کی تعداد کتنی ہے؟ کیا

Read more

آجڑی کی خوشبو دار مٹی

ریویو۔ کتاب: آجڑی بچپن میں اک واقعہ پڑھا تھا۔ جس میں خوشحال خان خٹک سے کسی نے پوچھا کہ آپ کے ہاتھ کالے کیوں ہیں؟ حالاں کہ آپ نیک عمل کرتے ہیں لوگوں کی خیر چاہتے ہیں۔ انہوں نے جواباً بتایا: ” دنیا میں خیر بانٹتے ہوئے خون پسینہ اور دھول کے سبب ہاتھ میلے ہو جاتے ہیں۔ اسی سبب جن کے ہاتھ کالے ہوتے ان کے دل پرنور ہوتے ہیں۔ ان سے خدا خوش ہوتا ہے۔“ اس واقعہ میں کتنی

Read more

قیمتی لوگ، قیمتی کتابیں

ہمارے گاؤں میں اک جلد بندی کرنے والا بوڑھے چچا ہوا کرتے تھے۔ رشتہ داری کے سبب ہمارے قریبی مراسم بھی رہے۔ باباجان سے محبت و احترام کا رشتہ بھی تھا۔ نحیف و کمزور ہونے کے باوجود کتابوں کے بہترین ڈاکٹر مانے جاتے تھے۔ آواز اتنی مدہم ہوتی تھی کہ دھیان سے کان لگا کر سننا پڑتا تھا۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب نیا تعلیمی سال شروع ہو رہا تھا۔ اور ان کی دکان اور گھر دونوں جگہوں

Read more

اب ہم گُم ہوئے اپنے ہی شہر

بچے سکول چھوڑنے کے بعد میں سیدھا گھر لوٹ آئی تھی اور د وپہر چڑھے طلباء کو آن لائن کورسسز کروانے کا سلسلہ شروع ہو چکا تھا۔ یہ ایسی ہی اک عام سے بہاؤ میں بہتی دوپہر کا ذکر تھا۔ گھر میں مکمل تاریکی چھائی ہوئی تھی اور میں اپنے مطالعہ کے کمرے میں بیٹھی نئے سمسٹر کا کورس ُبن رہی تھی۔ آج عام دوپہروں سے ہٹ کرگاڑیوں کا شور بھی کم سننے کو مل رہا تھا۔ کمرہ کیا تھا بس اک پلندہ سا تھا، چاروں اطراف کتابوں کا انبار تھا اور بہت سے ادھورے صفحات منہ چڑا رہے تھے۔

دیواریں تک میرے ہفتہ وار اوقات اور مصروفیات سے بھرے ہوئے تھے۔ اکثر میں ہنس بھی دیتی کہ کوئی جاننے والا میرے اس خاص کمرہ تک پہنچ آیا تو وہ کیا سوچے گا۔ اتنا بکھرا بکھرا سا سامان، چپکنے والا نوٹس دروازے سے ایسے لپٹے تھے کہ جیسے بھاگنے کی حتی الامکان کوشش میں ہوں مگر ناکام رہے۔ دراز ادھ کھلے کچھ کہتے ہوئے جیسے توجہ کے طالب ہوں۔ کمپیوٹر چوبیس گھنٹے آن اور آن لائن بھی رہتا۔

Read more

خراشیں

’’مجھے نیلی آ نکھیں بہت پسند ہیں۔میرا دل کرتا ہے کہ اگر اﷲ میاں نے مجھے چوائس دی ہوتی تو میں انہیں کہتا کہ مجھے نیلی آنکھیں عطا کر دیں۔ ان میں جادو ہے، سر تا پا سرور ہے۔‘‘ ہاں اس نے اک بار ایسے ہی کہا تھا۔ وہ سراپا خراش تھا؛ جسم پہ جیسے کسی نے نوکیلا آہنی کنگا پھیر دیا ہو۔ وہ نحیف بوڑھا نہیں تھا کہ جھریوں نے بسیرا کیا ہوتا بلکہ وہ تو بمشکل چودہ پندرہ

Read more

اور دریا اپنا کورس بدلتا ہے

کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ وقت کو کسی بند گلی میں جا لوں اور اس پہ وہ سبھی سوالات داغ دوں، جن کا ہمارے عہد کا انسان تاحال تسلی بخش جواب دینے سے رہا۔ شاید اس بند گلی میں اس کو فرار کا موقع میسر نہ ہو، شاید وہ بھی کہیں تھک ہار کے رک جائے۔ سب سے اول تو ا۔ س سے اس نام پوچھوں، وہ نام جس سے وہ خود کو پہچانتا ہے؛جو اس کیجزئیات اور شخصیت کا

Read more

رات اور انسان: مبالغہ آرائیاں

رات کی کوکھ سے کتنی ہی صبحوں نے جنم لیا ہو گا، انگنت موسموں نے آبیاری کی ہوگی تو احساسات کی تہہ میں بہتی ندیوں سے لمحے بھی آموجزن ہوئے ہوں گے۔ زندگی کے صدیوں سے طویل سفر میں رات کا اپنا اک کردار ہے اور وہ اپنے موقع و محل کے عین مطابق اپنے روپ میں اترتی رہی ہے۔ اس کا کردار کیسے پنپا، اس نے اپنا رول کیسے جمایا اور بقیہ کرداروں پہ کیسے اثرات رہے، آئیں ان

Read more