چترال میں مہم کہ استاد اپنا بچہ گورنمنٹ اسکول میں پڑھائے
تعلیم سب کا بنیادی اور آئینی حق ہے۔ اگر تعلیم معیاری اور ساتھ مفت بھی ہو تو وہ کون ہو سکتا ہے جو اِس بہتریں پیکج سے فائدہ نہ اُٹھا لے۔ دُنیا میں شاید کوئی ایسے والدین ہوسکتے ہیں جو اپنے بچوں کے لئے اچھا اور معیاری تعلیم نہیں چاہتے ہوں۔ گو کہ پانچ سال سے سولہ سال تک، آئین پاکستان کے آرٹیکل پینتیس اے کے تحت، مفت تعلیم دینا ریاست کی ذمہ داری ہے۔
گزشتہ چند دنوں سے چترال میں یہ بحث چھڑ گئی ہے کہ ہر اُستاد اپنا بچہ گورنمنٹ اسکول میں داخل کروائے۔ کیا یہ مناسب اور قابل عمل ہے؟ سوال پھر وہی آ جاتا ہے، چاہے وہ اُستاد ہو یا وزیر، ہر کوئی چاہتا ہے کہ اُس کا بچہ اچھی اور معیاری تعلیم حاصل کرے۔ اِس حوالے سے مشیر تعلیم خیبر پختون خوا ضیا اللہ بنگش اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ میں ’ایک ایسا قانون بنانے کی کوشش کر رہا ہوں کہ سرکاری اساتذہ اور افسران کے بچے لازمی سرکاری اسکولوں میں پڑھیں، تبھی اُن کو درد اور احساس ہو گا۔ کیوں کہ مجھ سمیت یہ سب اس سسٹم کا حصہ ہیں، اِس سسٹم کو سب نے مل کر ٹھیک کرنا ہے۔ سرکاری اسکولوں میں تعلیم کا معیار بہتر کرنا ہے‘۔
اُستاد کو اس بات پر پریشان نہیں ہونا چا ہیے کہ جب قانون آ جاتا ہے، تو سارے سرکاری ملازمین، اُستاد، وزیر، مشیر، سیکرٹری، اور انجنیر کو قانون کے مطابق اپنا بچہ سرکاری اسکول میں داخل کرانا لازمی ہو گا، اور سب کے بچے ایک ساتھ پڑھیں گے۔ اِس بات میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ جب تعلیم کا وزیر، مشیر، سیکرٹری اور اُستا د کا بچہ ایک دوسرے غریب کے بچے کے ساتھ پڑھتا ہے تو ’احساس اور درد‘ سب کو ہو گا، جس کا فائدہ یہ ہو گا کہ گورنمنٹ اسکول پر توجہ ضرور ہو گی۔ اِس کا فائدہ نہ صرف اسکول کا نظام بہتر ہو گا، بلکہ اسکول میں سیکھنے اورسکھانے کا عمل بھی تبدیل ہو سکتا ہے۔ بنگش صاحب کی یہ بات بھی بجا ہے کہ سسٹم کو ٹھیک کرنے کے لئے سب کو، نہ صرف اُستاد، بلکہ والدین، کمیونٹی اور طالب علم کو مل کر کام کرنا ہو گا، تب نظام تعلیم ٹھیک ہو سکتا ہے۔
حکومت کے اِس پالیسی کے حوالے سے اُستاد کیا کہتا ہے۔ ایک اُستاد نے کہا کہ میں اِس پالیسی کی بات ہونے سے پہلے اپنے بیٹے کو پرائمری اسکول بھیج دیا ہے، جو کہ میرے اسکول کے قریب تھا۔ دو دِن اسکول جانے کے بعد اب وہ دوسرے اسکول جانے سے بھی انکار کر رہا ہے۔ ایک دوسرے اُستاد سے پوچھا، کہ آپ خود اُستاد ہیں، اپنے بچے کو گورنمنٹ اسکول کیوں نہیں بھیجتے؟ اُن کا کہنا تھا کہ میں اپنے بچوں کو خود نہیں پڑھاتا ہوں، اور مجھے نہیں لگتا کہ میرا بچہ اُس اسکول میں بہتر تعلیم حاصل کر سکتا ہے۔ ایک اور اُستاد سے جب پوچھا تو اُن کا کہنا تھا کہ گورنمنٹ اسکول کے سسٹم کو ٹھیک کرنا ہے اور اگر سسٹم ٹھیک ہو گا، ہر کوئی اپنا بچہ وہاں پڑھنے کے لئے بھیج دے گا۔ ایک اور اُستاد کایہ کہنا تھا کہ میرا تین سال کا بچہ اکیلا اسکول جا نہیں سکتا، میں خود اپنے ڈیوٹی کے لئے جاتی ہوں اور میرا شوہر اپنے ڈیوٹی پر، اگر گورنمنٹ اسکول کے پاس ٹرانسپورٹ کا نظام ہو تو میں اپنے بچے کو اسکول بھیج سکتی ہوں۔ ایک دوسرے اُستاد کا کہنا تھا کہ دو اُستاد پچاس سے زیادہ بچوں میں میرے بچے کو کیا پڑھا سکتے ہیں، اور میں نہیں چاہتا کہ میرے بچے کا بنیادی تعلیم کم زور ہو۔
سسٹم کو ٹھیک کرنا، مشیر تعلیم بشمول محکمہ تعلیم سے منسلک ہر خاص و عام کو معلوم ہے، کسی مشین یا گاڑی کو ٹھیک کرنے کی طرح نہیں ہے جس میں مالی و انسانی وسائل، تحقیق اور وقت لگتا ہے۔ اگر گاڑی کا ایک ٹائر پنکچر ہو جاتا ہے، اِسے پنکچر یا نیا ٹائر لگا دی جائے، گوکہ اِس میں بھی پیسا اور وقت لگتا ہے، ٹھیک ہو جاتا ہے۔ لیکن اِنسانی مشین خصوصاً سیکھنے اور سیکھانے کے سسٹم کو ٹھیک کرنے کے لئے وسائل اور وقت زیادہ درکار ہوتا ہے! جس طرح تعلیم ایک عمل کا نام ہے، اِسی طرح تعلیمی عمل میں تبدیلی ایک خاص وقت، اور وقت کے ساتھ حکمت عملی، طے کرنے کے بعد آ جاتی ہے۔
خیبر پختون خوا میں تحریک انصاف کی حکومت گزشتہ چھہ سالوں میں ایک سو تیس بلین روپے تعلیم پر خرچ کر چکی ہے، اور تعلیم کو بہتر کرنے کے حوالے سے کافی اقدامات لے چکی ہے؛ جس میں اسکول میں سہولیات اور وسائل میں اضافہ، اسکولوں میں داخلہ زیادہ کرنے اور اساتذہ کی کمی کو پورا کرنے کے حوالے سے خاطر خواہ کام ہو چکا ہے۔ اب معیاری تعلیم کے حوالے سے، اور خصوصاً پرائمری تعلیم پر خصوصی توجہ کی ضرورت ہے۔
گورنمنٹ اسکولوں میں سب سے بنیادی مسئلہ ’بنیادی تعلیم‘ کے حوالے سے ہے جس سے نہ صرف پرائمری اسکولوں میں مقیم اساتذہ کرام بلکہ وہ غریب لوگ جن کے بچے اِن اسکولوں میں پڑھتے ہیں، بہت زیادہ پریشان ہیں۔ دو کمروں پر مشتمل اسکول میں دو اُستاد کس طرح پانچ کلاس پر مشتمل اسکول میں سیکھنے اور سکھانے کے عمل کو یقینی بنا سکتے ہیں؟ اور یہ بھی قابل بحث اور باعث غور مسئلہ ہے کہ ملٹی گریڈ کلاس میں موثر سیکھنے اور سکھانے کا عمل کتنا مفید ہو سکتا ہے، جو کہ دور جدید کے تقاضوں کے مطابق بچوں کے لئے موثر نہیں ہے۔
خیبر پختون خوا ایلمنٹری اینڈ اسیکنڈری ایجوکیشن کا 2015 اور 2016 کے درمیان مرتب ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق، صوبے میں کل 17583 پرائمری اسکول موجود ہیں، جن میں 10348 مردانہ اور 8234 زنانہ اسکول ہیں۔ چترال میں چار سو چوراسی مردانہ اور ایک سو تراسی زنانہ اسکول ہیں، جن میں مجموعی طور پر لڑکوں کے لئے 919 اور لڑکیوں کے لئے چار سو بتیس کمرے موجود ہیں۔ اِن اسکولوں میں ایک استاد کے لئے 43 طالب علم، اور ایک اُستانی کے لئے 22 طالب علموں کا تناسب بن جا تا ہے۔ اِس تناسب سے دیکھا جائے تو ایک پرائمری اسکول میں دو اساتذہ کرام کے لئے چھیاسی طالب علموں کو سنبھالنا اور ساتھ بچوں کو پڑھانا ایک بہت بڑے چیلنچ سے کم نہیں۔
پرائمری اسکولوں میں داخلہ کم ہونے، اور سیکھنے کے عمل میں بچوں کے عدم توجہ کا ایک وجہ بچوں کے لئے اُن چیزوں کی کمی ہے جو بچوں کے لئے پڑھنے میں دل چسپی کا باعث ہوتی ہیں جو بچوں میں اُن کے تخلیقی صلاحیتوں کو سامنے لانے میں مدد دیتی ہیں۔ اسکول میں گرمیوں اور سردیوں کے موسم کے لیے انتظامات، بجلی اور پانی کا انتظام، اسکول جانے اور آنے کا فاصلہ، اور ایک شفیق اور ٹرین اُستاد کا ہونا بینادی اہمیت کا حامل ہے۔ ایک اندازے کے مطابق، حکومت ایک بچے کی تعلیم پر ہر ماہ دو ہزار روپے خرچ کرتی ہے، کیا یہ رقم معیاری تعلیم کے لئے کافی ہے؟ سیکھنے اور سکھانے کے عمل میں سب سے بنیادی چیز نصاب ہے۔ کیا حکومتی اسکولوں میں تعلیمی نصاب دور جدید کے مطابق اور ٹیچر کے بجائے طالب علم کے گرد گھومتی ہے یا نہیں؟ کیا گورنمنٹ اسکولوں میں اساتذہ کرام، جو پرائمری اسکول میں پڑھاتے ہیں، درس و تدریس کے جدید انداز، طریقوں اور فلسفہ تعلیم سے آراستہ ہیں؟ کیا حکومت پرائمری اسکول کے بچوں کے لئے اسکول جانے اور آنے کے لئے ٹرانسپورٹ کا انتظام کرتا ہے؟ کیا سرکاری اسکولوں میں کھیلنے، اور کھیل کر کے سیکھنے کا طریقہ تدریس استعمال ہوتا ہے؟
حکومت سرکاری ملازمیں کے بچوں کو سرکاری اسکولوں میں داخل کروانے کے حوالے سے قانون سازی کرنے سے پہلے پرائمری اسکولوں میں بنیادی سہولیات اور معیاری تعلیم کو یقینی بنانے کے لئے اسکولوں میں کلاس رومز، ہنر مند اساتذہ کرام، اے وی ایڈز، بنیادی سہولیات، اور خاص کر پرائمری اسکولوں کے لئے نصاب پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے، تا کہ سرکاری ملازم کا بچہ بھی سرکاری اسکول میں معیاری تعلیم حاصل کر سکے۔
مجھے نہیں لگتا کہ کوئی بھی سرکاری یا غیر سرکاری ملازم ہو سکتا ہے، جو اپنے بچوں کے لئے حکومت کی طرف سے دی جانے والی مفت اور معیاری تعلیم سے انکار کر سکتا ہے۔ اگر حکومت گورنمنٹ اسکولوں میں انرولمنٹ کو زیادہ کرنے پر توجہ دیتا ہے تو تئیس ملین بچوں کو اسکول میں داخل کرنے پر کام کرے تو تعداد بڑھ سکتی ہے۔ اور انرولمنٹ کو زیادہ کرنے کے لئے اسلام آباد میں بچوں کے لئے مفت ٹرانسپورٹ کا نظام دینا کافی بہتر نتائج لا چکا ہے، اس سے بھی داخلہ زیادہ کیا جا سکتا ہے۔
سرکاری افسران اور اساتذہ کے بچوں کوسرکاری اسکولوں میں داخلے کو لازمی کرنے سے پہلے سرکاری اسکولوں میں بنیادی سہولیات، نصاب، اور تعلیم کے معیار پر پہلے توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے۔


