کنج ہریالی

  اگر ہے بھی یہ گمان تو رہے کہ آدم زاد حسن ظن سے گردوپیش میں کنج زیبائی کا طلبگار ہو کہ جس سے فطرت میں ہریالی اور موج سبزہ مدام ہو۔ بقول جلیل مانک پوری کہ نہ رہے ’باغ میں کوئی جگہ خالی۔ دام سے‘ اور اسی سے باہم اپنی اور فطرت کی آشنائی کم نہ ہو۔ ہر چند یہ امنگ ہے تو رہے گی کہ فطرت سے آشنائی ہو کہ جس سے ہماری حسن دل آزاری نہ ہو

Read more

کھیل ہی کھیل میں

کھلاڑی کو کھیل اور کھیل کو کھلاڑی سے جانا جاتا ہے۔ ہر کھلاڑی اپنا کھیل کھیلنے کی کوشش میں ہوتا ہے۔ اور کھیل کھیل کے میدان میں ہو جاتا ہے اور دیکھا جاتا ہے۔ یہ بھی، بعض اوقات، دیکھنے میں آ جاتا ہے کہ کھیل کا میدان اپنی نوعیت سے ہٹ کر استعاراتی جنگ کا میدان بن جاتی ہے۔ جب کھیل کھیل سے نکل کر استعاراتی جنگ کی شکل اختیار کر لیتی ہے تو یہ جنگی کھیل ہو جاتی ہے

Read more

دھند کی بو

دسمبر کا مہینہ تھا روزانہ کی طرح کام سے فارغ ہو کر ہوٹل کے کونے اس چھوٹے کمرے میں بیٹھ کر چائے پی رہے تھے کہ دھند اور اندھیرا سا چھانے لگا۔ دن کے وقت اس طرح تاریکی تو ہو نہیں جاتا، آخر وجہ کیا ہے، یہ کہہ کر سعد چائے کی پیالی میز پر رکھی۔ خادم اس سے پہلے اپنے حصے کا چائے پی چکا تھا اور یہ دیکھ کر حیرت میں طاری ہو چکا تھا۔ سعد نے جب

Read more

پانی دھرتی کا دودھ

اقوام متحدہ کے ایک ذیلی تنظیم کا دنیا میں پانی کے بحران کے حوالے سے رپورٹ قابل غور اور تشویشناک ہے۔ وہ علاقے اور ممالک جہاں موسمیاتی تبدیلی سے جو بھی حالات ہو چکے ہیں اور رونما ہو رہے ہیں جس میں مزید شدت آنے کی پیشن گوئی کی گئی ہے۔ اور وہ ممالک جہاں لوگوں کا زیادہ دار و مدار زراعت پر ہے وہاں موسمیاتی تبدیلی سے پیداوار میں کمی اور پانی کی قلت سے مزید نقصانات ہو نے کی گنجائش ہے۔

Read more

انگریزی زبان چترال میں کیسے پہنچی؟

چترال اپنی تنوع کی وجہ سے نمایاں رہی ہے۔ اس میں موجود تمدن، زبانیں، مسلکی اور مذہبی گونا گونی کی ایک لمبی تاریخ ہے۔ چترال کی تاریخ کو دیکھا جائے تو یہ ایک پر امن علاقہ ہونے سے مشہور ہے۔ اگرچہ ریاستی دور میں ایک ’لہر‘ آئی تھی اس کی نوعیت مسلکی تفرقہ کے حوالے سے اختلافات اور نقصانات جو سن 80 کی دہائی میں رونما ہوئے ان سے مختلف تھیں لیکن عمومی طور پر چترال کی تاریخ میں منافرت

Read more

پہاڑی لوگوں کا ایک منفرد میلہ

گزشتہ کئی سالوں سے ہر سال شندور کے مقام پر بارہ ہزار فٹ کی بلندی پر ایک روایتی کھیل کھیلا جاتا ہے جس میں لاسپور اور غذر، اور بعد میں چترال اور گلگت سے پولو ٹیمز حصہ لیتے آرہے ہیں۔ اس سطح مرتفع میں ہونے والی کھیل جسے بعد میں ’بادشاہوں کا کھیل اور کھیلوں کا بادشاہ‘ نام دی گئی۔ یہ روایت نہایت قدیم ہے جو بعد میں اس نام سے مشہور ہو گئی ہے۔ اس روایت کی تاریخ اس سے بڑھ کر ہے، یہ قیاس کیا جاتا ہے کہ سب سے پہلے لاسپور اور غذر کے لوگ اپنے اپنے علاقے کے گرمائی سے ہو کر شندور گراؤنڈ میں ایک خاص سیزن میں اپنے پالتو جانور چرانے کے ساتھ ایک تماشا یا کھیل کے طور پر پہاڑی پولو کی بنیاد رکھ دی۔

Read more

چترال میں مادہ مارخور پر غیرقانونی گولی چلانے والے سیاح کا معما

گزشتہ ایک دن سے فیسبک میں ایک ویڈیو توجہ کا مرکز بن چکی ہے۔ ہفتے کے روز ایک غیر مقامی سیاح نے گاڑی میں چترال کے گرم چشمہ وادی سے واپسی پر ایک مارخور کو پانی پیتے وقت نشانہ بنا دیا تھا جس میں مارخور کو زخمی حالت میں دریا کے پار کنارے دیکھا جا سکتا ہے۔ ویڈ یو میں یہ واضح نظر آ رہی ہے کہ مارخور دریا کے کنارے پانی کے اندر موجود ہے اور باہر نکلنے کی

Read more

کیا چترال میں وبا خود کشی میں اضافہ کا سبب بنی؟

کمرہ جماعت میں ایک استاد طالبعلموں سے مخاطب ہو کر کہتی ہیں کہ آج میں، روزانہ کے معمول سے ہٹ کر، آپ لوگوں کو ایک اسائنمنٹ دے رہی ہوں جس میں آپ کو اپنے دل کی بات پوری دیانت داری کے ساتھ لکھنی ہوگی۔ اسائنمنٹ کے لئے سب کو کاغذ دینے کے بعد بچوں کو مخاطب کر کے بولی: آج آپ کا کام یہ ہے کہ ’آپ اپنے زندگی میں کیا بننا چاہتے ہیں‘ اس بارے میں لکھیں۔ سب بچے

Read more

سیاسی قائدین کی ناکامی پر عوامی تحریک

اپنے منفرد اور اسٹریٹجک حدود اربعہ کے اعتبار سے چترال، بحیثیت ایک قبائلی ریاست، مشرق براستہ شندور پاس گلگت سے اور جنوب میں لواری پاس، دیر سے ہوتے ہوئے پاکستان کے دوسرے علاقوں سے منسلک ہو جاتی ہے۔ چترال میں زمینی رابطے کا ذریعہ یعنی روڈ ایک اندازے کے مطابق 1970 سے بننے شروع ہوئے۔ گو کہ روڈ کی ضرورت پہلے سے محسوس کی جا رہی تھی اور کام بھی ہو چکے تھے لیکن جو کام بھی ہوا جو کہ بجائے سہولت کے نظریہ ضرورت کے طور پر ہوئے۔

روڈ کی سہولت بننے سے پہلے قافلے، جنگی ساماں اور جنگجو، مشینری اور تجارتی ساز و سامان وغیرہ چترال آنے اور وہاں سے باہر جانے کے لئے چند مشہور گزرگاہوں /دروں سے گزرتے تھے جن میں شندور پاس، لواری پاس، ارندو پاس، بروغل پاس، دورا پاس، ڈرکوٹ، شاہ سلیم پاس کے علاوہ کئی اور راستے ایسے تھے جو ثقافت، صنعت و حرفت، تجارت اور جنگ و جدل کے لئے استعمال ہوتے رہے۔

Read more

کیا ہم ایک ایجنڈا آگے لے جا رہے ہیں؟

جس دن ورلڈ ہیلتھ ارگنائزیشن نے کورونا وائرس سے پھیلنے والے بیماری کو وبا قراد دی اس روز سے ایسے سازشی آراء سامنے آرہے ہیں جس سے ایک عام آدمی پریشان اور تذبذب کا شکار ہے۔ ایک دن پشاور میں اپنے فلیٹ کے کمرے میں بیٹھا تھا پولیس آ گیا۔ میں حیران بھی ہوگیا اور پریشان بھی۔ پولیس کا کہنا تھا کہ اس فلیٹ میں جو بھی رہائش پذیر ہیں اور ساتھ کوئی مہمان ہے تو میرے ساتھ پولیس اسٹیشن

Read more

کورونا کی وبا سے لوگوں میں ذہنی تناؤ بڑھے گا

کاروبار زندگی اُس دن سے درہم برہم ہو گیا جب کورونا وائرس نے ایک وبا کی صورت لے لی۔ پاکستان میں اُس وقت حالات تبدیل ہوگئے جب ہر صوبے سے وائرس کے مریض رپورٹ ہوئے، اور بعد میں جزوی لاک ڈاون، آمدورفت، صنعت اور بازار بند ہوگئے۔ ہر طرف دیکھا جائے وہی لوگ اور مقامات مگر وہ رونق نظر آ نہیں رہی۔ ایک آسودگی اور خوف ہے۔ اگر کہیں سے ہنسی کی آواز آ بھی جاتی ہے تو وہ بھی

Read more

کورونا وائرس کے اٹھائے ہوئے سوالات

ایک طرف امریکہ اور چین کے درمیان کرونا وائرس کے حوالے سے میڈیا میں الزامات اور الفاظ کی جنگ جاری ہے تو دوسری طرف اس وائرل وبا سے نمٹنے کے لئے پوری دُنیا میں اقدامات اورسائنس دانون کی تحقیق جاری ہے۔ 31 دسمبر کو چین کے علاقے ووہان سے رپورٹ ہونے والے کووڈ۔ 19 وائرس جسے ورلڈ ہیلتھ ارگنائزیشن بعد میں وبا قراد دی اب پوری دُنیا میں بے چینی پھیلا دی ہے۔ حالیہ رپورٹ کے مطابق، یہ لکھنے کے وقت،

Read more

لمحہ فکریہ

آج دوپہر کے وقت ایک راستے سے گزرتے ہوئے نظرجب دو نوجوانوں ( اُنکی اوسط عمر چودہ سال کے قریب ہو سکتی ہے ) پر پڑی جو نہر میں ایک مہینے سے کھڑے پانی، جسمیں قریب گھروں کے رہائشی گندگی اور غلاظت پھینکتے ہیں، وہاں سے اپنی روزی تلاش کرکے ایک بڑے تھیلے میں ڈال کر آگے جارہے تھے۔  یہ ایک درد بھری کیفیت اور لمحہ فکریہ سے کم نہ تھا۔ اُنکی طرح ہزاروں اور نوجواں ہمارے معاشرے میں ہیں

Read more

ہڑتال اور غریب کا روزینہ

دنیا کو دیکھنے کے لئے ہمارے ملک میں، چند شہروں اور اسٹریٹس کے علاوہ، ہر ایک اسٹریٹ کو چند لمحوں کے لئے قریب سے دیکھا جائے تو پوری دنیا اور اس کی ہر ایک رنگ نظر آجاتی ہے۔ پشاور میں پیر کے روز سے، جوکہ آج بروز منگل بھی جاری ہے، نان بائیوں نے ہڑتال جاری رکھا۔ گردوپیش دیکھ کر اور اس پرسوچتا ہوا ایک راستے سے گزرا تو دیکھا کہ ایک گاڑی کھڑی تھی جس میں ایک ڈرائیورکے ساتھ

Read more

قصہ ایک پریشان سیاح کا

چند سال پہلے آسٹریا کے ایک سیاح سے بوقت ناشتہ اُس وقت بات شروع ہوئی جب وہ ہوٹل والے کو یہ بتا نہیں سکتا تھا کہ وہ ناشتے میں کیا کیا لینا چاہتا ہے اور ہوٹل والا اسے بتا نہیں سکتا کہ اُس کے پاس ناشتے میں کیا کیا آئٹم ملتے ہیں۔ میں نے کاونٹر میں آدمی اور سیاح کے مابین کمیونکیشن گیپ کو ختم کرکے دونوں کی مشکل آسان کردی۔ جب میں سیاح سے دریافت کیا تو اس نے

Read more

چترال میں مہم کہ استاد اپنا بچہ گورنمنٹ اسکول میں پڑھائے

تعلیم سب کا بنیادی اور آئینی حق ہے۔ اگر تعلیم معیاری اور ساتھ مفت بھی ہو تو وہ کون ہو سکتا ہے جو اِس بہتریں پیکج سے فائدہ نہ اُٹھا لے۔ دُنیا میں شاید کوئی ایسے والدین ہوسکتے ہیں جو اپنے بچوں کے لئے اچھا اور معیاری تعلیم نہیں چاہتے ہوں۔ گو کہ پانچ سال سے سولہ سال تک، آئین پاکستان کے آرٹیکل پینتیس اے کے تحت، مفت تعلیم دینا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ گزشتہ چند دنوں سے چترال

Read more