اپنے منفرد اور اسٹریٹجک حدود اربعہ کے اعتبار سے چترال، بحیثیت ایک قبائلی ریاست، مشرق براستہ شندور پاس گلگت سے اور جنوب میں لواری پاس، دیر سے ہوتے ہوئے پاکستان کے دوسرے علاقوں سے منسلک ہو جاتی ہے۔ چترال میں زمینی رابطے کا ذریعہ یعنی روڈ ایک اندازے کے مطابق 1970 سے بننے شروع ہوئے۔ گو کہ روڈ کی ضرورت پہلے سے محسوس کی جا رہی تھی اور کام بھی ہو چکے تھے لیکن جو کام بھی ہوا جو کہ بجائے سہولت کے نظریہ ضرورت کے طور پر ہوئے۔
روڈ کی سہولت بننے سے پہلے قافلے، جنگی ساماں اور جنگجو، مشینری اور تجارتی ساز و سامان وغیرہ چترال آنے اور وہاں سے باہر جانے کے لئے چند مشہور گزرگاہوں /دروں سے گزرتے تھے جن میں شندور پاس، لواری پاس، ارندو پاس، بروغل پاس، دورا پاس، ڈرکوٹ، شاہ سلیم پاس کے علاوہ کئی اور راستے ایسے تھے جو ثقافت، صنعت و حرفت، تجارت اور جنگ و جدل کے لئے استعمال ہوتے رہے۔
Read more