ناؤ پانی کی موت سے ڈرتی ہے


ناؤ کے لیے پانی ضروری ہے

وہ لکڑی کی ہو یا کاغذ کی

اسے بہنے کے لیے پانی چاہئیے

پانی اسے لذتِ سفر کی انتہاؤں تک لے جاتا ہے

نئے جزیروں، نئی دنیاؤں کی سیر کراتا ہے

ناؤ پانی سے پیار کرتی ہے

ناؤ کو تیرتے رہنا اچھا لگتا ہے

وہ پانی کے پیٹ پر گدگدی کر کے خوش ہوتی ہے

اور لہریے بناتی ہوئی چلتی ہے

کنارہ اسے باندھے رکھتا ہے

کنارہ کتنا ہی خوبصورت کیوں نہ ہو

ناؤ کا دل اس میں نہیں لگتا

وہ اپنے مانجھی سے محبت کرتی ہے

اسے مچھلیوں کی باس

لہروں کا شور

اور ملاحوں کے گیت پسند ہیں

ناؤ نت نئے مسافروں کی منتظر رہتی ہے

تا کہ انہیں اُس پار لے جائے

جہاں راستے قدموں کی راہ دیکھتے ہیں

اور پارینہ بارگاہوں کے دروازے

خوش اندام عورتوں کے لیے کھلے رہتے ہیں

ناؤ کے کان بڑے حساس ہوتے ہیں

وہ ہوا کی سرگوشیاں

اور مسافروں کی باتیں سن لیتی ہے

اور انہیں پانیوں تک پہنچا دیتی ہے

پانی بادلوں کو

اور بادل بارشوں کے ذریعے

ساری باتیں زمین کو بتا دیتے ہیں

زمین رازوں کا جنگل ہے

جس میں ہر روز چوری ہو جاتی ہے

انسان اپنے ہی رازوں کو

کاٹ کاٹ کر بیچتا رہتا ہے

حتیٰ کہ ایک دن زمین درختوں سے،

انسان رازوں سے

اور ناؤ مسافروں سے خالی ہو جاتی ہے!

Facebook Comments HS

11 thoughts on “ناؤ پانی کی موت سے ڈرتی ہے

  • 10/06/2016 at 8:59 صبح
    Permalink

    ناؤ کے کان بڑے حساس ہوتے ہیں

    وہ ہوا کی سرگوشیاں

    اور مسافروں کی باتیں سن لیتی ہے

    اور انہیں پانیوں تک پہنچا دیتی ہے

    پانی بادلوں کو

    اور بادل بارشوں کے ذریعے

    ساری باتیں زمین کو بتا دیتے ہیں

    زمین رازوں کا جنگل ہے

    جس میں ہر روز چوری ہو جاتی ہے

    انسان اپنے ہی رازوں کو

    کاٹ کاٹ کر بیچتا رہتا ہے

    حتیٰ کہ ایک دن زمین درختوں سے،

    انسان رازوں سے

    اور ناؤ مسافروں سے خالی ہو جاتی ہے!
    واہ بہت عمدہ 🙂

    • 10/06/2016 at 9:10 صبح
      Permalink

      شکریہ تنویر حسین صاحب 🙂

  • 10/06/2016 at 9:57 صبح
    Permalink

    ناو، حصول لذت سفر کا وسیلہ ہے۔۔ناو کا چلتے وقت لہریے بنانا، زندگی کی تموج و تحرک کو ظاہر کرتے ہیں۔۔۔یہ تموج و تحرک زندگی کی شام ہوتے ہی ختم ہوجاتا ہے۔نصیر احمد صاحب کی نظموں میں جمالیاتی فضا تو بہر حال ہوتی ہے۔ کمال کی جدت اور تازگی بھی پائی جاتی ہے مزید انچھوا اسلوب بیان سونے پر سہاگا ہے۔۔
    میں پہلے بھی کہہ چکا ہوںاور اب یہاں دوبارہ کہتا ہوں کہ نصیر احمد صاحب دنیا کے ان چند بزرگ شاعروں کی فہرست میں آتے ہیں جنہوں نے جیتے جی برج عظمت کو زیر قدم کیا اور اپنی اقبالمندی کے پرچم کو اپنی جاگتی آنکھوں سے بنفس نفیس دیکھا بھی ھے ۔۔زھے معنی زھے خوبی
    میں سمجھتا ہوں کسی بھی ادیب کے لئے اس سے بڑی فتح و جوانمردی کیا ہوسکتی ہے۔۔نصیر احمد صاحب کو سرمناره زیست یہ دلکش نظارہ مبارک ہو۔۔۔
    راقم غنی غیور

  • 10/06/2016 at 10:12 صبح
    Permalink

    ناو، حصول لذت سفر کا وسیلہ ہے۔۔ناو کا چلتے وقت لہریے بنانا، زندگی کی تموج و تحرک کو ظاہر کرتے ہیں۔۔۔یہ تموج و تحرک زندگی کی شام ہوتے ہی ختم ہوجاتا ہے۔نصیر احمد صاحب کی نظموں میں جمالیاتی فضا تو بہر حال ہوتی ہے۔ کمال کی جدت اور تازگی بھی پائی جاتی ہے مزید انچھوا اسلوب بیان سونے پر سہاگا ہے۔۔
    میں پہلے بھی کہہ چکا ہوںاور اب یہاں دوبارہ کہتا ہوں کہ نصیر احمد صاحب دنیا کے ان چند بزرگ شاعروں کی فہرست میں آتے ہیں جنہوں نے جیتے جی برج عظمت کو زیر قدم کیا اور اپنی اقبالمندی کے پرچم کو اپنی جاگتی آنکھوں سے بنفس نفیس دیکھا بھی ھے ۔۔زھے معنی زھے خوبی
    میں سمجھتا ہوں کسی بھی ادیب کے لئے اس سے بڑی فتح و جوانمردی کیا ہوسکتی ہے۔۔نصیر احمد صاحب کو سرمناره زیست یہ دلکش نظارہ مبارک ہو۔۔۔
    راقم غنی غیور

  • 10/06/2016 at 11:42 صبح
    Permalink

    بیحد عمدہ! ناؤ کی روانی اور آپ کے تخیل کی پرواز، دونوں کی داد دیتا ہوں ۔ خوش رہیں ۔

    • 10/06/2016 at 11:58 صبح
      Permalink

      شکریہ نصر ملک صاحب، بہت دنوں بعد آپ سے ملاقات ہوئی 🙂

  • 10/06/2016 at 12:32 شام
    Permalink

    شکریہ نصر ملک صاحب۔ آپ سے بہت دنوں بعد ملاقات ہوئی ہے۔ 🙂

  • 10/06/2016 at 2:24 شام
    Permalink

    کیا کہنے ، بہت خوب !

    • 11/06/2016 at 1:33 صبح
      Permalink

      شکریہ علی عمران صاحب

  • 11/06/2016 at 9:17 صبح
    Permalink

    ناو، حصول لذت سفر کا وسیلہ ہے۔۔ناو کا چلتے وقت لہریے بنانا، زندگی کی تموج و تحرک کو ظاہر کرتے ہیں۔۔۔یہ تموج و تحرک زندگی کی شام ہوتے ہی ختم ہوجاتا ہے۔نصیر احمد صاحب کی نظموں میں جمالیاتی فضا تو بہر حال ہوتی ہے۔ کمال کی جدت اور تازگی بھی پائی جاتی ہے مزید انچھوا اسلوب بیان سونے پر سہاگا ہے۔۔
    میں پہلے بھی کہہ چکا ہوںاور اب یہاں دوبارہ کہتا ہوں کہ نصیر احمد صاحب دنیا کے ان چند بزرگ شاعروں کی فہرست میں آتے ہیں جنہوں نے جیتے جی برج عظمت کو زیر قدم کیا اور اپنی اقبالمندی کے پرچم کو اپنی جاگتی آنکھوں سے بنفس نفیس دیکھا بھی ھے ۔۔زھے معنی زھے خوبی
    میں سمجھتا ہوں کسی بھی ادیب کے لئے اس سے بڑی فتح و جوانمردی کیا ہوسکتی ہے۔۔نصیر احمد صاحب کو سرمناره زیست یہ دلکش نظارہ مبارک ہو۔۔۔
    راقم غنی غیور

    • 11/06/2016 at 12:31 شام
      Permalink

      بہت شکریہ غنی غیور صاحب۔ آپ جیسے پڑھنے اور چاہنے والوں کی بے پایاں محبت سرمایہ ہے اور یہی میری اصل طاقت ہے۔

Comments are closed.