ناؤ پانی کی موت سے ڈرتی ہے
ناؤ کے لیے پانی ضروری ہے
وہ لکڑی کی ہو یا کاغذ کی
اسے بہنے کے لیے پانی چاہئیے
پانی اسے لذتِ سفر کی انتہاؤں تک لے جاتا ہے
نئے جزیروں، نئی دنیاؤں کی سیر کراتا ہے
ناؤ پانی سے پیار کرتی ہے
ناؤ کو تیرتے رہنا اچھا لگتا ہے
وہ پانی کے پیٹ پر گدگدی کر کے خوش ہوتی ہے
اور لہریے بناتی ہوئی چلتی ہے
کنارہ اسے باندھے رکھتا ہے
کنارہ کتنا ہی خوبصورت کیوں نہ ہو
ناؤ کا دل اس میں نہیں لگتا
وہ اپنے مانجھی سے محبت کرتی ہے
اسے مچھلیوں کی باس
لہروں کا شور
اور ملاحوں کے گیت پسند ہیں
ناؤ نت نئے مسافروں کی منتظر رہتی ہے
تا کہ انہیں اُس پار لے جائے
جہاں راستے قدموں کی راہ دیکھتے ہیں
اور پارینہ بارگاہوں کے دروازے
خوش اندام عورتوں کے لیے کھلے رہتے ہیں
ناؤ کے کان بڑے حساس ہوتے ہیں
وہ ہوا کی سرگوشیاں
اور مسافروں کی باتیں سن لیتی ہے
اور انہیں پانیوں تک پہنچا دیتی ہے
پانی بادلوں کو
اور بادل بارشوں کے ذریعے
ساری باتیں زمین کو بتا دیتے ہیں
زمین رازوں کا جنگل ہے
جس میں ہر روز چوری ہو جاتی ہے
انسان اپنے ہی رازوں کو
کاٹ کاٹ کر بیچتا رہتا ہے
حتیٰ کہ ایک دن زمین درختوں سے،
انسان رازوں سے
اور ناؤ مسافروں سے خالی ہو جاتی ہے!



ناؤ کے کان بڑے حساس ہوتے ہیں
وہ ہوا کی سرگوشیاں
اور مسافروں کی باتیں سن لیتی ہے
اور انہیں پانیوں تک پہنچا دیتی ہے
پانی بادلوں کو
اور بادل بارشوں کے ذریعے
ساری باتیں زمین کو بتا دیتے ہیں
زمین رازوں کا جنگل ہے
جس میں ہر روز چوری ہو جاتی ہے
انسان اپنے ہی رازوں کو
کاٹ کاٹ کر بیچتا رہتا ہے
حتیٰ کہ ایک دن زمین درختوں سے،
انسان رازوں سے
اور ناؤ مسافروں سے خالی ہو جاتی ہے!
واہ بہت عمدہ 🙂
شکریہ تنویر حسین صاحب 🙂
ناو، حصول لذت سفر کا وسیلہ ہے۔۔ناو کا چلتے وقت لہریے بنانا، زندگی کی تموج و تحرک کو ظاہر کرتے ہیں۔۔۔یہ تموج و تحرک زندگی کی شام ہوتے ہی ختم ہوجاتا ہے۔نصیر احمد صاحب کی نظموں میں جمالیاتی فضا تو بہر حال ہوتی ہے۔ کمال کی جدت اور تازگی بھی پائی جاتی ہے مزید انچھوا اسلوب بیان سونے پر سہاگا ہے۔۔
میں پہلے بھی کہہ چکا ہوںاور اب یہاں دوبارہ کہتا ہوں کہ نصیر احمد صاحب دنیا کے ان چند بزرگ شاعروں کی فہرست میں آتے ہیں جنہوں نے جیتے جی برج عظمت کو زیر قدم کیا اور اپنی اقبالمندی کے پرچم کو اپنی جاگتی آنکھوں سے بنفس نفیس دیکھا بھی ھے ۔۔زھے معنی زھے خوبی
میں سمجھتا ہوں کسی بھی ادیب کے لئے اس سے بڑی فتح و جوانمردی کیا ہوسکتی ہے۔۔نصیر احمد صاحب کو سرمناره زیست یہ دلکش نظارہ مبارک ہو۔۔۔
راقم غنی غیور
ناو، حصول لذت سفر کا وسیلہ ہے۔۔ناو کا چلتے وقت لہریے بنانا، زندگی کی تموج و تحرک کو ظاہر کرتے ہیں۔۔۔یہ تموج و تحرک زندگی کی شام ہوتے ہی ختم ہوجاتا ہے۔نصیر احمد صاحب کی نظموں میں جمالیاتی فضا تو بہر حال ہوتی ہے۔ کمال کی جدت اور تازگی بھی پائی جاتی ہے مزید انچھوا اسلوب بیان سونے پر سہاگا ہے۔۔
میں پہلے بھی کہہ چکا ہوںاور اب یہاں دوبارہ کہتا ہوں کہ نصیر احمد صاحب دنیا کے ان چند بزرگ شاعروں کی فہرست میں آتے ہیں جنہوں نے جیتے جی برج عظمت کو زیر قدم کیا اور اپنی اقبالمندی کے پرچم کو اپنی جاگتی آنکھوں سے بنفس نفیس دیکھا بھی ھے ۔۔زھے معنی زھے خوبی
میں سمجھتا ہوں کسی بھی ادیب کے لئے اس سے بڑی فتح و جوانمردی کیا ہوسکتی ہے۔۔نصیر احمد صاحب کو سرمناره زیست یہ دلکش نظارہ مبارک ہو۔۔۔
راقم غنی غیور
بیحد عمدہ! ناؤ کی روانی اور آپ کے تخیل کی پرواز، دونوں کی داد دیتا ہوں ۔ خوش رہیں ۔
شکریہ نصر ملک صاحب، بہت دنوں بعد آپ سے ملاقات ہوئی 🙂
شکریہ نصر ملک صاحب۔ آپ سے بہت دنوں بعد ملاقات ہوئی ہے۔ 🙂
کیا کہنے ، بہت خوب !
شکریہ علی عمران صاحب
ناو، حصول لذت سفر کا وسیلہ ہے۔۔ناو کا چلتے وقت لہریے بنانا، زندگی کی تموج و تحرک کو ظاہر کرتے ہیں۔۔۔یہ تموج و تحرک زندگی کی شام ہوتے ہی ختم ہوجاتا ہے۔نصیر احمد صاحب کی نظموں میں جمالیاتی فضا تو بہر حال ہوتی ہے۔ کمال کی جدت اور تازگی بھی پائی جاتی ہے مزید انچھوا اسلوب بیان سونے پر سہاگا ہے۔۔
میں پہلے بھی کہہ چکا ہوںاور اب یہاں دوبارہ کہتا ہوں کہ نصیر احمد صاحب دنیا کے ان چند بزرگ شاعروں کی فہرست میں آتے ہیں جنہوں نے جیتے جی برج عظمت کو زیر قدم کیا اور اپنی اقبالمندی کے پرچم کو اپنی جاگتی آنکھوں سے بنفس نفیس دیکھا بھی ھے ۔۔زھے معنی زھے خوبی
میں سمجھتا ہوں کسی بھی ادیب کے لئے اس سے بڑی فتح و جوانمردی کیا ہوسکتی ہے۔۔نصیر احمد صاحب کو سرمناره زیست یہ دلکش نظارہ مبارک ہو۔۔۔
راقم غنی غیور
بہت شکریہ غنی غیور صاحب۔ آپ جیسے پڑھنے اور چاہنے والوں کی بے پایاں محبت سرمایہ ہے اور یہی میری اصل طاقت ہے۔