میں آریان کی بیوی تھی اور فیروز کی بھی


مجھ میں خواہش تو شدید تھی پر ہمت نہیں تھی کہ میں اس کے سامنے چلی جاتی، بیٹھ جاتی، سر اُٹھاتی اور اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہتی، ”آریان صاحب محبت کے بارے میں کیا خیال ہے آپ کا، کیا اچھا اَدب اچھی شاعری، اچھا افسانہ، اچھا ناول محبت کے بغیر بھی تخلیق کیا جاسکتا ہے۔ ‘‘ میں یہ نہیں کرسکی۔ اس کے بارے میں سوچتی رہی، من ہی من میں سلگتی رہی اور کلاسوں کے پیچھے، کاریڈور کے کارنر پر، چھوٹے چھوٹے گھاس کے قطعوں پر، اپنے بھائی کے کمرے میں، شعبہ انگریزی کے اطراف اسے تلاش کرتی رہی اور آنکھیں اسے جذب کرنے کے لیے گھنٹوں ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک طواف کرتی رہیں۔ نہ جانے وہ کہاں کھو گیا تھا۔

ایک ہفتے بعد میں کلاس ختم کرکے باہر نکلی تو وہ نظر آیا۔ دیوار سے ٹیک لگائے، سفید قمیض، خاکی پتلون، نیلا کوٹ، نیلا مفلر اور کالے جوتوں میں پیر بغیر موزے کے، کھڑا جیسے میرا انتظار کررہا ہو۔

میں نے بے قرار ہوکر اسے دیکھا، اس نے بھی بڑی بے قرار نظروں سے مجھے دیکھا تھا۔ میں نے نہ جانے خیالوں میں کتنی دفعہ اسے چوما، ماتھے پر، ہونٹوں پر، گالوں پر، آنکھوں پر۔ نظریں بڑی قاتل ہوتی ہیں، نہ جانے کیا کیا کرجاتی ہیں بس ذرا محبت کا شعلہ تو بھڑک جائے۔

”کیا حال ہے تمہارا فرش‘‘ اس نے مسکرا کر کہا۔ ”میں دوسرے دن ہی غزنی چلاگیا تھا۔ میری ماں کی طبیعت خراب تھی، انہیں لے کر قندھار کے بڑے ہسپتال جانا پڑا، بہرحال اب توٹھیک ہیں۔ تم کیسی ہو۔ میں نے سوچا تھا کہ دوسرے دن ہی آ کر ملوں گا مگر شام کو ماں بی کا فون آگیا پھر میں رُک نہیں سکتا تھا۔ ‘‘

”میں ٹھیک ہوں۔ ‘‘ مسکرا کر جواب دیا تھا میں نے۔ کیسے کہتی کہ ٹھیک نہیں ہوں، میں بنا جل کسی مچھلی کی طرح ہوں تلاش کررہی ہوں تمہیں، بے قراری سے ڈھونڈتی پھرتی ہوں۔ بے تاب ہوہو کر، نظر بھر کے دیکھتی ہوں دور سے آنے والے ہر نیلے کوٹ پہنے ہوئے شخص کو اور نہ پا کر تمہیں کتنی اُداسی اُترتی ہے میرے بدن میں، میری روح میں۔ کاش کہ یہ سب کچھ کہہ سکتی اُس سے۔
مگر اس نے سب کچھ کہہ دیا بنا کسی تردّد، کسی جھجک اور کسی تکلف کے ساتھ، ”فرش شادی کروگی مجھ سے۔ ہاں کہہ دو تو ماں بی کو گھر بھیج دوں تمہارے۔ ‘‘

مجھے ایسا لگا جیسے لمبے سے اس کاریڈور میں شروع سے آخر تک جیسے یکایک چاندنی پھیل گئی ہو، ساری کلاسوں کے دروازے یکایک کھل گئے ہوں اور ہر طرف سے جیسے پھولوں کی بارش شروع ہوگئی ہو۔ یکایک جیسے سارے اسپیکروں سے ناشناس نے گانا شروع کردیا ہو۔

پھر بہت جلد ہی ہم دونوں کی شادی ہوگئی، ہم دونوں کے والدین کی مرضی سے۔ ہم دونوں ہی کی زندگی میں یکایک جیسے بہار آگئی ہو۔ میں اس سے خوش تھی اور وہ مجھ سے سیر۔ ہم دونوں کو جیسے ایک دوسرے کے بغیر چین نہیں پڑتا تھا۔ آریان کہتا تھا اپنی زندگی کی بہترین نظمیں اس نے اسی زمانے میں لکھی تھیں۔ نہ جانے مجھ میں کہاں سے قوّت آگئی تھی، جسم کے ایک ایک انگ میں جیسے بجلی بھرگئی ہو، ایسا لگتا تھا جیسے اُڑنا چاہوں تو اُڑتی چلی جاؤں، زمینوں، دریاؤں، جھرنوں، آبشاروں، پہاڑوں سے بھی اوپر بادل سے بھی آگے۔

ہم دونوں نے بہت سا وقت گزارا اور بہت سی جگہیں دیکھیں، نوروز میں مزار شریف گئے، جشن ہرات میں گھومے، غزنی و قندھار کے بازاروں میں چکرائے، کابل کے ہوٹلوں، ریسٹورانوں میں رنگین شاموں میں ہمارے نام کی قندیلیں جلیں۔ میں نے کوئی نظم پڑھی تو اسے سنادی۔ اس نے کوئی کتاب لی تو مجھے بتاڈالا۔ میں فزکس کے قوانین اور کائنات کے جانے بوجھے راز اُسے اس طرح سے بتاتی جیسے میں نے ہی ان کا پتہ لگایا ہے۔ آئن اسٹائن، کارل سگاں، اسٹیفن ہاکس کے زندگی کے قصّے ان کی دریافتیں، بلیک ہول کے بارے میں کائنات اور بگ بینگ کا تذکرہ ایسے کرتی جیسے میں خود وہاں موجود تھی۔ ایسا احساس مجھے پہلے کبھی نہیں ہوا۔ کتنے لوگوں کو بتایا تھا میں نے لیکن کبھی ایسا محسوس نہیں ہوا تھا مجھے۔ شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ کسی نے اتنی توجہ سے سنا کب تھا مجھے، اتنی اہمیت کس نے دی تھی میری باتوں کو۔ آریان مجھے سنتا دیکھتا محسوس کرتا اور ساتھ ساتھ اس طرح سے چلتا کہ جیسے گزرے سفر میں ساتھ تھا اور آگے بھی ساتھ رہے گا۔ خوداعتمادی انتہا پر پہنچ گئی تھی اس کے ساتھ۔

پھر بہت کچھ بہت تیزی سے ہوگیا ہم لوگوں کے ساتھ ۔ نجیب کی حکومت ختم ہوئی، مجاہدین نے افغانستان کے حصے بخرے کردیے، انارکی ایسی پھیلی کہ لگتا تھا کہ نہ جانے کتنے ٹکڑے ہوجائیں گے ملک کے۔ جیسے تیسے حالات کا سامنا کرہی رہے تھے لوگ کہ طالبان ٹڈّی دل کی طرح یکایک نمودار ہوئے اور پورے ملک پر تیزی سے قابض ہوگئے۔ پہلے جو کچھ کابل کے باہر اور بڑے شہروں سے دور ہورہا تھا وہ سب کچھ کابل میں بھی شروع ہوگیا۔

ایک رات آریان واپس نہیں آئے۔ بہت کھوج لگائی ہم لوگوں نے۔ یونیورسٹی سے تو میں فارغ کردی گئی تھی۔ برقعہ پوش ہوکر میں اور میری ماں، میرا بھائی اسے تلاش کرتے رہے۔ گلی گلی، دفتر دفتر، تھانہ تھانہ کچھ پتہ نہیں چلا آریان کا۔ ایک دن بازار میں میرے والد اور بھائی کو گولی ماردی گئی۔ دو دن کے بعد مسخ شدہ لاش ملی۔ نہ جانے کس طرح دفنایا تھا انہیں۔ وہ سب کچھ ایک ڈراؤنے خواب کی طرح یاد ہے۔ مجھے ایسا لگا تھا جیسے آریان بھی مرگئے ہیں۔ ختم ہوگئے ہیں کسی قید خانے میں اپنے وعدوں کو یاد کرتے ہوئے۔

The wood are lovely dark and deep
But I have promises to keep
And miles to go before I sleep
And miles to go before I sleep

ایک دن یہ لائنیں پڑھی تھیں انہوں نے میرے سامنے۔ میں انہی لائنوں کو دہراتی رہی، یاد کرتی رہی۔ انہی دنوں پتہ چلا کہ غزنی میں آریان کے گھر پر کوئی بم گرا تھا اور کوئی بھی نہیں بچ سکا۔ دو سال گزرنے کو تھے کہ ماں، ارجمند اور میں کابل سے نکلے، بس کے ذریعے سرحد پر پہنچے جہاں سے پشاور کا راستہ آسان تھا۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4