میں آریان کی بیوی تھی اور فیروز کی بھی


پشاور میں پورے ایک مہینہ ٹھہر کر ہر مہاجر کیمپ میں آریان کی تصویریں لیے ہم تینوں لوگوں سے پوچھتے رہے۔ لوگ مجھے دیکھتے، ان کی آنکھوں میں افسوس ہوتا، کرب ہوتا، درد ہوتا، ہمدردی کے بول ہوتے، حالات کا گلہ ہوتا، اوپر والے کی نا انصافی کی شکایت ہوتی لیکن کوئی بھی اس کے بارے میں خبر نہیں دے سکا۔

پشاور میں ہی ہم تینوں نے امریکہ میں پناہ کے لیے درخواستیں دی تھیں۔ پھر کوئٹہ میں جاننے والے افغانوں سے آریان کا پتہ کیا۔ اس کا کچھ پتہ نہیں چلا۔ وہ نہ جانے کیسے کہاں کھوگیا۔
امریکہ میں زندگی آسان نہیں تھی۔ واشنگٹن ایئرپورٹ پر ہمارے پاسپورٹ اور امیگریشن کے مسائل حل ہونے کے بعد ہمیں ٹاؤن ہاؤس میں ٹھہرایا گیا۔ ایک ہفتے میں ہمارے کاغذات بن کر آگئے۔ نیشنل سیکورٹی نمبر اور ورک پرمٹ مل گیا۔ ابتدائی طور پر مناسب رقم فراہم کردی گئی اور پھر امریکہ کی زندگی کا آغاز ہوگیا۔

ہم تینوں کی فیروز نے بڑی مدد کی۔ مکان کا حصول، امریکہ میں رہنے کا طریقہ، مختلف قوانین کا جاننا، مدد حاصل کرنے کے طریقے، ہماری تو انگلش اچھی تھی مگر میری فزکس کی ڈگری اور ارجمند کی فارسی میں اہلیت کی کوئی خاص اہمیت نہیں تھی واشنگٹن میں۔ وطن سے دور فرنگ کے دیار میں قسمت نے کچھ اورہی گل کھلائے۔

ہم سب نے یہی فیصلہ کیا کہ ماں گھر میں رہیں گی۔ شروع میں مجھے دواؤں کی دوکانوں کی ایک کمپنی ایکرڈ میں نوکری ملی اور ارجمند ایک شاپنگ سینٹر میں کام کرنے لگا۔ ہم دونوں نے ہی پڑھنے کا بھی فیصلہ کرلیا تھا جس کے لیے پیسوں کی ضرورت تھی۔ کام کے ساتھ ساتھ میں نے کمپیوٹر کے کورسز لے لیے اور ارجمند نے دو جگہوں پر کام شروع کردیا۔ جارج ٹاؤن یونیورسٹی میں اسے ایک امتحان دے کر مشرقی زبانوں کے شعبہ میں داخلہ ملنے کی امید ہوگئی جس کے لیے رقم کی ضرورت تھی۔ ان تمام کاموں میں فیروز نے ہماری بڑی مدد کی تھی۔

فیروز کا تعلق پشاور سے تھا۔ وہ پاکستان کے ضیاء الحق کے زمانے میں ہی کالج چھوڑ کر امریکہ کا ویزا لے کر امریکہ آگیا تھا، پھر واپس نہیں گیا۔ مختلف کام کیے تھے اس نے۔ کمپیوٹر میں مہارت حاصل کرلی اور اب آئی بی ایم میں ایک اچھی ملازمت کررہا تھا، پہلے دن ہی ہماری ملاقات اس سے ایئرپورٹ پر ہوئی تھی جہاں وہ اپنے کسی دوست کو چھوڑنے کے لیے آیا تھا۔ ہمیں دیکھ کر رُکا، ہم سے بات کی پھر شام کو ہمارے ٹھکانے پر آن پہنچا اور اس دن سے کسی اچھے دوست کی طرح ہماری مدد کرتا رہا۔ گھر کے حصول سے لے کر بینک کے اکاؤنٹنٹ تک، کریڈٹ کارڈ کے لیے درخواست سے لے کر گاڑی خریدنے تک، تعلیم سے لے کر نوکری تک، وہ بہت سوشل تھا پھر بھی اکیلا اور ہم لوگ تو اجنبی بھی تھے۔ اکیلے بھی تھے اور ضرورت مند بھی۔

ڈھائی سال کا عرصہ خاموشی سے گزرگیا، طالبان کی حکومت بھی گزرگئی، بہت سارے مزید افغان نہ جانے کن کن راستوں سے بھٹکتے ہوئے امریکہ کی ہر ریاست میں پہنچ گئے۔ ہم لوگ کوشش کرتے رہے آریان کی زندگی موت کی خبر نہیں ملی ہم لوگوں کو۔ ایک دن ماں نے کہا تھا مجھ سے کہ زندگی طویل ہے، فیروز نے تمہارا ہاتھ مانگا ہے، اسے سب کچھ بتایا ہے ہم لوگوں نے۔ میرا اور ارجمند کا بھی یہی خیال ہے کہ تم فیروز سے شادی کرلو، سات سال سے بھی اوپر ہوگئے ہیں۔ زندگی تو گزارنی ہی ہوگی، کب تک اکیلے رہو گی، کب تک یونہی گزاروگی یہ دن یہ رات یہ شب یہ مہینے یہ سال، نہ جانے کیوں مارڈالا ان لوگوں نے اسے۔ یہ کہہ کر ان کے آنسو نکل آئے تھے۔

اس روز آریان کی موت ہوگئی کیونکہ اسی روز امیدوں کی موت ہوگئی تھی اور جب امید ختم ہوجائے تو سب کچھ ختم ہوجاتا ہے۔ امید ہی کے سہارے تو ہم سب لوگ زندہ رہتے ہیں۔ اچھے دنوں کی امید، گئے ہوئے دنوں سے بہتر دنوں کی امید، بیماری سے صحت یاب ہونے کی امید، زندگی میں کامیاب ہونے کی امید، امید ہی تو ہے جو ہم سب کا سہارا ہوتی ہے اور جب امید مر جائے تو سب کچھ مرجاتا ہے۔ چند ہفتوں کے بعد میں دوسری دفعہ خاموشی سے دلہن بنی اور فیروز میری زندگی میں داخل ہوگئے۔

فیروز اچھے آدمی تھے۔ انہوں نے بھی مجھے دل سے چاہا، میرے غموں کو سمجھا، مجھے میرے ماضی کے ساتھ، میرے پورے وجود کو قبول کرلیا۔ مجھے سہارا دیا، حوصلہ دیا میرے دلوں میں نئی امیدوں کے بیج لگائے اس کی کیاری میں آب پاشی کی، مجھے دوبارہ زندہ کردیا۔ میں ایک سال کے اندر ہی ماں بن گئی تھی ایک خوبصورت سی بھولی بھالی سی بچّی کی ماں۔ جس کا نام ہم لوگوں نے زیتون رکھا تھا۔

ارجمند کو یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی کے لیے اسکالر شپ مل گئی تھی۔ ماں نے اس کے لیے ایک اچھی سی افغانی لڑکی پسند کرلی تھی، ماہ رخ نام تھا اس کا۔ کابل سے ہی تعلق تھا ان کا۔ صدر داؤد کے زمانے میں وہ لوگ امریکہ آگئے تھے۔ واشنگٹن کا سب سے بڑا افغانی ریسٹورانٹ انہی لوگوں کا تھا۔ ارجمند کو ماہ رخ یونیورسٹی میں ملی تھی اور ماہ رخ کی ماں کو ماں نے کابل کے اسکول میں بہت پہلے پڑھایا تھا۔ میں کام چھوڑ کر گھر میں بچّی کی پرورش کررہی تھی۔ فیروز اپنے کام میں مصروف تھے اور زندگی کی نئی ڈگر کو ہم لوگوں نے قبول کرلیا تھا۔

مگر اس دن میں جیسے ہی بچّی کی گاڑی کو دھکیلتے ہوئے شاپنگ مال کے کار پارکنگ کی طرف جارہی تھی تو مجھے وہ نظر آیا۔ وہی چہرہ، وہی بالوں کا مخصوص انداز، وہ مونچھیں، بالوں اور مونچھوں میں چاندی جیسے سفید تار جھلک رہے تھے۔ نیلی قمیض، خاکی پینٹ، نیلا کوٹ، گردن میں لٹکتا ہوا سیاہ مفلر، سیاہ جوتے بغیر موزوں کے پہنے ہوئے ساتھ ہی کوٹ کا ایک طرف کا بازو خالی تھا جیسے کاندھوں سے بازو کاٹ دیا گیا ہو۔ میں نے اسے دیکھا، اس نے مجھے دیکھا، پھر اس نے بچّی کودیکھا اور چند معمولی لمحوں میں شاید سب کچھ سمجھ گیا تھا۔ مجھے ایسا لگا جیسے اس کے دل، اس کے جسم کا سارا خون اس کے چہرے پر آگیا ہے۔ چہرے پر تیزی سے آتی ہوئی خوشی لمحوں کے اندر اُداسی کے سایوں میں کھوتی چلی گئی، مجھے ایسے لگا جیسے چاندی کے بال اس کے چہرے پر بھی پھیلتے چلے گئے ہیں۔

خدایا، تم زندہ ہو، میرے مالک میرے محبوب، میرے دوست، میرے ساتھی تم زندہ ہو۔ کہاں تھے، دیکھو کیا ہوگیا، میں تمہاری ہوں مگر تمہاری نہیں، اب کیا ہوگا نہ جانے کیسے کیسے سوالات کس کس طرح سے میرے دماغ میں گونجے، میرے چہرے پر چمکے، میری زبان سے نکلے اور میں چکرا کر زمین پر بیٹھ گئی۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4