پنکی میم صاحب اور دبئی کا اونٹ
دو سال سے یہ کالم لگاتار لکھنے کے بعد اب تو یوں لگنے لگا ہے کہ آپ سب ہی ہماری فیملی ہیں۔ لکھتے ہوئے ہمیشہ یہی لگتا ہے کہ آپ سے بات ہو رہی ہے۔ اور سچ پوچھئے تو ایسا چسکہ لگ ہے کہ اترنا مشکل لگتا ہے۔ ابھی بھی دفتر میں پانچ منٹ کی بریک ملتے ہی آپ کی خدمت میں آ حاضر ہوئے ہیں۔ ہم شاید آپ کو اتنا نہ جانتے ہوں جتنا آپ ہمیں جانتے ہیں۔ یہ بھی جانتے ہیں کہ ہم دبئی رہا کرتے تھے اور یہ بھی کہ اب یہاں کے ہو لیے ہیں۔ اگلا رخت سفر کہاں کا ہے واللہ اعلم۔
ہماری کھانے سے محبت بھی آپ سے چھپی نہیں۔ لیکن ایک بات آپ بھی نہیں جانتے اور وہ یہ ہے کہ کھانے پینے کے علاوہ ہمارا دوسرا شغل فلمیں دیکھنا ہے۔ خدا بھلا کرے سنیما گھروں کا جو ہمارے لئے مکتب کی حیثیت رکھتے ہیں۔ خدا مزید بھلا کرے پاکستانی فلمی صنعت کا جس نے ایک نئی انگڑائی لی ہے۔ طبیعت ذرا نخریلی ہے اس لئے ہر فلم پسند آتی بھی نہیں۔ لیکن پھر بھی کوشش کی قدر کرنی چاہیے۔ دیکھئے یہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔
کل پرسوں ایک ٹریلر نظروں سے گزرا۔ فلم کا نام تھا پنکی میم صاحب۔ کہانی ہے دبئی میں ایک اچھی زندگی کی تلاش میں جانے والی لڑکی پنکی کی جس کی ملاقات وہاں مہر نامی ایک امیر خاتون سے ہوتی ہے۔ پنکی ان خاتون کی ملازمہ بنتی ہے اور نت نئے خواب بنتی ہے۔ لیکن شاید ہر کسی کو خواب دیکھنے کا بھی حق نہیں۔ ٹریلر دیکھ کر ذرا تجسس ہوا کہ فلم بھی دیکھی جائے۔ لیکن دسمبر کا انتظار کرنا پڑے گا۔
اس فلم کی خاص بات یہ ہے غالبا پہلی پاکستانی فلم ہے جس میں دبئی کی زندگی دکھائی گئی ہے۔ غالبا مشرق وسطی میں پاکستانیوں کی تعداد دنیا میں کہیں اور سے زیادہ ہے۔ لیکن مختلف ثقافتوں کے اختلاط کے باعث ایک نئے کلچر نے جنم لیا ہے جو اچھا ہے یا برا ہے دبئی کا ہی خاصہ ہے۔ کاسٹ بھی نئی ہے جس سے اس فلم میں تازگی کا احساس بھی ابھرتا ہے۔
ہم اس بات کے حق میں نہیں کہ فلم چیرٹی میں دیکھی جائے۔ یہ کیا بات ہوئی صاحب؟ صرف اس لئے کیوں فلم دیکھیں کہ پاکستانی ہے؟ کچھ فلم میں بھی تو دم ہو۔ پنکی میم صاحب بظاہر تو مزیدار لگ رہی ہے۔ لیکن اصل ملاکھڑا تو سنیما گھر میں ہی ہوگا۔
دیکھتے ہیں دبئی کا یہ اونٹ کا کروٹ بیٹھتا ہے۔


