جادوئی چھڑی عرف گھریلو ملازمین

پاکستان آتے ہی ہر قدم پھونک پھونک کر اٹھانا پڑتا ہے۔ زبان کو تالہ لگانا پڑتا ہے کہ مبادا کوئی ایسی بات کہہ دوں جس سے یہ سننے کو ملے، ”باہر والوں کا دماغ خراب ہوتا ہے۔“ لہذا اپنی پالیسی تو یہی ہے کہ آنکھیں، زبان، اور کان بند رکھے جائیں۔ فوکس صرف پکے پکائے کھانے، دھلے دھلائی استری شدہ لان کے جوڑے، اور صاف ستھرے کمرے پر رکھا جائے جس میں ہماری اپنی محنت عنقا ہوتی ہے۔ اگر اس

Read more

لاہور شہر، جنگ، اور موت کے سائے

وہ کیا محاورہ ہے، ”سر منڈواتے ہی اولے پڑنا“ ؟ ہمارے ساتھ بھی کچھ یوں ہی ہوا اور ایسا ہوا کہ اولے تو کیا گولے برس پڑے۔ قریب دس برس کے بعد ہمیں سوجھی کہ اب مغرب کی چکاچوند کو خیرباد کہا جائے۔ کبھی واپسی کا دل کیا تو سوچیں گے لیکن فی الحال یہاں سے بوریا بستر لپیٹا جائے۔ جس چاردیواری کو بھلے لوگ گھر کا نام دیے ہوئے ہیں اس کا سامان تتر بٹر کیا جائے۔ برتنوں کو

Read more

بیٹیوں کے باپ

آئیے آج آپ کو ایک ایسی کہانی سناتے ہیں جو شاید آپ کی بھی ہو۔ اپنی کہانی ہونے کے لیے ضروری نہیں کہ وہ حقیقت میں ہی ہوئی ہو۔ بعض اوقات ایک ایسی دنیا جہاں آپ اس دنیا کی تلخی سے چھٹکارا پانے کو قدم رکھتے ہوں وہ بھی آپ ہی کی دنیا ہے۔ کسی کو دکھائی اس لیے نہیں دیتی کہ وہ دنیا خاص آپ ہی کے لیے بنی ہے اور آپ ہی نے بنائی ہے۔ اسی لیے بسا

Read more

گناہ گار عورتیں

معاف کیجئے گا کہ حاضری میں تاخیر ہوئی۔ لیکن۔ ٹھہریے، یہاں کون سی رول کال لگ رہی ہے کہ آنے جانے کا وقت مختص ہو۔ جہاں گھڑیال اور پڑتال نہ ہو وہاں کیسی جلدی اور کیسی دیری۔ موت کی طرح زندگی میں دیگر حوادث کا بھی ایک وقت مقرر ہے۔ ہمارا آنا اب ہی ٹھہرا تھا۔ معافی واپس کیجئے۔ کسی مناسب موقعے پر لے لیجیے گا۔ اب مدعے پر آئیں؟ کچھ عرصے سے سوشل میڈیا سے دور ہیں لہذا کئی

Read more

محبت کے رشتے

پتہ نہیں لوگ کیسے ایک ہی زبان میں سوچ لیتے ہیں۔ ہم تو دعا کرتے ہوئے بھی خدا کو اردو اور انگریزی کا ملغوبہ ہی سناتے ہیں۔ شکر ہے کہ دعا میں اسی کوئی قید نہیں اور خدا تمام زبانیں بخوبی سمجھتا ہے۔ ہم انگریزی میڈیم اسکولوں سے پڑھے لوگوں کا یہ المیہ مزید گہرا ہے کہ اپنی مادری زبان اور انگریزی دونوں ہی اپنی زبانیں لگتی ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ہم نے لکھنے کا آغاز تو انگریزی

Read more

بانو کہانی: کیا عورت ہی عورت کی دشمن ہے؟

یوں تو آپ ہمیں بارہا باور کرواتے ہیں کہ ہم کم لکھتے ہیں۔ صحیح کہتے ہیں۔ لیکن ابھی اگر ہم آپ سے اپنی پچھلی تحریر کے بارے میں پوچھ لیں تو آپ یوں خاموش ہوں گے کہ کاٹے لہو نہیں بدن میں۔ ہم سے شرط لگوا لیجیے کہ آپ کو وہ تحریر چنداں یاد نہیں جس میں ہم نے اپنی سہیلی انعم کا ذکر کیا تھا۔ اچھا، اب جانے دیجئے بہانے بنانا۔ آپ کو اس کا مرکزی خیال یاد ہو

Read more

بری عورت کا انقلاب

کبھی کبھی ارد گرد اس قدر شور ہوتا ہے کہ سر بھنبھنانے لگتا ہے۔ کان سائیں سائیں کرنے لگتے ہیں۔ یوں لگتا ہے جیسے دماغ ماوف ہونے کو ہے۔ بس ایک آواز اور آئی تو صور اسرافیل پھونکا جائے گا۔ قیامت کا وقت ہو گا۔ یہ دنیا اپنے منطقی انجام کو پہنچے گی۔ وہ دن آ جائے گا جس کا وعدہ تمام الہامی کتابوں میں لکھ رکھا ہے۔ ایک زوردار دھماکہ ہو گا۔ اور اس کے بعد بس موت کا

Read more

زندگی گزارنے کا سب سے آزمودہ نسخہ

کہانی تو کل کی ہے۔ سنا آج رہی ہوں۔ کیوں سنا رہی ہوں؟ ایسے سوال نہ پوچھا کریں پلیز۔ بس آج سنا رہی ہوں تو آج سنا رہی ہوں۔ اب مجھے اور کام بھی تو کرنے ہوتے ہیں۔ شاید زندگی میں کبھی وہ وقت آئے گا جب ہم صرف سمندر کو تکیں گے اور روز ایک نئی کہانی سنائیں گے۔ فی الحال۔ ۔ ۔ ہنوز دلی دور است۔ چلیے، اپنی چائے کو کیتلی سے چینی کے کپ میں ڈال لیجیے

Read more

کہانی بدلنی ہو گی

بائی گاڈ، بچپن سے ہی ہمیں خود کو کسی کہانی کا کردار سمجھنے کا بڑا شوق تھا۔ کہانیاں پڑھنے کا کیڑا جو تھا۔ سادہ زمانہ تھا۔ آئی پیڈ اور اسمارٹ فون نہیں تھے۔ بس کتابوں مین چھپی یا دادی کی زبان پر آئی کہانیاں ہی تھیں۔ بائی دا وے، ہر کہانی ایک جیسی ہی ہوتی تھی۔ وہی شہزادی جس کی ماں سوتیلی تھی اور باپ کسی دیس کا راجہ۔ خزانہ ہیرے موتیوں کی بہتات سے پھٹنے کو ہوتا لیکن محل

Read more

برانڈ نیو انقلاب

ملک پچھلے چھہتر برس سے اپنی تاریخ کے نازک ترین موڑ پر کھڑا ہے۔ باقی ہر قسم کی غیر یقینی ایک طرف، لیکن یہاں وطن عزیز کی ثابت قدمی کو داد دینی ہو گی کہ نازک ترین موڑ سے ہلنے کی گستاخی کا مرتکب نہیں ٹھہرا۔ کہ وفا اور ثابت قدمی اس کا ذائقہ شعار ہے۔ سینتیس برس تو ہمیں اس دھرتی پر ہونے کو آئے۔ وہ جو ہم سے پہلے کی کئی بہاریں دیکھ چکے ہیں وہ بھی یہی

Read more

اقلیتوں کو تمام حقوق حاصل ہیں

سمجھ نہیں آ رہی کہاں سے لکھنا شروع کیا جائے۔ لکھا جایا بھی یا کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر لی جائیں۔ آفٹر آل، آسٹریلیا بیٹھے ہیں جہاں نہ بجلی جاتی ہے نہ قانون کی بالادستی۔ سڑک پر دھول مٹی نہیں۔ لال مرچ میں اینٹوں کے پاوڈر کی ملاوٹ نہیں۔ اس بات کی چنداں فکر نہیں کہ اگر کسی دن سڑک پر کسی بدمست ٹرک کے نیچے آ کر مر گئے تو سب سے پہلے لوگوں کو ہمارے موبائل فون

Read more

ایک محنت کش لڑکی کا ایڈونچر

دیکھئے آپ کا گلہ تو بجا ہے۔ اس بات میں رتی برابر شک نہیں کہ میں کچھ عرصے سے لکھنے میں سستی کر رہی ہوں۔ آپ جو کہہ رہے ہیں بالکل ٹھیک کہہ رہے ہیں۔ جب سے پاڈکاسٹس کا روگ لگایا ہے تب سے لکھنا لکھانا تو قصہ پارینہ ہی لگتا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ آج کا یہ کالم بار بار لکھ کر مٹایا ہے۔ مشق نہ ہو تو ماہر پہلوان بھی اکھاڑے میں پچھاڑے جاتے ہیں۔ مجھ

Read more

نرگس کو ہراساں کرنے والے ان کی شان نہیں گھٹا سکتے

اب تو دنوں کا حساب بھی نہیں رکھا جا سکتا۔ یاد نہیں کہ آخری کالم کب لکھا تھا۔ یہ دنیا کے جھمیلے سوائے بوجھ ڈھونے اور بل بھرنے کے علاوہ کسی قابل ہی نہیں چھوڑتے۔ وہ حس بھی مر جاتی ہے جو آپ کا ضمیر جھنجھوڑ کر آپ کو لکھنے پر اکساتی ہے۔ جب تک آپ لکھ کر اپنے اندر کا جوالا باہر نہ اگل دیں آپ کو لیٹنے بیٹھنے نہیں دیتی۔ کبھی کبھی تو لگتا ہے کہ شاید آنکھوں

Read more

بیکار کے شغل اور عزت کا میٹر

کچھ ہی دن پہلے کی بات ہے کہ ایک دوست کا فون آیا جنہوں نے رسمی دعا سلام کے بعد جھٹ سے نہ ملنے کا شکوہ کر ڈالا، بڑے ہی مان اور لاڈ سے۔ ایک لمحے کو تو سوچ میں پڑ گئے کہ آخر پہلے بھی کون سا انہی کی گود میں براجمان رہتے تھے۔ عید بکر عید کے سوا ملاقات ہوتی ہی کتنی تھی۔ ویسے بھی قبلہ، ہماری آدم بیزاری تو اپنی مثل آپ ہی ہے۔ امید ہے کہ

Read more

بھوٹان میں صحافی آزاد ہیں

کہتے ہیں کہ بہت عرصے بعد کوئی کام کرو تو اس کو کرنے میں دقت ہوتی ہے۔ دماغ کو زنگ لگ جاتا ہے وغیرہ وغیرہ۔ ہم بھی آج بہت عرصے کے بعد آپ کی خدمت میں کچھ لکھ کر پیش کر رہے ہیں۔ کسی بھی قسم کی کوتاہی، نالائقی یا کم علمی کو درگزر کیجئے گا۔ اتنا عرصہ تاخیر کی وجہ کچھ تو مسائل روزگار تھے اور کچھ یو ٹیوب کی طرف رخ تھا۔ جو بات کہنا چاہتے تھے وہ ویڈیو کی شکل میں کہہ دیتے تھے۔ نہ کہہ سکتے تو کسی سے کہلوا دیتے تھے۔

Read more

جیو ماہرہ خان

سیانے کہتے ہیں کہ قدر کھو دیتا ہے ہر روز کا لکھتے رہنا۔ ہم اس بات سے متفق تھے اور اسی لئے کم لکھنے پر اکتفا کرتے تھے۔ بہرحال تجربے سے یہ بات ثابت ہوئی کہ کم لکھنے سے بھی قدر کو کوئی خاطر خواہ افاقہ نہیں ہو رہا تھا۔ لہذا ہم کیوں اس پنگے میں پڑیں۔ روز لکھیں گے اور بہت لکھیں گے۔ پڑھنا آپ کی صوابدید ہے۔ امی بتاتی ہیں کہ ہم بچپن ہی سے حسن پرست تھے۔

Read more

عمار علی جان کو رہا مت کیجئے

جب سے ولاگ بنانے شروع کیے ہیں لکھنے کا سلسلہ کچھ ٹوٹ سا گیا ہے۔ شاید اصل مقصد اظہار تھا جو اب ویڈیو کی صورت میں ہو جاتا ہے۔ آج احساس ہو رہا ہے کہ کچھ باتیں لکھنے میں ہی کہی جا سکتی ہیں۔ بعض اوقات جو بات انسان کے دل میں ہو اسے زبان پر لانے کے لیے قلم کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ کل رات سے طبیعت کچھ عجیب سی ہے روزگار کے مسائل کی وجہ سے لکھنے میں دیر ہو گئی لیکن لکھنا تو تھا ہی۔

رات کو خبر ملی کہ ممتاز ایکٹیوسٹ اور استاد عمار علی جان کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ انہیں میں ذاتی طور پر تو نہیں جانتی لیکن ہم دونوں ایک دوسرے کو ٹویٹر پر فالو کرتے ہیں۔ ان کی بہن سے اچھی سلام دعا ہے۔ کچھ دنوں سے پاڈکاسٹ کا سلسلہ شروع کر رکھ ہے تو خواہش تھی کہ عمار علی خان کا انٹرویو بھی کروں۔ یہ وہ استاد ہیں جو طلبا کے حقوق کے لیے کوشاں رہتے ہیں۔ میرے میسج پر انہوں نے کہا کہ وہ چاہیں گے کہ یہ پاڈکاسٹ طلبا ہی کریں کیونکہ یہ ان کی جدوجہد ہے۔ کوریج بھی ان ہی کو ملنی چاہیے۔

Read more

انصار عباسی صاحب، فحاشی، اور قوم کا فخر

جہاں باقی صحافی اپنے چھوٹے موٹے کاموں میں الجھے رہتے ہیں قدرت نے انصار عباسی صاحب کو وہ ذمہ داری بخشی ہے جو ماٹی کے یہ بت ادا کرنے سے قاصر ہیں۔ ہمارے قابل فخر انصار عباسی صاحب صبح شام ٹی وی پر ہونے والی فحاشی ڈھونڈنے میں یوں محو رہتے ہیں جیسے دو سال کا بچہ اپنے آئی پیڈ پر ہو۔ کچھ صلاحیت خداداد بھی ہے کہ یہ وہاں بھی فحاشی ڈھونڈ نکالتے ہیں جہاں تمام دنیا ٹٹولتی بھی پھرے تو نہ پہچان پائے۔ بھلے ٹیلیویژن پر ورزش کرتی خاتون ہوں یا گالا بسکٹ میں ناچتی ہوئی ستارہ امتیاز مسمات مہوش حیات، عباسی صاحب کی عقابی نظر فحاشی کھوج ہی لیتی ہے۔

Read more

بے گھروں کے گھر

شام کے پونے سات بجنے کو ہیں۔ مجھے گھر آئے قریب پونے دو گھنٹے گزر چکے ہیں۔ اس وقت ٹانگیں اور پیر یوں تھک چکے ہیں جیسے انہیں کبھی آرام نصیب ہی نہ ہوا ہو۔ سائیڈ ٹیبل پر دھرے لیمپ کی مدھم پیلی روشنی بھی اب ٹمٹمانے لگی ہے۔ لگتا ہے بلب فیوز ہونے والا ہے۔ یوں تو مجھے اٹھ کر لیمپ بجھا دینا چاہیے لیکن میرے جسم کی تھکان مجھے مفلوج کیے بیٹھی ہے۔ آج بہت تھک گئی ہوں۔ کئی میل پیدل چلی ہوں۔ کیوں چلی ہوں؟ مجھے نہیں معلوم۔ رات کا کھانا بنانا ہے لیکن جسم و جان غالباً ہر قسم کی ہمت سے جواب دے چکے ہیں۔

Read more

خان صاحب کو اچھی قوم نہیں ملی

اسکرپٹ لکھتے لکھتے میں یہ بھول ہی گئی کہ مجھے تو کالم بھی لکھنے ہیں۔ خیر، تحریر لکھاری کے ارادے کی محتاج نہیں ہوتی۔ اپنا آپ منوا لیتی ہے۔ جس تحریر کو دنیا میں آنا ہوتا ہے اسے کون روک سکتا ہے۔ آپ بھی کہہ رہے ہوں گے تحریر نہ ہوئی پہلوٹھی کی اولاد ہو گئی۔ جی، صاحب ایسا ہی ہے۔ سب تخلیق کے ہی مختلف پہلو ہیں۔ قریب ڈیڑھ مہینہ پہلے یو ٹیوب چینل کا آغاز کیا ہے۔ اس سے فارغ ہوں تو گھرداری دبوچنے کو تیار بیٹھی ہوتی ہے۔ کیا لکھوں؟ کیسے لکھوں؟

وہ تو خدا بھلا کرے امیر المومنین، ریاست مدینہ ثانی کے فرمانروا جناب عمران خان صاحب کا جنہوں نے کل میرے کان کھینچے کہ نالائقی کی بھی حد ہوتی ہے۔ چلو، اٹھو اور لکھتی بنو۔ حضور قوم سے خطاب کے خاصے شوقین ہیں۔ مجھ نالائق کی طرح انہیں کوئی بھی بات کہنے سے پہلے زیادہ سوچنا سمجھنا نہیں پڑھتا، اسکرپٹ لکھنا نہیں پڑتا، زمین پر ٹرائی پوڈ اسٹینڈ ٹکا کر ویڈیو شوٹ نہیں کرنی پڑتی اس لیے ان کے لیے یہ کام آسان ہے۔ خان صاحب کی طبیعت یوں بھی موٹیویشنل اسپیکر موافق ہے اس لیے انہیں کوئی بات بیان کرتے ہوئے اسے گوگل یا کتابوں سے کنفرم بھی نہیں کرنا پڑتا۔

Read more

مزدوروں کے عالمی دن کے موقع ہر ہمارا قوم سے خطاب

آج بہت دنوں کے بعد لکھ رہی ہوں۔ اس طویل غیر حاضری کی معذرت قبول کیجئے۔ تین ہفتے پہلے ہی یو ٹیوب چینل کا آغاز کیا تھا اور وہی جنونی طبیعت اب بھی برقرار ہے۔ پہلے لکھتے ہوئے صفحے کالے کرتے تھے اور اب ویڈیو بناتے ہوئے فون کی میموری کا کلیجہ چھلنی کرتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ عورتیں ایک وقت میں کئی کام کر لیتی ہیں۔ ہم بھی لکھتے ہوئے چولہے پر بریانی تو چڑھا سکتے ہیں لیکن

Read more

ایک گھر سے باہر کی مشہور شخصیت کا اظہار تشکر

ہر فنکار کا خواب ہوتا ہے کہ وہ ایک دن آسکر ایوارڈ کی تقریب میں پوری دنیا کے سامنے جھلملاتا جگمگاتا ہوا اسٹیج کی جانب بڑھے اور کالے رنگ کی اس دوشیزہ کو اپنی بانہوں میں لے سکے۔ ہمیشہ کے لیے اسے گھر کی زینت بنا سکے۔ افوہ۔ ایوارڈ کی بات کر رہے ہیں۔ قرنطینہ میں آپ کا ذہن بھی نجانے کدھر کی مٹر گشتیاں کرنے لگا ہے۔ جی تو ہم کہاں تھے؟ آسکر ایوارڈ کی تقریب میں۔ اسٹیج کی جانب بڑھتا ہوا خود کو ساتویں آسماں پر محسوس تو کرے لیکن ساتھ ہی ساتھ عاجزی کی کامیاب ایکٹنگ بھی کرے (بس دکھاوے کے واسطے ) ۔

Read more

کرونا وائرس؟ نو پرابلم

ہر طرف شور و غوغا بلند ہے۔ کیا خبر اصل میں نہ ہی ہو۔ لیکن جیسا کہ ہم تو پاکستان سے باہر مقیم ہیں ہمارے لیے وطن عزیز کی ہر تصویر وہی ہوتی ہے جو سوشل میڈیا پیش کرے۔ عرصہ ہوا گھر میں ٹیلیویژن نہیں رکھا۔ چپ چاپ ٹویٹر کو اوپر نیچے اسکرول کیے جاتے ہیں اور ہر خبر پر ہونے والا طوفان نظر میں رکھتے ہیں۔

Read more

اسلام آباد میں پر امن احتجاج منع ہے

پاکستان سے گھر لوٹے تیسرا دن ہے۔ اب گھر کی تعریف بھی بدل چکی ہے۔ انسان بھی عجیب چیز ہے۔ جس کھاٹ اور تکیے کا عادی ہو جائے اسی کو گھر کہنے لگتا ہے۔ وہاں سردی سے ٹھٹھر رہے تھے اور یہاں آسٹریلیا میں گرمی میں جھلس رہے ہیں۔ لیکن ہوا صاف بھی ہے اور آزاد بھی۔ عجیب بات ہے نا کہ جشن آزادی پر پاکستان میں کیا کچھ پٹاخے نہیں پھوڑے جاتے۔ ملی نغمے ہر طرف بجائے جاتے ہیں۔ لیکن آزادی کیا ہے؟ واللہ اعلم۔

Read more

استعفی دیں شیخ رشید صاحب کے دشمن

بہت عرصہ پہلے کی بات ہے جب ہم یونیورسٹی کی ایک اسائنمنٹ کے بہانے لوہاری دروازے گئے۔ جی، بہانہ ہی تھا ورنہ عمر کے اس حصے میں کون کافر ریسرچ کا شوق لے کر بیٹھے تھا۔ لاہور شہر میں اپنائیت کا یہ عالم ہے کہ ہم لوگ یہ نہیں دیکھتے کہ سامنے کون بیٹھا ہے۔ جھٹ سے انجان لوگوں کو بھائی، خالہ اور چچا بنا لیتے ہیں۔ کسی کو بھی نام سے پکارنا ہماری تہذیب کے خلاف ہے۔ تلی ہوئی

Read more

ساگر من کی چہ مگوئیاں

ایک بات بتائیے۔ آپ کا حافظہ کیسا ہے؟ کیا آپ کو اپنے بچپن میں پہنی جانے والی فراک اور دس محرم پر پی ٹی وی پر لگنے والی شام غریباں یاد ہے؟ کیا آپ کو گرمیوں کی وہ تپتی دوپہر یاد ہے جب آپ کی امی کی قمیض روٹیاں بناتے ہوئے پسینے سے شرابور ہو چکی تھی؟ کیا آپ کو اپنے ہمسائے میں رہنے والے وہ دو ننھے بھائی یاد ہیں جو ہر آتے جاتے کو سلام کی گردان سناتے تھے؟ اگر آپ کو یہ یاد نہیں تو کچھ بھی یاد نہیں۔

Read more

سانحہ گھوٹکی پر چپ رہنے والوں کی جان کو خطرہ ہے

ہمیشہ کوشش کی ہے کہ ہر موضوع پر لکھا جائے کہیں کچھ موضوعات سے دور رہا جائے۔ کل ہی کی بات ہے کہ ہماری امی نے مشورہ دیا کہ غیرت کے نام پر قتل پر کالم لکھا جائے۔ ہم نے اپنے ہی گاؤں میں ہونے والے ایک ایسے واقعے کا ذکر کیا تو فوراً بولیں کہ مت لکھنا۔ لیکن ہمیں لگتا ہے کہ ایک بے گناہ جان کا ہم پر قرض ہے جو لفظوں سے اتارنا لازمی ہے۔ لیکن کچھ بے گناہ جانوں کا قرض ایسا ہے جو شاید اپنی جان سے اتارنا پڑے۔ اسی لئے ہم کیا سب ہی ہونٹ سیے بیٹھے رہتے ہیں۔

Read more

صلاح الدین کی لاش منہ چڑا رہی ہے

ہم نے گھر میں پاکستانی نیوز چینل کا کنکشن نہیں لیا ہوا۔ پہلے تھا۔ ایسی ایسی خبر آتی تھی کہ دل ہی ڈوبتا رہتا تھا۔ پردیس میں یوں بھی ہر چیز زیادہ زور سے لگتی ہے۔ وہاں کوئی دکان کا شٹر بھی گرے تو خبروں پر ایسا چرچا کیا جاتا ہے کی لگتا ہے پورا ملک بند ہو گیا۔ کچھ دوستوں کے بقول ہمارا یہ فیصلہ کبوتر کی آنکھیں بند رکھنے کے مترادف ہے۔ مصیبت تو نہیں ٹلتی لیکن یہ نیک بخت اپنی آنکھیں میچ لیتا ہے۔ بلی بڑھتی رہتی ہے۔ یہ کھڑا رہتا ہے۔ موت تو بر حق ہے لیکن انسان وقت سے پہلے ڈر کی موت کیوں مرے۔ جتنا وقت اچھا گزر جائے غنیمت جاننا چاہیے۔

Read more

کشمیر جل رہا ہے اور ہم غبارے پھلا رہے ہیں

مقروض ہونا بڑی مشکل کیفیت ہے۔ پتہ نہیں وہ کون لوگ ہوتے ہیں جن کے دل پہ قرضے کا بوجھ نہیں ہوتا۔ آرام سے زنگی گزارے چلے جاتے ہیں۔ ہمیں تو کل رات نیند ہی نہ آئی۔ کبھی لگتا کہ گرمی زیا دہ ہے۔ کبھی جسم ٹھٹھرنے لگتا۔ کاندھوں اور سر پر ایک عجیب سا بوجھ تھا جیسے کسی نے منوں وزن لاد دیا ہو۔ انسان اپنی کیفیت اچھی طرح سمجھتا ہے۔ ہمیں بھی سمجھ آ رہی تھی لیکن کوشش یہی تھی کہ آنکھ لگ جائے۔ کچھ ایسا لگنے لگے جیسے کبھی کچھ ہوا ہی نہیں تھا۔

Read more

جب مسافر کو سوٹ کیس اپنا گھر لگنے لگتا ہے

اب ہم نے پرانی عادتیں چھوڑ دی ہیں کہ کہیں بھی جاتے ہی اپنا کالا سوٹ کیس کھول دیا۔ اب تو ہم سامان کو سوٹ کیس میں ہی رہنے دیتے ہیں۔  اسی سے قمیض نکالی۔ جھاڑ کر سیدھی کی۔ پہن کر سوٹ کیس میں سے ہی میک اپ باکس نکالا۔ لپ اسٹک کو ہونٹوں پر جمایا۔ واپس میک اپ باکس میں ڈالا۔ اس لال ڈبے کو واپس سوٹ کیس میں ڈالا اور اپنی راہ لگ لیے۔  یہی سوٹ کیس اپنا گھر لگتا ہے۔  بس یہی اپنا ہے۔  بس یہی دائمی ہے۔ 

Read more

یہ سب فلاں فلاں کا قصور ہے

کل رات تک ورلڈ کپ کا دور دورہ تھا۔ تھا اس لئے کہ پانچ سو رنز کا خواب پورا نہ ہو پایا۔ کچھ اغیار کی سازشوں نے بھی مارا۔ جب پتہ تھا کہ ہمیں ان کی اچھی گیم کی ضرورت تھی تو ڈھنگ سے کیوں نہیں کھیلے؟ ان کے ہاتھوں میں مہندی لگی تھی کیا؟ سارا ورلڈ کپ ہی فکسڈ تھا۔ ان کافروں کو بھی اچھا کھیلنا تب ہی یاد آتا ہے جب ہمارے مد مقابل ہوں۔ ایک دوسرے کے سامنے تو فتح میں یوں تہذیب دکھاتے ہیں کہ جیسے کھانے کی لمبی آبنوسی میز پر سب بیٹھے ہوں۔ سب کے پیٹ میں چوہے دوڑ رہے ہوں۔ لیکن پندرہ منٹ اسی تکرار میں گزر جائیں کہ پہلے آپ۔ جی نہیں، پہلے آپ۔ ہر کوئی اسی کوشش میں سرگرداں ہوتا ہے کہ دوسرا ہی بھنے قورمے سے ٹانگ کی بوٹی اٹھائے۔

Read more

پردیس کی عید

ہمارے اکثر پڑھے لکھے دوست کہتے ہیں کہ پڑھا کرو تاکہ ڈھنگ کا لکھنا آئے۔ اس بات کا برملا اعتراف کریں گے کہ ہم سے نہیں ہو پاتا۔ شرمندہ ہیں لیکن کیا کیجئے کہ یہ اپنے بس کی بات ہی نہیں۔ کچھ آپ لوگوں نے بھی عادت بگاڑ رکھی ہے کہ جیسا بھی لکھیں پیار سے پڑھ بھی لیتے ہیں اور سراہ بھی دیتے ہیں۔ ہم جیسے نالائق کو اور ہلہ شیری مل جاتی ہے۔ اگلا کالم پھر یونہی اپنی

Read more

مریم نواز کے شوہر کہاں ہیں؟

یوں تو ہماری اوقات اس کائنات میں ایک ذرے کے مترادف بھی نہیں۔ کبھی کبھار لکھ لکھا لیتے ہیں۔ دو چار لوگ پڑھ بھی لیتے ہیں۔ بہت ہو جائے تو کمنٹ بھی کر دیتے ہیں۔ آسمان زمیں پر گر پڑے تو شیئر بھی کر دیتے ہیں۔ یہ وہی دو چار کرم فرما ہیں جو ہمارے نام سے واقف ہیں۔ ورنہ یقین جانئے کہ گھر میں تو کوئی دوسری بار مانگنے پر سالن بھی نہ دے۔ اگر کبھی کسی کے سامنے کسی کی غلطی سے کی گئی تعریف کا ذکر بھی کر دیں تو امی یہی کہتی ہیں
’ان کی نظر خراب ہو گی۔ ‘

جس معاشرے سے تعلق رکھتے ہیں وہاں عورت کے اظہار رائے پر اس حد تک پابندی ہے کہ اگر کچھ لکھنا بھی چاہے تو مناسب یہی ہے کہ قلمی نام سے لکھے۔ ہم تو ٹھہرے بہادر سپاہی۔ نہ صرف اپنے نام سے لکھتے ہیں بلکہ تصویر بھی سب کے سامنے ہے۔ سوشل میڈیا ہر بھی خاصے ایکٹو ہیں۔ اب وقت کم ملتا ہے لیکن پھر بھی کسی نہ کسی طرح شیطان کے اس چندے میں اپنا کار خیر جمع کراتے رہتے ہیں۔ سب کو اس بات کا تو حق الیقین ہے کہ سعدیہ ہی ہے۔ پردے میں چھپا عبدالقدوس نہیں۔

Read more

کائرہ صاحب، ہم شرمندہ ہیں

بار بار وہی موضوع، بار بار وہی کالم۔ سلسلہ یوں ہی چلتا رہا تو شاید کل کو صرف فلمی ستاروں کے بارے میں ہی لکھوں۔ کم سے کم کپڑے تو بدلتے ہیں۔ یہ معاشرہ تو چہرے تک نہیں بدلتا۔ وہی تعفن میں ڈوبی غلاظت کی ڈھیریاں، وہی بدبودار پانی کے شاپر جنہیں چھت پر سے نیچے چلتے راہگیروں پر پھینکا جاتا ہے۔

جب اجلے کپڑوں میں ملبوس یہ شخص بیچارگی سے ادھر ادھر دیکھتا ہے کہ آفت کہاں سے ٹوٹی تو ایک طوفان بدتمیزی برپا کیا جاتا ہے۔ مکروہ قہقہے فلک کو چیرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن یہ آسماں بھی تو ایک پروہت ہے۔ راکھ اور سیندور ملے گا لیکن بہت یو گیا تو مالا جپ لے گا۔ اور کسی قابل نہیں۔ اپنی جگہ پر یوں ہی کھڑا رہے گا۔ اسی طرح ایک ٹانگ پر، ایک ٹک گھورتا ہوا۔

یہاں کچھ نہیں بدلتا۔ نہ غلاظت کی ڈھیریاں، نہ اجلے کپڑے پہننے والے کی بیچارگی، نہ مکروہ قہقہے۔ ہاں سنا ہے کچھ تبدیلی آئی ہے۔ شاید قہقہے بلند ہو گئے۔ آواز اس قدر اونچی ہے کہ لگتا ہے کان پھٹ جائیں گے۔ یہ شور باہر کا ہے یا اندر کا؟ واللہ اعلم!

Read more

شکریہ رمیض راجہ

ایک تو کالم لکھنے کے بعد یاد نہیں رہتے۔ اپنی آواز خود سننا اور اپنا لکھا ہوا بھی خود ہی پڑھنا کم۔ سے کم ہمارے لئے تو جوئے شیر ہے۔ ہمیں قوی یقین ہے کہ کئی موضوعات بھی گڈ مڈ ہو جاتے ہوں گے۔ لیکن خدا بے ہماری اس کمزوری پر یوں پردہ ڈال دیا کہ وطن عزیز اور اس کے لوگوں کے حالات نہیں بدلتے۔ ہمارے عنوان جتنی بار مرضی گھس پٹ جائیں ہمیشہ پانی چھڑکے موتیے کے پھولوں

Read more

رمیز راجہ اور گریس لیس بھیڑ بکریاں

کل پرسوں کی بات ہے کہ نامی کرکٹر رمیز راجہ صاحب کی ٹویٹ نظروں سے گزری۔ جس میں انہوں نے سب بھیڑ بکریوں کو تلقین فرمائی کہ صبر سے کام لیں۔ اپنی زندگی میں ’تبدیلیاں‘ کے کر آئیں۔ ملکی ترقی شاہ بنی گالی کے بغیر ممکن نہیں۔ لہذا واویلا کرنے والے کچھ ’گریس‘ سے کام لیں۔ یعنی ٹانگ پہ ٹانگ چڑھا کر بیٹھ رہیں۔ عینک کو قرینے سے آنکھوں ہر جمائیں۔ ساڑھی کے پلو پر کوئی شکن نہ آنے دیں۔ کوئی بات بھی ہو تو کمان سے ابرو کے اشارے سے ہی کام لیں۔ جاہلوں کی طرح مہنگائی کا رونا نہ ڈالیں۔

Read more

ناصر خان جان تو مہمان تھا

فرنگیوں کے ملک میں پہلا روزہ تھا۔ باوجود اس کے کہ موسم دلفریب تھا جوڑ جوڑ دکھ رہا ہے۔ ہمیں عادت تھی رمضان میں پوری دنیا کو روزے کے گرد گھمانے کی۔ یہاں کسی کو کیا لگے۔ سب معمول کی طرح تیزی سے چل رہا ہے۔ ایک طرح سے روزہ پاکستان سے آسان ہے۔ کسی کو کسی سے مطلب نہیں۔ یہاں ہمارے کوئی دوست احباب تو ہیں نہیں۔ اس لئے رمضان میں گھر پر کنبوں کو افطار کا مہمان کرنے کا کشت نہیں کاٹنا پڑے گا۔

معاف کیجئے گا لیکن ہم بچپن سے کچھ آدم بیزار واقع ہوئے ہیں۔ مہمان داری تو ہمارے بس کا روگ ہے ہی نہیں۔ شاید اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہم نے ایک بہت مہمان نواز گھرانے میں آنکھ کھولی تھی۔ ہم نے شروع سے ہی مہمان کو دھرم کی حیثیت میں دیکھا۔ والد صاحب کا بس نہیں چلتا تھا کہ ہر کسی کو اپنے گھر بلا لیں۔ والدہ کو بھی انواع و اقسام کے کھانوں سے دسترخوان پر کرنے کا شوق تھا۔ گھر میں تانتا سا بندھا رہتا تھا۔ ہمارا اتنی محنت سے جی گھبراتا تھا اور ہے۔

Read more

خان صاحب، آپ اب وزیر اعظم ہیں

ہر بار سوچتے ہیں سیاسی بات نہیں کریں گے۔ غیر سیاسی رہیں گے۔ ذرا پاپولر ہونے کی ٹھانیں گے۔ لیکن کچھ بات بن نہیں پاتی۔ شاید قسمت میں یہی لکھا ہے جس سے لڑنا ہمارے بس کی بات نہیں۔ زندگی میں اور بہت جنگیں ہیں لڑنے کو۔ ہم وہی لڑیں گے جن میں جیتنے یا کم ہارے جانے کا احتمال ہو۔ لہذا قسمت کے خلاف جنگ کینسل! ابھی لکھنے بیٹھے تو خیال آیا کہ اس موضوع پر تو پہلے بھی

Read more

ہزارہ برادری کے ہزاروں قتل اور نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم

جمعے کا دن تھا۔ سال کے تیسرے مہینے کی پندرہویں دوپہر تھی۔ موسم خاصا خوشگوار تھا لہذا کھانا کھاتے ہی ہم نے قریبی پارک میں جانے کی ٹھانی۔ کانوں ہر ہیڈ فون جمائے اور اپنی دھن میں نکل پڑے۔ ہماری عادت ہے تیز چلنے کی اور جگہ جگہ ٹھوکر کھانے کی۔ اسی روایت کو قائم رکھا اور کچھ ہی دیر میں پارک پہنچ گئے۔ یہاں پہنچتے ہی فون کو ہاتھوں میں لیا اور بجائے قدرت کی خوبصورتی سے محفوظ ہونے کے اپنے میسج اورسوشل میڈیا دیکھنے لگے۔ ہماری جنریشن بھی عجیب ہے۔ ہر دم انٹرنیٹ کی دنیا سے کنیکٹڈ۔ ہر دم حقیقت سے ڈس کنیکٹڈ۔
امی کا میسج تھا۔ ’کیسی ہو؟ ‘
سہیلی کا میسج تھا ’ٹھیک ہو نا؟ ‘
امی کو تو تمیز دار جواب دیا لیکن سہیلی سے کیوں تکلف برتتے۔ جھٹ بولے ’بہت ٹھیک ہوں۔ سب سے ٹھیک ہوں۔ تم سے بھی ٹھیک ہوں۔ ‘

Read more

یاسرہ رضوی ہیں نا

یوں تو چھوٹا منہ بڑی بات لگ رہی ہے لیکن کوئی بات نہیں۔ ہمیں عادت ہے یوں ہی چادر سے باہر پیر پسارنے کی۔ ہم ٹھہرے نثر لکھنے والے چھوٹے لوگ۔ ادب کی سب سے اعلی و ارفع صنف شاعری پر کسی بھی قسم کا تبصرہ کرنا یوں تو ہماری اوقات سے باہر ہے۔ لیکن آج یہ جوئے شیر بھی کھینچ لائی جائے گی۔ آپ دیکھتے جائیے۔

ہمارا شاعری سے تعلق اتنا ہی پرانا ہے جتنے ہم خود۔ والدین کو موسیقی سے گہرا شغف تھا۔ لہذا بہت سی شاعری تو یوں ہی یاد ہو گئی۔ والد صاحب کو علاقائی اور صوفی کلام میں دلچسپی تھی اور والدہ اردو غزلیں پسند کرتی تھیں۔ اپنی طرف سے ہم ’گانے‘ ازبر کرتے تھے لیکن ہوش سنبھالنے کے بعد معلوم ہوا کہ وہ تو غالب، فیض، شاہ حسین اور شاہ عبداللطیف بھٹائی کا کلام تھا۔ وہ سب جو لوگ بڑے ہو کر پڑھتے ہیں ہم بچپن میں ہی رٹ چکے تھے۔

Read more

شرفا کا یہی شیوہ ہے، رینا اور روینہ کا کیا ہے

امید ہے کہ ہمیں پڑھنے والوں کی زیادہ تر تعداد شرفاء پر مشتمل ہے جو کسی بھی قسم کی غلط خبر اور فحش ادب سے دور رہتے ہیں۔ امید بھی ہے اور قوی امکان بھی۔ کم از کم جس زبان میں کسی بھی اختلاف رائے کی صورت میں فیڈ بیک ملتا ہے اس سے تو یہی لگتا ہے۔ سب ہی صبح اٹھتے ہی دودھ سے نہاتے ہیں۔ چوہے کھاتے ضرور ہیں لیکن نو سو کے ہندسے پر آتے ہی گنتی بھول جاتے ہیں اور پھر سے شروع کرتے ہیں۔ عزتوں کے رکھوالے ہیں خاص کر اپنے ایمان اور ملکیت کی۔ دوسروں کا بھی بہت خیال رکھتے ہیں کہ کہیں کسی کا دھرم ایک اختلافی رائے سننے سے بھرشٹ نہ ہو جائے۔ جنت کے پاسبان ہیں۔ کلمہ حق کے علمبردار ہیں۔ سب کے ایمان اور حب الوطنی کے سرٹیفیکیٹوں کے اجرا کا ٹھیکہ بھی ان ہی کے پاس ہے۔

دنیا کے حالات پر بھی گہری نظر رکھتے ہیں اور اپنی بیش قیمت رائے دینے سے پرہیز نہیں کرتے۔ ابھی نیوزی لینڈ کے واقعے کی ہی مثال لیجیے۔ انہوں نے اس ظلم پر نہ صرف آواز اٹھائی بلکہ جیسنڈا آرڈن (جن کا اسلامی نام جمیلہ عدنان رکھا گیا ہے ) کی تعریف میں زمین آسمان کے قلابے بھی ملائے۔ ان کے مضطرب چہرے اور سر پر کالے اسکارف کو تمام مسلم عورتوں کے لئے مشعل راہ قرار دیا۔

Read more

بلاول کی ماں کا نام

شاید اسی فون کا اعجاز تھا کہ ہمیں بلاول بھٹو زرداری کی اسمبلی میں کی گئی تقریر یاد آئی جس میں اس نے نہایت برجستہ انداز سے نہ صرف حکومت وقت کو لتاڑا بلکہ کالعدم تنظیموں کے بارے میں بھی کھل کر غم و غصے کا اظہار کیا۔ اپنی ماں کی طرح بلاول بھی طنز و مزاح کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا۔ غالبا اس کے مزاج کی شائستگی بھی ماں ہی کی دین ہے۔ اس تقریر کو سن کر ایک لمحے کو تو ایسا لگا کہ شاید بی بی ہی کچھ دیر کو پارلیمنٹ میں لوٹ آئی ہیں۔ لیکن ایسا نہیں تھا۔ یا شاید تھا۔ ہمیں اتنا نہیں معلوم۔اس کے بعد جو ہوا اس کو دیکھ کر ایک لمحے کو تو ہم بھی ٹھنک گئے۔ وزیر خزانہ اسد عمر صاحب نے لٹھ مار انداز میں وہ زبان استعمال کی جو کم سے کم ان سے تو متوقع نہیں تھی۔ ہاں ان ہی کی جماعت میں ایسے بہت سے لوگ ہیں جنہیں ایسی گفتگو میں ملکہ حاصل ہے لیکن اسد عمر بھی ان ہی کے ہم عمر نکلیں گے یہ اندازہ نہیں تھا۔ خواتین کے عالمی دن سے چند روز قبل ہی کی جانے والی اس تقریر میں انہوں نے ہاتھ نچا کر پہلے تو بلاول کو یہ طعنہ دیا کہ وہ اپنی ماں کا نام اپنے ساتھ کیوں لگاتے ہیں۔ یہی نہیں انہوں نے لیاری میں بلاول بھٹو زرداری کو ہرانے والے ممبر قومی اسمبلی کو ’نر‘ کا بچہ بھی کہا۔ یہ اصطلاح ہماری سمجھ سے باہر ہے کیونکہ ہم نے آج تک کسی مرد کو بچہ پیدا کرتے نہیں دیکھا۔ بلاول کی انگریزی پر بھی اعتراض تھا۔ آٹا گوندھتے ہوئے ہلنا تو ایک قومی مسئلہ تھا ہی۔

Read more

کیا ارض وطن کو اب نواز شریف کا لہو بھی درکار ہے؟

ہمیں دسمبر کی وہ سرد شام آج بھی یاد ہے منظر بہ منظر، حرف بہ حرف من و عن۔ امی کی سہیلی کے گھر ایک ٹی پارٹی تھی جدھر انہوں نے سب کی بیٹیوں کو بھی مدعو کیا ہوا تھا۔ یوں تو امی کی سہیلیوں کے گھر جانے سے ہم بہنوں کی جان جاتی تھی لیکن آنٹی کے گھر ہاٹ اینڈ ساور سوپ بہت مزے کا بنتا تھا۔ جانا تو لازم تھا۔ عمر کا وہ حصہ تھا جب نہ صحت کی پروا ہوتی ہے اور نہ ہی وزن کی۔ سوپ، چکن اسپرنگ رول اور بروسٹ پر ہاتھ صاف کرنے کے بعد ہم نے ایک بار پھر سوپ کا رخ کیا۔ امی کی گھوریوں کو یکسر اگنور کیا اور اپنا سارا دھیان سوپ کی طرف مرکوز رکھا۔ اس زمانے میں گیس کے ہیٹر چلانا بھی جوئے شیر لانا نہ تھا۔ ان کا مشترکہ ڈائننگ روم اور ڈرائنگ روم سب آنٹیوں کے قہقہوں اور نوکروں کے گلوں سے گونج رہا تھا۔ ہمیں کیا لگے؟ ہم تو کونے میں پڑی اس چنیوٹی کرسی پر اپنے مقصد حیات کی تکمیل میں مصروف تھے۔ بغیر کوئی آواز نکالے کہ تربیت بھی تھی اور ارتکاز کا تقاضہ بھی۔یک دم لکڑی کے فریم والا شیشے کا دروازہ ایک دم سے کھلا۔ آنٹی کا چھوٹا بیٹا ایک زناٹے سے کمرے میں داخل ہوا۔ اس کا سانس پھولا ہوا تھا اور بال ہمیشہ کی طرح اڑے ہوئے تھے۔ ’بینظیر بھٹو کا قتل ہو گیا ہے۔ ‘

Read more

انسداد تشدد سنٹر برائے خواتین بند کیا جائے!‎

اب احباب کہیں گے کہ ہماری عادت ہے ہر بات میں کیڑے تلاش کرنے کی۔ کوچہ جاناں میں ایسے بھی حالات نہیں جیسا ہم کہتے ہیں۔ جن مسائل کی نشاندہی ہم کرتے ہیں یہ آج کی بات نہیں۔ یہ تو روز ازل سے چلتے آ رہے ہیں۔ بس تب سوشل میڈیا نہیں تھا لہذا بات کھلتی نہیں تھی۔ شروع سے یوں ہی ہوتا آ رہا ہے۔بادشاہت کا زمانہ تھا۔ لوگوں کو معلوم ہی نہیں ہوتا تھا کہ بادشاہ نے کیا کر دیا ورنہ تب بھی یہی سب ہوتا تھا۔ لوگ یوں ہی ایک دوسرے کا حق مارتے تھے۔ حق بات کرنے پر زنداں میں ڈال دیے جاتے تھے۔ عورت بھی شروع ہی سے مرد کی ذاتی ملکیت ہے۔ وہ اس کا مالک ہے۔ مختار ہے۔ جو چاہے کرے۔ بس اس زمانے کی عورتیں اس قدر سرکش نہیں تھیں۔ مرد کے کہے کو حرف آخر مانتی تھیں۔ اگر شوہر مار پیٹ بھی کرتا تو اسے اس کا پیار ہی سمجھتیں۔ ہوتا تو شروع سے یہی آ رہا ہے نا۔ بس اب بات کھل جاتی ہے۔ سوشل میڈیا آ گیا ہے۔ عورتیں سرکش ہو گئی ہیں۔ لوگوں کو حکمرانوں کے سامنے بولنا آ گیا ہے۔ مسئلے وہی ہیں بس سوشل میڈیا آ گیا ہے۔

Read more

سکوت/ سکون ہی سکون ہے

ایک اصطلاح ہے ’رائٹرز بلاک‘ ۔ شاید آپ اس کے بارے میں جانتے ہوں۔ ہوتا کہا ہے کہ ایک لکھنے والا ذہنی طور پر کچھ وقت کے لئے لکھنے کی طاقت سے محروم ہو جاتا ہے۔ الفاظ ساتھ نہیں دیتے۔ قلم چلتا رہتا ہے لیکن بے معنی۔ یوں سمجھیے کہ کاغذ پر آڑی ترچھی لکیروں کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ جیسے کوئی بولنے کی صلاحیت سے محروم انسان بولنے کی پوری کوشش کرے لیکن غوں غاں سے آگے نہ بڑھ پائے۔ وہ جانتا ہے کہ وہ کیا کہنا چاہتا ہے لیکن الفاظ بس میں نہیں ہوتے۔

یہ حالت بڑی اذیت ناک ہوتی ہے۔ دل و دماغ میں عجیب سا ہیجان پیدا ہو جاتا ہے جو باہر نکلنے کا نام نہیں لیتا۔ بس ہاتھ پاؤں مارنے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہتا۔

Read more

ایمان علی کی خوشی سے پیدا ہونے والے معاشرتی مسائل

یہ قصہ آج کا نہیں ہم بچپن سے ہی خاصے حسن پرست واقع ہوئے ہیں۔ امی بتاتی ہیں کہ شروع سے ہی ان خالاؤں اور پھپھیوں کے پاس زیادہ خوش رہتے جو ذرا طرحدار ہوتیں۔ ناز و ادا سے اپنی گھنی سنہری زلفیں جھٹکتیں، ابرو ہمیشہ ایک تنی ہوئی کمان کی طرح رکھتیں، ہونٹوں کو لال لپ اسٹک سے سجائے رکھتیں۔ یہی نہیں ہمیں ان سب رشتے داروں سے بھی بہت محبت تھی جو ہر وقت خود کو خوشبو میں بسائے رکھتے۔ اپنی ہی ماں جب ساڑھی پہنتیں تو انہیں بار بار مسکرا کر دیکھتے۔ یہی محبت ہمیں خوشنما گھروں سے بھی تھی۔ جہاں ہر وقت ہلکی روشنی میں گلدان تروتازہ نظر آتے۔ دھیمے سروں میں موسیقی بجتی رہتی۔

امی کو یہ سب بالکل پسند نہیں تھا۔ وہ چاہتی تھیں کہ ہم اس بلند سطح سے اتر کر دنیا کو دیکھیں۔ ہر کسی کو پیاری سی بلی بن کر دکھائیں۔ بلا تفریق رنگ نسل حسن۔ ہم سے نہ ہو پایا۔ ہاں میں ہاں ملانے والے دن کی پیدائش نہیں تھی غالبا۔ مینوفیکچرنگ فالٹ!

Read more

وہ تو تمہیں تھے۔۔۔

آج پتہ نہیں کچھ لکھا بھی جائے گا یا نہیں۔ سیدھے لیٹ کر صرف گانے سنے جا سکتے ہیں یا دوستوں کے فون۔ وہ بھی زیادہ دیر نہیں کیونکہ سانس پھول جاتا ہے۔ تھکاوٹ ہو جاتی ہے۔ حالانکہ عجیب بات ہے۔ ساتواں دن ہونے کو ہے۔ پتہ نہیں امتحان ہے یا سازش۔ خیر خدا کی کرنی وہی جانے۔

داہنی ٹانگ پر چھالے ہیں۔ دونوں پیروں پر جلے کے نشان ہیں۔ ان میں بھی جلن تو ہوتی ہے لیکن دل کی جلن سے کم۔ ساتواں دن ہونے کو ہے۔ ہفتے کی شام کی بات ہے کہ مچھلی تلتے ہوئے ہمیں کوئی چکر سا آیا۔ اور سب ہم ہی پر الٹ گیا۔ خدا کا شکر ادا کیا کہ موٹی جینز پہنے ہوئے تھے۔ کچھ بچت ہو ہی گئی۔ بہت اونچا اونچا روئے۔ فورا امی کو آواز دی لیکن وہ تو وہاں تھیں ہی نہیں۔ کیسی امی ہیں یہ؟ سمندر پار کیوں ہیں؟ یہ کیا بات ہوئی؟

Read more

استعفیٰ؟ چھوڑئیے، رات کی بات کا مذکور ہی کیا؟

اس دن بھی کچھ ایسی ہی فیصلہ کن گھڑی تھی۔ نتیجہ آنا تھا۔ جہاں دل دھڑک رہا تھا وہاں یہ یقین بھی تھا کہ اس دفعہ تو تیر ہم ہی ماریں گے۔ فروری کا ہی مہینہ تھا۔ صبح سوا آٹھ بجے کا وقت تھا۔ ہماری پوری جماعت سانس روکے ایڈمن بلاک میں نتیجے کی اسکرین کے آگے کھڑی تھی۔ جب ڈسپلے شروع ہوا اور ہمارا نام آیا تو ایک لمحے کو تو نہ ہمیں اپنی نظروں پر یقین آیا نہ ہی ہمارے دوستوں کو۔ یوں لگا جیسے زمیں پیروں تلے کھسک گئی ہو۔ دنیا جھٹ سے اسی اسکرین میں سمٹ گئی ہو۔ دن میں تارے نظر آنا کیا ہوتا ہے ہمیں اس دن سمجھ آئی۔

ہم ایک مضمون میں فیل تھے۔ تین بار دیکھا تو بھی یہی نتیجہ تھا۔

وہیں زار و قطار رونا شروع ہو گئے۔ مزے کی بات یہ ہے کی یہ مضمون بھی ایسا تھا جس میں کسی کی کمپارٹ نہیں آتی تھی۔ خیر جب حواس بحال ہوئے تو دوستوں کے مشورے پر استاد محترم کے پاس گئے۔ وہ بھی ہکا بکا رہ گئے۔ کہنے لگے
’پیپر ری چیک کرا لو۔ ہو ہی نہیں سکتا کہ میں نے تمہیں فیل کیا ہو۔ اگر واقعی ایسا ہوا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ میں بوڑھا ہو چکا ہوں اور اب مجھے استعفی دے دینا چاہیے۔ ‘

Read more

بے وقوف عورت اور اعتبار کی دھجیاں اڑانے والا مرد

اتوار کا دن ہے اور صبح کے ساڑھے آٹھ بج رہے ہیں۔ ہمیں جاگے ہوئے قریب دو گھنٹے ہونے کو ہیں۔ رات کی نیند پوری نہ ہو تو انسان عجیب ہونق بن کر پھرتا ہے۔ بہت کوشش کی کہ دوبارہ سو جائیں لیکن وہ نیند جو رات کی تاریکی میں آنکھیں موڑے بیٹھی تھی دن کی تیز روشنی میں کیوں گلے لگاتی۔

کہتے ہیں نیند کی فطرت مونث ہے۔ اس کے پیچھے جتنا بھاگو یہ اتنی ہی دور بھاگتی ہے۔ اسے اس کے حال پر چھوڑ دینا چاہیے۔ جب جی چاہے گا آپ آئے گی۔ بہت تعاقب کرو تو چڑنے لگتی ہے۔ لیکن کیا کیجئے۔ دل تو چاہتا ہے نا کہ ہم بھی چین کی نیند سوئیں۔ ہر قسم کی حقیقت سے منہ موڑ لیں۔ آنکھیں میچ لیں۔ ہر بات پر جی کہ سکیں۔ وہ معاشرہ جس کی حقیقت ہمیں صاف نظر آتی ہے اس سے پل میں غافل ہو سکیں۔ سب اچھا ہے کی مالا جی سکیم۔ کس سے اظہار مدعا کیجئے۔

Read more

ایک بیٹی نے سلام بھیجا ہے

یہ تحریر پڑھنے والی سب بیٹیاں اس بات سے بخوبی آشنا ہیں کہ ہم دنیا کی وہ پہلی بیٹی نہیں جس کو اپنے باپ سے اس قدر محبت ہے۔ یہ رشتہ ہی ایسا ہے۔ ماں کی مامتا پر بہت کچھ لکھا گیا۔ خدا کی طرف سے بھی اور بندے کی طرف سے بھی۔ اس گھنے چھتنار درخت کو کسی نے وہ وقعت نہ دی جو اس کا حق تھی۔ سب بیٹیاں یہ بھی جانتی ہیں کہ عمر کے جس بھی حصے میں ہوں باپ کے سامنے آج بھی ان کے اندر کی بچی جاگ جاتی ہے۔ پولکا ڈاٹس کی فراک پہنے، سر کی دو پونیاں بنائے، لاڈ اٹھواتی، نخرے کرتی۔ اب تو آنسو بھی مٹی میں رلتے ہیں۔ گالوں پر خود ہی سوکھ جاتے ہیں۔ سب بیٹیاں شاید ہم سے اتفاق کریں۔

جیسے بیٹیاں سانجھی ہوتی ہیں اسی طرح باپ بھی سانجھے ہوتے ہیں۔ خدا جانے یہ جدائی کا اثر ہے یا ہمارا کمزور دل، ہمیں ہر کسی کے باپ کو دیکھ کر پاپا یاد آتے ہیں۔ کسی کے بھی باپ کی بیماری ہمارا دل لرزا دیتی ہے۔ شاید کچھ دنوں میں پاپا کا آپریشن ہو۔ ہم نہیں جا پائیں گے۔ یہیں بیٹھ کر کانپتے رہیں گے۔

ابھی کچھ دنوں سے ایک مجبور بیٹی کی ٹویٹس دل گداز کیے جا رہی ہیں۔ وہی بیٹی جسے ماں کی آخری سانس دیکھنا نصیب نہیں ہوئی۔ وہی بیٹی جو باپ کی خاطر جیل کاٹ آئی۔ وہی بیٹی جس کے پاس باپ ہی بچا ہے لیکن شاید وہ بھی نہیں۔ وہی بیٹی جو لمحہ بہ لمحہ اپنا باپ بھی کھو رہی ہے۔ وہی بیٹی جسے اپنے باپ کی میڈیکل رپورٹس میڈیا کے ذریعے معلوم ہوتی ہیں۔ وہی بیٹی جو اس وقت ایک ہی ملک میں ہوتے ہوئے اپنے ہی باپ کے گلے لگ کر کھل کے رو بھی نہیں سکتی۔ وہی بیٹی جو اپنی مسکراہٹ کھو چکی ہے۔ اسی بیٹی کی ٹویٹس پڑھ کر دل بہت دکھتا ہے۔

Read more

پنجاب کا نوحہ: ایک بار پھر پنجاب مر گیا

ہم سے پڑھا نہیں جاتا۔ اسکول کے زمانے میں پوری لائبریری صفا چٹ کرنے والی ننھی لڑکی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ تیس کے پیٹے میں قدم رکھتے ہی ایک وقت ایسا آئے گا جب ہلکا پھلکا ناول پڑھنا بھی کشت لگے گا۔ شاید ڈیجیٹل دنیا واسی ہونے کا ایک نقصان یہی ہے۔ وقت ہی نہیں ہوتا کسی کی سننے کا۔ بھلے وہ کتاب ہو یا سامنے بیٹھا گرے شلوار قمیض میں ملبوس بھائی۔ بس اپنی کہنے کا زمانہ ہے۔ اس گمان کا زمانہ ہے کہ جو ہم کہہ رہے ہیں وہ سب سن بھی رہے ہیں۔ ہمہ تن گوش ہیں۔ تندہی سے نوٹس بھی لے رہے ہیں۔ کبھی نہ بھولیں گے۔

ہم بھی اسی خوش فہمی کا شکار ہیں کہ آپ کو ہمارے تمام کالم ازبر ہوں گے۔ اپنی روزمرہ زندگی میں غالب کے شعروں کے علاوہ ہمارے کالم بھی کوٹ کرتے ہوں گے۔ لیکن ایسا تھوڑا ہی ہوتا ہے۔ شاید ہوتا بھی ہو۔ ہمیں نہیں معلوم، اچھا۔

اگر اپنے گمان کی مانیں تو یہ سمجھیں گے کہ آپ کو ہمارا ایک پرانا بلاگ ’پنجاب کا نوحہ‘ یاد ہو گا۔ لکھ کر بات آئی گئی ہو گئی تھی۔ کیا خبر تھی کہ اتنے عرصے کے بعد پھر سے وہی زخم کھرچنا ہو گا۔ خون رسنے لگے گا۔ آنکھوں سے آنسوؤں کی طرح برسے گا۔ ٹپ ٹپ ٹپکتا، چھم چھم برستا خون۔ وہی خون جو خون کو دیکھ کر جوش مارتا ہے۔ جی وہی لہو جو اگر آنکھ سے بہ ٹپکے تو جناب غالب کے نزدیک بے وقعت ہے۔

Read more

نو مور دسمبر

ہم دیسیوں کے لئے دسمبر کا مہینہ بڑا اسپیشل ہوتا ہے۔ ایک خاص قسم کا رومان وابستہ ہوتا ہے اس مہینے سے۔ شاید ہم گرم علاقوں کے لوگ ہیں۔ سردی پڑنے پر خوش ہو جاتے ہیں۔ جہاں باقی ملکوں میں سردی سے نفرت کی جاتی ہے ہمیں سردی سے عشق ہوتا ہے۔ دسمبر کی بارش، دسمبر کی لمبی راتیں، محبوب کا تصور، بھاپ اڑاتی چائے جس کو پینے کی جلدی رہتی ہے مبادا ٹھنڈی نہ پڑ جائے، کاغذ کے لفافے میں لپٹی گرما گرم مونگ پھلی، مخمل کے لحاف میں منہ اندر تک کر لینا کہ باہر رکھنے سے ناک ٹھنڈی ہو جاتی ہے۔ موسم ٹھنڈا اور جذبات گرم۔

Read more

مثبت رپورٹنگ ہو تو ایسی!

شوہر سے مار کھا کر آنے والی ہماری وہ سہیلی جو کنسیلر سے چہرے کے نشان چھپاتی تھی ہنستی تھی اور یہی کہتی تھی کہ ’ع‘ مجھ سے بہت پیار کرتے ہیں۔ سسرال سے جنازہ نکلتا ہے اور والدین کو یہی لگتا ہے کہ سب ٹھیک تھا۔ بس خدا کی مرضی تھی۔ آخر کبھی بری پکچر جو پیش نہیں ہوئی۔ تربیت پر آنچ نہ آنے دی۔ سب کو گھر کے حالات کی بھنک تک نہ لگنے دی۔

Read more

دا سنگہ نیا پاکستان دا؟

سوشل میڈیا بڑا بے رحم ہے۔ کچھ دنوں سے ایک مسخ شدہ لاش اور اپنے باپ کی تصویر پکڑے ایک ننھی بچی کی تصویر بے ہمیں مجبور کر دیا ہے کہ سوال اٹھائیں اور جواب میں اپنا سا منہ لے کر رہ جائیں۔ وطن عزیز کے دارالحکومت میں عوام کے جان و مال کے رکھوالے ایس پی عثمان داوڑ کو نہ صرف دن دھاڑے اغوا کیا جاتا ہے بلکہ ریاست کی ناک تلے افغانستان پہنچا کر قتل بھی کر دیا جاتا ہے۔ اسی پر اکتفا نہیں بلکہ اس گھناؤنے قتل کی بار بار نفی بھی کی جاتی ہے۔ وہی چیک پوسٹیں جس یوں تو ہر مرد و زن کو ناکے پر روکتی ہیں غالبا صرف عام افراد کے لئے ہیں۔ دہشتگردوں کے لئے ان کی حیثیت محض نمائشی ہے۔ وہ ان سے بچنا جانتے ہیں۔

یہ کہانی ختم ہونے کا نام نہی لیتی۔ ہمارے شاہ رخ خان کو شرماتے وزیر صاحب اپنی نا اہلی کا سارا ملبہ بھی گزشتہ حکومت پر ڈال دیتے ہیں کہ سیف سٹی کے کیمرے ناکارہ ہیں۔ صاحب، ایک بات کیجئے۔ یہ کیمرے ناکارہ ہیں تو وہ کیمرے کیا ہوئے جنہوں نے تحریک لبیک کے غنڈہ گردی کرتے ورکرز کو پکڑنے کا اعلان کیا تھا؟ انہی کیمروں کو زحمت دے ڈالئے جو ہمہ وقت آپ کی اور وزیر اعظم صاحب کی نمازوں کا ریکارڈ منکر نکیر سے بھی بڑھ کر رکھتے ہیں۔ وزیر اعظم صاحب سے گلہ نہیں کیونکہ وہ تو ہینڈسم ہی بہت ہیں اور کیا کمال کے پش اپس لگاتے ہیں۔ انہیں سب معاف ہے۔

Read more

ہم جو تاریک راہوں میں مارے گئے

ہماری لکھائی بس دل کی کہی ہوتی ہے۔ اس لئے لکھ لکھ کر مٹانا نہیں پڑتا۔ لیکن آج تین دفعہ کاغذ کا گولہ بنا کر پھینکا ہے۔ اگر اس بار بھی نہ لکھا گیا تو ہم ہتھیار ڈال دیں گے اور اپنی بیمار گردن کو سہلانے میں جٹ جائیں گے۔ بل پڑ گیا ہے نا۔ بہت تکلیف ہے۔ داہنی طرف چہرہ موڑتے ہی چیخ نکل جاتی ہے۔ ہم سے نہ ہو پائے گا۔ جان ہتھیلی پر بھی رکھو اور تکلیف بھی سہو؟ اس قدر زیاں کاری ہمارے بس سے باہر ہے۔

Read more

مومنہ مستحسن، شیریں مزاری کے انسانی حقوق سلب کرتے ہوئے

ہمیں دور پار سے جاننے والے بھی اس بات سے آشنا ہیں کہ ہمیں کھانے سے کس قدر رغبت ہے۔ ہمارے سوشل میڈیا اکاؤنٹ بھی ہمارے اسی عشق مجازی کے گواہ ہیں۔ جہاں ہماری عمر کے باقی لوگ اپنے بچوں کی سکول میں منائی جانے والی سالگرہ پر فیسبک رنگین کر دیتے ہیں وہیں اس خاکسار کی کل خوشی لبرٹی میں کپری ریستوران میں بیٹھ کر نرم گرم حلوے اور پوریوں کے صدقے واری جانا ہے۔ ہر کسی کی اپنی

Read more

پنکی میم صاحب اور دبئی کا اونٹ

دو سال سے یہ کالم لگاتار لکھنے کے بعد اب تو یوں لگنے لگا ہے کہ آپ سب ہی ہماری فیملی ہیں۔ لکھتے ہوئے ہمیشہ یہی لگتا ہے کہ آپ سے بات ہو رہی ہے۔ اور سچ پوچھئے تو ایسا چسکہ لگ ہے کہ اترنا مشکل لگتا ہے۔ ابھی بھی دفتر میں پانچ منٹ کی بریک ملتے ہی آپ کی خدمت میں آ حاضر ہوئے ہیں۔ ہم شاید آپ کو اتنا نہ جانتے ہوں جتنا آپ ہمیں جانتے ہیں۔ یہ

Read more

درس و تدریس جیسے حقیر پیشے میں کیا پڑا ہے

پدرشاہی نظام کی رو سے ہمارا تعلق ایک پسماندہ دیہی علاقے سے ہے۔ باوجود اس کے کہ والدہ کا تعلق ایک پڑھے لکھے اردو اسپیکنگ پٹھان گھرانے سے ہے پدر شاہی نظام کے تحت ہم خود کو خوشاب کے اسی پسماندہ دیہات سے سمجھتے ہیں جہاں آج بھی دو وقت کی روٹی ایک لگژری ہے۔ والد صاحب تعلیم اور معاش کی غرض سے اپنے آبائی گاؤں سے کب کے شہر کا رخ کر چکے تھے۔ لیکن اس سب کے باوجود

Read more

میرے پاکستانیو، گھبرانا نہیں ہے!

گستاخی معاف حضور۔ بارہا چلائیں گے کہ گستاخی معاف۔ اور بار بار وہی گستاخی کیے بھی جائیں گے۔ بس چور چوری سے جائے ہیرا پھیری سے نہ جائے۔ انسان خطا کا پتلا ہے اور فدوی خطا کا اسٹیچو آف لبرٹی۔ معافی دینا آپ کی قدرت اور غلطی کرنا اس نا چیز کی فطرت۔ آپ قدرت آزمائیے اور ہم فطرت سے شرماتے رہیں گے۔ ویسے اسے محض لفاظی نہ سمجھئے گا۔ آج کا کالم واقعی غلطی سے لکھا جا رہا ہے۔

Read more

پیسہ ہے تو وہ لڑکی زندگی انجوائے کیوں نہیں کرتی؟

کئی بہاروں اور خزاوں پرانی بات ہے کہ ہمیں انگریزی ادب پڑھنے سے بڑا گہرا شغف تھا۔ اپنے اسکول کی لائبریری کی کوئی ایسی کتاب نہ تھی جو ہم نے نہ پڑھی ہو۔ یہ زمانہ آج سے کم سے کم اکیس سال پرانا تو ضرور تھا۔ شاید بیس پچیس ہی ہو لیکن ہمیں اچھا لگتا ہے ذرا باریک سا ہندسہ بیان کرنا۔ بات کی توقیر بڑھ جاتی ہے۔ معاملہ کچھ آتھینٹک سا لگتا ہے۔ خیر تو یہ زمانہ اسکول کا

Read more

ہمارے مڈل کلاسیے خواب

پتہ نہیں بڑا انسان صدی کے کون سے عشرے میں بننا ہے لیکن ہم نے ان لوگوں کو غور سے آبزرو کرنا ضرور شروع کر دیا ہے۔ بڑے لوگوں کی باتیں بہت بڑی ہوتی ہیں۔ وہ چھوٹے لوگوں کی طرح کوئی ماٹھا کام نہیں کرتے۔ نہ کسی کی بات سنتے ہیں نہ کسی کی نصیحت کو کسی خاطر میں لاتے ہیں۔ ان کا ایک اور سنہری وتیرہ وعدے کا پاس نہ کرنا ہے۔ یہ اسے عہد ہی نہیں سمجھتے جو

Read more

بشری بی بی ملک کی تمام بیویوں کی رول ماڈل ہیں

بچپن سے ایک ایک نمبر کے پیچھے جان دینے والوں کا بڑا مسئلہ ہوتا ہے کہ وہ زندگی کو بھی ایک امتحان ہی سمجھ لیتے ہیں جس میں ان کا ٹاپ کرنا لازم ہے۔ یہی بیماری ہمیں بھی لاحق تھی۔ چلئے تعلیم حاصل ہو گئی۔ شادی بھی ہو گئی۔ لیکن ہمارا کیڑا نہ مرا۔ اب یہ فکر لاحق تھی کہ کس طرح ایک پرفیکٹ بیوی بنا جائے۔ زندگی کے اس مرحلے کو بھی ایک ریسرچ پیپر ہی سمجھ لیا۔ صبح

Read more

وزیر اعلی عثمان بزدار ہمارے لئے مشعل راہ ہیں

ایک تو یہ ہم ہم کر کے بات کرنا بڑا مشکل ہے۔ لیکن بھلا ہو وزیر اعظم پاک و ہند کا جن کی ’میں‘ کی گردان نے ہمیں یہ باور کرایا کہ یہ کس قدر مضحکہ خیز حرکت ہے۔ ہم تو وزیر اعظم بھی نہیں کہ کوئی ہماری بے تکان باتوں پر بھی سر دھن لے۔ اور رہنے کے لئے ویسے بھی سب سے اچھی جگہ اپنی اوقات ہی ہوتی ہے۔ ہم بھی دل پر یہ پتھر رکھ لیں گے۔

Read more

مغرب کی مذہبی تنگ نظری، تعزیے اور بمبار

دیکھیے میں کوئی مذہبی شخصیت تو ہوں نہیں کہ میرے ایک کالم پر تہلکہ مچ جائے۔ میری سیاست میرے مذہبی افکار کے گرد گھومے۔ سب ٹاک شوز پر میرا طوطی بولے کہ کہیں کوئی بھی بحث ہو میں اپنی مرضی کی تفسیر سے سب کا منہ بند کرا دوں۔ مجھے خود کو معمولی اور ادنی ثابت کرنے کا بھی کوئی خاص شوق نہیں۔ غالب اور ایلیا نے میرا خاصا دماغ خراب کر رکھا ہے۔ مجھے اس بات کا قوی یقین

Read more

بیگم کلثوم نواز: مرنے والے چلے جاتے ہیں، ندامتیں رہ جاتی ہیں

امید کرتی ہوں کہ یہ بلاگ اپنی نوعیت کا آخری ہو گا۔ خدا نہ کرے کہ ہمیں دوبارہ اس موضوع پر لکھنا پڑے۔ ابھی تو ہم سب میں واپسی کے دن بھی زیادہ نہیں ہوئے اور اس موضوع پر دوسرا بلاگ ہے۔ اب تو دل میں درد کی بھی مزید گنجائش نہیں رہی۔ یا شاید ہم نے اس کی وسعت کو انڈر ایسٹیمیٹ کر لیا ہے۔ جس دل میں بجز داغ ندامت کے ہر داغ ہو اس میں بڑی خالی

Read more

ہمیں واپس نہیں آنا، بس ڈالر بھیجنے ہیں

ہمیں بچپن سے خواب دیکھنے کا بہت شوق تھا۔ گرمیوں کی راتوں میں جب سب سو جاتے تو ہم گھنٹوں اپنے چھوٹے سے بستر پر آنکھیں میچے لیٹے رہتے۔ خود کو نئی نئی جگہوں پر لے کر جاتے۔ مزیدار کھانے کھاتے۔ دنیا گھومتے۔ نئے نئے لوگوں سے ملتے اور ان کے ساتھ مل کر خوب ہنستے۔ یہ ایک ایسی دنیا تھی جس میں کوئی اسکول نہیں تھا۔ بات بات پر ٹوکنے والی آسانیاں نہیں تھیں۔ امی کہیں جانے سے روک

Read more

ہمیں پھوپھو نہیں بننا تھا

دبئی شیشے کا گھر ہے۔ شیشہ بھی وہ والا جس سے باہر کا منظر ہمیشہ ٹھنڈا اور پرسکون دکھائی دیتا ہے۔ گھر سے باہر بھلے کتنے ہی ریت کے جھکڑ چل رہے ہوں گھر کے اندر یہی محسوس ہوتا ہے کہ باہر کالی گھٹا چھائی ہوئی ہے۔ کچھ ہی دیر میں مینہ چھم چھم برسے گا۔ لیکن اصل میں ایسا ہوتا نہیں۔ وہاں کا راستہ تو بارش کے بادل جانتے ہی نہیں۔ صحرا میں محض گرد ہوتی ہے۔ برکھا کا

Read more

چوہان صاحب کی فیاضیاں اور حکومت کی صفائیاں

آپ سب سے ہم سب کے توسط سے ایک وقفے کے بعد ملاقات ہو رہی ہے۔ کہیے اچھے رہے؟ گھر بار میں سب ٹھیک ٹھاک ہیں نا؟ ڈھائی مہینے کا وقفہ تھا۔ یہاں تو لمحوں میں پیارے بچھڑ جاتے ہیں۔ گئے لوگ لوٹ آتے ہیں۔ ڈھائی مہینے میں تو بہت کچھ بدل گیا۔ سب کچھ دھل گیا۔ بستروں کی چاندنی دھل گئی۔ پرانے برتنوں کی جگہ نئے برتنوں نے لے لی۔ گھروں کے پتے بدل گئے۔ ہماری نوکری بدل گئی۔

Read more

ہر اک اجنبی سے پوچھیں جو پتہ تھا اپنے گھر کا

امی بتاتی ہیں کہ بچپن سے مجھے باہر گھومنے کا بہت شوق تھا۔ ہم شیخوپورہ میں واقع ایک فیکٹری کی کالونی میں رہا کرتے تھے۔ ایک چار دیواری میں وہاں کام کرنے والوں کے گھر تھے۔ ویک اینڈ پر لاہور جایا کرتے تھے۔ چڑیا گھر جاتے تھے۔ کون آئس کریم کھاتے تھے۔ جب رات گئے گھر قریب آتا تو میں رونا شروع کر دیتی تھی۔ امی بتاتی ہیں کہ بڑی مشکل سے بہلا پھسلا کر اس پہلوٹھی کی اولاد کو

Read more

میرا رول ماڈل ”لہوڑی ڑنگباز“ شانی ہے

میری سہیلی مہوش اس بلاگ سے شاید ناخوش ہو۔ اسے یہ ذکر پسند نہیں۔ ویسے تو دعا یے کہ پڑھے ہی نہ۔ لیکن اگر پڑھ لیا تو ایک تنبیہی میسج ضرور کرے گی۔ اس کو شانی کا ذکر نہیں پسند۔ یا شاید میرا اس کے ساتھ اپنا تقابل کرنا نہیں پسند۔ کہتے ہیں کہ ہر وہ شخص جس سے آپ ملیں یا اس کا خیال بھی دل میں لائیں آپ کی شخصیت پر اپنی پرچھائیں چھوڑ جاتا ہے۔ اب پتہ

Read more

سوشل میڈیا پر ایک اور کتاب کا واویلا

ہمارے ہاں کتاب پڑھنے کا رجحان ختم ہوتا جا رہا ہے۔ کسی اور کو تو کیا کہیں ہم خود بھی کتب بینی کے زیادہ قریب نہیں۔ حالانکہ ایک زمانہ وہ بھی تھا کہ چھپ چھپ کر امی کے ڈائجسٹ پڑھا کرتے تھے۔ جیسے ہی وہ سوتی تھیں دبے پاؤں ان کے کمرے میں داخل ہوئے، رسالہ دبوچا اور الٹے پیر واپس پو لئے۔ اکثر ایسا ہوتا تھا کہ سلسلہ وار ناول امی سے زیادہ ہم جانتے تھے اور جب وہ

Read more

عورت کے چپ رہنے کی ریت

ہم ریتوں رواجوں کی پاسداری والے لوگ ہیں۔ یہاں کئی قسم کی رہتلیں آباد ہیں۔ لوگ نہیں کیونکہ کئی اقسام کے لوگ یا تو ہم نے مار گرائے یا مار بھگائے۔ الحمداللہ اب سب ایک ہی جیسے ہیں۔ ریت رواج بھی بس دیکھنے میں مختلف ہیں۔ اندر سے وہ بھی ایک ہی ہیں۔ خیر جس ریت کی طرف ہمارا آج کا بلاگ روشنی ڈالے گا وہ شکایت کرنے والی عورت پر ملبہ ڈالنے کی ریت ہے۔ جی یہ بلاگ پچھلے

Read more

محبت کی زبان ممتاز ہے ساری زبانوں سے

 یہ اپنی نوعیت کا پہلا بلاگ نہیں ہے۔ نہ ہی آخری ہے۔ پہلا اس لئے نہیں کہ اس بات کی شروع دن سے فکر کی جا رہی ہے۔ آخری اس لئے نہیں کہ کون سا یہ مسئلہ حل ہو جانا ہے۔ بڑھنے کا قوی امکان ہے۔ گھٹنے کا۔۔۔ چلئے جانے دیجئے۔ پھر ہم ہی پر الزام آئے گا کہ قنوطیت ان کی فرسٹ کزن ہے۔ ہم خود بھی اس مسئلے پر پہلے لکھ چکے ہیں لیکن ضمیر کا تقاضا ہے

Read more

یوم تکبیر اور تھرل کی چاہ

میرا بچپن آزاد کشمیر کے برطانوی شہر میرپور میں گزرا ہے۔ اب کا پتہ نہیں لیکن آج سے قریب بیس برس پہلے حالات بڑے اچھے تھے۔ برطانوی اس لئے کہا کہ میرپور کے ہر گھر کا کوئی نہ کوئی فرد ولایت میں مقیم ہے۔ بعض گھروں کی تو پوری پوری نسلیں وہاں ہیں۔ ہر گھر میں فانوس تھے۔معاشی خوش حالی کی وجہ سے چوری ڈاکے کا تو سوال ہی نہیں پیدا ہوتا تھا۔ میرپور کو راولاکوٹ یا مظفرآباد مت سمجھئے۔

Read more

اسلام کو امن کا دین رہنے دیجئے

آج کا بلاگ لکھتے ہوئے بہت ڈر لگ رہا ہے۔ پرسوں سے سوچ رہی ہوں کہ لکھوں یا نہیں۔ ہمیں پڑھنے والے اس بات سے بخوبی آشنا ہیں کہ ہم زیادہ سوچنے سمجھنے کے قائل ہیں نہیں۔ لیکن کیا کیجئے کہ جان چیز ہی ایسی ہے۔ باوجود اس کے کہ دنیا دل لگانے کی جگہ نہیں ہے اسے چھوڑنے کا جی کسی کا نہیں چاہتا۔ دل و دماغ کی کشمکش میں دل ہلکا سا حاوی ہو ہی گیا اور اسی

Read more

بیرون ملک کاروبار کرنا ناجائز ہے

سوچا تھا رمضان کا مہینہ ہے۔ عبادات اور اذکار میں دھیان بٹائیں۔ لکھنے پڑھنے جیسے لغو شوق سے دور ہی رہیں۔ لیکن چور چوری سے جا سکتا ہے۔ ہیرا پھیری سے نہیں۔ ہم سے بھی رہا نہیں گیا۔ آ گئے ہیں واپس آپ کی مجلس میں اپنی حاضری لگانے۔ اچھا لگے یا برا ہماری بلا سے۔ یہ بھی سوچا تھا کہ ایسا کوئی بلاگ نہیں لکھنا جس میں گالیاں پڑنے کا احتمال ہو۔ لفافے کے نعرے بلند ہوتے ہیں اور

Read more

ایک لفافہ بلاگر کی دکھ بیتی!

پتہ نہیں ان مذمتی بلاگوں کی آمد سے میری جان اور پڑھنے سے آپ کی جان کب چھٹے گی۔ اہل کرم کا تماشا نہیں مکنا اور نہ ہمارے لوح و قلم کی پرورش۔ بہت سوچا تھا کہ آج کچھ پکوڑوں کے فوائد پر لکھیں گے کہ روزوں کے ساتھ وہ بھی تو فرض کئے گئے ہیں۔ لیکن معاف کیجئے گا آج پھر رونا دھونا ہی چلے گا۔ کوئی نئی بات نہیں ہو گی بلکہ پچھلے دنوں کے مسئلے مسائل کو

Read more

ہیری میاں کا ولیمہ اور ٹیکس کا جنازہ

شادی کا کھانا تمام پاکستانیوں کا پسندیدہ کھانا ہے اور ”روٹی کھل گئی“ ہمارا قومی نعرہ جو ایسا ولولہ بیدار کرتا ہے جو شاید  مادام نور جہاں کی آواز میں پینسٹھ کی جنگ کے ترانے بھی نہ کر پائیں۔ ہر مرد و زن، بچہ بوڑھا اس للکار پر لبیک کہتے ہوئے ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کے چکر میں ہوتا ہے۔ ہمارا یہ قومی مزاج دیکھتے ہوئے یہ کہنا بھی قرین از قیاس ہے کہ ہمیں دعوت افطاری کی طرح

Read more

یہاں روزہ دار کون ہے؟

کھانے کا جنون ہمیں بچپن ہی سے ہے۔ امی بتاتی ہیں کہ ابھی ڈھنگ سے بولنا بھی نہیں سیکھا تھا لیکن سالن دیکھتے ہی میز سے اٹھ کھڑے ہوتے۔ ننھا سا منہ بسور لیتے اور امی اپنی مامتا کو جوش میں لاتے ہوئے فورا انڈے کا آملیٹ بنا دیتیں۔ جی اس زمانے کے بچوں کے یہی لاڈ تھے۔ کچھ سال گزرے تو ہماری بسیار خوری اس نہج کو پہنچ چکی تھی کہ کسی کے بھی گھر جاتے تو والدین میزبانوں

Read more

بھٹی صاحب کے بچوں کا دودھ میاں صاحب پی گئے

آج کا تازہ بلاگ ملامتی ہے۔ مذمتی ہے۔ بہت لکھ لئے ستائشی بلاگ۔ بہت کر لیں تعریفی باتیں۔ آج تو ملامت ہو گی۔ مذمت ہو گی۔ اور دل کھول کر ہو گی۔ خیر دل کا کیا کہنا۔ وہ تو ان قیامتوں کے بعد یوں بھی کہیں کا نہیں رہا۔ رہی سہی کسر خیر سے نا اہل وزیر اعظم میاں نواز شریف نے پوری کر دی ہے۔ یہ انسان ہیں یا بلی؟ ہم زیادہ ٹی وی شی وی نہیں دیکھتے۔ شیطانی

Read more

ہمارا نیا کاروبار، فتوی اینڈ کو

یوں تو ہم اپنے بلاگ پر آنے والی تنقید پر بے نیاز رہتے ہیں۔ اپنے ہر لفظ کو قسمت کا لکھا جانتے ہیں۔ خود کو ہر لکھائی پر قادر جانتے ہیں۔ تعریف کو ہمیشہ سچ جانتے ہیں۔ لیکن پچھلے بلاگ پر ایک کمنٹ ایسا آیا کہ ہم بھی ذرا شش و پنج میں مبتلا ہو گئے۔ تحریر میں مدرز ڈے کو کاروبار بنانے کی مذمت کی تھی کہ علی وارثی نے جھٹ کمنٹ کر دیا۔ ‘کیوں بھئی؟ کاروبار میں کیا

Read more

مدرز ڈے بلے بلے

ہمارے بچپن میں لفظ بدعت آج کی طرح پاپولر نہیں تھا۔ سالگرہ منا لی جاتی تھی۔ کمرے کی چھت کو جھنڈیوں اور غباروں سے سجا کر، محلے کے کچھ بچوں اور قریبی رشتے داروں کو بلا کر سفید شیروانی میں ملبوس ننھے میاں سے بڑے شوق سے مکھن کی کریم والا سادہ کیک کٹوایا جاتا۔ کھلنڈرے چاچو خود ہی ڈیک لگا کر خود کو عامر خان سمجھتے۔ ناچ ناچ بے حال ہو جاتے۔ عید میلاد النبی پر بھی میٹھا بانٹا

Read more

پنجاب کے ٹکڑے اور خان صاحب کے پنجابی ٹوٹے

اپنے ایڈیٹر صاحب کہتے ہیں کہ بی بی کوئی مزاحیہ کالم شروع کریں جس میں آپ کھل کر جگتیں ہی ماریں۔ صرف ہنسی مذاق کریں کیونکہ آپ سے وہی بن پاتا ہے۔ ہم ابھی تک ٹال مٹول سے کام لے رہے ہیں۔ خدانخواستہ ایسا ہرگز نہیں کہ یہ بڑے گلوکاروں کی  محفل میں سامعین کا اصرار سننے کے لئے گلے کی خرابی کا بہانہ ہے۔ اتنی نہ تو ہماری اوقات ہے اور نہ ہی اپروچ۔ ہمیں کون سا کسی نے

Read more

ملا گردی، احسن اقبال پہ حملہ اور ہماری زباں بندی

دوست یار کہتے ہیں کہ اب پاکستان آ گئی ہو تو ذرا سوچ سمجھ کر بولا کرو۔ زبان کی یا تو ہلکی سی ٹرمنگ کر لو یا اور کچھ نہیں تو ایک لال رنگ کی لگام ہی لگا لو۔ یہاں ایسے نہیں ہوتا جیسی تم ہو۔ انسان بنو سعدیہ نہ بنو۔ ہم بھی کوئی ایسے سود فراموش نہیں لہذا کبھی کبھی خود کو پشت پر ہلکی سی تھپکی دے کر سمجھاتے بھی ہیں کہ مرشد ہن او گلاں نئیں رئیاں۔

Read more

سیاسی جماعتوں کی غیرت کا جنازہ

ہمیں نہ سوچ سمجھ کر بولنے کی عادت ہے نہ لکھنے کی۔ بولتے بھی بے تکان ہیں اور لکھتے بھی نان اسٹاپ ہیں۔ نہ کبھی کوئی خاکہ بنایا نہ پلاٹ۔ جو دل میں آیا بولتے گئے لکھتے گئے۔ اسی لئے ہمیں بار بار لکھ کر کاغذ کے گولے بنا کر کمرے کے کونے میں بھی نہیں پھینکنے پڑتے۔ بغیر نتائج کی پروا کیے لکھتے جاتے ہیں۔ آج کا دن ذرا مختلف ہے۔ بار بار لکھ کر مٹانا پڑ رہا ہے۔

Read more

برو کوڈ اور بھینسوں کا بہناپا

پتہ نہیں یہ گمان کیوں عام ہے کہ پاکستانیوں کی آپس میں نہیں بنتی۔ جہاں ہمسایہ ملک کے لوگوں کو ہم نے دفتروں وغیرہ میں ہمیشہ ایک دوسرے کا ساتھ دیتے دیکھا وہیں اپنے بھائی بندوں کو یکسر مختلف دیکھا۔ خیر شاید اسٹیریو ٹائپ ہی تھا کیونکہ ہماری یہاں آتے ہی یہ غلط فہمی یوں بھاگی جیسے گدھے کے سر سے سینگ۔ کچھ ٹائمنگ بھی ایسی ہو گئی۔ جن دنوں میں ہم آئے انہی دنوں میں ممتاز گلوکارہ میشا شفیع

Read more

میری ایک ایڈوانس تقریر

مرے عزیز ہم۔ وطنو، آپ سب میرے دوست ہیں۔ یہ فین وغیرہ تو سپر اسٹارز کے ہوتے ہیں، ہم تو اپنے ہیں۔ میں کوشش کروں گی کہ زیادہ لمبی بات نہ کروں کیونکہ ذرا کم گو سی ہوں۔ لیکن آپ کا اصرار ہے تو یہ لیجیے۔ مجھ سے اکثر لوگوں کو یہی گلہ ہوتا ہے کہ میں زیادہ نہیں لکھتی۔ سارا دن گھر پر ہی تو ہوتی ہوں۔ پر آسائش زندگی گزار رہی ہوں۔ کون سا کوئی گھر میں دوپٹے

Read more

مجھے میرے نخرے اٹھانے والی ماں واپس چاہیے

ہماری امی بتاتی ہیں کہ بچپن میں ہم نے انہیں بہت ستایا۔ اس قدر گلا پھاڑ کر روتے تھے کہ دور کے نہیں تو کم سے کم قریب کے ہمسائے تو آ ہی جاتے تھے کہ بہن بچی کو ایسا کیا مسئلہ لاحق ہو گیا( اصل مسئلہ ان کی نیند کو لاحق ہوتا تھا ویسے)۔ امی کہتی ہیں کہ جب با آواز بلند چیخنے سے فرصت ملتی تو ہم ہلکی پھلکی ریں ریں میں ہی دل لگا لیتے تھے۔ ننھی

Read more