یہ تحریر پڑھنے والی سب بیٹیاں اس بات سے بخوبی آشنا ہیں کہ ہم دنیا کی وہ پہلی بیٹی نہیں جس کو اپنے باپ سے اس قدر محبت ہے۔ یہ رشتہ ہی ایسا ہے۔ ماں کی مامتا پر بہت کچھ لکھا گیا۔ خدا کی طرف سے بھی اور بندے کی طرف سے بھی۔ اس گھنے چھتنار درخت کو کسی نے وہ وقعت نہ دی جو اس کا حق تھی۔ سب بیٹیاں یہ بھی جانتی ہیں کہ عمر کے جس بھی حصے میں ہوں باپ کے سامنے آج بھی ان کے اندر کی بچی جاگ جاتی ہے۔ پولکا ڈاٹس کی فراک پہنے، سر کی دو پونیاں بنائے، لاڈ اٹھواتی، نخرے کرتی۔ اب تو آنسو بھی مٹی میں رلتے ہیں۔ گالوں پر خود ہی سوکھ جاتے ہیں۔ سب بیٹیاں شاید ہم سے اتفاق کریں۔
جیسے بیٹیاں سانجھی ہوتی ہیں اسی طرح باپ بھی سانجھے ہوتے ہیں۔ خدا جانے یہ جدائی کا اثر ہے یا ہمارا کمزور دل، ہمیں ہر کسی کے باپ کو دیکھ کر پاپا یاد آتے ہیں۔ کسی کے بھی باپ کی بیماری ہمارا دل لرزا دیتی ہے۔ شاید کچھ دنوں میں پاپا کا آپریشن ہو۔ ہم نہیں جا پائیں گے۔ یہیں بیٹھ کر کانپتے رہیں گے۔
ابھی کچھ دنوں سے ایک مجبور بیٹی کی ٹویٹس دل گداز کیے جا رہی ہیں۔ وہی بیٹی جسے ماں کی آخری سانس دیکھنا نصیب نہیں ہوئی۔ وہی بیٹی جو باپ کی خاطر جیل کاٹ آئی۔ وہی بیٹی جس کے پاس باپ ہی بچا ہے لیکن شاید وہ بھی نہیں۔ وہی بیٹی جو لمحہ بہ لمحہ اپنا باپ بھی کھو رہی ہے۔ وہی بیٹی جسے اپنے باپ کی میڈیکل رپورٹس میڈیا کے ذریعے معلوم ہوتی ہیں۔ وہی بیٹی جو اس وقت ایک ہی ملک میں ہوتے ہوئے اپنے ہی باپ کے گلے لگ کر کھل کے رو بھی نہیں سکتی۔ وہی بیٹی جو اپنی مسکراہٹ کھو چکی ہے۔ اسی بیٹی کی ٹویٹس پڑھ کر دل بہت دکھتا ہے۔
Read more