خان صاحب، آپ اب وزیر اعظم ہیں

ہر بار سوچتے ہیں سیاسی بات نہیں کریں گے۔ غیر سیاسی رہیں گے۔ ذرا پاپولر ہونے کی ٹھانیں گے۔ لیکن کچھ بات بن نہیں پاتی۔ شاید قسمت میں یہی لکھا ہے جس سے لڑنا ہمارے بس کی بات نہیں۔ زندگی میں اور بہت جنگیں ہیں لڑنے کو۔ ہم وہی لڑیں گے جن میں جیتنے یا…

Read more

ہزارہ برادری کے ہزاروں قتل اور نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم

جمعے کا دن تھا۔ سال کے تیسرے مہینے کی پندرہویں دوپہر تھی۔ موسم خاصا خوشگوار تھا لہذا کھانا کھاتے ہی ہم نے قریبی پارک میں جانے کی ٹھانی۔ کانوں ہر ہیڈ فون جمائے اور اپنی دھن میں نکل پڑے۔ ہماری عادت ہے تیز چلنے کی اور جگہ جگہ ٹھوکر کھانے کی۔ اسی روایت کو قائم رکھا اور کچھ ہی دیر میں پارک پہنچ گئے۔ یہاں پہنچتے ہی فون کو ہاتھوں میں لیا اور بجائے قدرت کی خوبصورتی سے محفوظ ہونے کے اپنے میسج اورسوشل میڈیا دیکھنے لگے۔ ہماری جنریشن بھی عجیب ہے۔ ہر دم انٹرنیٹ کی دنیا سے کنیکٹڈ۔ ہر دم حقیقت سے ڈس کنیکٹڈ۔
امی کا میسج تھا۔ ’کیسی ہو؟ ‘
سہیلی کا میسج تھا ’ٹھیک ہو نا؟ ‘
امی کو تو تمیز دار جواب دیا لیکن سہیلی سے کیوں تکلف برتتے۔ جھٹ بولے ’بہت ٹھیک ہوں۔ سب سے ٹھیک ہوں۔ تم سے بھی ٹھیک ہوں۔ ‘

Read more

یاسرہ رضوی ہیں نا

یوں تو چھوٹا منہ بڑی بات لگ رہی ہے لیکن کوئی بات نہیں۔ ہمیں عادت ہے یوں ہی چادر سے باہر پیر پسارنے کی۔ ہم ٹھہرے نثر لکھنے والے چھوٹے لوگ۔ ادب کی سب سے اعلی و ارفع صنف شاعری پر کسی بھی قسم کا تبصرہ کرنا یوں تو ہماری اوقات سے باہر ہے۔ لیکن آج یہ جوئے شیر بھی کھینچ لائی جائے گی۔ آپ دیکھتے جائیے۔

ہمارا شاعری سے تعلق اتنا ہی پرانا ہے جتنے ہم خود۔ والدین کو موسیقی سے گہرا شغف تھا۔ لہذا بہت سی شاعری تو یوں ہی یاد ہو گئی۔ والد صاحب کو علاقائی اور صوفی کلام میں دلچسپی تھی اور والدہ اردو غزلیں پسند کرتی تھیں۔ اپنی طرف سے ہم ’گانے‘ ازبر کرتے تھے لیکن ہوش سنبھالنے کے بعد معلوم ہوا کہ وہ تو غالب، فیض، شاہ حسین اور شاہ عبداللطیف بھٹائی کا کلام تھا۔ وہ سب جو لوگ بڑے ہو کر پڑھتے ہیں ہم بچپن میں ہی رٹ چکے تھے۔

Read more

شرفا کا یہی شیوہ ہے، رینا اور روینہ کا کیا ہے

امید ہے کہ ہمیں پڑھنے والوں کی زیادہ تر تعداد شرفاء پر مشتمل ہے جو کسی بھی قسم کی غلط خبر اور فحش ادب سے دور رہتے ہیں۔ امید بھی ہے اور قوی امکان بھی۔ کم از کم جس زبان میں کسی بھی اختلاف رائے کی صورت میں فیڈ بیک ملتا ہے اس سے تو یہی لگتا ہے۔ سب ہی صبح اٹھتے ہی دودھ سے نہاتے ہیں۔ چوہے کھاتے ضرور ہیں لیکن نو سو کے ہندسے پر آتے ہی گنتی بھول جاتے ہیں اور پھر سے شروع کرتے ہیں۔ عزتوں کے رکھوالے ہیں خاص کر اپنے ایمان اور ملکیت کی۔ دوسروں کا بھی بہت خیال رکھتے ہیں کہ کہیں کسی کا دھرم ایک اختلافی رائے سننے سے بھرشٹ نہ ہو جائے۔ جنت کے پاسبان ہیں۔ کلمہ حق کے علمبردار ہیں۔ سب کے ایمان اور حب الوطنی کے سرٹیفیکیٹوں کے اجرا کا ٹھیکہ بھی ان ہی کے پاس ہے۔

دنیا کے حالات پر بھی گہری نظر رکھتے ہیں اور اپنی بیش قیمت رائے دینے سے پرہیز نہیں کرتے۔ ابھی نیوزی لینڈ کے واقعے کی ہی مثال لیجیے۔ انہوں نے اس ظلم پر نہ صرف آواز اٹھائی بلکہ جیسنڈا آرڈن (جن کا اسلامی نام جمیلہ عدنان رکھا گیا ہے ) کی تعریف میں زمین آسمان کے قلابے بھی ملائے۔ ان کے مضطرب چہرے اور سر پر کالے اسکارف کو تمام مسلم عورتوں کے لئے مشعل راہ قرار دیا۔

Read more

بلاول کی ماں کا نام

شاید اسی فون کا اعجاز تھا کہ ہمیں بلاول بھٹو زرداری کی اسمبلی میں کی گئی تقریر یاد آئی جس میں اس نے نہایت برجستہ انداز سے نہ صرف حکومت وقت کو لتاڑا بلکہ کالعدم تنظیموں کے بارے میں بھی کھل کر غم و غصے کا اظہار کیا۔ اپنی ماں کی طرح بلاول بھی طنز و مزاح کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا۔ غالبا اس کے مزاج کی شائستگی بھی ماں ہی کی دین ہے۔ اس تقریر کو سن کر ایک لمحے کو تو ایسا لگا کہ شاید بی بی ہی کچھ دیر کو پارلیمنٹ میں لوٹ آئی ہیں۔ لیکن ایسا نہیں تھا۔ یا شاید تھا۔ ہمیں اتنا نہیں معلوم۔اس کے بعد جو ہوا اس کو دیکھ کر ایک لمحے کو تو ہم بھی ٹھنک گئے۔ وزیر خزانہ اسد عمر صاحب نے لٹھ مار انداز میں وہ زبان استعمال کی جو کم سے کم ان سے تو متوقع نہیں تھی۔ ہاں ان ہی کی جماعت میں ایسے بہت سے لوگ ہیں جنہیں ایسی گفتگو میں ملکہ حاصل ہے لیکن اسد عمر بھی ان ہی کے ہم عمر نکلیں گے یہ اندازہ نہیں تھا۔ خواتین کے عالمی دن سے چند روز قبل ہی کی جانے والی اس تقریر میں انہوں نے ہاتھ نچا کر پہلے تو بلاول کو یہ طعنہ دیا کہ وہ اپنی ماں کا نام اپنے ساتھ کیوں لگاتے ہیں۔ یہی نہیں انہوں نے لیاری میں بلاول بھٹو زرداری کو ہرانے والے ممبر قومی اسمبلی کو ’نر‘ کا بچہ بھی کہا۔ یہ اصطلاح ہماری سمجھ سے باہر ہے کیونکہ ہم نے آج تک کسی مرد کو بچہ پیدا کرتے نہیں دیکھا۔ بلاول کی انگریزی پر بھی اعتراض تھا۔ آٹا گوندھتے ہوئے ہلنا تو ایک قومی مسئلہ تھا ہی۔

Read more

کیا ارض وطن کو اب نواز شریف کا لہو بھی درکار ہے؟

ہمیں دسمبر کی وہ سرد شام آج بھی یاد ہے منظر بہ منظر، حرف بہ حرف من و عن۔ امی کی سہیلی کے گھر ایک ٹی پارٹی تھی جدھر انہوں نے سب کی بیٹیوں کو بھی مدعو کیا ہوا تھا۔ یوں تو امی کی سہیلیوں کے گھر جانے سے ہم بہنوں کی جان جاتی تھی لیکن آنٹی کے گھر ہاٹ اینڈ ساور سوپ بہت مزے کا بنتا تھا۔ جانا تو لازم تھا۔ عمر کا وہ حصہ تھا جب نہ صحت کی پروا ہوتی ہے اور نہ ہی وزن کی۔ سوپ، چکن اسپرنگ رول اور بروسٹ پر ہاتھ صاف کرنے کے بعد ہم نے ایک بار پھر سوپ کا رخ کیا۔ امی کی گھوریوں کو یکسر اگنور کیا اور اپنا سارا دھیان سوپ کی طرف مرکوز رکھا۔ اس زمانے میں گیس کے ہیٹر چلانا بھی جوئے شیر لانا نہ تھا۔ ان کا مشترکہ ڈائننگ روم اور ڈرائنگ روم سب آنٹیوں کے قہقہوں اور نوکروں کے گلوں سے گونج رہا تھا۔ ہمیں کیا لگے؟ ہم تو کونے میں پڑی اس چنیوٹی کرسی پر اپنے مقصد حیات کی تکمیل میں مصروف تھے۔ بغیر کوئی آواز نکالے کہ تربیت بھی تھی اور ارتکاز کا تقاضہ بھی۔یک دم لکڑی کے فریم والا شیشے کا دروازہ ایک دم سے کھلا۔ آنٹی کا چھوٹا بیٹا ایک زناٹے سے کمرے میں داخل ہوا۔ اس کا سانس پھولا ہوا تھا اور بال ہمیشہ کی طرح اڑے ہوئے تھے۔ ’بینظیر بھٹو کا قتل ہو گیا ہے۔ ‘

Read more

انسداد تشدد سنٹر برائے خواتین بند کیا جائے!‎

اب احباب کہیں گے کہ ہماری عادت ہے ہر بات میں کیڑے تلاش کرنے کی۔ کوچہ جاناں میں ایسے بھی حالات نہیں جیسا ہم کہتے ہیں۔ جن مسائل کی نشاندہی ہم کرتے ہیں یہ آج کی بات نہیں۔ یہ تو روز ازل سے چلتے آ رہے ہیں۔ بس تب سوشل میڈیا نہیں تھا لہذا بات کھلتی نہیں تھی۔ شروع سے یوں ہی ہوتا آ رہا ہے۔بادشاہت کا زمانہ تھا۔ لوگوں کو معلوم ہی نہیں ہوتا تھا کہ بادشاہ نے کیا کر دیا ورنہ تب بھی یہی سب ہوتا تھا۔ لوگ یوں ہی ایک دوسرے کا حق مارتے تھے۔ حق بات کرنے پر زنداں میں ڈال دیے جاتے تھے۔ عورت بھی شروع ہی سے مرد کی ذاتی ملکیت ہے۔ وہ اس کا مالک ہے۔ مختار ہے۔ جو چاہے کرے۔ بس اس زمانے کی عورتیں اس قدر سرکش نہیں تھیں۔ مرد کے کہے کو حرف آخر مانتی تھیں۔ اگر شوہر مار پیٹ بھی کرتا تو اسے اس کا پیار ہی سمجھتیں۔ ہوتا تو شروع سے یہی آ رہا ہے نا۔ بس اب بات کھل جاتی ہے۔ سوشل میڈیا آ گیا ہے۔ عورتیں سرکش ہو گئی ہیں۔ لوگوں کو حکمرانوں کے سامنے بولنا آ گیا ہے۔ مسئلے وہی ہیں بس سوشل میڈیا آ گیا ہے۔

Read more

سکوت/ سکون ہی سکون ہے

ایک اصطلاح ہے ’رائٹرز بلاک‘ ۔ شاید آپ اس کے بارے میں جانتے ہوں۔ ہوتا کہا ہے کہ ایک لکھنے والا ذہنی طور پر کچھ وقت کے لئے لکھنے کی طاقت سے محروم ہو جاتا ہے۔ الفاظ ساتھ نہیں دیتے۔ قلم چلتا رہتا ہے لیکن بے معنی۔ یوں سمجھیے کہ کاغذ پر آڑی ترچھی لکیروں کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ جیسے کوئی بولنے کی صلاحیت سے محروم انسان بولنے کی پوری کوشش کرے لیکن غوں غاں سے آگے نہ بڑھ پائے۔ وہ جانتا ہے کہ وہ کیا کہنا چاہتا ہے لیکن الفاظ بس میں نہیں ہوتے۔

یہ حالت بڑی اذیت ناک ہوتی ہے۔ دل و دماغ میں عجیب سا ہیجان پیدا ہو جاتا ہے جو باہر نکلنے کا نام نہیں لیتا۔ بس ہاتھ پاؤں مارنے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہتا۔

Read more

ایمان علی کی خوشی سے پیدا ہونے والے معاشرتی مسائل

یہ قصہ آج کا نہیں ہم بچپن سے ہی خاصے حسن پرست واقع ہوئے ہیں۔ امی بتاتی ہیں کہ شروع سے ہی ان خالاؤں اور پھپھیوں کے پاس زیادہ خوش رہتے جو ذرا طرحدار ہوتیں۔ ناز و ادا سے اپنی گھنی سنہری زلفیں جھٹکتیں، ابرو ہمیشہ ایک تنی ہوئی کمان کی طرح رکھتیں، ہونٹوں کو لال لپ اسٹک سے سجائے رکھتیں۔ یہی نہیں ہمیں ان سب رشتے داروں سے بھی بہت محبت تھی جو ہر وقت خود کو خوشبو میں بسائے رکھتے۔ اپنی ہی ماں جب ساڑھی پہنتیں تو انہیں بار بار مسکرا کر دیکھتے۔ یہی محبت ہمیں خوشنما گھروں سے بھی تھی۔ جہاں ہر وقت ہلکی روشنی میں گلدان تروتازہ نظر آتے۔ دھیمے سروں میں موسیقی بجتی رہتی۔

امی کو یہ سب بالکل پسند نہیں تھا۔ وہ چاہتی تھیں کہ ہم اس بلند سطح سے اتر کر دنیا کو دیکھیں۔ ہر کسی کو پیاری سی بلی بن کر دکھائیں۔ بلا تفریق رنگ نسل حسن۔ ہم سے نہ ہو پایا۔ ہاں میں ہاں ملانے والے دن کی پیدائش نہیں تھی غالبا۔ مینوفیکچرنگ فالٹ!

Read more

وہ تو تمہیں تھے۔۔۔

آج پتہ نہیں کچھ لکھا بھی جائے گا یا نہیں۔ سیدھے لیٹ کر صرف گانے سنے جا سکتے ہیں یا دوستوں کے فون۔ وہ بھی زیادہ دیر نہیں کیونکہ سانس پھول جاتا ہے۔ تھکاوٹ ہو جاتی ہے۔ حالانکہ عجیب بات ہے۔ ساتواں دن ہونے کو ہے۔ پتہ نہیں امتحان ہے یا سازش۔ خیر خدا کی کرنی وہی جانے۔

داہنی ٹانگ پر چھالے ہیں۔ دونوں پیروں پر جلے کے نشان ہیں۔ ان میں بھی جلن تو ہوتی ہے لیکن دل کی جلن سے کم۔ ساتواں دن ہونے کو ہے۔ ہفتے کی شام کی بات ہے کہ مچھلی تلتے ہوئے ہمیں کوئی چکر سا آیا۔ اور سب ہم ہی پر الٹ گیا۔ خدا کا شکر ادا کیا کہ موٹی جینز پہنے ہوئے تھے۔ کچھ بچت ہو ہی گئی۔ بہت اونچا اونچا روئے۔ فورا امی کو آواز دی لیکن وہ تو وہاں تھیں ہی نہیں۔ کیسی امی ہیں یہ؟ سمندر پار کیوں ہیں؟ یہ کیا بات ہوئی؟

Read more