استعفی دیں شیخ رشید صاحب کے دشمن

بہت عرصہ پہلے کی بات ہے جب ہم یونیورسٹی کی ایک اسائنمنٹ کے بہانے لوہاری دروازے گئے۔ جی، بہانہ ہی تھا ورنہ عمر کے اس حصے میں کون کافر ریسرچ کا شوق لے کر بیٹھے تھا۔ لاہور شہر میں اپنائیت کا یہ عالم ہے کہ ہم لوگ یہ نہیں دیکھتے کہ سامنے کون بیٹھا ہے۔…

Read more

ساگر من کی چہ مگوئیاں

ایک بات بتائیے۔ آپ کا حافظہ کیسا ہے؟ کیا آپ کو اپنے بچپن میں پہنی جانے والی فراک اور دس محرم پر پی ٹی وی پر لگنے والی شام غریباں یاد ہے؟ کیا آپ کو گرمیوں کی وہ تپتی دوپہر یاد ہے جب آپ کی امی کی قمیض روٹیاں بناتے ہوئے پسینے سے شرابور ہو چکی تھی؟ کیا آپ کو اپنے ہمسائے میں رہنے والے وہ دو ننھے بھائی یاد ہیں جو ہر آتے جاتے کو سلام کی گردان سناتے تھے؟ اگر آپ کو یہ یاد نہیں تو کچھ بھی یاد نہیں۔

Read more

سانحہ گھوٹکی پر چپ رہنے والوں کی جان کو خطرہ ہے

ہمیشہ کوشش کی ہے کہ ہر موضوع پر لکھا جائے کہیں کچھ موضوعات سے دور رہا جائے۔ کل ہی کی بات ہے کہ ہماری امی نے مشورہ دیا کہ غیرت کے نام پر قتل پر کالم لکھا جائے۔ ہم نے اپنے ہی گاؤں میں ہونے والے ایک ایسے واقعے کا ذکر کیا تو فوراً بولیں کہ مت لکھنا۔ لیکن ہمیں لگتا ہے کہ ایک بے گناہ جان کا ہم پر قرض ہے جو لفظوں سے اتارنا لازمی ہے۔ لیکن کچھ بے گناہ جانوں کا قرض ایسا ہے جو شاید اپنی جان سے اتارنا پڑے۔ اسی لئے ہم کیا سب ہی ہونٹ سیے بیٹھے رہتے ہیں۔

Read more

صلاح الدین کی لاش منہ چڑا رہی ہے

ہم نے گھر میں پاکستانی نیوز چینل کا کنکشن نہیں لیا ہوا۔ پہلے تھا۔ ایسی ایسی خبر آتی تھی کہ دل ہی ڈوبتا رہتا تھا۔ پردیس میں یوں بھی ہر چیز زیادہ زور سے لگتی ہے۔ وہاں کوئی دکان کا شٹر بھی گرے تو خبروں پر ایسا چرچا کیا جاتا ہے کی لگتا ہے پورا ملک بند ہو گیا۔ کچھ دوستوں کے بقول ہمارا یہ فیصلہ کبوتر کی آنکھیں بند رکھنے کے مترادف ہے۔ مصیبت تو نہیں ٹلتی لیکن یہ نیک بخت اپنی آنکھیں میچ لیتا ہے۔ بلی بڑھتی رہتی ہے۔ یہ کھڑا رہتا ہے۔ موت تو بر حق ہے لیکن انسان وقت سے پہلے ڈر کی موت کیوں مرے۔ جتنا وقت اچھا گزر جائے غنیمت جاننا چاہیے۔

Read more

کشمیر جل رہا ہے اور ہم غبارے پھلا رہے ہیں

مقروض ہونا بڑی مشکل کیفیت ہے۔ پتہ نہیں وہ کون لوگ ہوتے ہیں جن کے دل پہ قرضے کا بوجھ نہیں ہوتا۔ آرام سے زنگی گزارے چلے جاتے ہیں۔ ہمیں تو کل رات نیند ہی نہ آئی۔ کبھی لگتا کہ گرمی زیا دہ ہے۔ کبھی جسم ٹھٹھرنے لگتا۔ کاندھوں اور سر پر ایک عجیب سا بوجھ تھا جیسے کسی نے منوں وزن لاد دیا ہو۔ انسان اپنی کیفیت اچھی طرح سمجھتا ہے۔ ہمیں بھی سمجھ آ رہی تھی لیکن کوشش یہی تھی کہ آنکھ لگ جائے۔ کچھ ایسا لگنے لگے جیسے کبھی کچھ ہوا ہی نہیں تھا۔

Read more

جب مسافر کو سوٹ کیس اپنا گھر لگنے لگتا ہے

اب ہم نے پرانی عادتیں چھوڑ دی ہیں کہ کہیں بھی جاتے ہی اپنا کالا سوٹ کیس کھول دیا۔ اب تو ہم سامان کو سوٹ کیس میں ہی رہنے دیتے ہیں۔  اسی سے قمیض نکالی۔ جھاڑ کر سیدھی کی۔ پہن کر سوٹ کیس میں سے ہی میک اپ باکس نکالا۔ لپ اسٹک کو ہونٹوں پر جمایا۔ واپس میک اپ باکس میں ڈالا۔ اس لال ڈبے کو واپس سوٹ کیس میں ڈالا اور اپنی راہ لگ لیے۔  یہی سوٹ کیس اپنا گھر لگتا ہے۔  بس یہی اپنا ہے۔  بس یہی دائمی ہے۔ 

Read more

یہ سب فلاں فلاں کا قصور ہے

کل رات تک ورلڈ کپ کا دور دورہ تھا۔ تھا اس لئے کہ پانچ سو رنز کا خواب پورا نہ ہو پایا۔ کچھ اغیار کی سازشوں نے بھی مارا۔ جب پتہ تھا کہ ہمیں ان کی اچھی گیم کی ضرورت تھی تو ڈھنگ سے کیوں نہیں کھیلے؟ ان کے ہاتھوں میں مہندی لگی تھی کیا؟ سارا ورلڈ کپ ہی فکسڈ تھا۔ ان کافروں کو بھی اچھا کھیلنا تب ہی یاد آتا ہے جب ہمارے مد مقابل ہوں۔ ایک دوسرے کے سامنے تو فتح میں یوں تہذیب دکھاتے ہیں کہ جیسے کھانے کی لمبی آبنوسی میز پر سب بیٹھے ہوں۔ سب کے پیٹ میں چوہے دوڑ رہے ہوں۔ لیکن پندرہ منٹ اسی تکرار میں گزر جائیں کہ پہلے آپ۔ جی نہیں، پہلے آپ۔ ہر کوئی اسی کوشش میں سرگرداں ہوتا ہے کہ دوسرا ہی بھنے قورمے سے ٹانگ کی بوٹی اٹھائے۔

Read more

پردیس کی عید

ہمارے اکثر پڑھے لکھے دوست کہتے ہیں کہ پڑھا کرو تاکہ ڈھنگ کا لکھنا آئے۔ اس بات کا برملا اعتراف کریں گے کہ ہم سے نہیں ہو پاتا۔ شرمندہ ہیں لیکن کیا کیجئے کہ یہ اپنے بس کی بات ہی نہیں۔ کچھ آپ لوگوں نے بھی عادت بگاڑ رکھی ہے کہ جیسا بھی لکھیں پیار…

Read more

مریم نواز کے شوہر کہاں ہیں؟

یوں تو ہماری اوقات اس کائنات میں ایک ذرے کے مترادف بھی نہیں۔ کبھی کبھار لکھ لکھا لیتے ہیں۔ دو چار لوگ پڑھ بھی لیتے ہیں۔ بہت ہو جائے تو کمنٹ بھی کر دیتے ہیں۔ آسمان زمیں پر گر پڑے تو شیئر بھی کر دیتے ہیں۔ یہ وہی دو چار کرم فرما ہیں جو ہمارے نام سے واقف ہیں۔ ورنہ یقین جانئے کہ گھر میں تو کوئی دوسری بار مانگنے پر سالن بھی نہ دے۔ اگر کبھی کسی کے سامنے کسی کی غلطی سے کی گئی تعریف کا ذکر بھی کر دیں تو امی یہی کہتی ہیں
’ان کی نظر خراب ہو گی۔ ‘

جس معاشرے سے تعلق رکھتے ہیں وہاں عورت کے اظہار رائے پر اس حد تک پابندی ہے کہ اگر کچھ لکھنا بھی چاہے تو مناسب یہی ہے کہ قلمی نام سے لکھے۔ ہم تو ٹھہرے بہادر سپاہی۔ نہ صرف اپنے نام سے لکھتے ہیں بلکہ تصویر بھی سب کے سامنے ہے۔ سوشل میڈیا ہر بھی خاصے ایکٹو ہیں۔ اب وقت کم ملتا ہے لیکن پھر بھی کسی نہ کسی طرح شیطان کے اس چندے میں اپنا کار خیر جمع کراتے رہتے ہیں۔ سب کو اس بات کا تو حق الیقین ہے کہ سعدیہ ہی ہے۔ پردے میں چھپا عبدالقدوس نہیں۔

Read more

کائرہ صاحب، ہم شرمندہ ہیں

بار بار وہی موضوع، بار بار وہی کالم۔ سلسلہ یوں ہی چلتا رہا تو شاید کل کو صرف فلمی ستاروں کے بارے میں ہی لکھوں۔ کم سے کم کپڑے تو بدلتے ہیں۔ یہ معاشرہ تو چہرے تک نہیں بدلتا۔ وہی تعفن میں ڈوبی غلاظت کی ڈھیریاں، وہی بدبودار پانی کے شاپر جنہیں چھت پر سے نیچے چلتے راہگیروں پر پھینکا جاتا ہے۔

جب اجلے کپڑوں میں ملبوس یہ شخص بیچارگی سے ادھر ادھر دیکھتا ہے کہ آفت کہاں سے ٹوٹی تو ایک طوفان بدتمیزی برپا کیا جاتا ہے۔ مکروہ قہقہے فلک کو چیرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن یہ آسماں بھی تو ایک پروہت ہے۔ راکھ اور سیندور ملے گا لیکن بہت یو گیا تو مالا جپ لے گا۔ اور کسی قابل نہیں۔ اپنی جگہ پر یوں ہی کھڑا رہے گا۔ اسی طرح ایک ٹانگ پر، ایک ٹک گھورتا ہوا۔

یہاں کچھ نہیں بدلتا۔ نہ غلاظت کی ڈھیریاں، نہ اجلے کپڑے پہننے والے کی بیچارگی، نہ مکروہ قہقہے۔ ہاں سنا ہے کچھ تبدیلی آئی ہے۔ شاید قہقہے بلند ہو گئے۔ آواز اس قدر اونچی ہے کہ لگتا ہے کان پھٹ جائیں گے۔ یہ شور باہر کا ہے یا اندر کا؟ واللہ اعلم!

Read more