عورت آخر چاہتی کیا ہے


ہزاروں سال پہلے کا نظام اور آج کا نظام ہم دیکھیں تو ہمیں ان میں بڑی بڑی تبدیلیاں نظر آئیں گی؛ تاریخ کو جنجھوڑ دینے والے انقلابات، تحریکیں، پرانے نظام کا ختم ہونا نئے نظام کا آنا، سائنس اور ٹیکنالوجی کی دنیا، ہلا دینے ترقی، مختلف دریافتیں؛ یہ سب انسانوں کے اجتماعی عمل سے ممکن ہوا۔ اگر دیکھا جائے تو سماج مکمل عمل میں ہے؛ جو چیز عمل میں نہیں ہو گی، وہ دنیا سے ہمیشہ کے لیے فنا ہو جائے گی اور جس چیزکی ہمیں لگ رہا ہے کہ آج کے دور میں قدر نہیں ہے تو آگے جا کر لازماََ اسی چیز کی تاریخ میں بڑی اہمیت ہو گی۔ اسی طرح عورت کا بھی انسانی تاریخ میں بڑا اور بہت اہم کردار رہا ہے۔

عورت جو ہمارے سماج کا واحد رکن ہے، جس کے بغیر انسانی سماج کی ترقی ممکن ہی نہیں اور جس کے بغیر گھر اور انسانی سماج کچھ بھی نہیں۔ دنیا میں بچہ جب آنکھ کھولتا ہے وہ سب سے پہلے تعلیم اپنی ماں سے حاصل کرتا ہے ۔ اگر اس بچے کی ماں ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ ہے اور اس کے پاس ایک دنیا کی تاریخ اور علم سے بھرا ہوا ذہن ہے تو آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ وہ بچہ آگے جا کر پوری دنیا ہلا سکتا ہے۔ یہ سب ایک آزاد عورت ہی ممکن بنا سکتی ہے۔

پتھر کے دور کا سماج، آج کے دور سے بالکل مختلف تھا۔ پتھر کے دور میں مرد اور عورت کے درمیاں کوئی فرق نہیں تھا اور نہ ہی کپڑوں کا تصور تھا۔ اْس سماج میں مرد اور عورت کا اٹھنا، بیٹھنا، کھانا، پینا سب ساتھ تھا۔ پتھر کے دور کا آج کے جدید دور سے موازنہ کریں، تو ہمیں فرق صرف یہ نظر آئے گا، کہ اْس دور میں مرد اور عورت کا رتبہ برابر کا تھا اور آج کے دور میں عورت مرد سے بڑھ کے حیثیت رکھتی ہے۔

ہم پاکستان کی بات کریں تو سب سے پہلی بات یہ کہ دنیا کا کوئی بھی نظریہ پاکستان میں آتا ہے تو سب سے پہلے ہم اس نظریے کو بگاڑ کر ہمارے معاشرے میں پیش کرتے ہیں؛ جس سے سماج میں بہت سارے مسئلے پیدا ہوتے ہیں۔ نا ہی ہم حقیقت کو سمجھ پاتے ہیں، اور نا ہی اس نظریے کو ہمارے سماج میں مقام حاصل ہوتا ہے۔ اس کی ایک وجہ ہمارے سماج کی دقیانوسی سوچ بھی ہے، جس کی وجہ سے ہر آنے والی نئی چیز کو اپنے اوپر حملہ سمجھا جاتا ہے۔ در اصل یہ ان سماجوں میں ہوتا ہے جن میں صدیوں پرانے قوانین رائج ہوتے ہیں؛ جس کا جدید دور سے کوئی تعلق نہیں۔ جس طرح سقراط کو زہر پلانا، گلیلیو کا کورٹ میں پیش ہونا اور اور برونو کو زندہ جلا دینا، یہ اس لیے ہوا کیوں کہ اس دور کے سماج کے لوگ ہر آنے والی نئی چیز پر شک کرتے تھے اور سماج کے اصولوں کے خلاف سمجھتے تھے۔

ہمارے سماج نے عورتوں کی آزادی کو صرف امیر عورتوں یا امیر لوگوں کی بیویوں تک محدود کر دیا ہے۔ ہمیں وہ مظلوم عورتیں نظر ہی نہیں آتیں جو کھیتوں سے اغوا ہو جاتی ہیں، جن کو پولیس اور عدالتوں سے انصاف ہی نہیں ملتا، جن کو اداروں میں سفارشوں کے بغیر نوکریاں ہی نہیں دی جاتیں۔

وفاقی اداروں میں عورتوں کی ہزاروں خالی سیٹ ہونے کے باوجود بھرتی نہ کرنا، یونیورسٹیز میں پڑھانے والی فیمیل لیکچرر کے لیے ہمارے معاشرے میں ان کے بچوں کے لیے کوئی ڈے کیئر نہیں، این جی اوز چلانے والی سماجی عورتیں جو مظلوم عورتوں کے حقوق کے لیے آواز اٹھاتی رہتی ہیں، ہمیں ان کے گھر وں میں ان کی نوکرانیوں کا حال بھی دیکھنا چاہیے، اور سب سے بڑی بات یہ کہ عورتوں کا عالمی دن یا کانفرنس کراچی، لاہور اور اسلام آباد کی فائیو اسٹار ہوٹلوں میں منایا جاتا ہے؛ جس کا مطلب یہ ہوا کے عورتوں کے حقوق صرف امیر طبقے کی عورتوں کے لیے ہیں۔ اگر سماجی نفسیات یا ہمارے سماج کے مر د کی نفسیات ٹھیک ہو جائے تو عورت کو چادر یا برقع پہننے کی ضرورت ہی نہیں۔

پاکستان میں عورتوں کے تشدد کے اکیاون ہزار  دو سو اکسٹھ کیس رجسٹرڈ ہیں، جن میں گھروں میں تشدد کے کیس کی تعداد پندرہ ہزار چار سو اکسٹھ، قتل کے آٹھ ہزار پندرہ، اور باقی گھریلو جھگڑے، ریپ، چھیڑ چھاڑ کے چار ہزار آٹھ سو پینتالیس۔ دو ہزار گیارہ میں آٹھ ہزار چار سو اٹھارہ، دو ہزار تیرہ میں آٹھ ہزار آٹھ سو پینتالیس، سن تیرہ میں پانچ ہزار پانچ سو تہتر، سن چودہ میں سات ہزار سات سو اکتالیس، سن دو ہزا پندرہ میں چھہ ہزار پانچ سو ستائیس کیس رپورٹ ہوئے۔ دو ہزار سترہ میں آٹھ ہزار اکتیس، اسی سن کے چھہ ماہ میں چار ہزار چھیاسٹھ کیس رپورٹ ہوئے۔ پاکستان کے مختلف صوبوں میں عورتوں کے لیے ایک الگ وزارت ہے اور ان وزارتوں نے عورتوں کے حقوق کے حوالے سے کسی قسم کے کوئی اقدامات نہیں لیے اور وزارتیں بھی صرف وزیر اور ان کے سیکریٹریز کے حقوق کے لیے جنگ لڑ رہی ہیں۔ اس وجہ سے آج پاکستان عورتوں کے لیے دنیا کا چھٹا بڑا خطرناک ملک ہے۔

سندھ میں ہندو لڑکیوں کا اغوا ہونا اور چترال میں کیلاش لڑکیوں کا صرف گھر سے باہر پیر رکھتے ہی اغوا ہو جانا، یہ دونوں باتیں اسی بات کا ثبوت ہیں، کہ پاکستان کے مختلف صوبوں میں عورتوں کی وزارتیں کتنی فعال ہیں۔ بلوچستان میں عورتیں سڑکوں پر اور تھر میں عورتیں اس لیے خود کشی کر رہی ہیں کہ ان کے پاس دو وقت کا کھانا نہیں۔ ہمارے مہذب معاشرے میں کچھ ایسے واقعات بھی پیش آتے ہیں، جو عزت کے معاملے کی وجہ سے رپورٹ ہی نہیں ہوتے؛ جیسا کہ اغوا، ریپ، کارو کاری۔ اداروں میں جنسی ہراسانی اور اس طرح کے دیگر واقعات کسی معاشرے کے مہذب ہونے کا ثبوت نہیں دیتے۔

ایک غریب اور اوپر سے عورت، اس کا مطلب یہ ہوا کہ ظلم اپنی ساری حدیں پار کر لیتا ہے۔ بہت سی عورتیں محنت کر کے، دنیا سے مقابلہ کر کے، آخر میں جا کر کسی منزل تک پہنچتی ہیں، اس کے بعد وہی معاشرے کی غلام سوچ اس عورت کو برداشت نہیں کرتی۔ اس طرح کی ہمارے سماج میں بہت سی مثالیں موجود ہیں۔ جیسا کہ بے نظیر بھٹو کو ایک جلسے میں شہید کر دیا گیا۔ سبین محمود کو کراچی کی سڑکوں پر ٹارگٹ کرنا؛ عاصمہ جہانگیر کے اوپر غداری کے الزامات اور ملالہ کو صرف اسکول جانے پر گولی ماری گئی۔

پاکستان میں صرف ایک فی صد امیر طبقے کی عورتوں کو ماڈرن اور عمدہ کپڑوں میں دکھا کر یہ تاثر پیدا کیا جاتا ہے، کہ پورے پاکستان میں عورتوں کی زندگی ایک جیسی گزر رہی ہے؛ جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ ایک سوال ہے جو صدیوں سے ہمارے سماج کے ذہین لوگوں کے ذہن میں گھوم رہا ہے اور وہ سوال ہے، ’’عورت آخر چاہتی کیا ہے‘‘۔ اس سوال کا جواب دنیا بھر کی کتابوں میں ڈھونڈنے، مختلف فلسفیوں کے فلسفے پڑھنے کے باوجود نہیں مل سکتا۔ سیمون ڈی بوار سے لے کر جوڈیتھ تھامسن تک کی فلسفی عورتیں بھی اس بات پر پریشان ہو جاتی تھیں، کہ عورت آخر چاہتی کیا ہے۔

عورت چاہتی کیا ہے، اس سوال کا جواب صرف شاہ عبد اللطیف بھٹائی کے پاس موجود تھا؛ جس نے اپنی شاعری عورتوں کے نام کر دی۔ بھٹائی اپنی شاعری میں کہتا ہے، کہ عورت چاہتی ہے، مکمل ‘روحانی’ اور ‘جسمانی’ آزادی۔

Facebook Comments HS