سیاسی اور مذہبی راہنماؤں کو طوائفوں کے ذریعے کیسے پھنساتے ہیں
وہ بولی:” ڈرو نہیں! “ کیسٹ ختم ہوئی تو میرا جی چاہا کہ وی سی آر سے کیسٹ نکالوں اور بھاگ جاؤں۔ لیکن ایسا ممکن نہ تھا کیونکہ کیسٹ ختم ہوتے ہی اس نے کہا: ” چلیں کھانا کھا لیں باقی باتیں وہاں کریں گے“۔
کھانا خاصا پر تکلف تھا۔ گل بانو نے میری سوچ میں ڈوبی ہوئی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے کہا: ” جسم فروشی پر ریسرچ کے دوران گلوکاراؤں کے ملکی اور غیر ملکی انٹیلی جینس ایجنسیوں کے ساتھ روابط کا ضرور جائزہ لیجیے گا۔ “ اپنی بات ختم کرتے کرتے وہ بولی:” اپنی کتاب ”پاکستان میں انٹیلی جینس ایجنسیوں کا سیاسی کردار“ میں آپ نے ایک ایسے سیاستدان کا ذکر کیا ہے جس کے خلاف مواد اکھٹا کرنے کے لئے ایک طوائف سے مدد لی گئی تھی۔ آپ نے کتاب میں اس سیاستدان کا نام نہیں لکھا۔ کیا بتایا پسند کریں گے وہ کون تھا اور وہ طوائف کون تھی؟“
میں نے کسی تکلف کے بغیر کہا ” سیاستدان تو ۔ ۔ ۔ تھا اور طوائف کا نام نہ پوچھیں کیونکہ آپ اسے جانتی ہیں“۔
وہ بولی : ”قسم لے لیں مجھے نہیں معلوم۔ میرا خیال تھا کہ ۔ ۔ ۔ کی بجائے ۔ ۔ ۔ کی فلم بنائی گئی تھی۔ “ میں نے کہا : کوشش تو ۔ ۔ ۔ صاحب کو پھانسنے کے لئے ہی ہوئی تھی لیکن وہ بچ نکلے۔ “
گل بانو بولی :” 76۔ 1975 میں مجھے بھی ایک انٹیلی جینس ایجنسی نے پیپلزپارٹی کے مخالفین، خصوصاً ولی خان کی جماعت کے لوگوں کے خلاف مواد اکھٹا کرنے کے سلسلے میں مدد کرنے کو کہا تھا۔ اس ایجنسی کے پاس میرے متعلق کافی مواد تھا اور میں نے بلیک میل ہونے کے بجائے بھٹو کو خط لکھ دیا کہ مجھے ایف ایس ایف والے ہراساں کر رہے ہیں۔ اس خط کی کاپی میں نے متعلقہ انٹیلی جینس ایجنسی کے آفیسر کو بھی ارسال کر دی بس پھر نہ پوچھیں کہ کہاں کہاں کس کس کی شامت آئی۔ مجھے یاد ہے کہ کبھی کوئی آفیسر آ کر میری منت کرتا اور کبھی کوئی میری خوشامد کرتا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ میں نے خط میں بھٹو صاحب کو لکھ تھا کہ ”وزیراعظم صاحب! مجھے یقین ہے کہ آپ جمہوری سوچ رکھتے ہیں اور ایک ایسا شخص جس نے مارشل لاء ختم کر کے جمہوری عمل کو فروغ دیا ہو وہ غیر جمہوری اور غیر اخلاقی کام کیسے کر سکتا ہے۔ “
میں نے مزید لکھا کہ ” مجھے وزیراعظم سے جو میرے محبوب لیڈر ہیں امید ہے کہ وہ ایف ایس ایف والوں کو لگام ڈالیں گے کیونکہ اے این پی کے بعض رہنماؤں سے میری ذاتی مراسم ہیں اور میں اور ان مراسم کو گنوانا پسند نہیں کروں گی۔ “ ساتھ ہی میں نے اے این پی کے بعض رہنماؤں کو اپنے گھر بلا لیا۔ چونکہ ان کی جاسوسی ہو رہی تھی اس لئے ایف ایس ایف والوں کو خطرہ پیدہ ہوا کہ کہیں میں بھانڈا نہ پھوڑ دوں لٰہذا انہوں نے منت سماجت کر کے مجھ سے جان چھڑوائی۔ میر ے پاس ایف ایس ایف کے اہلکاروں کے ساتھ گفتگو کا ریکارڈ موجود ہے۔ “
میں نے کہا : ”آپ نے ہمیں ابھی تک اپنی کہانی نہیں سائی۔ “
وہ بولی : ” وہ بھی سنا دیتے ہیں۔ “ یہ کہہ کر وہ ایک مرتبہ پھر ماضی کی یادوں میں ڈوب گئی۔ یوں لگ رہا تھا کہ جیسے اس کی بند آنکھوں کے سامنے کوئی فلم چل رہی ہو اور وہ اس کے بدلتے ہوئے مناظر کو دیکھا رہی ہو۔ کچھ دیر کے بعد ایک لمبی سانس بھر کے وہ بولی: ” میں پٹھان نہیں ہوں بلکہ میری ماں آگرہ کے ایک معزز گھرانے سے تعلق رکھتی تھی۔ پاکستان بنا تو وہ مجھے پیٹ میں لے کر جنت کی تلاش میں لاہور چلی آئی۔ وہ ایک ایسی ٹرین میں سوار تھی جس پر ہندوؤں اور سکھوں نے کئی مرتبہ حملہ کیا اور کئی عورتوں کو ان کے اہل خانہ کے سامنے ذبح کیا۔ بعض عورتوں کو انہوں نے ریل کی پٹٹری پر جنسی تشدد کا نشانہ بنایا اور یہ کہہ کر چھوڑ دیا کہ بیٹا ہو تو اس کا نام فلاں سنگھ رکھنا۔
اس زیادتی کا نشانہ بننے والوں میں ماں بھی شامل تھی۔ ماں لٹتی ہوئی مہاجر کیمپ آگئی جہاں ایک رات جب وہ شام کے بعد رفع حاجت کے لئے باہر نکلی تو دو بد معاشوں نے اسے زبردستی اپنی ہوس کا نشانہ بنا ڈالا۔ میں تو بہت چھوٹی تھی جب ماں فوت ہو گئی اور مجھے ایک قریبی رشتہ دار کے ہاں بھیج دیا گیا۔ اس گھر میں مجھے ملازمہ کا درجہ حاصل تھا۔ اس لئے میں ایک دن بھاگ گئی اور مجھے ایک پٹھان نے خرید لیا۔
اب میں اس کے ہاں پشاور میں رہنے لگی۔ اس نے مجھے تعلیم دلوائی۔ ہوش سنبھالنے پر میں اس کے سائے سے محروم ہو گئی۔ میرا ذریعہ معاش اس کی چھوڑی ہوئی تھوڑی سی دولت تھی جو جلد ہی ختم ہو گئی۔ وہ گھر اس کے رشتہ داروں نے چھین لیا اور میں ایک مرتبہ پھر سڑک پر آ گئی۔
کئی دن نوکری کی تلاش کرتی رہی لیکن کسی نے سہارا نہ دیا۔ بڑی مشکل سے درمیانے درجے کے ایک ہوٹل میں ملازمت ملی۔ میرا کام استقبالیہ پر گاہکوں کی ضرورت کا خیال رکھنا تھا۔ کئی گاہک لڑکی کا خود بندوبست کر کے آتے تھے اور کئی بلا تکلف مجھ سے کہہ دیتے کہ میں ان کے لئے عیاشی کا سامان فراہم کروں۔ کئی ایک تو مجھ کو منہ مانگی رقم دینے کو تیار تھے۔ میرے پاس ایسی لڑکیوں کے ٹیلی فون نمبر موجود تھے جنہیں ہوٹل بلایا جاتا تھا۔ چنانچہ میں نے خود کو ایک سال گندگی سے بچا کر وہاں کام کیا۔ اس دوران میرے روابط کئی طوائفوں سے ہوئے۔
اسی دوران ایک شخص میری زندگی میں آیا۔ یہ وہ شخص تھا جس نے میرے اندر پڑی مردہ لڑکی کو زندہ کیا۔ اس نے مجھے سہانی اور باعزت زندگی کے خواب دکھائے لیکن مجھے بے عزت کر کے میری زندگی سے نکل گیا۔ جس کے بعد میں نے شہر کے ایک معزز شخص سے شادی اور آج وہ تو دنیا میں نہیں ہے لیکن میں زندہ ہوں۔ “ گل بانو نے اپنی کہانی مختصر ترین الفاظ میں مکمل کرتے ہوئے کہا: ” کہ آج میرے پاس عزت، دولت سب کچھ ہے لیکن یہ سب کچھ جعلی ہے۔ اگر نہیں ہے تو میرے پاس سکون نہیں ہے۔ “
کتاب ”عورت اور بازار“ سے اقتباس



