ایک دفعہ میری ملاقات ایک ایسے شخص سے ہوئی جس کی عمر 46 سال تھی شاید ہی کوئی طوائف ایسی ہو جو اس کی صورت یا اس کے نام سے واقف نہ ہو۔ وہ بازار حسن کا انسائیکلو پیڈیا تھا اور میرے قابو بڑی مشکل سے آیا۔ پہلے تو اس نے کئی چکر دیے لیکن بہت اصرار پر اس نے وعدہ لیا کہ میں اس کا اصل نام ظاہر نہ کروں گا تو وہ مجھے اپنی کہا نی سنا دے گا ہم اس کا نام حکیم الدین غوری رکھ لیتے ہیں جو اس کے نام سے کچھ ملتا ہے۔ حکیم الدین غوری پیشے کے اعتبار سے ایک ورکشاپ کا مالک ہے اور شاید ہی لاہور میں کوئی ایسا کوٹھی خانہ ہو جہاں اس قدم نہ رکھا ہو۔
” حکیم صاحب! اب تک کتنی لڑکیاں آپ کی زندگی میں آ چکی ہیں؟ “ میں نے پوچھا۔ “لڑکیوں سے آپ کی کیا مراد ہے؟ آپ کہیں طوائف کے بارے میں تو بات نہیں کر رہے؟ “ میرا اشارہ طوائف ہی کی طرف تھا؟ “
” میں سینکڑوں عورتوں کو اپنے تجربے سے مستفید کر چکا ہوں۔ “اس نے فخر سے سینہ تا ن کر کہا۔
” کیا مطلب، آپ نے عورتوں کو اپنے تجربے سے مستفید کیا یا عورتوں کے پاس جائے کی وجہ سے آپ کے تجربات میں اضافہ ہوا؟ “
” میرے معاملے میں یہ صورت حال الٹ ہے۔ “
” پہلی عورت زندگی میں کب آئی “
” عورت نہیں لڑکی کہیں۔ وہ میری کزن تھی اور شادی شدہ تھی۔ پہلا تجربہ اس سے حاصل کیا۔
Read more