تمہارے ساتھ زیادتی ہوئی ہے، ہم تمہیں سکول میں داخلہ نہیں دے سکتے


اس لڑکی کیساتھ جنسی زیادتی ہوئی ہے ، ہم اس کو سکول میں داخلہ نہیں دے سکتے۔۔۔بھارتی سکول انتظامیہ نے ایسی شرمناک بات کردی کہ پوری دنیا میں بھارت بد نام ہوگیا

 

بھارت میں گزشتہ دنوں ایک نوعمر لڑکی کو سکول کے ہاسٹل میں ساتھی طالب علموں نے اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا۔ یہ ایک المناک واقعہ تھا، مگر اس سے بڑھ کر المیہ دیکھئے کہ اب اس بدقسمت لڑکی کو کوئی بھی سکول داخلہ دینے کو تیار نہیں۔

ہندوستان ٹائمز کے مطابق 16 سالہ لڑکی کی خاتون وکیل نے انکشاف کیا ہے کہ اُسے داخلہ نہیں دیا جا رہا، اور انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اس بے حسی کا فوری نوٹس لیا جائے۔ متاثرہ لڑکی کے والدین کی جانب سے لکھے گئے خط میں ایڈووکیٹ ایرونی نیگی چوہان نے وزیراعلیٰ تری وندرا سنگھ راوت سے درخواست کی کہ محکمہ تعلیم سکولوں کے بے حسی اور غیر ذمہ داری پر مبنی رویے کا نوٹس لے اور ان کے خلاف سخت ترین ایکشن کرے۔

لڑکی کو گزشتہ ماہ ایک بورڈنگ سکول میں اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ اس کے والدین نے اسے متعدد پرائیویٹ سکولوں میں داخل کروانے کی کوشش کی ہے لیکن کوئی اسے داخلہ دینے کو تیار نہیں۔ اگرچہ متعدد سکولوں نے کوئی وجہ نہیں بتائی البتہ ایک پرائیویٹ سکول کی انتظامیہ نے والدین سے صاف کہا کہ وہ اجتماعی زیادتی کا نشانہ بننے والی لڑکی کو اپنے ہاں داخلہ نہیں دے سکتے۔

بدقسمت لڑکی کو 14 اگست کے روز اس کے چار ساتھی طالبعلموں نے اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا تھا لیکن اس کے سکول کی انتظامیہ نے اس معاملے کو چھپانے کی کوشش کی۔ بعدازاں اس وقت یہ معاملہ سامنے آگیا جب لڑکی کو خدشہ لاحق ہوا کہ وہ حاملہ ہوگئی ہے اور اس نے اپنے گھر والوں کو یہ بات بتائی، جس کے بعد پولیس سے رابطہ کیا گیا۔

پولیس نے زیادتی کے ملزم چاروں لڑکوں کو اپنی تحویل میں لے لیا ہے جبکہ سکول کے ڈائریکٹر، پرنسپل، ایڈمنسٹریشن آفیسر اور اس کی اہلیہ جو ہاسٹل کی نگران تھی اسے بھی حراست میں لے لیا گیا ہے۔ لڑکی کے طبی معائنے سے معلوم ہوا ہے کہ وہ حاملہ نہیں ہے البتہ اس کے ساتھ اجتماعی زیادتی کے الزام میں ملزمان کے خلاف قانونی کارروائی جاری ہے۔

Facebook Comments HS