یاد کرنا احمد عدنان طارق صاحب کا اور ہمارا پہنچنا!
صاحبو بارے احمد عدنان طارق کے اب ہم کیا بتاویں اور کہاں سے شروع کریں۔ بندے عالی دماغ کے ہیں اور سچے اور سُچے انسان ہیں۔ پیشہ پولیس کا رکھتے ہیں اور سٹیشن ہاؤس آفیسر ہیں۔ لاہور میں ضمنی انتخابات ہوئے تو طور عارضی مانیٹرنگ کرنے پہنچے آج کل میں دوبارہ تھانہ سمندری تعینات ہوجاویں گے۔ ہمارا ان سے علاقہ ادب اطفال کی نسبت سے جڑا ہے۔ روانی سے لکھتے انہیں پانچ سال ہوئے ہیں مگر دنیائے ادب میں کتابیں عدد بیس لاچکے ہیں۔ بہتوں سے اچھا لکھتے ہیں اور ہم ایسوں کو راہ ادب اطفال پر لاتے ہیں۔ مگرہم لاتوں کے بھوت ہیں باتوں سے کہاں مانتے ہیں۔
کھری بات کہنے کی یہ ہے ہمارے قلم میں جو پڑھن کی چیز ہے وہ احمد صاحب کی عطا ہے کہ گاہے گاہے وہ ہماری تربیت کرتے ہیں۔ چھرا نہیں گھونپتے۔ ایسے حضرت انساں اس دنیائے فانی کے ماتھے کا جھومر ہیں۔ جو جسم کی کایا سے آزاد ہوجاتے ہیں مگر کام چھوڑ جاتے ہیں۔ تعلیم و تربیت، نونہال، ادبیات اطفال، بچوں کا پاکستان جیسے رسائل میں لکھتے ہیں۔ لکھتے بہت ہیں مگر وصف یہ کہ معیار منفرد رکھتے ہیں ہر کہانی دوسرے سے الگ مزاج کھاتی ہے۔ بچوں کے اذہان کو لبھاتی اور جہانِ نو کی سیر کروانے کے ساتھ اس جنوں پریوں اور پھر گوشت پوست کے انسانی کرداروں سے ملواتی ہیں۔ یہ کردار اس کی بیٹی ہے نام جس کا تزئین ہے۔ بیٹا ہے نام جس کا عنریق ہے۔ اور ایک کردارِ طرح دار ہے نام جس کا معاز ہے بیٹا احمد عدنان طارق کا ہے۔
مگر جن دنوں احمد صاحب کے یہاں کوئی اولاد نہ تھی۔ وہ اسے پالنے میں لائے تھے اور اب مستقل رکھنے لگے تھے۔ بارے احمد عدنان طارق کے کہاں تک سناوں قصہ آج کا یہ ہے صبح دم جد میں بیٹھا یونیورسٹی میں تھا کہ آیا فون احمد عدنان طارق صاحب کا۔ سنا تو بولے کہ مدت ہوئی تمہیں دیکھے، تم سے بات کیے اور ہوکہاں گم کہ میری دو کتابیں نئی آچکی ہیں، پر تمہاری مبارک ابھی راہ میں ہے۔ بہت بے کل ہوا بیٹھا، کسی طور پہنچو تو مزاج کو آرام ملے اور طبعیت کو آسودگی سے پالا پڑے۔ ہم یاروں پر جان وارتے ہیں پر خداوند ہمارے خلوص سے آگاہ ہے کہ جس طور ہم احمد عدنان طارق صاحب کے حکم پر پہنچتے اور ان سے ملتے ہیں یہ ان کا عجز ہے اور بڑا پن۔
یونیورسٹی سے نکلے اور چلے جڑانوالہ روڈ تیزاب مل کی طرف پیٹرول پمپ والے کوچے سے نکلتے ہوئے آشیانے میں پہنچے۔ دیکھتا کیا ہوں دروازہ پرانا ہے پر آشیانے کا نقشہ بدل چکا ہے۔ مستری کام پر جُتے ہیں۔ احمد صاحب نہا رہے ہیں۔ بھابھی صاحبہ کھانا پکا رہی ہیں۔ کوئی دم بیٹھتے ہیں کہ ملازم کوک لیے چلا آتا ہے۔ ہمدم دیرینہ عرفان ہمراہ ہے۔ بندہ کمال کا یے۔ پڑھتا میری جماعت میں ہے۔ جہاں جاوں رفاقت بخشتا ہے۔ کمال اس کے بڑ بڑ کرتے اسکوٹر کا ہے جو ہمارا بوجھ اٹھائے پھرتی ہے۔ راہ چلتے کالی سڑک پر چلتی ٹریفک میں بند ہوجاتی ہے مگر منزل مقصود پر پہنچا کر دم لیتی ہے۔ گھر اب ایک بنگلے میں بدل رہا تھا۔ میں دم بخود کوئی دیر بصد حیرت دیکھے چلا جاتا تھا اور اندر ہی اندر سوچتا تھا کہ اے بندہ خدا کیا ان پولیس والوں کی لاٹری نکل آئی ہے جو یہ سادہ سا مکان بنگلے میں بدل رہا ہے۔ سیلنگ ہورہی تھی اور بڑے اعلیٰ پائے کی تھی۔
احمد عدنان نکلتے ہیں ہمیں کلیجے سے لگاتے ہیں۔ تپاک سے ملتے ہیں کوئی دم ساتھ ہمارے کرسیوں پر بیٹھتے ہیں۔ اٹھتے ہیں اور کہتے ہیں اچھا ہوا تم لوگ آگیے بڑا انتظار تھا اب کچھ سکون پہنچا ہے۔ ہم مسکراتے ہیں۔ مزاج دھیما رکھتے ہیں۔ احمد صاحب ہمیں دوسری منزل پر لیے جاتے ہیں۔ جہاں کاریگر اپنا ہنر دکھلا رہے ہیں سنگ مر مر نصب ہورہے ہیں فانوس و گلداں سجانے کی تیاریاں ہورہی ہیں۔ دیواروں پر پلستر ہورہے ہیں احمد صاحب ہمیں پورا بنگلہ دکھلاتے ہیں اور بہت خوش ہوئے جاتے ہیں کہ کسی مہماں کا آنا انہیں مسرت بخشتا ہے۔ ہمیں گیسٹ روم دکھلاتے ہیں۔ چھت پر لیے جاتے ہیں ٹیرس دکھلاتے ہیں سٹڈی روم گھماتے ہیں۔ پھر الٹے قدموں لیاتے ہیں۔ چائے پلواتے اور ادب اطفال ماضی حال و مستقبل کی سرگرمیوں پر مکالمہ جاری رکھتے ہیں۔
دوران اس مکالمے کے، یہ گھٹڑی بھی کھولتے ہیں کہ سادے سے مکان کو بنگلے میں بدلنا کیوں ضروری ہوا۔ مکان اس بستی میں احمد صاحب کا بڑا تھا۔ مگر جب وقت کو پیر لگے تو کچھ مکان احمد صاحب کے حصے کا سورج لے اڑے اور جب خدائے وند بارش برساتا تھا۔ احمد صاحب کا مکان مثل تالاب بن جاتا تھا۔ صورتیں دو تھیں کہ اسے بیچ دیا جائے اور کسی بنے بنائے پر ہاتھ ڈالا جائے مگر مکان ستائیس سال پران تھا۔ احمد صاحب ماضی گزیدہ ہیں ہماری طرح کے مگر مستقبل پر نظر گہری رکھتے ہیں طے کیا کہ جو دکانیں ان کے حصے کی تھیں جن کا کرایہ نہ بڑھتا تھا اسے بیچ دیویں اور روپیہ مکان پر لاویں سو جو پوچھا کہ کتنی لاگت آچکی تو بولے کہ ساٹھ لاکھ اٹھ چکا ہے۔ ہمارے قدموں سے سنگ مر مر نکلتا تھا اور ہم کسی طور پھسلتے تھے مگر کہنا طارق صاحب کا کہ جگہ کمرشل تھی سو یہاں ٹھکانہ مناسب سمجھا اور بچوں کے لیے تین دہائیوں کا سامان کرچھوڑا اب یہ جانیں اور ان کا کام۔
بہرطور بارے ادب اطفال کے بہت سی باتیں ہوا کیں۔ ایک کہانی فلمائی جارہی ہے۔ آج تو طارق صاحب پر کسی داستان گو کا گمان گزرا یے۔ کہانی جو شروع کی سنانی تو کوئی دم لیے بغیر خاتمے پر پہنچے۔ ان کا بیان لکھنے کا ہو یا سنانے کا ہمارے دل میں اترتا ہے۔ وہ خود فسانہ ہیں۔ ملو تو ایک نئے جہاں میں لیے جاتے ہیں۔ ہمیں برادر عزیز رکھتے ہیں۔ عنایتوں میں کمی نہیں لاتے۔ ہم اپنی دوسری کتاب کا مسودہ ساتھ لیے پھرتے تھے۔ دکھایا تو بڑے خوش ہوئے اور دل بڑھایا۔ کتاب کا نام تجویز کیا اور پبلشروں کی راہ دکھلائی ہم تو ان کی تازہ کتاب کو دیکھ کر مارے حیرت کے بوکھلائے بیٹھے تھے تعداد دوہزار کی اور اعلی نفاست کی تھی آرٹسٹ نے خوب رنگ دکھلائے اور طارق صاحب کی تحریر سونے پر سہاگے کا کام کرتی تھی۔
ہم بھونچکے رہے جاتے تھے کہ معاصرین طارق صاحب سے رہتے نالاں ہیں اور ان کے کام کو نگاہ تعجب و تشکک سے دیکھتے ہیں۔ بھئی کھری سی بات ہے ہماری نظر میں وہ ادیب منفرد ہیں اور بندے سرکاری ہیں لیکن کام کے ہیں۔ دو نئی کتب چلڈرن پبلی کیشنز کراچی نے زیور طبع سے آراستہ کیں۔ وہ بھی ہمیں عطا کیں۔ سچ یہ ہے ہم باتیں کرتے ہیں مگر احمد عدنان طارق کام کرتے ہیں اور بڑے بڑوں کو پیچھے چھوڑ جاتے ہیں۔ دنیا میں کام کرنے والوں کو حوصلہ اور عزت ملتی ہے احمد صاحب اس بارے امید سے ہیں کہ جہان ادب سے جو کچھ انہوں نے پایا۔ اس میں کسی کا کاندھا اور پائنچہ نہیں بلکہ محنت شبانہ روز ہے جد جاکے انہیں یہ ممتاز حیثیت ملی ہے۔ وقت ایک سے اوپر کا ہے ہم بادل ناخواستہ نکلتے ہیں اور آشیانہ احمد عدنان طارق کو خیر باد کہتے ہیں۔ مگر احمد صاحب ہیں کہ کس قدر بگڑتے ہیں جھنجلاتے ہیں، او طالب علمو! کھانا تو کھاتے جاؤ مگر ہم ہاتھ ہلاتے ہوئے صورت مسکان لیے اوجھل ہوتے چلے آتے ہیں۔


