ہمارے لیے قادری صاحب!

لیکچررشپ کی تیاری میں محو تھا کہ اتنے میں دل گرفتہ خبر آئی: ”ڈاکٹر شبیر احمد قادری صاحب وسط جولائی میں عہدے سے سبکدوش ہورہے ہیں۔“ وجود پہ ہلدی سی چھانے لگی اور جی یاد کے شبستان میں اوبنے لگا۔ افسوس اتنے بڑے صاحب کمال ہم سے رخصت ہو رہے ہیں اور ہم یہاں وبا سے گھبرا کر تخلیہ کر بیٹھے ہیں۔ پچھلے دنوں تو لاریاں اسی واسطے بند رہیں۔ مگر اب جی ہے کہ چل کھڑا ہوں اور استاد

Read more

میں ادب کیوں پڑھتا ہوں؟

ڈاکٹر ضیاء الحسن شعبہ اردو اورینٹل کالج، جامعہ پنجاب میں محترم استاد ہیں۔ درجنوں کتابیں لکھ چکے ہیں، تنقید اور فکشن میں آپ کا اپنا مقام مسلمہ ہے۔ ہر دلعزیز استاد ہونے کا ایک اختصاص یہ بھی ہے کہ وہ طلبا سے تخلیقی سرگرمیوں پہ مبنی کام لیتے ہیں، سوچنا سکھاتے ہیں۔ ان سرگرمیوں کو تفویض کرنے کے پس پردہ جو جذبہ کارفرما ہے وہ دراصل طلبا کی سرگرمیوں میں نکھار لانا ہے۔ گئے دنوں اب کے جو، موضوع انھوں

Read more

فسانہ ایک میٹرک فیل کا

کل سویرے میں آنکھیں مل رہا تھا کہ گاؤں سے ملک صاحب کا فون آگیا، ملک صاحب ہمارے عزیز اور بذلہ سنج دوست ہیں پر جلد یوں روٹھ جاتے ہیں جیسے ساس مر گئی ہو، ہیں قوم کے ابڑینڈ مگر بزورِ بندوق ملک صاحب کہلوانے میں ان کا کوئی ثانی نہیں، شاعر واعر ہیں، پڑھاتے وڑاھتے ہیں، چھوٹتے ہی بولے :۔ ”میاں بہت دن سے کراچی ہو، پر افسوس کہ ہمارے بھیا سے نہ ملے۔“ میں نے جھٹ کراچوی لہجہ اپنایا اور پوچھا:۔ ”اڑے وہ سالا رہتا کہاں ہے۔“ ملک صاحب اس پر بولے :۔ ”یہ تو مجھے بھی معلوم نہیں کہاں رہتا ہے، پر تمہیں رابطہ بھیج رہا ہوں، ذرا بات کرو۔ “ ملک صاحب نے نمبر بھیج دیا اور میں اپنے ایک سخن ور دوست عبدالرحمن مومن کے ہمراہ ساحل سمندر کی آوارگی کو نکل کھڑا ہوا۔ اول اول ہم مزار قائد گئے پر بوٹ والوں نے کاندھے پر لٹکے تھیلے پر قدغن لگائی کہ آپ یہ اندر نہیں لے جاسکتے، تو وہیں سے سوئے ساحل چلے کہ تھیلے یاں کس کے رحم و کرم پر چھوڑتے۔

ملک صاحب کے اس دوران پانچوں فون چھوٹ گئے مگر چھٹے کی گرفت غنیمت ہوئی تو بولے :۔ ”یار کہاں مرگئے، ابھی جا کر ملو، وہ انتظار بیٹھا ہے۔“ ساحل کنارے کالی تصویریں نکالتے جب شام ڈھلے ہم نکلے تو لکی ون شاپنگ مال پہنچتے خاصا وقت لگا۔ فون لگاتے ہی وہ سامنے آن کھڑا ہوا۔ ہمارے دوست ملک صاحب کی طرح نکلتا ہوا قد، سوکھا نکھرا منہ، فرانسیسی تراش خراش، بودوباش صاحب لوگوں کی، عمر سترہ اٹھارہ، ہوٹل منتظم کے لبادے میں وہ چمک رہا تھا۔

Read more

ڈاکٹر سید معین الدین عقیل سے ملاقات

کراچی میں بچوں کے ایک غیر معمولی اہمیت کے حامل پرچے ماہنامہ ’ساتھی‘ کے مدیر اعظم طارق (کوہستانی) نے 3 فروری کی صبح ناشتہ کا اہتمام کیا تھا۔ ہمارا قیام سینیئر صحافی و خوش مکھ دوست زاہد حسین کے یہاں تھا۔ رات گپ اڑاتے گزری۔ سویرے نہا کر کپڑے پہنے تو پتلون تنگ پڑگئی، معاملہ بھانپ کر زاہد بھائی اپنی پتلون لائے اور بولے :۔ ”میاں یہ پہنو۔ “ پہنی تو میں زاہد صاحب کا بہروپیا دکھا۔ جلد اتار پھینکی

Read more

محمود شام: کوئی ایسا بھگت سدائے

محمود شام کون ہیں؟ ایک خبر سنتے ہی یہ نام دس برس پہلے میرے لاشعور میں بیٹھ گیا اور میں شام صاحب کی تصویردیکھ کر دل بہلانے لگا۔ کیا کرتا تصویر ہی ایسی تھی جو خبر پڑھی تھی، وہ بھی تحیر میں ڈال دینے والی تھی۔ خبر تھی ”محمود شام نے صدارتی ایوارڈ لینے سے انکار کر دیا۔ “ اس زمانے میں کم عمر تھا مگر دیکھ اور محسوس ضرور کر سکتا تھا۔ ہو سکتا ہے، اس خبر میں آپ

Read more

زندگی بھر کی خدمت اور عید کا ایک دن

مجھے بھر پور اعتراف ہے، زندگی میں خیرات دینے کے معاملے میں بھر پور بخیل واقع ہوا ہوں۔ بہتوں بار نانی ماں نے کہا، بھوکے رہ لیا کرو، مگر کسی کو کچھ دے دلا ضرور کر لیا کرو۔ بہتوں بار ایسا ہی کیا، پھر ذہن پلٹ گیا اور پیشہ ور بھکاریوں کو نظر انداز کرنے لگا۔ایک مرتبہ یونیورسٹی کے گیٹ سے دس قدموں پرے کھڑے گونگے فقیر نے کبھی کبھی ضرورچونکایا، مگر اسے بھی ایک آدھ دفعہ بھیک دے کر

Read more

رہنا کرسچن ٹاؤن میں!

ان دنوں مَیں کرسچن ٹاؤن فیصل آباد میں رہتا تھا۔ میرا فلیٹ پانچویں منزل پر تھا۔ دو کمرے تھے۔ ایک جگہ کچن نام کی تھی، دوسرا فلیش باتھ تھا، کھلا صحن تھا۔ جن دنوں مجھے یہاں استاذی وسیم عباس صاحب چھوڑ کر گیے تھے شدید جاڑا تھا اور کہر پڑتی تھی۔ اوائل دنوں میں، مَیں ذرا دبا دبا رہا کہ محلہ عیسائیوں کا ہے۔ آنے جانے میں نظر اٹھا کر کر یاں چلنا کسی تکلیف سے کم نہ تھا کہ

Read more

یاد کرنا احمد عدنان طارق صاحب کا اور ہمارا پہنچنا!

صاحبو بارے احمد عدنان طارق کے اب ہم کیا بتاویں اور کہاں سے شروع کریں۔ بندے عالی دماغ کے ہیں اور سچے اور سُچے انسان ہیں۔ پیشہ پولیس کا رکھتے ہیں اور سٹیشن ہاؤس آفیسر ہیں۔ لاہور میں ضمنی انتخابات ہوئے تو طور عارضی مانیٹرنگ کرنے پہنچے آج کل میں دوبارہ تھانہ سمندری تعینات ہوجاویں گے۔ ہمارا ان سے علاقہ ادب اطفال کی نسبت سے جڑا ہے۔ روانی سے لکھتے انہیں پانچ سال ہوئے ہیں مگر دنیائے ادب میں کتابیں

Read more