ستاروں کی چھاؤں میں کرنوں کا رقص، کتاب اور بوسہ ۔۔۔۔ ڈاکٹر لبنیٰ مرزا بنام رابعہ الربا
ساری جنسی ہراسانی، سیٹیاں، بدتمیزیاں تو اسلامی جمہوریہ پاکستان میں دیکھی تھیں۔ اسی لیے میں نے کبھی اپنی بیٹی کو پاکستان بھیجنے یا اس کو اپنی مشرقی اقدار یا اردو سکھانے کی کوئی کوشش نہیں کی۔ اس لڑکی کو میں نے اتنا مضبوط بنا دیا کہ اگر آج میں کوشش بھی کروں تو اس کی ارینجڈ شادی یا کریر کا فیصلہ نہیں کرسکتی اور نہ ہی ان بے وقوفانہ کاموں کا میرا کچھ ارادہ ہے۔ اس کو میں نے بتایا کہ تمہارے بارے میں یہ لکھا ہے تو اس نے کہا کہ شائد آپ نے زبردستی نہ کیا ہو لیکن پھر بھی اشاروں کنایوں سے ہم پر یہ دباؤ رہا ہے کہ پڑھائی کرنی ہے اور ڈاکٹر بننا ہے۔ میں نے اس کی بات پر کھلے دل اور دماغ سے غور کیا تو مجھے یہی سمجھ میں آیا کہ بچوں کی تربیت سے زیادہ ہمیں اپنی تربیت کی ضرورت ہے تاکہ ہمیں اپنی اور ان کی حدود سمجھ میں آئیں۔ شائد ہم پرفیکٹ کبھی نہ ہوسکیں لیکن کوشش کرسکتے ہیں۔
آپ کو شائد یہ معلوم نہ ہو کہ یورپ اور امریکہ میں منتقل ہوجانے والے ساؤتھ ایشیائی دوہری زندگی کے اس قدر عادی ہیں کہ ان کو سیدھی اور کھلی زندگی کچھ سمجھ نہیں آتی۔ خاص طور پر جب ان کی بیٹیاں نارمل بلوغت سے گذر رہی ہوتی ہیں تو ان کا دماغ درست طریقے سے کام نہیں کرتا، ان کے لیے یہ ایک تکلیف دہ وقت ہوتا ہے۔ کافی لوگ اپنی بیٹیوں کو مشرقی تہذیب دکھانے واپس لے جاتے ہیں اور یہ امریکی بچے واپس جاکر تجربہ کرآتے ہیں کہ مشرقی تہذیب کیا ہے؟ میری اچھی دوست ڈاکٹر فائضہ بھٹی نے ایک کالم لکھا تھا جس میں انہوں نے بتایا کہ کس طرح جب ان کی عمر 14 سال ہوئی اور انہوں نے اپنی کلاس میں ایک بوائے فرینڈ بنا لیا تو ان کے باپ نے ان سب بہن بھائیوں کو ان کی ماں کے ساتھ لاہور بھیج دیا تھا۔ کینیڈا میں تو وہ محفوظ تھیں، لاہور میں اپنے کزن نے ان کا ریپ کیا اور ماں کو بتانے پر بھی ماں ان کو نہیں بچا سکتی تھیں کیونکہ ان کو صرف خاموشی کی تربیت ملی ہوئی ہے۔ ایسا کوئی نظام موجود نہیں ہے جس سے لوگوں کو معلوم ہو کہ کس طرح شکایت کرنی ہے اور کس طرح ہم خود کو بچائیں؟ حدود آرڈینینس تو ملک میں موجود ہے لیکن نارمل انسانی حدود کیا ہیں اس کی تربیت اسکولوں میں سے غائب ہے۔ آپ کے ملک کے قانون میں نارمل باتیں جرم بنائی ہوئی ہیں اور اصلی جرائم کی پردہ پوشی ہے۔
آپ نے کچھ دلچسپ نقطے اٹھائے ہیں جن میں سے ایک عمر کے بارے میں ہے۔ آپ نے ایک خط میں یہ لکھا کہ بیوی کا عمر میں اپنے شوہر سے بڑا ہونا بہتر ہے۔ یہ ایک اہم نقطہ ہے اور میں آپ کی بات کی گہرائی کو سمجھ رہی ہوں۔ قریب پانچ ہزار سال سے انسانی معاشرے، خاص طور پر ابراہیمی مذاہب کے پیروکاروں میں شادی کے انسٹیٹیوشن میں ایک ہائرارکی HIERARCHY ہے جس شوہر کو بیوی سے بلند درجہ حاصل ہے۔ یہ ایک معاشرتی معاہدہ ہے جس میں ایک مرد ایک خاتون کو معاشی سہارا اس قیمت پر دینے پر تیار ہوتا ہے کہ وہ اس کے بچے پیدا کرے ، ان کو پالے اور اس کے گھر کی دیکھ بھال کرے۔ خاندان کے تمام فیصلے شوہر کی مرضی سے طے پائیں گے۔ ہمارے جنوب ایشیائی معاشرے میں خواتین باقاعدہ ملکیت رہی ہیں۔ شادی کے بعد ان کو نیا نام دیا جاتا تھا بلکہ ایسا آج بھی ہوتا ہے۔ اسی طرحعمر کی قدیم زمانے کے معاشرے میں بہت اہمیت رہی ہے۔
پہلے زمانے میں لوگوں کی اوسط عمر اتنی نہیں ہوتی تھی جیسے اب ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ صرف دو سو سال پہلے دنیا کی آبادی دو بلین سے کم تھی اور آج صاف پانی، اینٹی بایوٹکس، ویکسینوں، اور انسولین جیسی سائنسی ایجادات کی وجہ سے ساڑھے سات بلین ہوچکی ہے۔ پہلے زمانے میں زیادہ تر لوگ بچپن اور کم عمری میں مر جاتے تھے اور کتابیں اس طرح میسر نہیں تھیں جیسے آج ہیں۔ جو لوگ ان تمام حادثات سے بچ کر بڑھاپے تک پہنچ جاتے تھے وہ اپنے خاندان اور معاشرے کے لیے نہایت قیمتی ٹھہرتے تھے کیونکہ وہ قریبی تاریخ جانتے تھے اور دنیا میں گذارے ہوئے وقت کی وجہ سے معلومات کا خزانہ ہوتے تھے۔ اب کتابوں، اسکولوں، کالجوں اور انٹرنیٹ کی بدولت کم عمر افراد اپنے دادا، پردادا سے زیادہ تعلیم یافتہ ہیں اور اسی لحاظ سے وہ سوال بھی اٹھا رہے ہیں۔ لیکن میں آپ کی بات سمجھ رہی ہوں کہ کس طرح عمر اور تجربے کے سہارے سے ایک عورت اس روایتی شادی میں کچھ برابری محسوس کرپائے گی۔
رابعہ بصری آپ کی پسندیدہ تاریخی شخصیت ہیں۔ کیا آپ نے اس بات پر غور کیا کہ رابعہ بصری، کوئین الزبتھ یا للا دیو کی طرح کی خواتین نے اپنی زندگی میں شادی نہیں کی تھی؟ وہ جانتی تھیں کہ شادی سے وہ کسی آدمی کی ملکیت بن جائیں گی، ان کی انفرادیت اور طاقت ختم ہوجائے گی اور اس سے ان کی زندگی ان کی اپنی نہیں رہے گی۔ سوچیے کہ اگر رابعہ بصری ایک شادی شدہ خاتون ہوتیں تو کیا آج وہ ہمارے لیے رابعہ بصری ہوتیں؟ شادی کا روایتی انسٹیٹیوشن آج خطرے میں ہے کیونکہ لوگ اس میں برابری کے رشتے کو نہیں سمجھتے، اسی لیے وہ ہم جنس جوڑوں کی شادی کے خلاف ہیں۔ آپ کی لکھائی سے بھی یہ ظاہر ہے کہ آپ دنیا میں بہتی ہوئی آج کی اس لہر کا حصہ ہیں جس میں خواتین خودمختار ہیں اور وہ خود کو کسی اور کی کہانی کے کردار کے بجائے اپنی کہانی کا مرکزی کردار محسوس کرتی ہیں۔ تبدیلی تیزی سے آئی ہے اور ابھی لوگوں کا اس کے ساتھ قدم ملانے میں دو تین نسلوں کا فاصلہ ہے۔
آپ کی تحریروں میں اداسی ہے۔ آپ نے ایک خط میں لکھا کہ انارکلی کی طرح آپ کو دیوار میں چنوا دیا گیا۔ میں امید کرتی ہوں کہ یہ صرف ایک عارضی دور ہوگا اور آپ خود کو اس میں سے جلد ہی نکال لیں گی۔ ہمارے لیے ایک بالکل مختلف زندگی کبھی کبھار صرف ایک فیصلے کے فاصلے پر ہوتی ہے۔ سامنے راستہ نہیں ہوتا لیکن قدم اٹھائیں تو خودبخود بن جاتا ہے۔ یہ پڑھ کر بھی میں بہت ہنسی تھی جب آپ کے ایک ٹیچر نے کہا کہ آپ نے راجہ گدھ کو اپنی پسندیدہ کتاب کیوں کہا؟ قران کو کیوں نہیں کہا؟ اس مین اسپلیننگ کی نفسیات میں آپ کو بتاتی ہوں۔ یہ روز ہی لائق خواتین کے ساتھ ہوتا ہے۔ ڈاکٹر نائلہ خان کو دیکھ لیں، کشمیر کے موضوع پر ان کے پائے کے دانشور دنیا میں مشکل سے ملیں گے۔ کافی لوگ ان کو لیکچر دینا شروع ہوجاتے ہیں جن کو یہ بالکل معلوم نہیں ہوتا کہ وہ ان سے کہیں زیادہ معلومات رکھتی ہیں۔
ایک مرتبہ میں نے انڈین تہذیب گروپ میں ایک نظم شئر کی۔ وہ ایک خوبصورت انگریزی کی نظم تھی جو صرف انسانیت کے بارے میں تھی اور اس کا کسی مذہب سے کچھ تعلق نہیں تھا۔ ایک مسلم انڈین انکل نے اس کے نیچے تبصرہ لکھا کہ آپ قران پڑھیں۔ میں سمجھ رہی تھی کہ ان کا کیا مطلب ہے لیکن اب صرف تفریح لیتی ہوں۔ میں نے اس کے نیچے لکھا کہ میں نے پہلے سے قران پڑھا ہوا ہے، انگلش میں بھی، عربی میں بھی اور اردو میں بھی، شیعہ تفہیم کے ساتھ بھی اور سنی تفہیم کے ساتھ بھی۔ آپ کس نقطے پر بات کرنا چاہتے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ بہت خوشی ہوئی کہ آپ نے قران پڑھا ہوا ہے۔ ان کو گروپ کے ایڈمن نے کافی اچھا لیکچر دیا کہ یہ گروپ مذہب سے متعلق نہیں ہے اور آپ ایسے ہی کسی اجنبی کو قران پڑھنے کا مشورہ کیسے دے رہے ہیں؟ یہ لوگوں کا گہرا نفسیاتی مسئلہ ہے۔ جہاں بھی وہ دیکھیں گے کہ کوئی خاتون خوبصورت ہے یا ان سے زیادہ لائق لگ رہی ہے تو اس کو خود سے کم ثابت کرنے کی کوشش میں لگ جائیں گے جس کے گنتی کے کچھ ہی طریقے ان کی جیب میں ہیں۔ ایک یہ کہ اس کے ساتھ چکر چلا کر سارے محلے کو اس کے بارے میں بتا دیا جائے، یا پھر مذہبی ٹیکسٹ یاد کرادیا جائے جس کے مطابق آپ کتنی بھی لائق بن جائیں، ان ٹیچر سے کم ہی رہیں گی کیونکہ آپ ایک خاتون ہیں۔
ایک مووی میں ایک آدمی آہستہ آہستہ ٹریکٹر چلاتا ہوا آرہا تھا اور کچھ افراد اس کا مذاق اڑا رہے تھے۔ وہ جب ان کے قریب پہنچا تو ان لوگوں کو اندازہ ہوا کہ ان کے پیر سیمنٹ میں جم چکے ہیں اور ٹریکٹر ان پر سے گذر گیا۔ جو لوگ اپنا قیمتی وقت دوسرے لوگوں پر تنقید پر ضائع کررہے ہیں ان کو ان کے حال پر چھوڑ کر ہمیں اپنے کام میں لگے رہنا ہوگا۔ آپ ایک ابھرتا ہوا ستارہ، ایک رائزنگ اسٹار ہیں۔ اسی طرح پڑھتی رہیں، لکھتی رہیں، کل آپ کا ہی ہے۔
ڈاکٹر سہیل میرے بہت اچھے سہیلی ہیں۔ اقبال لطیف اور ڈاکٹر سہیل کی طرح کے افراد مجھے اس لیے پسند ہیں کیونکہ وہ دونوں دنیاؤں کو جانتے ہیں۔ ان کے ساتھ چکن بریانی بھی کھا سکتے ہیں اور اوپرا پرفارمینس بھی انجوائے کرسکتے ہیں۔ مشرق سے مغرب کا ہوجانے کی وجہ سے ہمارے درمیان کافی ساری باتیں مشترک ہیں۔ ڈاکٹر سہیل کے خطوط میں جو باتیں لکھی ہوئی ہیں، میری خوش نصیبی ہے کہ وہ ہمیں روبرو سننے کا موقع ملا۔ آخر میں آپ کو یہ اچھی خبر سناتے ہوئے میں خوشی محسوس کررہی ہوں کہ ڈاکٹر سہیل کے مطابق آپ کے خطوط پڑھنے کے بعد اس مضمون میں میری اردو ابھی سے بہتر لگ رہی ہے۔ ایل او ایل!
آپ کا بہت شکریہ رابعہ۔



