حیدرآباد دکن، کے معروف شاعر مضطر مجاز


حیدرآباد دکن، کے معروف شاعر اور ماہر اقبالیات مضطر مجاز 83 سال کی عمر میں انتقال کرگئے۔ مضطر مجاز 21 سال سے روزنامہ منصف حیدرآباد کے ادبی ایڈیشن کے مدیر رہے۔ انتقال سے دو دن قبل بھی وہ روزنامہ منصف کے دفتر پر موجود تھے اور 18 اکتوبر کا شمارہ بھی ترتیب دیا تھا۔

مضطر مجاز کا اصل نام سید غلام حسین رضوی تھا۔ ان کی پیدائش 13 فروری 1935 کو ہوئی۔ ان کا تعلق بلند اترپردیش سے تھا لیکن بعد میں روزگار کے سلسلے میں انہیں مستقبل حیدر آباد کا ہونا پڑا۔
انہوں نے پوری زندگی ادب کی خدمت میں گزاری۔ جہاں وہ خود ایک اچھے شاعر تھے وہیں ایک بلند پایہ مترجم، نقاد اور صحافی بھی تھے، مضطر مجاز کو اردو، کے ساتھ ساتھ فارسی، انگریزی اور تلگو پر عبور حاصل تھا۔ انہوں نے غالب اور اقبالؔ کی بیشتر فارسی نظموں کا اردو میں ترجمہ کیا ہے۔

وہ علامہ اقبال پر اتھارٹی سمجھے جاتے تھے انہوں نے علامہ اقبال کے فارسی کلام کا اردو ترجمہ کیا جس میں پیام مشرق، جاوید نامہ، زنداں نامہ، غالب اور منظوم تراجم کا کلیات شامل ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے غالب کے فارسی کلام کا منظوم اردو ترجمہ نقش ہائے رنگ رنگ کے نام سے شایع کیا۔

ان کا پہلا شعری مجموعہ ”موسم سنگ“ کے نام سے 1979ء میں منظر عام پر آیا، اور 1984ء میں ان کی غزلوں کا دوسرا ’مجموعہ اک سخن ور‘ کے عنوان سے شائع ہوا۔ مضطر مجاز نے بیشتر کتابوں پر تنقیدی تبصرےکیے ہیں جو روزنامہ سیاسیت، منصف اور دیگر ادبی رسائل میں شائع ہوتے رہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے رپورتاژ، مقدمے، پیش لفظ اور مضامین، تعارفی خاکے اور اداریے بھی لکھے۔

مضطر مجاز نے ملازمت کا آغاز 1957ء میں بحیثیت آڈیٹر محکمہ بلدیہ سے کیا، 1965ء میں سب رجسٹرار آف کو پرآیٹیو سوسائیٹز کے عہدے پر عادل آباد میں تقرری ہوئی۔ 1971ء میں تبادلہ حیدرآباد ہوا جہاں وہ اسپیشل کیڈر ڈپٹی رجسٹرار آف کو پرآیٹیو سوسائیٹز مقرر ہوئے، 1993ء میں 58 سال کی عمر میں سبکدوش ہوئے۔ انہوں نے شادی 1963ء نساء سے کی جن سے ان کے چار بیٹے اور ایک لڑکی پیدا ہوئی۔

2004ء میں یونیورسٹی آف حیدرآباد سے مقبول احمد مقبول نے مضطر مجاز شخصیت اور فن، کے موضوع پر پی ایچ ڈی بھی کی۔ یوں تو مضطر مجاز کو مختلف ایوارڈز ملے تھے لیکن ان میں نمایاں سال 2014 میں مضطر مجاز کو ادب و ثقافت میں نمایاں خدمات انجام دینے پر غالب اکیڈیمی کی جانب سے غالب ایوارڈ عطا کیا گیا۔

مضطر مجاز کا کلام
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
سسنر نہیں ہوئی تو خبر یہ کدھر گئ
کس حادثے میں دُخترِ امید مر گئ!
۔ ۔ ۔ ۔ ۔
مضطر ؔ کچھ اور نہیں ہے اس سے گلہ مجھے
آنکھ اس کی میرے درد کی تشہیر کر گئ
۔ ۔ ۔ ۔ ۔

دیکھئے! میر ؔ کے شعروں کی کتاب
آج فٹ پاتھ کی شہزادی بنی بیٹھی ہے
اور چار آنے میں بھی اس کو کوئی
اپنے گھر لانے کو تیار نہیں!
۔ ۔ ۔ ۔ ۔
مشاعرے ہوئے ایسے بھی شہر میں مضطر ؔ
کہ شاعروں ہی کے فہرست سے نام غائب تھے!
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

مالا والا، بِندی وِندی، جُھومر وُومر کیا
زیور تیرا چہرہ تجھ کو زیور ویور کیا

کام زُباں سے ہی لیتے ہیں سارے مہذب لوگ
طَنز کا اک نشتر کافی ہے پتھر وتھر کیا

اول تو ہم پیتے نیٔں ہیں گر پینا ٹھہرے
تیری آنکھوں سے پی لینگے ساغر واغر کیا

جیون اک چڑھتا دریا ہے ڈوب کے کر لے پار
اس دریا میں کشتی و شتی لنگر وَنگر کیا

مال وال کس شمار میں ہے جان وان کیا شے
سر میں سودا سچ کا سما جائے تو سَر وَر کیا

تُجھ کو دیکھا جی بھر کے اور آنکھیں ٹھنڈی کر لیں
گُل وُل کیا، گُلشن کیا، اور مَنظر وَ نظر کیا

زیب کہو اللہ کرے فِردوسِ بریں میں مکاں
شعر ویر یہ غزل وزل کیا مُضطر وَضطر کیا !
۔ ۔ ۔ ۔ ۔
ذرہ سہی سنبھال قلم، آفتاب لکھ
قطرے کی آنکھ کے لیے دریا کا خواب لکھ
دیمک کتاب شب کے سب اوراق کھاچکی
لوح جبین گل پہ سحر کا نصاب لکھ
تصویر تری کھینچ کے خود اپنے لہو سے
اندھوں کی سجائی ہوئی بستی میں کھڑا ہوں

سنا رہا ہوں سمندر لغاتِ شبنم میں
زبانِ ذرہ میں صحرا کی بات کرتاہوں
کتابِ قطر ہ کے اوراق چاٹنے والوں
میں کاوشِ دل دریا کی بات کرتا ہوں
تفصیل میں نہ جا کہ پیمبر تو میں نہ تھا
مضطر! مری قمیض تھی اک روزپھٹ گئیآ

Facebook Comments HS