تعلیمی اداروں کا جاہل عملہ اور بدتمیز پرنسپل


چند روز پہلے کی بات ہے گائوں کی ایک بچی جو پنجاب کالج سرگودھا میں زیر تعلیم تھی، کے والد کے ساتھ بیٹھنا ہوا بچی کی تعلیم کا پوچھنے پر انتہائی افسردہ انداز میں کچھ دن پہلے کا واقعہ بیان کرنے لگے، “بیٹا آپ کو تو پتہ ہے میری بچی کے پائوں میں درد رہتا ہے اور زیادہ دیر تک کھڑی بھی نہیں رہ سکتی، کچھ دن پہلے میری بیٹی کالج سے چھٹی کے وقت معمول کے مطابق بس میں آ کر بیٹھی اور تقریبا چھ نششتیں خالی تھیں جن میں ایک پر میری بیٹی بیٹھ گئی- تھوڑی دیر بعد گاڑی کے ڈرائیور نے اسے اٹھا دیا اور کہا کہ یہ سیٹ اس نے اور بچیوں کے لیئے رکھی ہے۔

جس پر میری بیٹی نے کہا کہ ان میں کسی سیٹ پر کسی بچی کا بیگ نہیں ہے اور جو پہلے آتا ہے وہی بیٹھ جاتا ہے سب برابر فیس ادا کرتے ہیں. میری بیٹی کی یہ بات کرنی تھی اور ڈرائیور نے بچی کو ڈانٹ کر زبردستی اٹھا دیا اور گاڑی میں لےکر سب بچیوں کو مین(بوائز) کیمپس لے آیا اور میری بچی کو بس سے اتار کر ٹرانسپورٹ انچارج کے پاس لے گیا. ٹرانسپورٹ انچارج نے ڈرایئور کو سیٹ دینے کو کہا لیکن ڈرائیور نے اس کے باوجود بھی واپس آ کر بس میں بچی کو کھڑا کر دیا اور 40 کلومیٹر بچی کھڑی ہو کر آئی اور واپس آ کر مجھے بتایا تو میرے بیٹے نے کالج کے پرنسپل کو کال کی جس کا جواب نا ملا جس کے بعد وائس پرنسپل کو کال کر کے بتایا اور وائس پرنسپل نے اگلے روز کالج کے پرنسپل سے ملنے کو کہا-

اگلے روز میں (بچی کا باپ ) کالج گیا اور پرنسپل کے دفتر میں اجازت طلب کر کہ داخل ہوا اور بات شروع ہی کی تو پرنسپل کو پہلے سب پتا تھا اور اس نے مجھے انتہائی بےعزتی کر کہ یہ کہ کر نکال دیا کہ تم نے جو کرنا ہے کر لو۔ بچی کو لے کر دفع ہو جائو اور آئندہ کے بعد میرے دفتر میں ایسی کوئی فضول بات کے لیئے مت آنا۔ میں تمہارا نوکر نہیں کہ تمہاری بات مان کر ڈرائیور کے خلاف کارروائی کروں۔ یہ سب سن کر میری بیٹی روتی ہوئی مجھے لیکر باہر آ گئی-

میں نے کسی طرح کوشش کر کے میاں عامر محمود صاحب(پنجاب گروپ آف کالجز کے فائونڈر) کا نمبر ڈھونڈا اور ان سے رابطہ کرنے کی کوشش کی مگر ان کے پی اے نے دو دن لگاتار ٹال مٹول کی اور پھر بات کروانے سے انکار کر دیا، اس کے بعد میری بیٹی نے کالج جانا چھوڑ دیا اور کالج سے لیونگ سرٹیفکیٹ لے لیا-” آپ نے کوئی قانونی کارروائی نہیں کی؟ میں نے پوچھا تو بچی کے والد صاحب مایوسی سے کہنے لگے ” بیٹا میں اس کے خلاف کیا کر سکتا ہوں پہلے اتنی بے عزتی کروا لی اب مزید بیٹی کو بے عزت نہیں کروا سکتا”-

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

محمد ارسلان احمد اعوان کی دیگر تحریریں
محمد ارسلان احمد اعوان کی دیگر تحریریں

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں