جمال خاشقجی کا قتل، استنبول کے سینے میں ایک اور راز


قتل کی منصوبہ بندی کرنے والے اور اہم وہ بھی ہیں جو اس قتل کے راز سے پہلے آگاہ تھے اور انہوں نے عرب خطے میں تنازعات میں اپنے مفادات کے لیے شکار کو قتل گاہ تک پہنچنے تک بھرپور نگرانی کی۔ مقتول کے قتل کے دوران چیخ وپکار کی آڈیو برآمد ہوجانا، یہ کوئی معمولی ثبوت نہیں۔ کہا جارہا ہے کہ جوں جوں سعودی عرب اس سے انکار کرے گا، ممکن ہے کہ ویڈیو بھی منظرعام پر آجائے۔ استنبول جیسے شہر میں صدیوں سے ایسے لاتعداد قتل، حکمرانی کی سازشیں اور سیاسی چالیں اور واقعات برپا ہوئے جو ابھی تک راز ہی ہیں۔ جہاں عام سیاح اس شہر کی خوب صورتی کے سحر میں گرفتار ہو جاتے ہیں، لیکن میرے جیسے تاریخ اور سیاست میں دلچسپی رکھنے والے کے لیے اس کے محلات، قلعے، گلیاں اور شاہراہیں اور تاریخی عمارتوں کی د یواریں صدیوں پرانے تاریخی رازوں کو بیان کرتی ہیں۔

جمال خاشقجی کے قاتلوں کی خصوصی طیارے پر آمد اور روانگی، اور پھر سعودی عرب کے قونصل جنرل کا یکایک استنبول سے مفرور ہوجانا۔ ترکی اور امریکہ جن کے تعلقات پچھلے دو سالوں میں آئے روز بگڑتے جا رہے تھے، مگر پچھلے تین ہفتوں میں ان میں گھنٹوں کے حساب سے بہتری آرہی ہے۔ امریکی پادری اینڈریو برنس، جس کو ترک صدر جولائی 2016ء میں فوجی بغاوت کا بڑا ذمہ دار قرار دیتے تھے اور اس کے خلاف بغاوت کا مقدمہ چل رہا ہے اور اس تنازع نے امریکہ ترکی تعلقات کو اس قدر کشیدہ کیا کہ گرتی ترک معیشت جھٹکوں کے ساتھ امریکی صدر ٹرمپ نے مزید گرانا شروع کردی۔ اور ترک صدر جناب اردوآن جو کہتے تھے کہ ہم اس کو کسی صورت نہیں چھوڑیں گے، جمال خاشقجی کے قتل کے دس روز بعد عدالت سے ضمانت پر رہائی اور سفر کی اجازت ملنے کے بعد امریکہ روانہ ہوگئے۔ انقرہ میں جس سڑک پر نیا امریکی سفارت خانہ تعمیر ہورہا ہے، انقرہ بلدیہ نے اس سڑک کا نام امریکہ کے معروف رہبر میلکم ایکس کے نام پر رکھ دیا ہے۔ یہ سب کچھ تیزرفتار سیاسی تبدیلیوں کے اشارے ہیں۔

بے دردی سے قتل ہونے ولاے جمال خاشقجی کے بعد ترکی آئے روز امریکہ کے کس قدر قریب ہوا، یہ ایک دلچسپ صورتِ حال ہے۔ سعودی قاتل نوکریوں سے فارغ کردیے گئے اور کچھ عرصے بعد شاید وہ بھی منظر سے مکمل طور پر غائب ہوجائیں۔ بڑے لوگوں کے قتل کے سراغ کبھی نہیں ملتے، اور اگر نظر آتے ہوں تو مٹا دیے جاتے ہیں۔ جمال خاشقجی عالمی میڈیا کا آج ایک اہم موضوع ہے، مگر واشنگٹن، انقرہ، ریاض اور تہران، اس قتل کے بعد اپنے اپنے مفادات کے حصول کے لیے سرگرداں ہیں۔

بدنصیب جمال خاشقجی اپنے دادا کی سرزمین پر اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھا، جہاں وہ اپنی نئی ازدواجی زندگی کے آغاز کے لیے سعودی قونصل خانے میں ترک منگیتر خدیجہ چنگیز کے ساتھ نکاح کے لیے سرکاری کاغذات لینے گیا اور پھر واپس نہ آیا۔ چند سالوں کے بعد جب یہ موضوع تاریخ کا حصہ بنے گا، تب ہی اس پُراسرار واقعے سے پردہ اٹھے گا۔ اور مستقبل میں لاتعداد ناول اور فلموں کا سنسنی خیز موضوع ایک بار پھر استنبول جیسے شہر کے نام سے۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2