خاشقجی کے معاملے میں سعودی موقف پر اعتبار نہیں لیکن مخالفت نہیں کر سکتے: عمران خان


عمران خان نے مڈل ایسٹ آئی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ جمال خاشقجی کے قتل کے باوجود پاکستان کو سعودی عرب سے اچھے تعلقات برقرار رکھنے کو اہمیت دینی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ وہ یہ افورڈ ہی نہیں کرتے کہ سعودی عرب نہ جائیں۔

خاشقجی کے قتل سے شاک پہنچنے کے باوجود ان کا کہنا ہے کہ پاکستانی حکومت کو سعودی قرضوں کی جلد از جلد ضرورت ہے تاکہ ریکارڈ سطح کے قرضوں کی وجہ سے دیوالیہ نہ ہو جائے۔ ”اس وقت ہم بالکل لاچار ہیں“ انہوں نے کہا۔

عمران خان نے یہ تسلیم کیا کہ خاشقجی کے سعودی اہلکاروں کے ہاتھوں قتل پر دنیا بھر کے غم و غصے کے باوجود ان کی خارجہ پالیسی کا اہم نکتہ سعودی عرب کے ساتھ خوشگوار تعلقات برقرار رکھنا ہے۔

انہوں نے خاشقجی کی موت کو ”گمان سے بھی زیادہ افسوسناک“ قرار دیا اور کہا کہ وہ سعودی عرب کے تازہ ترین موقف کو قابلِ اعتبار نہیں مانتے۔
سعودی عرب نے جمعے کو کہا تھا کہ خاشقجی قونصل خانے میں دھینگا مشتی کے نتیجے میں مارے گئے تھے۔

”ترکی میں جو کچھ ہوا وہ شاکنگ ہے۔ میں کیا کہہ سکتا ہوں؟ اس سے ہم سب کو شاک پہنچا ہے“۔ عمران خان نے کہا۔

”سعودی حکومت کو کوئی جواب دینا ہو گا۔ سعودی جو بھی وضاحت کریں ہم اس کے منتظر ہیں۔ ہم توقع کرتے ہیں کہ یہ ایسی وضاحت ہو گی جس سے لوگ مطمئن ہو جائیں اور ذمہ دار افراد کو سزا دی جائے“۔ انہوں نے کہا۔

انہوں نے کہا کہ ان کے پاس اس کے سوا کوئی راستہ نہیں کہ وہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی فیوچر انویسٹمنٹ سمٹ میں شرکت کریں۔

”میں سمجھتا ہوں کہ مجھے [سعودی لیڈر شپ سے] بات کرنے کے موقعے کا فائدہ اٹھانا چاہیے کیونکہ اکیس کروڑ لوگوں کے اس ملک میں ہم اس وقت قرضے کے بدترین بحران سے دوچار ہیں۔ “

”اگر ہم دوست ممالک یا آئی ایم ایف سے قرضی نہیں لیتے تو ہمارے پاس محض دو سے تین مہینے کے بعد اتنا زر مبادلہ نہیں ہو گا کہ ہم اپنا قرضے کی قسط یا اپنی درآمدات کا بل ادا کر سکیں۔ اس لیے ہم اس وقت مجبور ہیں“۔
عمران خان نے بتایا کہ ان کو غالباً دوست ممالک اور آئی ایم ایف دونوں سے قرضہ لینا پڑے گا۔

یمن میں جنگ کے بارے میں بات کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ وہ جب پہلی مرتبہ سعودی عرب گئے تو انہوں نے اپنی رائے دی کہ فوجی جو بھی کہیں کہ یہ محض چند ہفتوں یا مہینوں کی بات ہے لیکن جب بھی آپ جنگ شروع کریں تو اس کے نامعلوم نتائج نکلتے ہیں۔

عمران خان نے امریکہ سے مطالبہ کیا کہ وہ ایران پر سے پابندیاں ہٹا لے۔ انہوں نے ڈانلڈ ٹرمپ پر زور دیا کہ وہ خطے میں ایک نیا محاذ کھولنے سے گریز کریں اور کہا کہ ان کی حکومت ایران اور سعودی عرب کے درمیان ثالث کا کردار ادا کر سکتی ہے۔

انہوں نے مغربی اور عرب ممالک کو دمشق میں اپنے سفارت خانے دوبارہ کھولنے کا بھی کہا ہے جو خانہ جنگی کے باعث بند کر دیے گئے تھے۔

افغانستان کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکہ کو یہ احساس ہو گیا ہے کہ طالبان سے مذاکرات کی ضرورت ہے، اور انہوں نے تجویز پیش کی کہ مسئلے کا ایک حل یہ ہو سکتا ہے کہ افغانستان میں ایک مخلوط حکومت بنا کر طالبان کو اس میں حصہ دیا جائے۔

Imran Khan: Pakistan cannot afford to snub Saudis over Khashoggi killing – Middle East Eye

Facebook Comments HS