سندھ میں ہندو لڑکیوں کے جبری مذہب تبدیل کروانے کی اصل کہانی کیا ہے؟


صوبہ سندھ میں ہندو برادری سراپا احتجاج نظر آئی کہ ہالہ کی 11 سالہ مونیکا کو مہر برداری کے مسلمان لڑ کے نے زبردستی اغوا کرکے اسے مسلمان بنانے کی کوشش کی۔ ہندو برداری کے شدید احتجاج کو دیکھ کر ہالہ کی مخدوم فیملی اور سندھ حکومت ایکشن میں آ گئی۔ مٹیاری پولیس نے مونیکا اور مشتاق مہر کو گرفتار کر لیا ہے مگر ابھی بھی ہندو برادری پولیس پر الزام لگا رہی ہے کہ پولیس زبردستی مونیکا سے بیان دلوانا چاہتی ہے مگر پولیس اس الزام کو مسترد کر رہی ہے جب کہ مونیکا کو عدالت میں پیش کیا جا چکا ہے جہاں پر سب کچھ سب کے سامنے آ جائے گا کہ نہ ہی مونیکا 11 سال کی ہے نہ ہی 17 سال کی۔

یاد رہے کہ صوبہ سندھ میں سیکڑوں مقدمات تبدیلی مذہب کے نام پر رنکل کماری، ڈاکٹر لتا اور آشا کماری کے نام سے آئے جس کے بعد نہ وہ اس جہان کی رہیں نہ ہی اس جہان کی۔ مونیکا کے حوالے سے مقامی صحافتی حلقوں کا کہنا ہے کہ اسے اغوا نہیں کیا گیا ہے بلکے وہ اپنے رضامندی سے مشتاق مہر نامی لڑکے سے ساتھ گھر سے نکلی تھی جیسے پیار و محبت کا نام دیا جا سکتا ہے۔ اکثر و بیشتر ہندو برادری کی لڑکیوں کے کسی مسلمان لڑکے کے ساتھ جانے کو زبردستی مذہب کی تبدیلی کا نام دے دیا جاتا ہے اور دوسری طرف بغیر سوچے سمجھے عمر کا خیال رکھے بغیر تکبیر کے نعرے بلند کر کے بھرچونڈی، امروٹ، لاڑکانہ، جیکب آباد، کراچي، تھرپارکر اور سامارو ایسے لوگوں کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔

کبھی کبھار تو عدالتوں میں ہندو لڑکیاں مبینہ طور پر جبراً مذہب تبدیل کرنے کے واقعات کی تصدیق کر کے یہ کہتی ہیں کہ انہیں بہلا پھسلا کر مذہب تبدیل کروایا گیا تھا اور یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ جو ہندو لڑکیاں اپنی رضامندی سے مذہب تبدیل کر کے گھر بساتی ہیں وہ بھی معاشرے کی ستم ظریفی کی وجہ سے دوبارہ اپنے گھروں کو واپس لوٹ آتی ہیں۔ اگر صوبہ سندھ سمیت پورے پاکستان کو دیکھا جائے تو ہر روز یہاں پیار کی شادیوں کے قصے اور کہانیاں منظر نامے پر آتی رہتی ہیں۔ آج بھی اسلام آباد پریس کلب کے سامنے ڈہرکی کے پسند کی شادی کرنے والے غلام رسول بھٹو اور زرینہ بھٹو جن کو کارو کاری قرار دیا گیا ہے بیٹھے ہیں جو پچھلے دس ماہ سےاپنی جان بچانے کے لیے چیف جسٹس آف پاکستان کو انصاف کے لیے دہائی دیتے نظر آتے ہیں۔

ہمارے معاشرے کا یہ بہت بڑا المیہ ہے کہ جبراً اسلام قبول کروانے والے میاں مٹھو، اور ہندوؤں کے جبراً مذہب تبدیل کروانے کے خلاف آواز اٹھانے والا ہندوؤں کا مذہبی پیشوا سائیں ساد رام سرعام توایک دوسرے کی مذمت کرتے نظر آتے ہیں مگر نجی محفلوں میں قیام و طعام کرتے نظر آتے ہیں۔ یقیناً جبراً مذہب کی تبدیلی کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہی۔ اگر یہ کہا جائے کہ اقلیتوں کی لڑکیوں کو زبردستی اغوا کر کے ان کا مذہب تبدیل کر وایا جا رہا ہے تو یہ بھی 100 فیصد درست نہیں ہے۔ کمزور چاہے مسلمان ہو یا ہندو اس کا استحصال ہر جگہ پر کیا جاتا ہے چاہے لاڑکانہ کا زینو باگڑی ہو یا پھر ٹھل کا جانو بنگلانی یہ دونوں ہی طاقتور کے ظلم کا شکار ہیں۔

ہالہ کے قریب خانوٹھ قصبہ کی بات ہے جہاں پر جاجی شاہ نامی زمیںدار ہوا کرتا تھا گاؤں کے لوگوں نے حاجی شاہ سے شکایت لگائی کہ سائیں یہ پانچ بھائی جو اس قصبے میں بلی آنکھوں والے رہتے ہیں صبح صبح اگر ان کا منہ دیکھو تو کوئی کام نہیں ہوتا اس لیے حاجی شاہ نے یہ حکم صادر کیا کہ آج کے بعد صبح کے وقت یہ بلی آنکھوں والے پانچ بھائی گھر سے باہر نہیں نکلیں گے تو مجبوراً انہیں گھر میں رہنا پڑتا۔ ہمارے معاشرے میں غریب چاہے ہندو ہو یا مسلمان دونوں ہی برابری کے بنیاد پر طاقتور لوگوں کے ظالم شکار ہیں۔ یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ جبراً مذہب کے تبدیلی کے خلاف آواز اٹھائیں اور ہر مسئلے کو مذہبی رنگ دینے سے بھی گریز کریں تاکہ کم عمری اور زبردستی کی شادیوں کے خلاف مربوط حکمت عملی اپنا کر اس کی روک تھام کر سکیں۔

Facebook Comments HS