مذہبی فکر کو درپیش نئے چیلنجز!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کسی بھی سوسائٹی یا سماج میں جب الہامی راہنمائی اترتی ہے یا انسانی کوششوں اور تجربات کی بنیاد پر قانون سازی ہوتی ہے تو اس کے پیچھے کچھ بنیادی تصورات اور مفروضات ہوتے ہیں جو اس الہامی راہنمائی اور قانون سازی میں بنیادی کر دار ادا کرتے ہیں۔ یہ وہ تصورات اور مفروضات ہوتے ہیں جو پہلے سے سماج میں موجود ہوتے ہیں اور الہامی راہنمائی اور قانون سازی کے وقت ان تصورات اور مفروضات کی رعایت کی جاتی ہے۔ ہر سماج اور سوسائٹی میں یہ تصورات مختلف ہوتے ہیں اور یہ اختلاف زمان و مکان دونوں اعتبار سے ہوتا ہے۔

ایک ہی زمانے میں دو مختلف معاشرے جو دنیا کے دو مختلف خطوں میں آباد ہیں ان میں بھی یہ تصورات مختلف ہوسکتے ہیں اور اگر یہ اختلاف زمانی ہو کہ ان معاشروں میں سینکڑوں سالوں کا فرق ہو تو یہ اختلاف بنیادی نوعیت کا ہوجاتا ہے۔ گویا ہر دور میں سماج میں موجود تصورات ومفروضات بدلتے رہتے ہیں۔ جب یہ صورتحال ہے تو مذہبی راہنمائی اور انسانی قانون سازی کو ان بدلتے تصورات و مفروضات کی بنیاد پر سماج کی راہنمائی کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہم یہاں انسانی قانون سازی پر بات نہیں کریں گے کہ یہ ہمارا موضوع نہیں۔ الہامی راہنمائی کی تعبیر و تشریح علماء کا کام ہے اب علماء کی ذمہ داری ہے کہ وہ مذہبی فکر کی راہنمائی میں ان بدلتے ہوئے تصورات و مفروضات کو مد نظر رکھیں۔

ماضی میں جب ہمارا کلاسیکی فقہی لٹریچر اور اسلامی قانون مرتب ہوا تو اس کی بنیاد اس وقت سوسائٹی میں موجود تصورات پر تھی لیکن آج یہ تصورات بدل چکے ہیں۔ ہم جس دور میں جی رہے ہیں یہ سائنس و ٹیکنالوجی کے لحاظ سے اپنی معراج پر کھڑا ہے، انسانی اقدار اور اخلاقیات کا تصور بدل چکا ہے، سماجی قدریں بدل چکی ہیں، خیر اور شر کے پیمانے یکسر تبدیل ہو چکے ہیں اور خدا، کائنات اور انسان کے بارے میں نئے نظریات نے جگہ لے لی ہے۔

بیسویں صدی کے دوسرے نصف اور اکیسویں صدی کے آغاز نے انسانی سماج کو کچھ نئے او ر اہم تصورات دیے ہیں او ر پرانے تصورات تنقید کی زد میں ہیں۔ ہماری مذہبی فکر کی ساری راہنمائی ان قدیم تصورات کی بنیاد پر تھی لیکن اب جبکہ صورتحال یکسر بدل چکی ہے ہمیں از سر نو غو رو فکرکرنے کی ضرورت ہے۔

گزشتہ ایک دو صدیوں سے ہماری مذہبی فکر نے ان ناگہانی حالات کو بالکل نظر انداز کر دیا ہے، اب مسئلہ یہ ہے کہ جب تک ہماری مذہبی فکر ان ناگہانی حالات کو رسپانڈ نہیں کرتی تب تک یہ خود کو معاشرے کے لیے قابل قبول نہیں بنا سکتی۔ اس کے ساتھ ایک اور سوال جڑا ہواہے کہ ان ناگہانی حالات کو رسپانڈ کرنے کے ساتھ روایت کے ساتھ ہمار اکیا تعلق رہے گا۔ کیا ہم روایت کو بالکل نظر انداز کر دیں گے یا ہمیں روایت کو ساتھ لے کر چلنا پڑا گا اور اس کی صورت کیا ہو گی۔ یہ کچھ بنیادی نوعیت کے سوالات ہیں جن کا جواب دیے بغیر ہم آگے نہیں بڑھ سکتے۔

اب صورتحال یہ ہے کہ ہماری مذہبی فکر عجیب کشمکش کا شکار ہے، ہم ایک طر ف ان نئے تصورات اور تبدیلیوں کو قبول کر رہے ہیں اور دوسری طرف ان تبدیلیوں کی بنیاد پر جب سماجی راہنمائی کی بات ہوتی ہے تو ہم آنکھیں پھیر لیتے ہیں۔ اس کی وجہ کوئی بھی ہو سکتی ہے کہ ہم اس قابل نہیں ہوتے کہ ان تصورات کی بنیاد پر سماج کی راہنمائی اور اسلامی قانون تشکیل دے سکیں یا ہم جانتے بوجھتے ان تصورات سے چشم پوشی کر لیتے ہیں۔ دنیا جب مسلم مذہبی فکر کا یہ رویہ دیکھتی ہے تو ایک مضحکہ خیز صورتحال بن جاتی ہے، دنیا سوچتی ہے کہ یہ کیسی علمی روایت ہے جس میں تسلسل ہے نہ علمی وقار، زمانے کے بدلتے ہوئے تصورات کا فہم ہے نہ قانون سازی اور مذہبی راہنمائی کی صلاحیت، صرف وقتی اقدامات ہیں اور ان میں بھی سنجیدگی نہیں۔

اس سے اگلا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان بدلتے تصورات کے ساتھ ہمارا اجتہاد کے ساتھ کیا رشتہ ہوگا، ہمارا تصور اجتہاد کیا ہے اور یہ کس بنیاد پر ہو سکتا ہے۔ کیا ہم محض زمانے کے جبر کی بنیاد پر اجتہاد کے قائل ہیں یا ہمارا اپنا بھی کوئی اجتہاد ی پیرا ڈائم ہے۔ جس طرح امام ابوحنیفہ نے اپنی مجلس فقہ بنائی تھی جس میں پیش آنے والے ممکنہ مسائل کے بارے میں اجتہاد ہوتا تھا کیا اجتہاد کے دائرے میں ہم کبھی ایسی پوزیشن اختیار کرنے کے قابل ہوں گے یا پھر مسائل درپیش ہونے کے بعد ہماری آنکھیں کھلیں گی اور ہم زمانے کے جبر کی بنیاد پر اجتہاد کریں گے۔ یہ چند بنیادی نوعیت کے سوالات ہیں جن کے بارے میں ہماری مذہبی فکر کو سنجیدگی سے سوچنا از حد ضروری ہے۔

یہ سب باتیں کوئی نئی نہیں بلکہ ہماری علمی روایت کا حصہ ہیں اور اگر ہم دنیا میں اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں سنجیدگی سے ان رویوں کے بارے میں سوچنا ہو گا۔ ہمارے مذہبی راہنماؤ ں کی صورتحال یہ ہے کہ یہ آج بھی تیسری اور چوتھی صدی ہجری کے فکری پیرا ڈئم سے باہر نہیں نکل سکے، یہ آج بھی ان تصورات سے باہر نکل کر نہیں سوچتے اور ان کا خیال ہے کہ ہمیں انہی تصورات کی بنیاد پر آج کے سماج کی راہنمائی کرنی چاہیے۔ یہ رویہ علمی و عقلی دونوں اعتبار سے قابل غور اور قابل اصلاح ہے اور ہماری مذہبی فکر کو اس رویے پربہر حال تشویش ہونی چاہیے۔

جب دینی تعلیم اور مذہبی راہنمائی کی با ت ہوتی ہے توفوراہماری نگاہیں دینی مدارس کی طرف اٹھتی ہیں، دینی مدارس مذہبی فکر کی آماجگاہیں ا ور دینی تعلیم کے بنیادی مراکز ہیں، اجتہا د وا فتاء کے سوتے بھی یہیں سے پھوٹتے ہیں اور وعظ و تبلیغ کا راستہ بھی یہیں سے گزر کر جاتا ہے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ یہاں بھی اسلام کی کلاسیکی علمی روایت اس انداز میں پروان نہیں چڑھ سکی جو اسلامی تہذیب کا خاصہ تھی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ یہاں سے فارغ ہونے والے نوجوان جو سنداً عالم کہلاتے ہیں اپنی علمی روایت کو آگے نہ بڑھا سکے۔ یہ زمانے کے بدلتے تصورات اورسماجی تبدیلیوں سے خود کو ہم آہنگ نہ کر پائے۔

کتنا بڑا المیہ ہے کہ ہماری مذہبی درسگاہوں میں رائج نصاب اور علوم و فنون وہ ہیں جو آج سے ہزار سال پہلے کے سماجی تصورات کی بنیاد پر قائم ہیں۔ تفسیر، حدیث، فقہ اور علم الکلام آپ کوئی بھی کتاب اٹھا کر دیکھ لیں آپ کو ان علوم کے پیچھے تیسری چوتھی صدی ہجری کے تصورات پر مبنی نصاب نظر آئے گا۔ جبکہ آج دنیا اکیسویں صدی میں داخل ہو چکی ہے اور سینکڑوں نئے علوم و فنون دنیا میں رائج ہو چکے ہیں۔ صدیوں پرانے تصورات نسیا منسیا ہو چکے ہیں اور ان کی جگہ جدید تصورات نے لے لی ہے۔ ہماری مذہبی فکر جب تک ان اہم مسائل کی طرف توجہ دے کر کوئی مناسب لائحہ عمل نہیں اپناتی تب تک وہ اس پوزیشن میں نہیں ہو سکتی کہ سماج اس کی بات سنے اور اس سے راہنمائی حاصل کرے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
عرفان ندیم کی دیگر تحریریں