میرے شہر کا ”پرانا شہر“۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہر شہر میں کئی ایسے علاقے ہوتے ہیں جو جدت کی نئی دنیا میں نہیں ڈھلتے، وہاں زندگی ہمیشہ سادہ رہتی ہے۔ وہاں کی گلیاں، در و دیوار، رنگ و نور، روشنیاں، شامیں، راتیں غرض ہر ایک چیز متغیراتی عمل کی اس دوڑ میں شامل ہونے سے دور ہوتی ہے جسے وہ مصنوعی سمجھتی ہے اور وہاں کے لوگوں کا رہن سہن ان علاقوں کی روایات کو سالہا سال سے زندہ رکھے ہوتا ہے۔

لوگ نئی شکلوں میں ڈھل جاتے ہیں۔ رہن سہن تبدیل کر لیتے ہیں لیکن پھر جب کہیں کسی ایسی روایت سے مل بیٹھتے ہیں تو ایک اپنائیت سی محسوس کرتے ہیں۔ انہیں ایسے علاقوں میں مٹرگشت کر کے اور وہاں چند لمحے گزار کے ایک عجیب ہی طرح کا سکون ملتا ہے۔

پرانے لاہور ہی کو دیکھ لیں۔ وہاں کا ناشتہ آج بھی لوگوں کو ڈیفنس سے کھینچ لاتا ہے۔ وہاں کی گلیاں آج بھی آرٹسٹ لوگوں کے خیالات کو ایک نئی جلا بخشتی ہیں۔ وہاں کی راتوں میں گزری محفلوں کے خیال لوگ شاعری میں استعمال کرتے ہیں۔ وہاں کا ایک اپنا پرانا پن ہے جو زندگی کے نئے رنگ کو ہمیشہ مات دے دیتا ہے۔

میرے شہر میں بھی ایک ایسا ہی پرانا شہر بستا ہے جو کنکریٹ کے بلند و بالا جال سے کہیں ہٹ کر اپنے آپ میں ایک خصوصیت سموئے ہوئے ہے۔

اس شہر میں داخل ہونے کا سب سے بہترین رستہ وہ پرانی گلی ہے جس میں موجود گھروں کی بیرونی دیواروں پر آج بھی سفیدی نہیں کی جاتی۔ گلی میں چھوٹے، چھوٹے سٹال موجود ہیں جن پر کھانے پینے کی اشیاء کے علاوہ، پہناوے اور بناؤ سنگھار کی بھی کئی چیزیں موجود ہیں۔

یہاں کی معیشت کا ایک اپنا نظام ہے یہاں جس بندے نے جو سٹال لگایا ہے یا جو چیز وہ فروخت کر رہا ہے اس کے ساتھ کا کاروبار کوئی دوسرا شخص نہیں کر رہا بلکہ کسی اور کام میں اس کے ساتھ تعاون کر رہا ہے۔

سمجھنا تھوڑا مشکل ہے لیکن میں سمجھانے کی کوشش کرتا ہوں۔

اس گلی میں ایک چچا کبوتر بازی کا بے حد شوق رکھتے ہیں۔ کبوتر کے رنگ، نسل اور اڑان کی سمجھ بوجھ کے باعث ان کا اپنے محلے میں ایک خاص مقام ہے کیونکہ یہاں کئی اور شوقین بھی اس کام سے وابستہ ہیں لہذا ان کے مشوروں سے باقیوں کے شوق بھی پورے ہوتے ہیں لیکن چچا کبوتر باز کا اصل کام کبوتر بازی نہیں ہے، یہ تو ان کا شوق ہے۔

ان کا اصل روزگار یہ ہے کہ وہ اس گلی میں ناشتے کی ریڑھی لگاتے ہیں۔ ان کے پاس سری پائے، کلیجی، چنے اور چاول کا سامان موجود ہے لیکن روٹی نہیں ہے۔

ان کی ریڑھی سے چند گز کے فاصلے پر محلے کی ایک دائی اماں روٹی لگاتی ہے۔ اگر کسی نے چچا سے ناشتہ کرنا ہے تو انہیں روٹی اماں سے خرید کر لانی پڑے گئی ورنہ اس پورے گلی میں کوئی دوسرا تندور نہیں ہے۔

تھوڑی ہی دور قوالی کے فن سے وابستہ ایک بہت ہی مشہور قوال صاحب کی بیٹھک ہے۔ انہیں اکثر فرمائشی پروگرام کی دعوت ملتی ہے جہاں دعوت قبول کرنے کے ساتھ ساتھ وہ ساؤنڈ سسٹم کی تجویز کے لیے اپنے پڑوسی کا نام دیتے ہیں۔

پڑوسی بھائی ایک ٹانگ سے معذور ہیں اور بیساکھی کے سہارے کوئی خاص کام نہیں کر سکتے لہذا انہوں نے قوال بھائی کے کام کو دیکھتے ہوئے ساؤنڈ سسٹم کرائے پر دینے کا کام شروع کر لیا جس میں اب قوال بھائی ان کی مدد کرتے ہیں۔

تھوڑا ساتھ ہی جائیں تو ایک شہید سپاہی کی بیوہ نے جہیز میں ملنے والی چند بھینسیں پال رکھی ہیں جن کا دودھ اس گلی کے افراد خریدتے ہیں۔ اس محلے میں واحد ایک ہی حلوائی کی دکان ہے جس کی ضرورت کے مطابق دودھ بھی اسی گھر سے فراہم کیا جاتا ہے۔

گلی کے عین درمیان نیم کا ایک بڑا سارا درخت ہے جس کی چھاؤں میں شام ہوتے ہی بچے کھیلتے جبکہ بزرگ چائے کی چسکیوں کے ساتھ ساتھ زندگی قلابازیوں پر بے لاگ تجزیے کرتے ہیں۔ یہاں شکر والی چائے فروخت کی جاتی ہے۔ علاقے کے شوگر زدہ اور ضعیف افراد کی صحت کا خیال رکھتے ہوئے یہاں کا چائے والا دور دراز کے گاؤں سے بہترین گڑ اکٹھا کرنے کے بعد اپنے ہاتھوں سے روایتی شکر تیار کرتا ہے جسے مزید چائے میں استعمال کیا جاتا ہے۔

یہاں صبح عمومًا فجر کے وقت جبکہ دن کے معمولات کاآغاز 12 بجے کے قریب ہوتا ہے۔ اس شہر کا ہر فرد انہی گلی، محلوں میں کسی نہ کسی روزگار سے وابستہ ہے لہذا سب کو یہاں کے اوقات کارمعلوم ہیں۔

دن 12 بجے کھلنے والی دکانیں رات 12بجے تک کھلی رہتی ہیں جہاں کی رونقیں الگ ہی ہوتی ہیں۔

یہاں کی ہر چیز میں بھی ایک منفرد پن ہے۔ کچی مٹی کی چنائی والے گھروں کے کمرے گرمیوں میں ٹھنڈے اور سردیوں میں گرم ہیں۔ ایک گلی کی پہلی نکڑ والے گھر کا ہر ایک فرد گلی کی آخری نکڑ پر موجود گھر کے سبھی افراد کے ساتھ ایک اچھا معاشرتی تعلق رکھتا ہے۔

گاڑیاں اس علاقے میں یا تو ہے ہی بہت کم یا یہاں سے گزرتی ہی نہیں ہیں جس کی وجہ سے بچے گلی میں آج بھی کنچے کھیلتے، لکڑی کی چھڑی سے موٹر سائیکل کے ٹائر کو ضرب لگاتے، بھاگتے نظر آتے ہیں۔

ایک کھوکھے میں بکنے والے میٹھے پان کی خوشبو شہر کی بڑی دکان پر بکنے والے پان کی پوری لذت کے برابر بھی نہیں ہے اور ریڑھی پر بکنے والے آلو چنے شہر کی بڑی مشہور فروٹ چاٹ کا مقابلہ کرتے ہیں۔

یہاں لوگ دوڑتی بھاگتی زندگی میں بھی پرسکون ہیں اور اس دوڑ میں شامل ہی نہیں ہوتے جہاں لوگ خواہشات کی تسکین میں اپنا اصل بھول جاتے ہیں۔ یہاں کی شام کی اگر بات ہو تو وہ آج بھی ویسی خوشگوار ہوتی ہے جیسی کوئی آج سے تیس، چالیس سال پہلے تصور کر سکے۔

گلی میں شام ہوتے ہی کچی اینٹوں کے فرش پر پانی کا چھڑکاؤ اور ہر گھر کے باہر اگتی بیل و شہتوت کے درخت کی خوشبو یہاں کی انفرادیت کو مزید بڑھا دیتی ہیں۔
پبلک اسپیس آج بھی موجود ہے آپ چائے کا کپ ہاتھ میں پکڑ کر کسی بھی گھر کے خوبصورت پتھارے پر بیٹھ کر شام کا سہانا پن محسوس کر سکتے ہیں۔

تاہم ان سب باتوں کے بعد جب آپ اس پرانے شہر کی آخری گلی سے باہر نکلیں تو نئے شہر کی تیز دوڑتی سڑک ہے جہاں کی بڑی دکانیں اور پلازے آپ کو جدت کے نئے رنگ تو دکھاتے ہیں لیکن یہاں آپ کو بیل دار پودے اور وہ سماجی پتھارے نظر نہیں آئیں گے۔

سڑکوں پر ایک عجیب ہی طرح کی دوڑ ہے اور اگر گلیوں کی بات کی جائے تو وہ نسبتًا کشادہ اور پکی ضرور ہیں لیکن ان گلیوں کے گھروں میں رہنے والے بچے اینڈرائڈ کی نئی گیمز سے واقف ہیں اور وہ چھڑی کی ضرب لگا کر ٹائر کو بھگانے کا فن نہیں جانتے اور نہ ہی وہ اس فعل سے چہک سکتے ہیں۔

گاڑی میں بیٹھا شخص گاڑی کا اے سی آن ہونے کے باوجود ماتھے پر آیا بے سکونی کا پسینہ صاف کرتا نظر آتا ہے اور اپنی پیچیدہ گھتیوں کو سلجھانے میں انتھک مگن ہے جبکہ دوسری جانب اگر ایک نظر پیچھے مڑ کر دیکھا جائے تو پیچھے پرانے شہر کی پھر وہی پرانی گلی ہے جہاں کی میسمرائزنگ جھلک چرانے کو دل کرتا ہے۔

An Afghan girl smiles as she rides on a hand-operated ferris wheel with other children in a slum on the outskirts of Islamabad March 19, 2013. REUTERS/Faisal Mahmood (PAKISTAN – Tags: SOCIETY)

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •