راکشس، ڈپٹی کمشنر، لیڈی ڈیانا، بے نظیر اور پارلیمنٹ
ایئرپورٹ لاؤنج میں دو ایک دفعہ ٹی وی پراس ڈپٹی کمشنر کو لہک لہک کر قرآن پڑھتے دیکھا تو طبیعت میں کچھ چونچالی سی آ گئی۔ سر فخر سے بلندہو گیا۔ جولائی 2018ء میں اسلام آباد کا منصف کچھ باغی ہو گیا۔ وہ کام کر گزرا جو اسے نہیں کرنا چاہیے تھا: ”جج نہیں بولتا، فیصلہ بولتا ہے۔ “ نادان جسٹس شوکت صدیقی یہ سمجھے بغیر بولا کہ وہ ڈپٹی کمشنر، وہ کالم نگار، وہی لہک لہک کر قرآن و سنت پڑھنے والا تو راکشس بنانے والی اکیڈمی سے بن کر نکلا تھا۔
بیٹا ایک دن اپنے موبائل پر ایک وڈیو کلپ سنانے آ گیا: ”ابو جی ابو جی، یہ وہی کالم نگار انکل ہے نا، ابو جی وہی ڈپٹی کمشنر انکل نا! وہ قرآن و سنت والے انکل ابو جی! “ میں نے اسے غور سے دیکھا تو خیال آیا، یہ میٹرک انٹر والا برخوردار نہیں، پی ایچ ڈی اسکالر ہے، پروفیسر! ذرا سوچ کر بولنا۔ ”ابو جی! یہ انکل کالم نگار، جسٹس شوکت صدیقی کے ساتھ کیے گئے واٹس ایپ پیغامات ٹی وی پر یہ ڈپٹی کمشنر انکل پڑھ پڑھ کر سنا رہے ہیں۔ جسٹس صدیقی کے پول کھول رہے ہیں۔ ابو جی واٹس ایپ پیغامات والا یہ کام دو دوست، دو تعلق دار کرتے ہی رہتے ہیں۔ باہم اعتمادکا ایک رشتہ ہوتا ہے۔ ابو جی یہ انکل تو حدیں پھلانگ گئے ہیں۔ ابو جی وہ۔ وہ۔ وہ حدیث کیا کہتی ہے۔ المجالس بالامانۃ (تخلیہ امانت ہوا کرتا ہے)۔ کیا ان انکل کو، قرآن پڑھنے والے ان انکل کو یہ معروف حدیث پتہ نہیں ہے؟ ابو جی چھوڑیں حدیث کو پی ٹی آئی میں جانے والوں نے تو سر پیر سے اُتار دی ہوتی ہے یہ انکل بھی تو وہی ہیں لیکن ابو جی اخبار ی دنیاکے آف دی ریکارڈ اور آن دی ریکارڈ کا فرق تو مجھے بھی پتہ ہے ابو جی۔ یہ انکل کس قسم کے پروفیشنل ہیں۔ کیا سچ بولنے کے لیے انہیں یہی لمحات ملے ہیں؟ اپنے ایک دوست کے خلاف بولا گیا ان کا یہ سچ کس کو فائدہ دے رہا ہے؟ ابو جی! آپ ہی نے ایک دفعہ کہا تھا کہ ہر سچ بولنے کے لیے نہیں ہوتا اگرچہ وہ سچ ہوتا ہے۔ “
برخوردار کو سمجھانا خاصا دشوار تھا :
جدا جب تک تیری زلفوں سے پیچ و خم نہیں ہوں گے
ستم دنیا میں بڑھتے ہی رہیں گے کم نہیں ہوں گے
مخمصہ یہ ہے کہ آنے والے ملاقاتی کا سوال کچھ اتنا مشکل نہیں تھا کہ جواب نہ دے سکتا: ”معلوم نہیں اس دفعہ کا عاشورہ پُرامن کیسے گزر گیا۔ “ اس کا جواب میں نے دے دیا تو ملاقاتی نے نیا سوال داغ دیا: ”تو پروفیسر صاحب وہ تو ٹھیک ہے اس دفعہ کی تو سمجھ آ گئی ہے لیکن۔ لیکن اس سے قبل کے عاشورے پُرامن کیوں نہیں گزرتے تھے؟ “ عرض کیا: ”برخوردار تھوڑا سا غور و فکر آپ کے ذمے بھی ہے۔ “
وہ میرا چہرہ تکنے لگا: ”بھائی میاں ذرا غور کرو، دونوں سوالو ں کا ایک ہی جواب تو وہی ہے۔ مسئلہ کچھ لاڈ پیار کا ہے جو پہلے نہیں تھا۔ اب کی بار گملے کے پودے کو مالی پانی ہی نہیں دے رہا، پودا مالی کا اپنا لاڈلا ہے“۔ مخمصہ میرا یہ ہے کہ بالادست پارلیمنٹ کو یہ بات کیوں سمجھ نہیں آ رہی کہ اکیڈمیوں اور اسٹاف کالجوں سے ابھی تک جنرل ڈائر کے بھائی بند راکشس ہی نکل رہے ہیں۔ جس دن یہ بات پارلیمنٹ کی سمجھ میں آگئی میرا مخمصہ دور ہو جائے گا۔
جدا جب تک تیری زلفوں سے پیچ و خم نہیں ہوں گے
ستم دنیا میں بڑھتے ہی رہیں گے کم نہیں ہوں گے

